آہ! خلیفۂ شیخ الحدیث حضرت مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ
از: مولانا محمد اعجاز مصطفی صاحب (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی)
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم، الحمد للّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ۔
قطب الاقطاب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی قدس سرہ کے خلیفۂ مجاز، محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے شاگردِ رشید، جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے فاضل، جامعہ معہد الخلیل الاسلامی کے رئیس و مہتمم، عالمی تحفظ ختمِ نبوت کراچی کے سرپرست و راہنما، ہزاروں متوسلین کے مرشد و مصلح، کئی دینی جماعتوں، مدارس و مکاتب اور بے سہارا لوگوں کے معاون و مددگار، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ ۳ ربیع الثانی ۱۴۳۴ھ مطابق ۱۴ فروری ۲۰۱۳ء بروز جمعرات گیارہ بجے دن اس دنیائے فانی سے منہ موڑ کر عالمِ عقبیٰ کی طرف وصال فرما گئے۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُون، إِنَّ لِلّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمَّى۔
حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اوائلِ عمری سے ہی نیکی، تقویٰ اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کا خاص ذوق عطا فرمایا تھا۔ تبلیغی جماعت میں وقت لگانا ہو یا حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمہ اللہ کی مجلس و صحبت، حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ کی معیت ہو یا شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ کے ساتھ مدینہ منورہ کا قیام، حضرت موصوف ہمیشہ صفِ اول میں رہے۔
حضرت ہمیشہ علم اور اہلِ علم سے محبت فرماتے تھے، جب بھی کوئی بزرگ بیرونِ ملک یا اندرونِ ملک سے کراچی تشریف لاتا حضرت کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ ضرور آپ کے ادارہ جامعہ معہد الخلیل الاسلامی میں بھی قدم رنجہ ہو اور پھر آپ ادارہ کے تمام طلبہ کو جمع فرماتے اور ان بزرگ کو طلباء سے بیان اور وعظ و نصیحت کرنے کی درخواست کرتے۔
اتباعِ سنت کا حرص اور مواخذہ آخرت کی فکر
اسی طرح آپ کو ہر عمل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق کرنے کی فکر دامن گیر رہتی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار آپ نے میرے شیخ حضرت اقدس مولانا سعید احمد جلال پوری رحمہ اللہ کو اپنے ادارہ میں آنے کی دعوت دی، غالباً مغرب کے بعد کا وقت طے ہوا۔ حضرت جلال پوری شہید رحمہ اللہ جامعہ معہد الخلیل تشریف لے گئے۔ حضرت مدنی رحمہ اللہ باوجود ضعف اور پیرانہ سالی کے حضرت کو ایک ایک کلاس، جامعہ کی لائبریری، مسجد، خانقاہ اور مکتبہ وغیرہ سب جگہ خود لے کر گئے اور پورا نظام بتلایا اور فرمایا کہ ’’میں نے آپ کو تکلیف اس لیے دی کہ آپ بتلائیں کہ اس میں کوئی کام خلافِ سنت تو نہیں ہو رہا؟ کہیں اگر کوئی خامی یا نقص یا کوئی کام خلافِ سنت نظر آئے تو مولانا آپ ضرور ہمیں بتلائیں تاکہ ہم اس عمل کی اصلاح کریں اور اسے سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں‘‘۔
حالانکہ اگر دیکھا جائے تو حضرت مدنی رحمہ اللہ، حضرت جلال پوری شہید رحمہ اللہ سے کئی اعتبار سے بڑے اور سابق تھے، لیکن سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فکر کی بنا پر آپ نے اپنے نظام اور طریقہ کار کو اپنے علاوہ دوسرے پر پیش کیا تاکہ اس میں کسی قسم کی نفس پرستی اور خواہش کی آمیزش نہ ہو۔ اس کو کہتے ہیں اتباعِ سنت کی حرص اور مواخذہ آخرت کی فکر۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے ملفوظات میں کہیں پڑھا تھا کہ حضرت نانوتوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’میں لوگوں کو ان کے مسائل کے جواب دیا کرتا ہوں، لیکن جب معاملہ اپنی ذات کا ہوتا ہے تو میں دوسرے علمائے کرام اور مفتیانِ کرام سے رجوع کرتا ہوں اور ان سے مسائل معلوم کرتا ہوں‘‘۔ وجہ یہی ہے کہ اپنے بارے میں نفس بہت تاویلات اور گنجائشیں نکالنا شروع کر دیتا ہے، جس کی بنا پر حضراتِ اکابر اپنے نفس سے ہمیشہ بدظن اور اس سے محتاط رہتے تھے۔
عقیدۂ ختم نبوت سے عشق
حضرت مدنی رحمہ اللہ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت اور اس کے اکابر کارکنان سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے، آپ کو جب بھی اور کسی جگہ بھی جماعت کے پروگرام کے لیے دعوت دی جاتی تو آپ بہت خوشی سے وہ دعوت قبول فرماتے اور باوجود بزرگی اور پیرانہ سالی کے اس پروگرام میں ضرور شریک ہوتے۔ ایک مرتبہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلدیہ ٹاؤن کراچی کے مرکز جامع مسجد عائشہ کا افتتاح اور جلسہ کا پروگرام تھا اور مغرب کے بعد کا وقت تھا، حضرت اس کاز سے محبت اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے حصول کے لیے وہاں تشریف لائے۔ اسی طرح تحریک تحفظ ناموس رسالت کے موقع پر آپ دفتر ختم نبوت نمائش چورنگی پر تشریف لائے اور پھر سیدھے اسٹیج پر تشریف لائے جو ایک ٹرک پر بنایا گیا تھا، ہم حضرت کو دیکھ کر حیران ہو گئے کہ حضرت رحمہ اللہ کے اندر اتنا جذبہ کہ جوانوں کی طرح آپ یہاں پہنچ گئے اور پھر آخر میں آپ نے رقت آمیز دعا کرائی۔ حضرت ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کو ہم اپنی نجاتِ آخرت اور حصولِ شفاعت کا ذریعہ سمجھتے ہیں‘‘۔
حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کے مختصر حالاتِ زندگی (روزنامہ اسلام کراچی کی رپورٹ)
کراچی (اسٹاف رپورٹر): شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کے خلیفۂ مجاز، معہد الخلیل الاسلامی بہادرآباد کراچی کے بانی شیخ الحدیث مولانا محمد یحییٰ مدنی جمعرات ۱۱ بجے دن کراچی میں انتقال کر گئے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر ۷۳ برس تھی، وہ چند دن مقامی ہسپتال میں زیر علاج بھی رہے۔ ان کی نمازِ جنازہ بعد نمازِ عصر جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں ان کے فرزند مولانا محمد الیاس کی اقتداء میں ادا کی گئی، نمازِ جنازہ میں ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا حکیم محمد مظہر، حافظ عبدالرشید سورتی سمیت ہزاروں طلباء، علماء اور شہریوں نے شرکت کی۔ مولانا یحییٰ مدنی کی تدفین شفیق پورہ میں جمعیت پنجابی سوداگران کے زیر اہتمام قبرستان میں کی گئی۔ سوگواران میں ان کی اہلیہ، سات بیٹے اور پانچ بیٹیوں کے علاوہ ہزاروں عقیدت مند اور شاگرد شامل ہیں۔
مولانا یحییٰ مدنی ۱۹۳۹ء میں لدھیانہ میں پیدا ہوئے، اسکول اور کالج کی تعلیم کراچی میں حاصل کی۔ دینی تعلیم جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن سے حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ، مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ اور مولانا بدیع الزمان بھی شامل ہیں۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہوں نے جامعہ میں ہی تدریس شروع کر دی اور مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ سے بیعت کی، بعد میں ان کی اجازت سے مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ مصنفِ فضائلِ اعمال کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کے ساتھ ۱۵ سال مدینہ منورہ میں قیام کیا۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے انہیں خلافت اور بیعت کی اجازت بھی دی۔
مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ نے بہادرآباد کراچی میں معہد الخلیل کے نام سے دینی ادارہ قائم کیا، بعد ازاں اس کی مزید ۴ شاخیں قائم کیں جن میں طلباء و طالبات کو دورۂ حدیث تک تعلیم دی جاتی ہے۔ وہ معہد الخلیل میں طلباء کو ابو داؤد شریف کا درس بھی دیتے تھے۔ مولانا یحییٰ مدنی کے ساتوں بیٹے حافظ، عالمِ دین اور درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ مولانا یحییٰ مدنی نے دہلی برادری کو حفظِ قرآن اور حصولِ علمِ دین کی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کراچی کے علاوہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں ان کے سینکڑوں شاگرد درس و تدریس اور دین کی اشاعت و تبلیغ میں مصروف ہیں۔ مولانا یحییٰ مدنی سینکڑوں مدارس اور عالمی مجلس تحفظِ ختم نبوت کے سرپرستوں میں شمار ہوتے تھے۔ (روزنامہ اسلام کراچی: ۱۵ فروری ۲۰۱۳ء)
اکابر علمائے کرام کے تعزیتی تاثرات
مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد رفیع عثمانی: مولانا یحییٰ مدنی نے پوری زندگی درس و تدریس اور اللہ کا دین پھیلانے میں گزاری، وہ تواضع اور سادگی کے پیکر تھے۔ ان کی وفات سے اہلِ حق عظیم مربی سے محروم ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے نیک کاموں اور درس و تدریس کے سلسلے کو قائم و دائم رکھے۔ معہد الخلیل الاسلامی میں مولانا یحییٰ مدنی کی تدفین کے بعد تعزیت کرتے ہوئے مفتی صاحب نے کہا کہ مولانا یحییٰ مدنی کے پسماندگان کو اللہ ان کے نیک کاموں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کاموں کو ترقی دے۔
دیگر اکابرین کے بیانات: دریں اثناء ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا حکیم محمد مظہر، مولانا عبدالقیوم حقانی نوشہرہ، مولانا مفتی ابو لبابہ، مولانا مفتی محمد، مفتی عبدالحمید ربانی، مدینہ منورہ سے مولانا حبیب اللہ مظاہری، بھارت سے مولانا محمد طلحہ کاندھلوی نے مولانا یحییٰ مدنی کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا یحییٰ مدنی کی دینی، تبلیغی اور اسلامی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
لاہور کے علمائے کرام کا اظہارِ تعزیت: جامعہ اشرفیہ کے مہتمم مولانا محمد عبید اللہ، مولانا فضل الرحیم اشرفی، حافظ اسعد عبید، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے مرکزی امیر مولانا عبدالحفیظ مکی، اتحادِ اہل سنت پاکستان کے مرکزی ناظمِ اعلیٰ مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا عبدالشکور حقانی، مولانا عبدالرؤوف فاروقی، مولانا امجد خان، مولانا زاہد الراشدی، مولانا فہیم الحسن تھانوی اور مولانا مجیب الرحمن انقلابی نے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا یحییٰ مدنی کی وفات سے ملک ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت اور نامور عالمِ دین سے محروم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کے خلیفۂ مجاز، جامعہ معہد الخلیل الاسلامی کراچی کے مہتمم اور نیکی و تقویٰ کے پیکر تھے، ان کی تمام زندگی درس و تدریس، خانقاہی نظام کے قیام، اشاعتِ اسلام اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے جد و جہد میں گزری۔ (روزنامہ اسلام: کراچی ۱۵ فروری ۲۰۱۳ء)
اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت مدنی رحمہ اللہ کے دینی، تبلیغی اور اصلاحی اعمال اور خدمات کو قبول فرما کر آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آپ کے لواحقین، مریدین، منتسبین اور آپ کے ادارہ کے طلباء کو صبرِ جمیل عطا فرمائیں اور آپ کے صدقاتِ جاریہ کی حفاظت اور دن دوگنی رات چوگنی ترقیات سے ہمکنار فرمائے۔ آمین۔ وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وعلیٰ آلہ وصحبہ أجمعین۔