رضاعی چچا سے نكاح
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب مندرجہ ذیل مسئلہ کےلئے شرعی رہنمائی درکار ہے: ظاہر شاہ ،روزینہ اور روبینہ تینوں بہن بھائی ہیں پھر ظاہر شاہ کے تین بیٹے (سہیل،ساحل،احتشام)ہیں جبکہ روزینہ کے دو بیٹے(اسماعیل، ابراہیم) ہیں اور روبینہ کی تین بیٹیاں(جویریہ، حفصہ،یسریٰ)ہیں۔ ظاہر شاہ کے بیٹے(ساحل)،روزینہ کے بیٹے(اسماعیل)اور روبینہ کی بیٹی(جویریہ) نے اپنی سوتیلی دادی کا دودھ پی لیا، یعنی یہ تینوں(ساحل،اسماعیل،جویریہ) رضاعی بہن بھائی ہوگئے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ساحل (ظاہر شاہ کا بیٹا)اسماعیل(روزینہ کا بیٹا) کا رشتہ جویریہ کی دو بہنوں(حفصہ اور یسریٰ )سے ممکن ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرما کر شاکر فرمائیں۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں ظاہرشاہ کے بیٹے ساحل اور روزینہ کے بیٹے اسماعیل کا، جویریہ کی دونوں بہنوں (حفصہ اور یسریٰ) کے ساتھ نکاح شرعاً جائز نہیں۔کیونکہ ساحل اور اسماعیل سوتیلی دادی کا دودھ پینے کی وجہ سے رضاعت کے تعلق کی بنا پر جویریہ کی دو بہنوں کے لیے رضاعی چچا ہوں گے، جبکہ حفصہ اور یسریٰ ان کی رضاعی بھتیجیاں قرار پائیں گی۔ چنانچہ جس طرح حقیقی (نسبی) چچا اور بھتیجی کے درمیان نکاح حرام ہے، اسی طرح رضاعی چچا اور رضاعی بھتیجی کے درمیان بھی نکاح جائز نہیں ہوتا۔
الفتاوى الهندية - (1 / 343) يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة الدر المختار وحاشية ابن عابدين(3/32) (قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. اهـ.
تحفة الفقهاء - (2 / 236) وأصل ذلك أن كل اثنين اجتمعا على ثدي واحد فهما أخوان أو أختان أو أخ وأخت وعلى هذا لو كان لرجل امرأتان فحبلتا منه وأرضعت كل واحدة منهما صغيرا أجنبيا فقد صارا أخوين لأب فإن كانت إحداهما أنثى لم يجز لها أن تتزوج بالآخر لأنه أخوها من أبيها وإن كانا اثنين لم يجز لرجل واحد أن يجمع بينهما في النكاح لأنهما أختان لأب. فتویٰ نمبر :34756
دارالافتاء :معہد الخلیل الإسلامی بہادر آباد کراچی۵
میراث کے مسائل کے احکام |