تعویذ میں چونکہ قرآنِ کریم کی آیات اور مسنون و مجرب رقیہ لکھے ہوتے ہیں، اس لیے ان کا حکم بھی قرآن والا ہوگا اس لئے استعمال کے بعد کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیں یا ویران کنویں میں ڈال دیں یا سمندر میں بہادیں جلایا نہ جائے۔
تاہم اگر وہ سیاہی والے قلم سے لکھے ہیں تو پھر یہ صورت بھی اختیار کی جاسکتی ہے کہ پانی والے برتن میں انہیں ٹھنڈا کرکے پانی کسی صاف جگہ ڈال دیں۔تاکہ ان کی بے حرمتی نہ ہو۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/422)
والدفن أحسن كما في الأنبياء والأولياء إذا ماتوا، وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الانتفاع بها اهـ. يعني أن الدفن ليس فيه إخلال بالتعظيم، لأن أفضل الناس يدفنون. وفي الذخيرة: المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد وبه نأخذ، ولا يكره دفنه، وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة... وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد محدث ولا غبار، ولا قذر تعظيما لكلام الله عز وجل اهـ
الفتاوى الهندية - (5/323)
المصحف إذا صار خلقا وتعذرت القراءة منه لا يحرق بالنار، أشار الشيباني إلى هذا في السير الكبير وبه نأخذ، كذا في الذخيرة