جائیداد کسی وراث کے نام کرنے پر خرچہ کا حکم
سوال
مسئلہ: یہ معلوم کرنا تھا کہ میرے والد صاحب کا ۲۰۱۷ء میں انتقال ہوا تھا، لواحقین میں میری (والدہ/بیوہ) ایک بیٹی اور دو بیٹے تھے، جو ہمارے والد صاحب کے پاس تھا وہ ہم نے شریعت کے حساب سے تقسیم کر لیا تھا۔ جو ہمارے والد کا بٹوارا نہیں ہوا تھا (اس میں ہم نے سب کا حصہ طے کر لیا تھا)، گھر کو بعد میں ۲۰۲۰ء میں لیز اور میوٹیشن کروائی جس میں میری والدہ، بہن، بھائی اور میرا نام اور ان کے حصے % کے حساب سے شامل کیے گئے۔ ۲۰۲۲ء میں میرے بڑے بھائی کا انتقال ہو گیا۔۔ میرے بھائی کے لواحقین میں ایک بیوہ اور تین بیٹے ہیں۔ جس میں ایک بیٹا ۱۶ سال کا ہے۔ بیٹے کے حصے بھائی کا انتقال ہو گیا۔۔ میرے بھائی کے لواحقین میں ایک بیوہ اور تین بیٹے ہیں۔ جس میں ایک بیٹا ۱۶ سال کا ہے۔ بیٹے کے حصے بھائی کا انتقال ہو گیا۔ میں والدہ کے بھی ۲۵٪ حصہ ہوتا ہے؟ جو بھی حصہ ہوتا ہے وہ والدہ نے نہیں لیا وہ اپنے مرحوم بیٹے کے بچوں کو دے دیا۔ گھر میں جو بھائی کے حصہ تھا وہ ان لواحقین کے نام میں کروانے میں کورٹ اور میوٹیشن کی مد میں تقریباً نو،دس لاکھ روپے خرچہ آئے گا۔ آپ سے معلوم یہ کرنا تھا کہ یہ خرچہ شریعت کی رو سے کس کے اوپر آئے گا؟ اس کی شریعت کے حساب سے رہنمائی فرمادیں۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں مرحوم بھائی کی جائیداد لواحقین ( بیٹوں)کے نام کرنےمیں کاغذات کی تیاری پر آنے والا جو خرچہ آئےگا وہ شرعاً سب لواحقین کے ذمہ ان کو ملنے والے حصہ کے بقدرہوگا۔ درر الحكام في شرح مجلة الأحكام - (1 / 90) الغرم بالغنم۔۔۔۔۔۔۔أي أن من ينال نفع شيء يجب أن يتحمل ضرره مثلا أحد الشركاء في المال يلزمه من الخسارة بنسبة ما له من المال المشترك كما يأخذ من الربح.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام - (1 / 88) الخراج بالضمان... الخراج: هو الذي يخرج من ملك الإنسان أي ما ينتج منه من النتاج وما يغل من الغلات كلبن الحيوان ونتائجه، وبدل إجارة العقار، وغلال الأرضين وما إليها من الأشياء. ويقصد بالضمان المؤنة كالإنفاق على الحيوان ومصاريف العمارة للعقار.... يعني أن من يضمن شيئا إذا تلف يكون نفع ذلك الشيء له في مقابلة ضمانه حال التلف فتویٰ نمبر :34506
دارالافتاء :معہدالخلیل الإسلامی بہادرآباد کراچی۵
میراث کے مسائل کے احکام |