واضح رہے کہ منکرات سے بچتے ہوئے قبرستان جانا اوروہاں مردوں کے لئے ایصال ثواب اور مغفرت کی دعا کرنا فی نفسہ جائز بلکہ باعث اجر و ثواب ہے اس کے علاوہ اس میں آخرت کی یاد دہانی کا پہلوبھی پایا جاتا ہےجوکہ شرعا مطلوب ہے،تاہم اس کے لئے قبرستان جانے اورعید کے دن کو مخصوص کرنےکو ضروری اور باعث ثواب سمجھنا درست نہیں بلکہ یہ بدعت ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔
نیز قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا آپ ﷺسے ثابت ہے ، لیکن ان مواقع پر بھی رسول اللہﷺ قبلہ رخ ہو کر دعا فرماتے تھے،قبر کی طرف رخ کر کے دعا مانگنے میں چونکہ صاحب قبر سے مانگنے کا شبہ ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ قبر پر جاکر جب دعا کرنی ہو تو ہاتھ اٹھائے بغیر ہی دعا کرلی جائے اور اگر ہاتھ اٹھاکر ہی دعا کرنی ہے تو قبلہ رخ ہوکرہاتھ اٹھاکر دعا کرلی جائے،تاکہ قبر یا صاحب قبر سے مانگنے کا شبہ نہ ہو۔
لما في فتح الباري:
وفي حديث بن مسعود رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في قبر عبد الله ذي النجادين الحديث وفيه فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعا يديه.(باب الدعاء مستقبل القبلة(١١/١٤٤)ط:دارالمعرفة)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبد اللہ ذو النجادین کی تدفین سے فارغ ہو گئے، تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کر کے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا ۔
وفي الفتاوىالھندية:
وإذا أراد الدعاء يقوم مستقبل القبلة، كذا في خزانة الفتاوى. (كتاب الكراهية(٥/٤٢٩)