واضح رہے کہ عقدِ اجارہ کے جائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے ذریعے کوئی معتبر اور جائز منفعت حاصل کرنا مقصود ہو۔
لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کیلئے گیم کھیل کر اس پر اجرت حاصل کرنا شرعا جائز نہیں ہے ،اور یہ اجرت اس کیلئے حلال نہیں ہوگی، گیموں میں نہ تو کوئی واضح دنیاوی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی اخروی منفعت، بلکہ بعض صورتوں میں ان میں جاندار کی تصاویر اور موسیقی جیسے امور بھی شامل ہوتے ہیں یا دیگر شرعی خرابیاں موجود ہوتی ہیں،اس لئے اس سے اجتناب ہی لازم ہے ۔
لما في الفتاوى الھندية:
ومنها أن تكون المنفعة مقصودةً معتَادًا استيفَاؤُها بعقدِ الإِجارة ولا يجري بها التعامل بين الناس فلا يجوز استِئجَار الأشجار لتجفيف الثِّياب عليها. (كتاب الاجارة(٤/٤٦٢)ط:دارالكتب العلمية)