مضامین

آہ! حضرت والا ہم سے بچھڑ گئے

از: قرۃ العین شاہ زیب

بند کیں میں نے آنکھیں تو میری کھل گئیں آنکھیں

کیا تم کو بتاؤں مجھے کیا کیا نظر آیا

کچھ لوگ اپنی ذات میں ایک کائنات ہوتے ہیں جن کا وجود دھرتی پر اللہ کی رحمت کو متوجہ کرتا ہے اور جن کے نالے اور آہیں عذابِ الٰہی کو ٹال دیا کرتی ہیں اور جن کا خلاء پورا نہیں ہو سکتا۔ ایسی ہی ایک ہستی ہمارے مادرِ علمی جامعہ معہد الخلیل الاسلامی کے بانی و مہتمم حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ بھی تھے۔ آہ! کل تک جن کا تذکرہ ’’دامت برکاتہم‘‘ کی دعا کے ساتھ کیا کرتے تھے آج ان کے نام کے ساتھ ’’نور اللہ مرقدہ‘‘ کا اضافہ کرنا طبیعت پر بہت گراں گزر رہا ہے، قلم ساتھ نہیں دے رہا، قلب کو یقین نہیں آ رہا کہ ہمارے اتنے شفیق مربی ہمیں چھوڑ کر چلے گئے، معہد کی فضائیں سوگوار ہو گئی ہیں، اس گلشن کے طلباء خود کو یتیم محسوس کرنے لگے ہیں۔

اول الذکر شعر حضرت والا اپنے تقریباً ہر بیان میں پڑھا کرتے تھے اور سامعین کو موت کی یاد دلا کر خوابِ غفلت سے جگایا کرتے تھے۔ ہمارے حضرت رحمہ اللہ کی ذات سراپا شفقت تھی۔ ہمیں نااہلی کے باوجود حضرت جی نے اپنی سخت بیماری کے ایام میں بھی ابو داؤد شریف کا درس دیا۔ وہ سہارا لے کر آتے تھے مگر تدریس کو نہ چھوڑتے تھے۔ حضرت جی سے جب کوئی سوال پوچھا تو انہوں نے کبھی ناگواری کا اظہار نہیں کیا بلکہ ہمیشہ پیار سے سبق سمجھایا۔

اصول پسندی، پابندیِ وقت اور مربیانہ شفقت

حضرت جی بہت شفیق تھے، مگر جب اصول و قوانین اور دینی حدود کی بات آتی تو آپ سختی سے کام لیتے تھے۔ آپ کے ہر انداز میں ہمیں اکابرین کے طرز کی جھلک نظر آتی تھی۔ یہی وجہ تھی جس کی بنا پر ہمارا مدرسہ تربیتی اعتبار سے ایک ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ ہمارے اساتذہ صرف نصاب کی تکمیل پر ہی نہیں، بلکہ ہماری حرکات پر بھی خصوصی نگاہ رکھتے تھے اور گاہے بگاہے ان کی بہترین انداز میں اصلاح فرمایا کرتے تھے۔ وقت کی پابندی بھی حضرت کی ممتاز صفت تھی، مدرسے کی کوئی بھی تقریب کبھی عموماً اپنے وقت سے ایک یا دو منٹ بھی آگے پیچھے نہ ہوتی تھی، چاہے مجمع ہو یا نہ ہو حضرت کے ایماء پر تقریب کا آغاز ہو جایا کرتا اور اساتذہ و طلباء کو بھی اس کی خاص تلقین کی جاتی تھی اور تاخیر پر ہر چھوٹے بڑے سے بازپرس ہوتی تھی۔

حضرت جی اپنے طلبہ کو ادب سکھانے پر خصوصی توجہ دیا کرتے تھے۔ سخاوت کا وصف بھی حضرت جی کی ذات میں نمایاں تھا، حضرت رحمہ اللہ کی جانب سے سال میں ایک مرتبہ ضرور ہی سب طلبہ و طالبات، اساتذہ و معلمات کی دعوتِ طعام ہوا کرتی تھی۔ امتیازی حیثیت سے درجات حاصل کرنے والے طلبہ کو معہد کی جانب سے کتابیں بھی ملا کرتی تھیں اور نجانے کتنے غرباء، ضرورت مند اور فی سبیل اللہ انفاق کے مواقع تھے جہاں حضرت رحمہ اللہ بھرپور حصہ ڈالا کرتے تھے۔ غرض حضرت رحمہ اللہ کی پوری زندگی گویا دین کے لیے وقف تھی۔

میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی

میں اسی لیے مسلماں، میں اسی لیے نمازی

اللہ تعالیٰ ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ ان کے لگائے ہوئے گلشن میں ہمیشہ بہار رہے اور ان کے متعلقین کو بھی اپنی بارگاہ اور دین کی خدمت کے لیے قبول فرمائے۔ آمین۔