آہ! ایک اور چراغ بجھ گیا
حضرت الحاج نثار احمد خان فتحی صاحب رحمہ اللہ
خلیفۂ مجاز حضرت قاری فتح محمد صاحب پانی پتی رحمہ اللہ
زمین کے مختلف حصوں میں پتھر کے ٹکڑوں اور سنگریزوں کی تعداد حدِ شمار سے زیادہ پڑی رہتی ہے جن کو انسان اور جانور ہر وقت پامال کرتے رہتے ہیں، لیکن ان ہی میں کوئی سنگریزہ لعل یا ہیرا بن کر نکل آتا ہے۔ سمندر میں بارش کے بے شمار قطرے ہر سال گرتے رہتے ہیں جو کسی حساب میں نہیں آتے، لیکن انہی میں چند قطرے وہ بھی ہوتے ہیں جو آغوشِ صدف میں پَل کر موتی بن کر نکلتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ معاملہ نوعِ انسان کے ساتھ ہے۔ روزانہ ہزاروں انسان پیدا ہوتے ہیں، لیکن ان میں چند ہی ایسے ہوتے ہیں جو واقعی انسان کہلانے کے مستحق ہوتے ہیں۔ بقولِ شاعر:
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
میرے کرم فرما حضرت یحییٰ مدنی رحمہ اللہ بھی الحمدللہ ایسے ہی انسان تھے۔ انسان وہی ہے جو اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانے، اپنے محسن کی نعمتوں کا شکر ادا کرے۔ اپنے خالق کی خلقت پر غور وفکر کرے اور اس کو ہمیشہ یاد رکھے۔ اگر کوئی انسان ایسا نہیں کرتا تو بظاہر وہ انسان ہے مگر وہ جانوروں سے بھی بدتر ہے۔ خود خدا تعالیٰ فرما رہے ہیں: ’’اولٰئک کالانعام بل ھم اضل‘‘۔
حضرت یحییٰ مدنی رحمہ اللہ صحیح معنوں میں مسلم مومن انسان تھے۔ اسلام کی حقیقت ان کے دل کی گہرائی میں اتری ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی صحبت ان کی تقریروں سے زیادہ مؤثر ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ پر ہر وقت بھروسہ رہتا تھا۔ ذاتِ مبارک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دلی لگائو تھا۔ متاخرین کے دینی زوائد اور رنگ آمیزیوں سے دلچسپی نہ تھی۔ وہ صحیح معنوں میں درویش تھے مگر کبھی اپنی درویشی کی نمائش نہیں کی۔ مزاج میں انتہائی سادگی اور بے تکلفی تھی۔ اپنی بڑائی اور کمالات کے اظہار سے کوسوں دور تھے۔ بہت سادہ لباس پہنتے تھے۔ میں نے اپنے تعلقات کے بیس سالہ دور میں کبھی ان کے منہ سے ایسی کوئی بات نہیں سنی جس سے اپنی بڑائی کا احساس ہوتا ہو۔ طبیعت پر مذاق توحید غالب تھا۔ نماز، روزہ، اعتکاف، حج، عمرہ اور دیگر اقسامِ عبادت کا ذوق و شوق اور اہتمام دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ نہ معلوم کتنے حج اور عمرے آپ کے نامۂ اعمال میں لکھ دیے گئے۔ دو مرتبہ اس خاکسار کو بھی آپ کے ساتھ عمرے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔
رمضان اور اعتکاف
رمضان المبارک جس طرح قرآن کے نزول، رحمتوں اور برکات و تجلیات کا مہینہ ہے، بندگی اور عبادات کی بہار کا زمانہ اور روحانیت کا جشنِ عام ہے، اسی طرح عاشقانِ الٰہی اور خاصانِ خدا کی دلی مراد برآنے کا موسم بھی ہے۔ یہ ان کا محبوب ترین مہینہ ہوتا ہے جس کے لیے وہ سال بھر دن گنتے رہتے ہیں اور چاند دیکھتے ہی ان میں ایک نیا ولولہ ذوق وشوق اور جوش و خروش پیدا ہو جاتا ہے۔ دینی اور روحانی مرکزوں اور خانقاہوں کی فضا بدل جاتی ہے۔ ہمارے تمام اکابرین کی خانقاہوں کا یہی حال تھا۔ مولانا گنگوہی، حضرت رائے پوری، حضرت تھانوی، حضرت مولانا حسین احمد مدنی اور حضرت شیخ الحدیث محمد زکریا کاندھلوی رحمہم اللہ کے ایامِ رمضان کے معمولات اور مشاغل جو کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں پڑھ پڑھ کر اولیائے متقدمین کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ ان ایام میں یہ حضرات گویا زبانِ حال سے یہ التجا کر رہے ہوتے ہیں:
پلا ساقیا وہ مئے دل فروز
کہ آتی نہیں فصلِ گل روز روز
اس خاکسار کو ان اکابرین کے ساتھ رمضان گزارنے کی سعادت تو نہیں ملی، البتہ اس کی ایک جھلک اور نمونہ میں نے حضرت یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کے یہاں دیکھا۔ دو مرتبہ میں نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا۔ ایک مرتبہ پورے رمضان کا اعتکاف جب صوفی اقبال صاحب رحمہ اللہ مدینہ شریف سے تشریف لائے تھے۔ اس اعتکاف میں بہت سی بزرگ ہستیاں بھی شامل تھیں۔ صوفی اقبال صاحب، پروفیسر جلیل صاحب، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی صاحب، مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب، مفتی مختار الدین کربوغہ شریف والے اور دوسرے کئی اللہ والے لوگوں کی شرکت سے اس اعتکاف میں ایک غیر معمولی اور عجیب نورانی کیفیت محسوس ہوتی تھی۔ مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب نے قصیدہ بردہ شریف جس طرح اپنے مخصوص انداز میں ترنم سے پڑھا تھا اس کو تصور میں یاد کر کے اب بھی لطف اٹھاتا ہوں۔
خدمتِ دین
حضرت مدنی رحمہ اللہ اپنے اسکول کے زمانہ ہی سے تبلیغی جماعت سے وابستہ ہوگئے تھے اور یہ وابستگی اتنی بڑھی کہ آپ تبلیغی مرکز رائے ونڈ میں ہی مقیم ہوگئے اور حضرت جی مولانا یوسف صاحب رحمہ اللہ سے بیعت بھی ہوگئے۔ مسلسل پانچ سال ۵۹ء سے ۶۴ء تک رائے ونڈ میں قیام فرمایا۔ اس دوران حجاز، اُردن، شام، عراق، بحرین، سوڈان اور حبشہ جماعتوں کے ساتھ سفر کرتے رہے۔ حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحب رحمہ اللہ کے وصال کے بعد آپ قطب الاقطاب حضرت مولانا زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ سے بیعت ہوئے بلکہ مرمٹے۔ کافی عرصہ اپنے شیخ کے ساتھ مدینہ شریف میں قیام فرمایا۔ سفر و حضر میں خوب شیخ کی خدمت کی اور خلافت سے نوازے گئے۔
درسِ نظامی کی تکمیل
حضرت یحییٰ مدنی رحمہ اللہ اپنے شیخ سے اجازت لے کر ۷۰ء سے ۷۴ء تک جامعہ بنوری ٹائون میں بہ حیثیت دینی طالبعلم رہے اور بخاری شریف علامہ محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ سے پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ دو سال وہاں ابتدائی جماعت کے مدرس بھی رہے۔ ۷۴ء کے بعد آپ معہ اہل وعیال پھر مدینہ تشریف لے گئے اور اپنے شیخ کی بابرکت مجلسوں میں ہر وقت کے حاضر باش بن گئے۔ آپ کے شیخ نے جس جس جگہ ماہِ مبارک گزارا اور اعتکاف کیا حجاز، سہارنپور، فیصل آباد اور آخری رمضان جنوبی افریقہ اور پھر شیخ کے لندن کے پہلے سفر اور آخری حج اور سہارنپور کے آخری سفر کے بعد بحالت علالت کراچی سے حجازِ مقدس کے سفر میں حضرت مدنی رحمہ اللہ کو اپنے شیخ کی بھرپور رفاقت اور صحبت نصیب ہوئی۔
دار العلوم معہد الخلیل کی ابتداء
حضرت یحییٰ مدنی رحمہ اللہ نے کراچی آکر اپنے بہادرآباد والے مکان میں ایک چھوٹا سا مدرسہ تحفیظ القرآن کے نام سے جو پودا لگایا تھا وہ آپ کی شب و روز کی محنت اور خلوصِ نیت سے آج ایک بہت بڑے تناور اور گھنے درخت کی صورت میں ’’معہد الخلیل‘‘ کے نام سے خدمتِ دین میں ایک انفرادی اور خصوصی حیثیت سے تبلیغِ دین میں شب و روز مصروف ہے۔ معہد الخلیل بہادرآباد کو اب مرکز کی حیثیت حاصل ہے کیونکہ اس کے زیرِ انتظام مختلف مقامات پر اس کی شاخیں (جس میں ایک لڑکیوں کی درسگاہ بھی شامل ہے) الحمدللہ قائم ہوگئی ہیں اور اس وقت کل طلباء کی تعداد تقریباً ایک ہزار دوسو کے قریب ہے۔ وفاق المدارس کے امتحانات میں یہاں کے طلبہ کئی مرتبہ اعلیٰ معیار سے امتیازی پوزیشنیں لے کر پاس ہوئے ہیں۔
طلباء کی روحانی تربیت
ظاہری تعلیم و تعلم، درس و تدریس اگر باطنی اعمال کے ساتھ نہ ہو تو وہ ایک ایسے جسم کی طرح ہے جس میں روح نہ ہو، جیسے نماز کہ ظاہری ارکان گو فقہ کے مطابق سب صحیح ادا کئے، مگر جو ایک باطنی عمل ہے خشوع و خضوع یعنی یہ احساس کہ ہم کس کے دربار میں حاضری دے رہے ہیں۔ حق تعالیٰ کی عظمت اور کبریائی کا احساس اور پوری توجہ حق تعالیٰ کی طرف اور یہ خیال کہ وہ ہمیں دیکھ رہے ہیں اور دل میں جو خیالات آتے ہیں اس سے بھی واقف ہیں، اگر یہ کیفیت نماز میں نہ پائی گئی تو وہ نماز بے روح اور بے جان کہلائے گی۔ حضرت یحییٰ مدنی رحمہ اللہ نے شروع ہی سے ظاہری تعلیم کے ساتھ باطنی تعلیم کا بھی ایسا نظام طلبہ کے لیے ترتیب کیا کہ وہ ظاہری اعمال اور تعلیم کے ساتھ باطنی اعمال کا بھی ہر وقت لحاظ رکھیں، چنانچہ ذکر اذکار، مراقبات، تلاوتِ قرآن، درود شریف اور مواعظ مدرسہ کے روز کے معمولات میں شامل ہیں۔ ہر مہینے کی آخری جمعرات کو درود شریف کی پُر کیف مجلس ہوتی ہے جس میں کثیر تعداد میں درود شریف پڑھا جاتا ہے، جس میں طلبہ کے علاوہ بھی لوگ شرکت کرتے ہیں جن کی تعداد اب سینکڑوں تک پہنچ چکی ہے۔
مدرسہ کے انتظامی امور
حدیث میں ہے کہ ’’بہترین ترکہ جو انسان مرنے کے بعد چھوڑتا ہے وہ نیک اور صالح اولاد ہے‘‘۔ الحمدللہ اس اعتبار سے حضرت یحییٰ مدنی رحمہ اللہ بہت ہی خوش قسمت ہیں کہ ان کی اولاد کا ہر فرد لڑکا ہو یا لڑکی دین کی دولت سے مالا مال ہیں اور سب خدمتِ دین میں لگے ہوئے ہیں۔ ماشاء اللہ سات لڑکے ہیں اور سب حافظِ قرآن، عالم اور اکثر اپنے ہی مدرسہ سے فارغ التحصیل ہیں۔ پانچوں داماد بھی حافظِ قرآن ہیں۔ مدرسہ کے تدریسی اور انتظامی امور کی کچھ تفصیل ملاحظہ ہو:
اہتمام و مالیات: یہ مدرسے کا بہت اہم شعبہ ہوتا ہے، جہاں ہزاروں طلبہ پڑھتے ہوں ان کی سہولیات اور ضروریات کو مدنظر رکھنا، اساتذہ کا انتخاب و تقرر، ان کی تنخواہیں، طلباء کے داخلے، شکایات کا ازالہ اور دوسرے انتظامی امور اس شعبے سے متعلق ہیں۔ یہ شعبہ حضرت مدنی مرحوم کے بڑے صاحبزادے مولانا محمد الیاس مدنی کے سپرد ہے، جو نہایت خوش اسلوبی سے اس ذمہ داری کو پورا کر رہے ہیں۔ خاموش طبع اور متواضع نوجوان ہیں۔ حق تعالیٰ ان کی عمر میں برکت عطا فرمائے۔
تعلیمات، تربیت طلباء اور خانقاہی نظام: اس شعبے میں طلباء کی ظاہری تعلیم، اساتذہ، طلبہ کے تعلیمی مسائل، مدرسہ کے اصول و قواعد و ضوابط کے نفاذ کے ساتھ ساتھ باطنی اعمال ذکر و اذکار و مراقبات اور اصلاحی بیانات پر خاص طور پر توجہ دی جاتی ہے۔ یہ شعبہ حضرت مرحوم کے دوسرے صاحبزادے مولانا محمد یوسف مدنی کے سپرد ہے جو مدرسہ کے شیخ الحدیث بھی ہیں۔ ان کو حق تعالیٰ نے بہت سی خوبیوں سے نوازا ہے، خاص طور پر ان کے اصلاحی بیانات اپنا ایک خصوصی انداز رکھتے ہیں۔ دوسری مساجد میں بھی ان کے بیانات ہوتے رہتے ہیں۔ ’’تحفۃ القاری‘‘ کے نام سے بخاری شریف کی شرح کرتے ہوئے چار ضخیم جلدیں اب تک لکھ چکے ہیں جو ان کی علمی قابلیت کی گواہی دیتی ہیں۔ حق تعالیٰ ان کو مزید انعامات سے نوازے۔
شعبۂ حفظ: حضرت مدنی مرحوم کے بڑے داماد حافظ محمد شاہد صاحب اس شعبہ کے نگران ہیں۔ جو خود بھی جید حافظ ہیں۔ اس کے علاوہ طلباء کے کھانے پینے کا انتظام بھی ان کے سپرد ہے جسے نہایت منظم طریقے سے آپ انجام دیتے ہیں۔
شعبۂ بنات: یہ خواتین کی تعلیم کا شعبہ ہے۔ اس میں خواتین اساتذہ لڑکیوں کو تعلیم دیتی ہیں۔ اس کا انتظام مولانا زکریا صاحب کے سپرد ہے۔ جو مدرسے میں ترمذی شریف کا درس بھی دیتے ہیں۔
معہد الشیخ زکریا: یہ مدرسہ معہد الخلیل کی شاخ ہے، اس کے انتظامی امور کی دیکھ بھال حضرت مرحوم کے چھوٹے صاحبزادے مفتی محمد مدنی کرتے ہیں۔
طباعت و اشاعت: حضرت مرحوم کا جاری کردہ مکتبۃ الشیخ کے نام سے ایک ادارہ قائم ہے۔ جہاں سے اہم دینی کتب کی اشاعت ہوتی ہے۔ یہ شعبہ مولانا محمد اسماعیل مدنی کے پاس ہے، جو بہت خوش اسلوبی سے اس کو چلا رہے ہیں۔
میری آخری ملاقات
۲۰۰۶ء میں میرا بائی پاس آپریشن ہوا، اس کے بعد تین مرتبہ حملۂ قلب ہوا۔ تیسرے حملہ کے بعد جب میں ٹبہ ہسپتال سے فارغ ہو کر وہیل چیئر پر جا رہا تھا تو مولانا الیاس نظر پڑے، ان سے معلوم ہوا کہ حضرت یحییٰ مدنی بھی داخل ہیں۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ واپس اوپر گیا، حضرت سے ملاقات کی، بہت دیر تک میرا ہاتھ محبت سے پکڑے رہے اور کافی دیر تک کچھ ارشاد فرماتے رہے، مگر افسوس کہ ایک تو حضرت کی نقاہت، دوسرے میری ثقلِ سماعت کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ اس واقعہ کے چند ہی روز کے بعد آپ کے انتقال کی خبر ملی، جب پہنچا تو غسل دیا جارہا تھا۔ الحمدللہ مجھے بھی غسل میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔
حق تعالیٰ حضرت یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کی دینی خدمات کو قبولیت کا شرف بخش کر بہترین جزا عطا فرمائیں اور جو صدقہ جاریہ مدرسہ کی شکل میں آپ نے چھوڑا ہے اس کا فیضان ہمیشہ جاری رہے۔ حضرت کی فرمائش پر میں نے جامعہ کے لیے یہ اشعار لکھ کر دیے تھے جو مسجد میں فریم کر کے لگا دیے گئے ہیں:
تشنگانِ معرفت سیراب ہوں
علم کی بہتی رہے یہ سلسبیل
ذکر اسمِ ذات کی آواز سے
تا ابد گونجا کرے معہدؔ الخلیل