آہ! ہمارے پیارے والد محترم
آہ! ہمارے پیارے والد محترم
بنتِ حضرت اقدس رحمہ اللہ
(اہلیہ مفتی محمد سلمان یاسین)
إِنَّا لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى۔
جب آیا تھا تو روتا تھا تجھے سب دیکھ ہنستے تھے اب ایسی کر کے جا بندے کہ تو ہنستا، وہ روتے ہوں
یہ شعر اکثر حضرت والد محترم رحمہ اللہ اپنے اہلِ خانہ، طلبہ و مریدین کی تربیت کے لیے اپنی مجالس میں سنایا کرتے تھے اور آج یقیناً خود بھی اس شعر کے مصداق بن گئے۔ پورا سال گزرنے کے باوجود یقین نہیں آتا کہ وہ ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گئے ہیں، بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ حج یا عمرہ کے سفر کے لیے تشریف لے گئے ہیں اور ابھی واپس لوٹ آئیں گے۔
ہمارے پیارے والد ماجد استاذ العلماء حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی نور اللہ مرقدہ و اعلیٰ اللہ مراتبہ ہمارے والد، استاذ و مشفق مربی، الغرض سب ہی کچھ تھے جن کا حقیقت میں ہم سے حق ادا نہ ہو سکا۔ ایک تاجر برادری اور متمول خاندان کا فرد ہونے اور دنیا کمانے کے تمام تر وسائل مہیا ہونے کے باوجود اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے دین کی خدمت کے لیے ہمارے والد صاحب رحمہ اللہ کو ایسے منتخب فرما لیا کہ ساری زندگی خود بھی اسی دینِ مبین کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا اور اپنی ساری اولاد کو بھی اسی دین کے راستہ کا راہی بنا گئے۔
اللہ اللہ! ۱۹۸۲ء میں اپنے ادارہ معہد الخلیل الاسلامی کی بنیاد رکھی اور پھر اپنے اس گلشن کی آبیاری اس طرح سے فرمائی کہ ساری زندگی اس کے لیے محنت مشقت اور مجاہدہ میں گزار دی اور اس کو اپنے خون سے ایسا سینچا کہ آج اللہ پاک کے فضل و کرم سے آپ کی محنتوں سے یہ ادارہ ترقی کی منازل طے کرتا ہوا کئی شاخوں کے ساتھ قائم و دائم ہے اور یہ والد محترم رحمہ اللہ کے لیے ان شاء اللہ ایک عظیم صدقۂ جاریہ ہے۔
ہم نے اپنا سارا بچپن یہی دیکھا کہ صبح فجر سے پہلے جو تشریف لے جاتے تو رات کو عشاء کے بعد کافی دیر سے گھر تشریف لاتے، کبھی کبھی حالات کی خرابی کی وجہ سے رات کو تاخیر سے آنے میں ایک خوف سا رہتا تھا، لیکن حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ اللہ کی خاص حفاظت کا احساس تھا۔
ایک دفعہ آپ ایک بزرگ سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے۔ انہوں نے آپ کا نام پوچھا تو آپ رحمہ اللہ نے بتایا ’’محمد یحییٰ‘‘۔ تو انہوں نے تصحیح فرمائی ’’مُحَمَّدٌ يَحْيَى‘‘ کہ ان شاء اللہ آپ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اور سنت زندہ ہوگی۔
حضرت والد صاحب رحمہ اللہ ہمارے استاذ بھی تھے، سنن ابی دائود شریف ہم نے والد صاحب رحمہ اللہ سے پڑھی۔ اندازِ تعلیم طبیعت کی طرح انتہائی سادہ، صاف ستھرا اور بغیر کسی رکاوٹ کے روانی کے ساتھ ہوتا تھا۔ طبیعت بھی انتہائی سادہ، بناوٹ اور تصنع سے دور تھی۔ ایک دفعہ حضرت مولانا ابو بکر غازی پوری رحمہ اللہ ہمارے گھر تشریف لائے تو والد صاحب رحمہ اللہ سے ملاقات کے بعد فرمایا کہ ہم کو ایسے بزرگ سے ملوایا کہ ’’ہمیں اپنے پرانے بزرگوں کی یاد تازہ ہو گئی‘‘۔
منکرات، بدعات، رسومات سے خود بھی اجتناب کے ساتھ حتی الوسع دوسروں پر نکیر بھی فرمایا کرتے تھے، اخیر عمر میں نکاح مسجد ہی میں پڑھایا کرتے تھے، شادی ہالوں میں نکاح پڑھانے سے معذرت فرما لیا کرتے تھے اور دوسروں کو بھی مسجد میں نکاح پڑھانے کی ترغیب دیا کرتے تھے، جہاں فوٹو کیمرہ وغیرہ دیکھتے تو اس مجلس سے اٹھ جاتے تھے، میزبان سے صاف طور پر فرما دیتے تھے کہ ’’اگر دورانِ نکاح ان خرافات کو دیکھ لیا تو وہیں نکاح (کا خطبہ) ادھورا چھوڑ دوں گا‘‘۔
ایک اخص الخاص وصف جو والد محترم رحمہ اللہ میں ساری زندگی دیکھا وہ باوجود ضعف و اعذار کے نماز میں باجماعت تکبیرِ اولیٰ کی پابندی تھی۔ معاملات کی درستگی میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے، کسی کا کوئی ذمہ اپنے اوپر باقی نہ رکھتے اور اس سلسلہ میں اپنی اولاد سے بھی اجنبیت برتتے تھے، اکثر فرمایا کرتے تھے: تَعَاشَرُوا كَالْإِخْوَانِ وَتَعَامَلُوا كَالْأَجَانِبِ۔
حرمین کا ذوق بھی اللہ پاک نے کیا خوب دیا تھا! بالخصوص مدینہ طیبہ سے بہت ہی خصوصی لگاؤ تھا۔ سفرِ حرمین پر ہوتے تو یہ عجیب معاملہ دیکھنے اور سننے کو ملتا کہ ابھی مدینہ طیبہ میں بھرپور وقت گزار کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور اب اچانک مکہ مکرمہ سے پھر دوبارہ مدینہ منورہ کے لیے بے چین ہو کر اپنے حبیبِ پاک سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس کی زیارت کے لیے پہنچ گئے۔ ایسا لگتا تھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق و محبت گویا رگ و پے میں رچا بسا تھا۔
محمد کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے اسی میں ہے اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے
حرمین میں ہوتے تو عوام و خواص اہل اللہ، علماء، صلحاء اور عامۃ الناس بڑے ہوں یا چھوٹے اپنے ہوں یا پرائے سب کی خوب ضیافت و اکرام فرماتے۔ ہر سال حج و عمرہ پر جاتے تو اس طرح جاتے کہ شاید اب کبھی واپسی نہ ہو سکے گی، فرماتے بھی یہی تھے کہ ’’میں اسی نیت سے جاتا ہوں کہ شاید وہاں پہنچ کر میرا آخری وقت آجائے‘‘۔
حدیثِ پاک أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ کی عملی تفسیر تھے اور اپنے محبوب شیخ حضرت مولانا محمد زکریا صاحب رحمہ اللہ کے ارشادِ گرامی ’’موت کو ہر وقت یاد کرو اور درود شریف کی کثرت کرو‘‘ کا مصداق تھے۔ اکثر زبانِ مبارک سے یہ شعر سنا کرتے تھے:
بند کیں میں نے آنکھیں تو میری کھل گئی آنکھیں کیا تم کو بتاؤں مجھے کیا کیا نظر آیا
اور یہ بھی پڑھا کرتے تھے:
موت کیا ہے زمانہ کو بتلائوں میں اک مسافر تھا رستہ میں نیند آگئی
اپنے شیخ رحمہ اللہ پر جان چھڑکتے تھے اور دل و جان سے فدا تھے۔ ہر تکلیف اور پریشانی میں درود شریف کی کثرت سے ورد کی تلقین فرماتے اور اس پر یقینِ کامل رکھتے تھے کہ تمام آفات و بلیات سے حفاظت کا مجرب عمل ہے۔ کچھ مواقع ایسے آئے کہ جن میں سخت دعاؤں کی ضرورت تھی اور دل پریشانی، خوف اور تکالیف میں مبتلا تھا تو دعاؤں کی درخواست پر فرمانے لگے کہ ’’بیٹی! تصور کرو کہ تم یہاں ہو ہی نہیں، بلکہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ مبارک پر کھڑی صلوٰۃ و سلام پیش کر رہی ہو اور اس تصور کے ساتھ برابر درود پاک پڑھتی رہو۔ پھر دیکھنا کس قدر جلد تمام تکالیف اور پریشانیاں دور ہوں گی‘‘، اور واقعتاً پھر اللہ پاک نے اپنا کرم ہی کرم اور فضل ہی فضل فرمایا۔
کسی کی بیماری کا سن کر بے چین ہو جاتے تھے، چاہے وہ اپنی اولاد ہو یا اولاد کی اولاد یا اور کوئی عزیز، آپ کی علالت سے کچھ ایام قبل ہی ہمارے بڑے بھائی جان حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کے ہاتھ میں فریکچر ہوا اور اس کے بعد وصال سے کچھ ایام قبل بھائی مولانا محمد عیسیٰ صاحب کا ایکسیڈنٹ ہوا تو انتہا کا فکر مند پایا، بے چین ہیں، ہر ایک سے طبیعت پوچھ رہے ہیں اور حسبِ ہمت خود بھی تشریف لے جا رہے ہیں۔
دل میں ایک درد تھا کہ مکاتب، مساجد و خانقاہیں آباد ہوں۔ حضرت سید نفیس شاہ صاحب رحمہ اللہ کا مندرجہ ذیل شعر وردِ زباں رہتا اور اس پر آہیں بھرتے: (تصور میں آرہا ہے کہ کیا کیفیت ہوتی تھی)
نفیس کیسا یہ وقت آیا سلوک و احساں کے سلسلوں پر
جہاں مشائخ کی رونقیں تھیں وہ خانقاہیں ترس رہی ہیں
حقیقت میں ایسا محسوس ہوتا کہ دل سے درد محسوس کر رہے ہیں اور پھر اس شعر کو اپنے جاری کردہ ماہنامہ سلوک و احسان کے سرورق پر مستقل زینت بھی بنا دیا۔
ہم نے اپنے والد محترم رحمہ اللہ کو ساری زندگی ذکر بالجہر کا خصوصی اہتمام فرماتے دیکھا، اخیر عمر میں اپنے مدرسہ میں روزانہ تمام طلبہ و اساتذہ کے لیے ذکر کی ایک مزید مجلس جاری فرمائی۔ اپنے بچپن میں تہجد کے وقت مخصوص انداز میں ذکر کی آواز سے آنکھ کھلتی تو مٹھاس کانوں میں گھل سی رہی ہوتی تھی:
لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ … مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ … صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَبَارَكَ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا كَثِيرًا … يَا رَبِّ، صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا … عَلَى حَبِيبِكَ خَيْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمْ … هُوَ الْحَبِيبُ الَّذِي تُرْجَى شَفَاعَتُهُ … لِكُلِّ هَوْلٍ مِنَ الْأَهْوَالِ مُقْتَحَمِ … اللَّهُ حَاضِرِي … اللَّهُ نَاظِرِي … اللَّهُ شَاهِدِي … اللَّهُ مَعِي۔
اور اب محض اللہ پاک کے فضل و کرم سے اور حضرت والد صاحب نور اللہ مرقدہ و اعلیٰ اللہ مراتبہ کی برکات اور توجہات سے میرے شوہر محترم مدظلہ کی وہی آواز کانوں میں رس گھولتی ہے۔ فَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَلَهُ الشُّكْرُ وَالْمِنَّةُ۔
وصال سے قبل مرضِ الموت میں ڈاکٹر حضرات آپ کا سینہ آلہ (Stethoscope) سے چیک کر رہے تھے تو دل سے اللہ اللہ کی آواز سنی، جبکہ اس وقت حالت غنودگی کی ہی تھی اور سانس کی دھڑکن کے ساتھ اللہ اللہ کی آوازیں آ رہی تھیں، جو انہوں نے اپنے قریب موجود دوسرے ڈاکٹر حضرات کو بھی سنائیں۔ سبحان اللہ!
ہمارے پیارے والد صاحب رحمہ اللہ کی حسرت اور دلی تمنا تھی کہ عمر کے آخری ایام اپنے پیارے حبیبِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں گزاریں اور بقیع شریف میں آپ کی مرقد بنے۔ آپ کی ہر دعا میں یہ کلمات ضرور ہوتے کہ ’’غیر محرموں، نرسوں کے ہاتھ کی موت سے اللہ حفاظت فرمائیں اور اللہ سجدہ کی حالت میں مدینہ پاک کی موت نصیب فرمائیں‘‘۔
والد محترم رحمہ اللہ کو مدینہ پاک کی موت کی تمنا اور ہر وقت اس کے لیے دعا کا اہتمام اتنا تھا کہ ہر خاص و عام گواہ ہے، لیکن اس کی ظاہری صورت شاید اللہ کو منظور نہ تھی، اور اللہ پاک نے محض اپنے فضل و کرم سے یہ سعادت نصیب فرمائی کہ والد صاحب رحمہ اللہ کے وصال کے ۱۵ روز بعد آپ کا نواسہ (جس کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ اس کے رونے سے میرے دل میں تکلیف ہوتی ہے) بقیع میں مدفون ہو گیا۔ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطًا، وَاجْعَلْهُ لَنَا أَجْرًا وَذُخْرًا، وَاجْعَلْهُ لَنَا شَافِعًا وَمُشَفَّعًا۔
محترم والد ماجد رحمہ اللہ کے وصال سے دو روز قبل بندی نے خواب دیکھا کہ حضرت والد صاحب سفر کے لیے تیار ہیں اور اپنے کمرے کے باہر وہیل چیئر پر تشریف فرما ہیں اور ہر ملنے والے سے خوشی خوشی اظہار فرما رہے ہیں کہ ’’سلمان (شوہر محترم کا نام لے کر) مجھے مدینہ لے کر جا رہا ہے‘‘۔ دو دن بعد آپ کا وصال ہو گیا۔
اللہ سبحانه وتعالیٰ ہمارے والد محترم رحمہ اللہ کی قبر کو نور سے منور فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام پر فائز فرمائے اور روزِ محشر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک سے سیراب فرمائے۔ آمین یا رب العالمين۔
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ، وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَأَغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ۔ اللَّهُمَّ جَازِهِ بِالْحَسَنَاتِ إِحْسَانًا وَبِالسِّيِّئَاتِ عَفْوًا وَغُفْرَانًا۔