!اب میری نگاہوں میں … جچتا نہیں کوئی
مولانا محمد عظیم معین صاحب
مدرس جامعہ معہد الخلیل الاسلامی
دیر و حرم میں روشنی شمس و قمر سے ہو تو کیا مجھ کو تو تم پسند ہو اپنی نظر کو کیا کہوں
سیدی و مرشدی حضرت اقدس مولانا محمد یحییٰ مدنی نور اللہ مرقدہٗ واعلیٰ اللہ مراتبہٗ کی زبانی یہ شعر سینکڑوں بار حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے سنا۔ آہ! شاید حضرت اقدس رحمہ اللہ نے اس بات کا کبھی خیال نہ کیا ہوگا کہ سینکڑوں افراد ایسے بھی ہوں گے جو خود ان کی طرف منسوب کر کے یہ شعر پڑھا کریں گے۔ آج یہ شعر سینکڑوں متعلقین و متوسلین کی زبان پر جاری ہے اور اپنے لیے بطورِ فخر کے یہ شعر حضرت اقدس رحمہ اللہ کی طرف منسوب کر کے کہتے ہیں:
دیر و حرم میں روشنی شمس و قمر سے ہو تو کیا مجھ کو تو تم پسند ہو اپنی نظر کو کیا کہوں
فتنوں کے اس دور میں حضرت اقدس رحمہ اللہ جن چوٹیوں اور بلندیوں پر اپنے ایمان کو بچا کر لے گئے، وہ بعد والوں کے لیے قابلِ صد رشک ہے۔ بہت سے کاموں میں حضرت اقدس رحمہ اللہ کی ذات ایسی منفرد تھی کہ اس کی اقتداء اور اتباع کا مریدین و متوسلین کے لیے سوچنا بھی مشکل ہے، اتباع کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں جتنا گزر اوقات بیت المال سے لیا تھا (جو کہ ایک عام مزدور کے مشاہرہ کے برابر تھا) وصال سے پہلے اس کا سارا حساب لگا کر ایک ایک پیسہ بیت المال میں واپس جمع کرا دیا۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اس عمل پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے باہمت اور مضبوط اعصاب کے مالک شخص رو پڑے اور یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ’’اے امیر المومنین! آپ نے بعد والوں کو بڑی مشقت میں ڈال دیا‘‘ (آپ کے بعد آنے والے تقویٰ اور پرہیزگاری میں کیسے آپ کی اقتداء کر سکیں گے؟ اتنی احتیاط کہاں کسی سے ممکن ہے کہ اولاً تو بیت المال سے اپنے حقِ خدمت میں سے بہت تھوڑا لیا اور جو اپنا حق لیا تھا وہ بھی واپس بیت المال میں ہی جمع کرا دیا)۔
بالکل اسی طرح آج حضرت اقدس رحمہ اللہ کے وصال کے بعد جب مدرسہ کے معاملات میں حضرت کے تقویٰ اور پرہیزگاری کو سوچتے ہیں تو حیران و پریشان رہ جاتے ہیں۔ ساری زندگی لاکھوں روپیہ مدرسہ پر لگایا، لیکن کبھی ایک پائی بھی مدرسہ سے نہ لی۔ مدرسہ کی کوئی چیز بھی اپنی ذاتی منفعت میں استعمال نہ کی۔ کسی موقع پر اگر مدرسہ کا سالن چیک کرنے کے لیے کبھی ایک پلیٹ بھی منگائی تو فوراً ہی اس کے پیسے اپنی جیب سے نکال کر دیے کہ یہ مدرسہ کے چندہ کے ڈبے میں ڈال دینا۔ حتیٰ کہ مدرسہ میں آنے والے مہمانوں کو ہمیشہ اپنے گھر سے کھانا کھلایا۔
ایک طویل عرصے تک اپنے لیے کوئی شاہانہ دفتر تعمیر نہ کرایا، بلکہ ایک عام ملازم کی طرح مسجد کی اوپر منزل پر جانے والی سیڑھیوں کے نیچے موجود سب سے چھوٹے کمرہ کو اپنا دفتر بنایا، جس کی اونچائی قدِ آدم سے زائد نہ تھی، لمبے قد والے آدمی کو سر جھکا کر داخل ہونا پڑتا تھا اور وسعت اتنی تھی کہ ایک وقت میں اگر دو آدمی داخل ہو جاتے تو تیسرا آدمی اندر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی میں ایک طرف الماریاں بھی تھیں اور دوسری طرف سیڑھی کے بالکل نیچے کی جگہ جو تین جانب سے اتنی تنگ تھی کہ قبر معلوم ہوتی تھی، اس میں حضرت اقدس رحمہ اللہ کا مصلّیٰ بچھا رہتا تھا۔ معلوم یہ خدا مست درویش کتنی ہی راتیں اس تنگ سی جگہ میں مصلّیٰ پر سر رکھ کر سجدے میں گزار دیتے تھے (اب یہ حصہ توسیع کے بعد حضرت کے پرانے دفتر سمیت مسجد کا حصہ بن چکا ہے)۔ اخیر زندگی میں اپنی ذاتی تقریباً سب ہی کتابیں جو کئی ہزار سے متجاوز تھیں (سوائے چند کتابوں کے جو مطالعے میں رہتی تھیں) مدرسہ کے کتب خانہ کے لیے وقف فرما دیں، آج بھی ان کتابوں پر ’’وقف للہ تعالیٰ من العبد محمد یحییٰ المدنی‘‘ کی مہر کنداں ہے۔
مجاہدہ کی کثرت سے جسم سوکھ کر لکڑی ہو گیا تھا، وزن اتنا کم تھا کہ اگر سیڑھیوں پر چڑھنے کی ہمت نہ ہوتی تو دو طالب علم بآسانی کرسی سمیت اٹھا کر سیڑھیوں سے اوپر لے جاتے۔ کھانا پینا بہت کم تھا، نہ خود زیادہ کھاتے تھے اور نہ ہی بہت زیادہ کھانے والے کو پسند کرتے تھے۔
حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے گرویدہ تھے۔ ان کا نام لیتے تو چہرہ واضح طور پر چمکنے لگتا۔ اپنے بچوں اور پھر بچوں کے بچوں کے نام بھی حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے بچوں اور خاندان کے مطابق رکھے۔ اپنے سلسلے کے مشائخ سے محبت کی بنا پر اپنے شیخ الشیخ کے نام پر جامعہ معہد ’’الخلیل‘‘ الاسلامی (بہادرآباد کراچی) کی بنیاد رکھی۔ اپنے شیخ کے نام پر معہد الشیخ ’’زکریا‘‘ (دہلی کالونی کراچی) کی بنیاد رکھی۔ اسی طرح حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کی نسبت سے مدرسہ ’’الرشید‘‘ (بلوچ کالونی کراچی) اور سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ کی نسبت سے مرکز ’’الامداد‘‘ (اللہ والا ٹاؤن کراچی) میں بنیاد رکھی۔
ایک موقع پر حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے صاحبزادے حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب کاندھلوی رحمہ اللہ اور خلفاء: حضرت مولانا شاہد صاحب سہارنپوری رحمہ اللہ، حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب رحمہ اللہ، حضرت مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی رحمہ اللہ، حضرت حافظ صغیر احمد صاحب رحمہ اللہ و دیگر خدام کراچی تشریف لائے تو حضرت اقدس رحمہ اللہ نے اپنے گھر کی نچلی منزل کو اپنے گھر والوں سے خالی کروا کر انہیں بالائی منزل پر منتقل کر دیا اور گویا پورا گھر چابیوں سمیت آنے والے مہمانوں کے حوالے کر دیا اور خود حضرت اقدس رحمہ اللہ تین دن تک پورے گھرانے سمیت اوپر منزل پر ہی مقیم رہے۔
جب تک چلنے پھرنے کی قوت رہی تبلیغِ دین کے لیے ساری دنیا میں چل پھر کر اللہ کا کلمہ بلند کرنے کی سعی فرماتے رہے (ایک موقع پر کسی بات کے درمیان میں حضرت رحمہ اللہ کے سفر کا تذکرہ آیا تو منٹ بھر میں سترہ سے زائد ممالک گنوا دیے جہاں حضرت اقدس رحمہ اللہ تشریف لے گئے اور حجازِ مقدس میں تو دس سال مقیم رہے)۔
جب عمرِ ضعیفی کو پہنچے تو ایک ایسا ادارہ کھول لیا جہاں بیٹھ کر سارے عالم میں کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کی سعی شروع فرما دی اور اس کے بعد ساری زندگی اس مرکز میں جم کر اس طرح دینی خدمات سرانجام دیں کہ ساری دنیا میں اس کا فیض پھیला اور الحمدللہ تاحال پھیل رہا ہے۔ ذاتی زندگی اتنی سادگی سے گزاری کہ کبھی اپنے لیے کوئی چھوٹی سی سواری تک نہ خریدی۔ بنوری ٹاؤن کے زمانۂ تعلیم اور پھر زمانۂ تدریس میں بہادرآباد میں اپنے گھر سے بنوری ٹاؤن تک پیدل ہی تشریف لے جاتے اور پیدل واپس آتے۔
حضرت اقدس رحمہ اللہ پر شریعت کی پابندی، سنتوں کا اہتمام اور اس کی ترویج کا بہت زیادہ غلبہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ باوجود صوفی منش مزاج و صاحبِ حال و قال، انتہائی ذاکر، شاغل و موت کو یاد رکھنے والے ہونے کے بھی کبھی کشف و کرامات کو اہمیت نہ دی اور نہ ہی کبھی اس کی اہمیت اپنے مریدین و متوسلین کے دلوں پر بیٹھنے دی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی ایسی بات پیش بھی کرتا تو اسے صرف نظرانداز ہی نہیں بلکہ اس سے غایت درجہ کی بے توجہی برتتے۔ شریعت کی پابندی و اہتمام اور اتباعِ سنت کو تمام کرامتوں سے مافوق قرار دیتے اور کشف و کرامات کے باب میں ذرا بھی غلو کرنے والے کو ناپسند فرماتے۔ چونکہ حضرت اقدس رحمہ اللہ اس قسم کی باتوں کو ناپسند فرماتے تھے اس لیے اس نوع سے متعلق حضرت اقدس رحمہ اللہ کے متوسلین میں شاید کوئی بھی قلم نہ اٹھائے، لیکن ساتھ ہی یہ خیال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حضرت اقدس رحمہ اللہ کی زندگی کا یہ باب اور یہ وصفِ کمال بیان ہونے سے تشنہ رہ جائے۔ کشف و کرامات سے متعلق حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے اپنی کتابوں میں سیر حاصل بحث فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ متبعِ شریعت کے ساتھ یہ اللہ رب العزت کے انعام و اکرام کا معاملہ ہوتا ہے اور غیر متبعِ شریعت کے لیے بطورِ استدراج اور ڈھیل کا۔ اور حضرت اقدس رحمہ اللہ کی ساری زندگی ہی اتباعِ سنت بلکہ تحریک و ترویجِ اتباعِ سنت میں گزری ہے، اس لیے بطورِ نمونہ از خروارے انتہائی احتیاط کے ساتھ مبالغہ سے بچتے ہوئے، مشاہداتی جن کی سچائی پر سو فیصد یقین ہے دو چار واقعات ذکر کر دیتا ہوں جس سے بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ حضرت اقدس رحمہ اللہ کو یہ نعمت بھی بخوبی حاصل تھی:
1. غالباً درجہ خامسہ میں اس سیاہ کار کے دل میں یہ بات پیدا ہوئی کہ نمازوں کی ادائیگی میں ظاہر کی درستگی کے لیے فقہاء نے جو غایت درجہ کی احتیاط رکھی، جیسے ہاتھ کی انگلیوں کو سجدے میں ملا کر رکھنا، رکوع میں کشادہ رکھنا، نگاہوں کو فلاں رکن میں فلاں جگہ جمائے رکھنا وغیرہ یہ سب باطن کو متوجہ الی اللہ کرنے کے لیے ہیں، جب یہ صفت انسان کو حاصل ہو جائے اور نماز میں توجہ اور دھیان اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف جم جائے تو ان تکلفات کی ضرورت نہیں رہتی، یا کم از کم بہت زیادہ اہتمام ضروری نہیں رہتا۔ یہی سوچ رکھتے ہوئے یہ سیاہ کار معمول کے مطابق بعد نمازِ عصر حضرت اقدس رحمہ اللہ کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔ حضرت اس زمانے میں عصر تا مغرب کوئی کتاب پڑھوا کر سنا کرتے تھے، عام طور پر مکاتیبِ رشیدیہ اور کبھی حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصوف سے متعلق کوئی کتاب ہوتی تھی۔ اس دن خلافِ معمول یہ سیاہ کار پندرہ منٹ بیٹھا رہا اور حضرت رحمہ اللہ تلاوت میں ہی مشغول رہے، اس کے بعد قریب بلا کر فرمایا: ’’آج کتاب رہنے دو اور سامنے جو الماری رکھی ہے اس میں ایک کتابچہ ہے مفتی تقی عثمانی صاحب کا ’’نمازیں سنت کے مطابق پڑھیے‘‘ وہ اٹھا لاؤ‘‘۔ حضرت رحمہ اللہ کا اتنا کہنا ہی تھا کہ سمجھ گیا کہ حضرت کو کشف ہو گیا ہے۔ ڈرتے ڈرتے میں گیا تو وہاں واقعی وہ کتابچہ رکھا ہوا تھا۔ میں اٹھا لایا تو حضرت رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’یہ کتاب اپنے پاس رکھو اور اچھی طرح پڑھنا‘‘، اور اپنی انگلیاں گھٹنوں پر رکھ کر فرمایا کہ ’’دیکھو! اس طرح رکوع میں انگلیوں کو کشادہ رکھنا اور جب سجدہ میں جاؤ تو اس طرح ملا کر رکھنا ہے‘‘۔
2. رمضان المبارک میں عام طور پر مغرب کے وقت دسترخوان پر حضرت اقدس رحمہ اللہ کا کشف زوروں پر ہوتا تھا۔ بعض متوسلین کے ذرا ذرا سے وساوس کی بھی حضرت رحمہ اللہ کو اطلاع ہو جاتی تھی اور اس بات کا مشاہدہ ایک دفعہ نہیں دسیوں دفعہ ہوا، اس وقت متعلقین بڑے سہمے ہوئے اور ڈرے ڈرے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ دسترخوان پر سب کے لیے شربت کا کٹورا رکھا جا رہا تھا، اتفاق سے خادمین کی نظر نہ پڑی اور میرے آگے کٹورا رکھے جانے سے رہ گیا اور خادمین آگے بڑھ گئے، افطاری شروع ہو گئی، کچھ ہی دیر بعد نماز کے لیے سب اٹھنے لگے تو حضرت رحمہ اللہ بھی اٹھنے لگے۔ اچانک اٹھتے اٹھتے بیٹھ گئے اور دور سے آواز دی: ’’بیٹا عظیم!‘‘ (بندہ دسترخوان کے بالکل دوسرے کونے پر تھا اور اس وقت کافی لوگ بیٹھے تھے جس کی وجہ سے حضرت کی نظر مجھ پر نہ پڑ سکتی تھی) جلدی سے پاس گیا تو سامنے سے شربت کا کٹورا اٹھایا اور فرمایا: ’’اسے پی لو‘‘ اور جب تک میں نے اسے پورا نہ کیا میری شکل کو غور سے دیکھتے رہے۔ بالآخر ڈرتے ڈرتے مکمل کیا، پھر حضرت اٹھے اور تشریف لے گئے۔ اسی طرح آنے والے کے خطرات پر واقف ہونا اور اس کے سوال کیے بغیر ہی باتوں باتوں میں اس کے جوابات دے دینا عام سی بات تھی۔ اس سیاہ کار کو مدرسہ میں چلتے پھرتے اگر دو منٹ کے لیے بھی حضرت اپنے پاس بلا لیتے تو فوراً ہی زبان پر اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا کا ورد شروع ہو جاتاہا۔ بارہا ایسا ہوا کہ جس دن نمازِ فجر سے متعلق کوتاہی ہوتی تو حضرت اقدس رحمہ اللہ اس دن کتاب نہ پڑھواتے، بلکہ نمازِ فجر سے متعلق ترغیب و ترہیب کے موضوع پر باتیں بیان فرمانا شروع کر دیتے تھے۔
فقط یہی نہیں بلکہ حضرت اقدس رحمہ اللہ صاحبِ کشف ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی قوی درجہ کے صاحبِ تصرف بھی تھے، بطورِ نمونہ از خروارے دو واقعات اس کے بھی لکھتا ہوں: کئی دفعہ ایسا ہوا کہ جو لوگ آتے تو کسی اور مقصد سے یا کبھی فتنہ پرور ذہنیت کو لے کر لیکن ذرا سی دیر میں حضرت اقدس رحمہ اللہ کے رُعب و جلال کی وجہ سے خود ہی متاثر ہو کر اٹھتے دکھائی دیے۔
c ایک بار ماہانہ آخری جمعرات والی مجلس میں سینکڑوں لوگ دسترخوان پر بیٹھے درود شریف کے پڑھنے میں مشغول تھے اور مسجد میں ایک سناٹا طاری تھا۔ ایک صاحب داढ़ी منڈھے چلتے چلتے حضرت کے پاس آگئے اور اونچی آواز سے بڑے غصے سے حضرت کو مخاطب کر کے کہا: مولانا! یہ پانی کی بوتلوں پر جو پھونک ماری جا رہی ہے یہ کہاں سے ثابت ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو پانی پر پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔ سارا مجمع ان کی طرف متوجہ ہو گیا۔ حضرت نے مجھے ایک طرف کیا اور انہیں کہا: ’’بیٹھیے! بیٹھیے!‘‘ وہ صاحب بمشکل بیٹھ گئے۔ حضرت رحمہ اللہ دو تین منٹ تک سر جھکائے بیٹھے درود شریف پڑھنے میں مشغول رہے اور ادھر یہ صاحب جو بڑے غیظ و غضب کی حالت میں تشریف لائے تھے ان کی حالت تبدیل ہونا شروع ہو گئی، یہاں تک کہ تھوڑی ہی دیر میں خود ہی متواضعانہ دو زانو بیٹھ گئے اور کندھے جو ایک منٹ پہلے خوب اکڑے ہوئے تھے جھکتے جھکتے حضرت کے بالکل قریب گھٹنوں تک پہنچ گئے، پھر حضرت نے ان سے آہستہ آواز سے فرمایا کہ ’’ممانعت سانس لینے کی ہے، تھتکارنے کی نہیں ہے (پھر حضرت نے انہیں تھتکار کر دکھایا)۔ اس کا ثبوت احادیث میں موجود ہے‘‘۔ وہ صاحب بڑی لجاجت سے اپنی کم علمی کی معذرت کرنے لگے اور اخیر تک درود شریف کی مجلس میں سر جھکائے شریک رہے۔
c ابتداءِ زمانہ میں مسائلِ تصوف اور احادیث کے ظاہری تعارض سے متعلق جہاں ذرا بھی اشکال پیدا ہوتا فوراً حضرت کے پاس جا کر عرض کر دیتا اور حضرت ایسا جواب دیتے کہ سارا تعارض بالکل صاف و شفاف طور پر حل ہو جاتا۔ ایک موقع پر عرض کیا: حضرت! حدیث شریف میں تو آتا ہے کہ دو امور میں سے جو امر آسان ہوتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اختیار فرماتے اور ’’اکمال الشیم‘‘ میں لکھا ہے کہ دو امور میں سے جو امر نفس پر شاق ہوگا وہ زیادہ مقبول عند اللہ ہوگا۔ ان دونوں باتوں میں تو کھلا تعارض ہے۔ حضرت اس سوال کو سن کر کھلکھلا کر مسکرائے اور میری پیشانی پر ایک چپت رسید کی اور بڑی محبت سے فرمایا: ’’سب اشکال حل ہو جائیں گے ذرا آہستہ آہستہ ادھر آنے تو دے‘‘۔ حضرت کا پیشانی پر یہ پیار بھرا تھپڑ تھا یا کوئی غیر معمولی تصرف اسی وقت پورے جسم میں لرزہ طاری ہو گیا اور ایسا محسوس ہوا کہ دماغ میں کھلے بہت سے وسوسوں کے دروازے بند ہو گئے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن کبھی قرآن و حدیث اور مسائلِ تصوف میں تعارض کا قوی اشکال پیش نہیں آیا اور اگر کبھی ہوا بھی تو غور و خوض سے حل ہو گیا۔
c درجہ رابعہ میں ایک بار عرض کیا کہ حضرت مجھے حکم فرما دیں کہ تہجد کے لیے اٹھا کرو۔ ویسے تو سستی کی وجہ سے اٹھا نہیں جاتا، حضرت حکم فرما دیں گے تو پھر یہ سوچ کر کہ اب تو حضرت نے حکم دے دیا ہے ضرور اٹھ جاؤں گا۔ اللہ اکبر! قربان جاؤں حضرت کی غایتِ نظر، حسنِ تربیت، شرعی ضابطوں کی رعایت اور مزاج شناسی پر کہ باوجود درخواست کرنے کے بھی تہجد میں اٹھنے کا حکم نہیں فرمایا، بلکہ تھوڑی دیر تک سکوت کے بعد ارشاد فرمایا: ’’تہجد کا وقت تو عشاء سے لے کر فجر تک ہے۔ اگر آپ وتر سے پہلے بھی دو رکعت نفل تہجد کی نیت سے پڑھ لیں تو بھی تہجد کا ثواب مل جائے گا‘‘۔ یہ فرما کر دوسری باتیں ارشاد فرمانے لگے۔ بندے کا ہاتھ حضرت اقدس رحمہ اللہ نے ہی اپنے مبارک ہاتھوں میں لیا ہوا تھا کہ بات کرتے کرتے کسی بات پر حضرت رحمہ اللہ نے ہاتھ کی پشت پر ایک چٹکی سی بھری، جس کا درد بھی واضح محسوس ہوا، پھر تھوڑی دیر بعد مغرب کی اذان ہو گئی اور نماز کی تیاری میں لگ گئے۔ آدھی رات کو ہاتھ کی پشت پر جس جگہ حضرت اقدس رحمہ اللہ نے چٹکی لی تھی ایک دم تکلیف ہوئی، ایسا محسوس ہوا کہ شاید کسی چیونٹی نے بہت زور سے کاٹا ہے، اٹھ گیا لائٹ جلا کر دیکھا تو کچھ بھی نہیں تھا۔ لیکن اس اٹھنے کی برکت سے اللہ پاک نے تہجد پڑھنا نصیب فرما دیا۔ تقریباً ایک ماہ کم و بیش یہی صورتحال رہی کہ آدھی رات کے قریب اسی جگہ پر ایسا محسوس ہوتا کہ شاید کسی چیونٹی نے کاٹا ہے اور تکلیف کی شدت سے اٹھ کر بیٹھ جاتا لیکن نظر کچھ نہیں آتا تھا۔
یہ دو چار واقعات اس نوع کے ذکر کر دیے، اگر صفحات اور حضرت اقدس رحمہ اللہ کا مزاج اجازت دیتا تو صرف اپنی آنکھوں دیکھے اس طرح کے دسیوں واقعات سے شاید مزید کئی صفحات سیاہ ہو جاتے۔ بہرحال حضرت رحمہ اللہ کی یہ صفت و کمال ظاہر کرنے کے لیے بطورِ نمونہ اتنا بھی کافی ہے۔
حضرت اقدس رحمہ اللہ کے دنیا سے رخصت ہو جانے سے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا حقیقی مفہوم سمجھ میں آیا کہ ’’اگر کبھی کوئی بہت بڑا غم و مصیبت آپڑے تو میرے وصال کو یاد کر لینا، وہ غم ہلکا ہو جائے گا‘‘۔ حضرت رحمہ اللہ کے جانے کے بعد گویا زندگی کا لطف ختم ہو گیا۔ اب کوئی غم ایسا محسوس نہیں ہوتا جو واقعتاً غم کہلانے کے لائق ہو۔ زندگی کا حسین دور حضرت اقدس رحمہ اللہ کے ساتھ گزر چکا۔ اب زندگی کا مقصد فقط یہی رہ گیا کہ جس راستے اور مشن پر حضرت اقدس رحمہ اللہ لگا کر چلے گئے بس اسی پر اپنی جان دے دیں۔
غزوۂ احد میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہید کیے جانے کی افواہیں پھیلیں تو بعض صحابہ نے اپنی تلواریں توڑ دیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے بطلِ جلیل بھی اپنے ہوش و حواس پر قابو نہ رکھ سکے اور تلوار ہوا میں گھما کر ارشاد فرمانے لگے کہ ’’جس شخص نے یہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں اس کی گردن اڑا دوں گا‘‘۔ بعض صحابہ جنگ چھوڑ کر ایک طرف بیٹھ گئے اور رونے لگے۔ حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ جو کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے چچا تھے انہوں نے جب صحابہ کی یہ حالت دیکھی تو پوچھا: ’’تمہیں کیا ہو گیا ہے؟‘‘ صحابہ نے کہا: ’’کیا تمہیں خبر نہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شہادت پا گئے؟‘‘ تو حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے ایسی عجیب بات کہی جو تاریخ کبھی نہ بھلا سکے گی اور ہمیشہ بے کسوں اور غم کے ماروں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنے گی، انہوں نے فرمایا: مُوتُوا عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم۔ اچھا! اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے تو تم زندہ رہ کر کیا کرو گے؟ تم بھی اسی کے لیے جان دے دو جس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جان دیدی۔ بس اب زندگی کا مقصد صرف یہی رہ گیا ہے کہ جس کام اور مشن کے لیے حضرت اقدس رحمہ اللہ نے اپنی جان دے دی ہم بھی اسی کے لیے اپنی جان دے دیں۔
درحقیقت جس جماعت کا جھنڈا سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں، حضرت اقدس رحمہ اللہ اس جماعت کے ایک ادنیٰ فرد تھے، جو بڑی شان سے راستے کے نشیب و فراز پار کر کے اپنی جماعت سے جا ملے، اور اگلوں کو اس کا راستہ دکھا گئے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ حضور سرورِ کونین رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کبھی بھی اولیاء اللہ سے خالی نہیں رہی اور حقیقت میں یہ سارا کا سارا کرشمہ اسی منبعِ فیض کا ہے جو جب سے جاری ہوا کبھی رُکا نہیں۔ سید الکائنات رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اطہر و اکمل ایسا روشن آفتاب ہے جو جب سے طلوع ہوا کبھی غروب نہ ہوا۔ اسی کی روشنی سے ہر زمانے کے صلحاء و اتقیاء نے روشنی پائی اور شاداں و فرحان خود، اپنے گھر والوں کو اور متعلقین و متوسلین کی کثیر تعداد کو لے کر اپنی منزلِ مقصود پر جا پہنچے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان جیسی زندگی گزار کر اس جماعت سے جا ملنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الصادق الأمین۔
مولانا محمد عظیم معین صاحب
مدرس جامعہ معہد الخلیل الاسلامی