آہ! میرے مشفق ابو جان
بنتِ حضرت اقدس رحمہ اللہ
(اہلیہ مولانا یحییٰ نسیم)
رحمتوں کا سایہ، دعاؤں کا مرکز، غموں اور فکروں میں تسلی اور سکون کا باعث بننے والے پیارے ابو جان ۳ ربیع الثانی ۱۴۳۴ھ بمطابق ۱۴ فروری ۲۰۱۳ء بروز جمعرات اس دارِ فانی سے دارِ باقی کی طرف رحلت فرما گئے۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ کیا غم برپا ہوا! اور کیسی کیسی رحمتوں کا سایہ اٹھ گیا کہ اس کی تلافی بھی ناممکن ہے!
وہ چل دیے ہم کو تسلی دیے بغیر اک چاند چھپ گیا تسلی دیے بغیر
ویسے تو یہ کل ہی کی بات معلوم ہوتی ہے کہ میرے پیارے ابو جان حیات تھے، اگرچہ اس حادثۂ وفات کو تقریباً ایک سال کا عرصہ ہو رہا ہے، لیکن اب بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہر ہر قدم پر اب بھی ہمارے ساتھ ہیں۔
جب سے میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے پیارے ابو جان رحمہ اللہ کو بہت ہی کم گو، لیکن ساتھ ساتھ مشفق اور بارعب پایا۔ اپنے تمام بچوں پر بہت ہی شفقت کیا کرتے تھے، چاہے وہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں، ہر ایک کے لیے فکر مند رہتے، اور ان کی ضرورت کا خیال رکھا کرتے تھے۔ حد درجہ کے مہمان نواز تھے، ابو جان کی عادت تھی کہ کھانے پینے کی چیزیں، مختلف قسم کے پھل، کچھ نہ کچھ ہدایا، سب کے یہاں وقتاً فوقتاً بھیجا کرتے تھے۔
اسی طرح بچیوں سے بھی بے انتہا محبت اور شفقت کیا کرتے تھے۔ اسی بنا پر مجھے بھی اپنے ابو جان سے انتہا درجہ کی محبت تھی۔ الحمدللہ! شادی سے پہلے کا عرصہ ان کی زیرِ نگرانی اور زیرِ تربیت رہ کر، رہن سہن اور معاملات کا طور طریقہ انہی سے سیکھا۔ سچ کہوں تو ابا ہونے کے ساتھ ساتھ تربیت کا حق بھی انہوں نے بخوبی انجام دیا۔ مشفق اور بارعب اتنے تھے کہ کوئی بیٹا یا بیٹی بغیر ناشتہ کے ان کے سامنے سے ہو کر پڑھنے نہیں جا سکتا تھا۔ امتحان کے دن کا بوجھ ہوتا یا پھر بیماری کی کمزوری، ابو جان ناشتہ اپنی نگرانی میں کرواتے۔ ہمیشہ ہمیں رات کو جلد سونے اور سویرے اٹھنے کی تلقین فرماتے، چاہے امتحانات کا موقع ہی کیوں نہ ہو۔ خود میں نے ہمیشہ ابو جان کا معمول بھی دیکھا کہ رات کو جلدی سوتے اور صبح سویرے تہجد کے وقت اٹھنے کا معمول تھا۔ پورا دن ابو جان کا مصروف ترین گزرتا، لیکن اس کے باوجود گھریلو معاملات میں ہر طرح کی خبرگیری ضرور رکھا کرتے تھے، کون آیا؟ اور کون گیا؟ کیا چاہیے؟ وغیرہ۔
شادی کے بعد بھی مجھ سے اور میرے بچوں سے بہت پیار کرتے تھے، ہمارے آنے کا انتظار کرتے تھے۔ میں ان کے پاس آتی تو اکثر صبح ۱۰۔۱۱ بجے کے وقت میں اپنے مصروف ترین کاموں میں سے وقت نکال کر مجھے انٹرکام کرتے اور خیر خیریت پوچھنے کے بعد مجھ سے پوچھتے کہ ’’بیٹی! کیا پھل لے کر آؤں؟‘‘ میں اگر کہتی کہ کچھ بھی، تو ایک ایک پھل کا نام گنواتے اور پوچھتے جاتے اور اگر کبھی لانا بھول جاتے یا پھر ہمارا آنا یاد نہ ہوتا اور اتفاقیہ طور پر دیکھتے تو بہت ہی خوش ہوتے اور پھر فوراً کچھ نہ کچھ منگواتے۔ اسی طرح میں جب گھر آیا کرتی تھی تو مجھ سے کھانے کا پوچھتے۔ ایک دفعہ میں نے اپنے پسندیدہ کھانے کدو کے سالن کا ذکر کیا تو اس کے بعد اکثر سردی ہو یا گرمی کدو کا سالن ضرور پکواتے۔
جمعرات کے دن ہم سب بہنیں، بھابھیاں آیا کرتی تھیں تو ابو جان دوپہر ہی سے شام کی چیز کے لیے پوچھا کرتے تھے کہ ’’بچے آئیں گے شام کو، کیا منگوائوں؟‘‘ یا پھر خود ہی کہتے کہ ’’یہ بنا لو، وہ بنا لو‘‘۔ کچھ عرصہ کے بعد ابو جان اکثر دوپہر ہی کو بلا کر ۵۰۰ کا نوٹ عنایت فرما دیتے کہ اپنی پسند کا جو چاہے منگوا لینا۔
ابو جان کا رُعب اتنا تھا کہ بچہ ہو یا بڑا ہر ایک آپ سے ڈرتا، کسی کی اتنی ہمت نہ ہوتی تھی کہ کوئی بات مزاج کے خلاف کہے یا پھر ان کے سامنے اونچی آواز میں بات کرے! آپ جب گھر میں تشریف لاتے تو گھر میں شور شرابہ مچا ہوتا، لیکن جیسے ہی ابو جان آتے فوراً ہی سناٹا چھا جاتا۔ ایسے جیسے کہ سب کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ پھر ابو جان سب بہن بھائیوں، بھابھیوں کو تخت (اپنی مخصوص نشست) پر بٹھاتے تھے۔ پھر جو بھی سلام کرتا ابو جان اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے جاتے۔ جس کی کمی آج بھی بہت شدت سے محسوس کرتی ہوں، کیونکہ اس ہاتھ کے پھیرنے سے ایسا لطف اور سرور آتا جو دل کو باغ باغ کر دیتا تھا۔ پھر جو بھی چیز میسر ہوتی اس سے سب کی تواضع کرتے اور ساتھ ساتھ بزرگوں کے قصے سناتے اور اپنے ساتھ ہونے والے واقعات سنایا کرتے تھے۔ اگر ہم کھانے پینے سے شرماتے تو بھی فرماتے کہ ’’کھالو بھئی!‘‘ اور یہ شعر اکثر پڑھتے:
جب ہم ہی نہ ہوں گے تو کیا رنگِ محفل کسے دیکھ کر آپ شرمائیے گا
اور اگر کوئی ایسی چیز ہوتی کہ جو پسند نہ آ رہی ہوتی تو کوئی یوں نہ کہہ سکتا کہ مزہ کی نہیں ہے یا پسند نہیں آ رہی، بلکہ تھوڑا سا کھا ہی لیتے اور ابو جان سمجھ جاتے تھے۔ اور پھر فرمایا کرتے تھے:
یہاں خوانِ نعمت مگر اشتہاء کم وہاں اشتہاء پر سوال غذا کم
وہاں بھوک سے مر رہے ہیں مگر کھانے کو نہیں ہے اور یہاں پر اللہ کی نعمتیں ہیں مگر خواہش ہی نہیں۔
اللہ رب العزت نے ہمارے پیارے ابو جان کو عبادت کا خاص ذوق عطا فرمایا۔ سردی ہو یا گرمی ان کا معمول صبح سویرے فجر سے پہلے اٹھنے کا تھا۔ کافی دیر تک زور زور سے اللہ اللہ کی ضربیں لگاتے رہتے اور ذکر و اذکار کے بعد دعاؤں میں مشغول ہو جاتے۔ پھر فجر کی نماز کے لیے جب تشریف لے جاتے تو بلند آواز سے الصَّلَاةُ الصَّلَاةُ کہتے ہوئے سب کو نماز کے لیے اٹھاتے۔ ہم بہنوں کو بھی ہر وقت اول وقت پر نماز پڑھنے کی تلقین کرتے کہ اذان ہو اور وضو کر کے نماز کی نیت باندھ لیں۔
انتہائی ضعف اور بڑھاپے کے باوجود تمام نمازیں کھڑے ہو کر ادا فرمایا کرتے۔ اسی طرح کھانا ہمیشہ سنت طریقہ پر دسترخوان بچھا کر کھایا کرتے تھے۔ غرض اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی سنتوں سے ایسا والہانہ عشق تھا کہ میں نے اپنے ہوش کے ۲۰ سالوں میں کسی اور میں نہ دیکھا۔
تقریباً ہر سال ہی حج و عمرہ کے لیے تشریف لے جاتے اور وہاں پر بھی مدینہ پاک میں قیام طویل فرماتے تھے اور ہر بار گھر سے تشریف لے جاتے ہوئے سب کو اس طرح الوداع کہتے کہ بس یہ آخری ملاقات ہے، کیونکہ مدینہ پاک کی موت کی ہر وقت شدت سے تمنا کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ’’میں ہر سال جاتا ہی مرنے کے لیے ہوں، کہ شاید وہاں کی مٹی مجھے نصیب ہو جائے‘‘۔
اس کے ساتھ ساتھ ابو جان رحمہ اللہ دنیا سے بالکل بے رغبت تھے۔ ان کی زندگی گزارنے کا طریقہ، وضع قطع، لباس و پوشاک انتہائی سادہ تھی۔ کمرہ، بستر اور ہر ہر چیز سادگی کا نمونہ تھی۔ اپنے اوپر خرچ کرنے سے بالکل بے پروا تھے۔ کیا سردی کیا گرمی، سالوں گزر جاتے لیکن اپنے کپڑے نہ بناتے، وہی چند جوڑے تھے جو ہر وقت زیبِ تن فرمایا کرتے تھے۔ اگر کوئی اصرار کر کے بنا ہی دیتا تو جو ضرورت سے زیادہ ہوتے وہ تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔ غرض ابو جان رحمہ اللہ عابد و متقی ہونے کے ساتھ ساتھ زاہد عن الدنیا اور فانا فی اللہ کا پیکر تھے۔ میں ان کی جتنی بھی تعریف کروں کم ہے، کیونکہ جو کچھ بھی مجھے ملا ہے اور جو کچھ سیکھا ہے، انہی کے طفیل سیکھا ہے۔ سچ کہوں تو صحیح معنوں میں ہم نے ان کی قدر نہیں کی۔ اب ابو جان رحمہ اللہ کے چلے جانے کے بعد امی جان کی زیادہ سے زیادہ خدمت اور ان کے پیار و دعاؤں کے سمیٹنے کی کوشش رہتی ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ابو جان رحمہ اللہ کی بال بال مغفرت فرما کر ان کو کروٹ کروٹ راحت نصیب فرمائے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور آخرت میں بھی ہم سب گھر والوں کو جنت الفردوس میں اکٹھا فرمائے۔ آمین۔