اگرگھر میں موجود کپڑے اس حد تک بوسیدہ یا خراب ہوچکے ہوں کہ پہننے کے قابل نہ رہیں، تو انہیں صفائی کے کاموں میں استعمال کرنا شرعاً درست ہے، بلکہ یہ مال کو ضائع ہونے سے بچانے کی ایک مناسب صورت ہے، آپ ﷺ نے بھی قابل استعمال مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
لما في مشكوة المصابيح:
وعن المغيرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله حرم عليكم عقوق الأمهات ووأد البنات ومنع وهات. وكره لكم قيل وقال وكثرة السؤال وإضاعة المال.
ترجمہ: حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ عزوجل نے تم پر ماؤں کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے اور ’روکنا، لاؤ‘ (دوسرے کے حقوق دبانے اور جو اپنا نہیں اسے حاصل کرنے) کو حرام کیا ہے اور تمہارے لیے قیل و قال، کثرتِ سوال اور مال ضائع کرنے کو ناپسند کیا ہے۔
(باب البر والصلة،الفصل الاول(۲/۲۵۹)رقم الحدیث(۴۹۱۴)ط:البشرى)