میراث میں بعض ورثاء کا بعض ورثاء کو اپنا حصہ بیچنااور کرایہ کا مطالبہ کرنا
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سوال برائے مفتی صاحب سال 2015 میں وراثت کی تقسیم ہونی تو ایک دکان 5 افراد، جن میں 3 بہنیں اور 2 بھائی شامل تھے، کی مشترکہ ملکیت میں آئی۔ وضاحت: یہ میراث کی تقسیم نہیں ہے بلکہ حصص اپنی اپنی رضامندی سے، بہن بھائیوں نے طے کر لئے جس میں ہر بہن کے حصے میں 8.33%آیا یعنی تین بہنوں کا حصہ 24.99% آیا جبکہ دو بھائیوں کا حصہ 75% آیا۔ تینوں بہنوں کا حصہ 8.33% فی کس تھا، جبکہ باقی حصہ دونوں بھائیوں کا تھا۔ اسی سال باہمی رضامندی سے یہ معاہدہ ہوا کہ دونوں بھائی تینوں بہنوں کے حصص خریدیں گے۔ اس وقت دکان کی مجموعی مالیت 9 کروڑ روپے لگائی گئی، اور اسی حساب سے ہر بہن کے حصے کی قیمت تقریباً 75 لاکھ روپے طے ہوئی، جو 3 سال کے اندر ادا کرنا تھی۔ معاہدے میں یہ بات بھی طے ہوئی تھی کہ:جس بہن کو جتنی ادائیگی ہوتی جائے گی، اتنا اس کا حصہ کم ہوتا جائے گا۔ اور جس بہن کا جتنا حصہ باقی ہوگا، اس تناسب سے بھائی بہنوں کو کرایہ دیں گے کیونکہ دکان بھائی استعمال کر رہے ہوں گے۔ مزید یہ کہ تیسری بہن نے معاہدے کے وقت یہ بات کہی تھی کہ:مجھے جب بھی رقم دی جائے، ایک ساتھ دی جائے، تھوڑی تھوڑی ماہانہ ادائیگی نہ کی جائے۔یہ 3 سال کا معاہدہ تمام بہن بھائیوں کی باہمی رضامندی سے ہوا تھا، اور سب اس پر متفق تھے۔ ادائیگی کی صورتحال یہ رہی ایک بہن کو تقریبا ساڑھے تین سال میں مکمل مکمل تقریبا 75 لاکھ روپے ادا کر دئیے گئے دوسری بہن کو آج تک تقریبا آدھی رقم ادا ہوئی ہے جبکہ تیسری بہن کو اج تک کوئی ادائیگی نہیں کی گئی ۔
جواب
واضح رہے کہ خرید و فروخت کے معاملہ میں شریعتِ مقدسہ نے جو نظام وضع فرمایا ہے اس معاملہ کے جائز ہونے اور اسےدرست قرار دینے کی کچھ شرائط ہیں کہ اگر ان کی پاسداری کی جائے گی تو یہ معاملہ شرعاً درست اور معتبر ہوگا ورنہ ناجائز اور غیر معتبر ہوگا۔ وراثت کے معاملات میں کسی بھی شخص کے انتقال کے بعد اس کے متروکہ اموال میں اس کے ورثاء بعد ادائیگی حقوقِ متقدمہ اشتراکی حیثیت میں مالک ہوجاتے ہیں ، جس کے بعد ان کو اس ترکہ کو تقسیم کرکے اپنی ملکیت کو دوسرے سے ممتاز کرنے کا حکم شرعاً ہوتا ہے، چنانچہ ان ورثاء میں اگر کوئی ایک یاایک سے زائد وراث اپنا حصہ دوسرے کسی وارث کو فروخت کرنا چاہے تو خرید و فروخت کے عام ضابطوں کو سامنے رکھتے ہوئے کرنے کا شرعاً مجاز ہوتا ہے۔ صورتِ مسئولہ میں وراثت کی تقسیم کے وقت بھائیوں اور بہنوں کا باہمی مشترکہ مکان کو تقسیم کرنے کےلئے بہنوں کے حصہ کو بھائیوں کے ہاتھوں فروخت کرنے کا معاہدہ شرعاً درست ہوجاتا لیکن مذکورہ معاہدہ میں جو شرائط اور طریقہ کار وضع کیاگیا ہے اس کی رو سے معاملہ شرعا درست نہیں تھا اس لئے کہ معاہدہ میں یہ جو شرط لگائی گئی کہ جس کا جتنا حصہ باقی ہوگا اسی تناسب سے ان کو کرایہ ادا کیا جائے گا یہ شرعاً درست نہیں کیونکہ شرعی اصطلاح کے اعتبار سے یہ معاملہ درحقیقت صفقہ فی صفقہ(ایک عقد میں دوسرا عقد کرنا)ہے جس کو حدیث مبارکہ میں منع فرمایا گیا ہے۔ اور یہ شرطِ فاسد ہی ہے ، جس کی وجہ سے پورا معاملہ شرعاً فاسد ہوگیا۔ سنن الترمذي - (2/524) عن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (5 / ) مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر - (2 / 780) (ومن صالح من الورثة أو الغرماء على شيء) معلوم (منها) أي من التركة (فاطرح نصيبه من التصحيح أو الديون واقسم الباقي على سهام من بقي) من الورثة (أو) على (ديونهم) أي ديون من بقي من الغرماءمثاله زوج وأم وعم ففيها نصف، وثلث الكل، وما بقي، فأصلها وتصحيحها من ستة فإذا صالح الزوج على شيء كما في ذمته من المهر وخرج من البين تطرح سهامه من التصحيح وذلك ثلاثة وتقسم باقي التركة على سهام الباقين على ما كان أثلاثا ثلثاه للأم وثلثه للعم. غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر - (3 / 354) لو قال الوارث: تركت حقي إلخ. اعلم أن الإعراض عن الملك أو حق الملك ضابطه أنه إن كان ملكا لازما لم يبطل بذلك كما لو مات عن ابنين فقال أحدهما: تركت نصيبي من الميراث لم يبطل لأنه لازم لا يترك بالترك بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (5 / 173) وإن اشترى بشرط الترك؛ فالعقد فاسد بالإجماع؛ لأنه شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين ولا يلائم العقد ولا جرى به التعامل بين الناس، ومثل هذا الشرط مفسد للبيع لما ذكرنا ولأنه لا يتمكن من الترك إلا بإعارة الشجرة والأرض وهما ملك البائع فصار بشرط الترك شارطا الإعارة فكان شرطه صفقة في صفقة. البتہ مذکورہ صورت میں اگر بھائی دوکان فروخت کرنا چاہے یا تیسری بہن کا حصہ خریدنا چاہیں تو ادائیگی آج کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہوگی۔ لہٰذا بھائیوں اور بہنوں کے مابین جو معاملہ ہوا وہ شرعاً غیر معتبر ہے اور جو رقم اب تک بہنوں نے وصول کی ہے وہ واپس کریں اور دوکان کو نئےسرے سے شریعت کے مطابق موجودہ مالیت کو مدِّ نظر رکھ کر معاملہ کرلیں۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/533) أما إذا غلت قيمتها أو انتقضت فالبيع على حاله ولا يتخير المشتري، ويطالب بالنقد بذلك العيار الذي كان وقت البيع كذا في فتح القدير. مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر - (2 / 121) وعكسه لو غلت قيمتها وازدادت فكذلك البيع على حاله ولا يتخير المشتري، ويطالب بنقد ذلك العيار الذي كان وقت البيع. فتویٰ نمبر :35297
دارالافتاء :معہد الخلیل الإسلامی بہادر آباد کراچی۵
میراث کے مسائل کے احکام |