شریعت مطہرہ میں صلہ رحمی کی بہت زیادہ تاکید دی گئی ہے اور قطع رحمی سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے، لہٰذا آپ کا اپنی اولاد کو رشتہ داروں سے تعلقات بحال کرنے کی ترغیب دینا درست اور باعث اجر ہے،البتہ اگر اولاد ماضی کے ظلم اور تلخ تجربات کی بنا پر ملنے جلنے پر آمادہ نہیں ہوتے ، تو ان پر زبردستی کرنے کے شرعاآپ مکلف نہیں ہیں ،ان کے لیے مناسب یہی ہے کہ بقدر استطاعت دل کی کدورت دور کرکے صلہ رحمی اختیار کریں اور ان کے اپنے اوپر عائد حقوق کی ادائیگی کا بہرحال اہتمام کیا کریں۔
لما في القرآن الکریم:
والذين يصلون ما امر الله به ان يوصل ويخشون ربهم ويخافون سوء الحساب.
ترجمہ: اور یہ ایسے ہیں کہ اللہ نے جن علاقوں کے قائم رکھنے کا حکم کیا ہے، ان کو قائم رکھتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور سخت عذاب کا اندیشہ رکھتے ہیں۔ (ترجمہ بیان القرآن)