ولادت، ہجرت اور ابتدائی نقوش
حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنیؒ 1939ء میں لدھیانہ (بھارت) کے ایک دین دار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابھی بچپن ہی تھا کہ 1947ء کی تقسیمِ ہند کی کشاکش نے پورے برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آپ کا خاندان بھی اس کٹھن آزمائش سے گزرا۔ چنانچہ ہجرت کر کے لاہور پہنچے۔ لاہور میں مختصر قیام کے بعد بالآخر کراچی کو مستقل مسکن بنایا۔ ہجرت کے یہ صبر آزما حالات آپ کی شخصیت میں استقامت، حوصلہ اور دین سے گہری وابستگی کے نقوش ثبت کر گئے، جو آگے چل کر آپ کی پوری زندگی کا سرمایہ بنے۔
تعلیم کا آغاز اور علمی رجحان
ابتدائی عمر میں ناظرہ قرآنِ کریم کی سعادت حاصل کی، پھر عصری تعلیم کے مراحل طے کرتے ہوئے 1956ء میں میٹرک کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا اور ڈی جے کالج کراچی میں انٹر سائنس تک تعلیم جاری رکھی۔ بظاہر ایک روشن دنیوی مستقبل آپ کے سامنے تھا، مگر دل کی دنیا میں دین کی خدمت کی تڑپ جاگ چکی تھی، جو جلد ہی ایک فیصلہ کن موڑ اختیار کرنے والی تھی۔
تبلیغی ماحول اور زندگی کا رخ
نوجوانی میں تبلیغی جماعت سے وابستگی نے آپ کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ اسی دوران آپ نے مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔ 1959ء میں رائے ونڈ کا قیام آپ کی عملی تربیت کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا، جہاں فقر، مجاہدہ، اور دین کی محنت میں مسلسل انہماک نے آپ کے ظاہر و باطن دونوں کو سنوار دیا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں آپ نے دعوتِ دین کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا۔
حجاز کا قیام اور روحانی عروج
1964ء کے بعد آپ کو حجازِ مقدس میں طویل قیام کی سعادت نصیب ہوئی، جو تقریباً 1970ء تک جاری رہا۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی بابرکت فضا میں آپ نے عبادت، ذکر اور مجاہدہ کے ذریعے اپنے باطن کو جِلا بخشی۔ اسی دوران اکابر مشائخ کی صحبت نے آپ کو سلوک و احسان کی اعلیٰ منازل تک پہنچایا۔ اسی روحانی سفر کا نقطۂ عروج 1968ء کی شبِ قدر تھی، جب آپ کو اپنے شیخ، قطب الاقطاب شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مدنیؒ کے دستِ مبارک سے اجازت و خلافت عطا ہوئی۔
شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ کا فیضانِ صحبت
حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنیؒ کو اپنے شیخ حضرت مولانا محمد زکریا مدنیؒ سے غیر معمولی تعلق اور خصوصی نسبت حاصل تھی۔ آپ ان کے خاص خلیفہ تھے اور مدینہ منورہ میں طویل عرصہ ان کی خدمت و صحبت میں رہے۔ حضرت شیخ کی مجلس، ان کی دعائیں، اور ان کی خصوصی توجہ نے آپ کی شخصیت کو نکھار دیا۔ معہد الخلیل الاسلامی کا قیام بھی دراصل حضرت شیخ الحدیثؒ کے مشورے اور توجہ کا نتیجہ تھا۔
نکاح اور سادگی کا عملی نمونہ
1967ء میں آپ کا نکاح نہایت سادگی کے ساتھ ہوا۔ نہ نئے کپڑوں کی تیاری، نہ دنیوی نمود بلکہ سادہ اور بابرکت انداز سے۔ آپ کے نکاح کی سادگی کا یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ آپ کی پوری زندگی اسی سادگی سے عبارت تھی، جس میں زہد، قناعت اور اخلاص نمایاں تھے۔
دینی تعلیم کا حصول اور علمی کمال
اگرچہ آپ نے ابتدا میں عصری تعلیم حاصل کی، مگر جلد ہی مکمل طور پر دینی علوم کی طرف متوجہ ہو گئے۔ 1970ء میں مدینہ منورہ سے پاکستان آ کر جامعہ علوم اسلامی بنوری ٹاؤن میں مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے زیرِ نگرانی 1970ء سے 1974ء تک درسِ نظامی مکمل کیا۔ 1974ء میں وفاق المدارس کے امتحان میں پورے پاکستان میں دوسری پوزیشن حاصل کرنا آپ کی علمی قابلیت کا واضح ثبوت تھا۔
درس و تدریس اور نورِ علم کا فروغ
فراغت کے بعد آپ نے تدریس کو اپنی زندگی کا بنیادی مشن بنایا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن میں تدریس کے دوران آپ کا انداز نہایت شفیق، مدلل اور تربیت آمیز ہوتا تھا۔ بعد ازاں معہد الخلیل الاسلامی میں آپ نے درس و تدریس کا ایسا جامع نظام قائم کیا جس میں طلبہ کی فکری، عملی اور روحانی تربیت بھی شامل تھی۔ آپ کے شاگرد صرف عالم نہیں بنتے تھے بلکہ باعمل، صاحبِ نسبت اور دین کے سچے خادم بن کر نکلتے تھے۔
معہد الخلیل الاسلامی کا سنگِ بنیاد
1982ء میں ایک چھوٹے سے تحفیظ القرآن مدرسے سے جس کام کا آغاز ہوا، وہ 1983ء میں دینی تعلیم کے باقاعدہ ادارے اور 1984ء سے 1986ء کے درمیان وسعت اختیار کرتے ہوئے معہد الخلیل الاسلامی کی صورت میں ایک عظیم ادارہ بن گیا۔ یہ ادارہ حضرت شیخ الحدیثؒ کے مشورے سے قائم ہوا اور جلد ہی ایک مکمل تربیتی نظام میں ڈھل گیا، جہاں علم، ذکر اور اصلاح کو یکجا کیا گیا۔
مدرسہ و خانقاہ کا حسین امتزاج
حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنیؒ کا ایک نمایاں کارنامہ یہ تھا کہ آپ نے مدرسہ اور خانقاہ کو ایک دوسرے کا معاون بنا دیا۔ آپ کے نزدیک علم بغیر اصلاح کے ادھورا تھا اور تصوف بغیر علم کے بے بنیاد۔ چنانچہ معہد الخلیل میں ایک ایسا نظام قائم کیا گیا جہاں درسِ نظامی کے ساتھ ذکرو اوراد اور مجاہدہ و مراقبہ کی مجالس، اعتکاف اور اصلاحِ نفس کا عملی ماحول بھی فراہم کیا گیا۔
معہد کی توسیع اور شاخیں
وقت کے ساتھ اس ادارے نے وسعت اختیار کی اور مختلف شاخیں قائم ہوئیں: 1998ء میں مدرسۃ البنات، 2002ء میں معہد الشیخ زکریا، 2008ء میں مرکز الامداد، اور 2009ء میں مدرسۃ الرشید بلوچ کالونی۔ یہ تمام شاخیں آپ کی دور اندیشی، ادارتی صلاحیت اور اخلاص کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔
نشر و اشاعت اور فکری خدمات
1988ء میں آپ نے اردو کا معروف رسالہ ماہنامہ سلوک و احسان کا اجرا کیا، جو الحمد للہ تقریباً چار دہائیوں سے باقاعدگی سے شائع ہوتا آ رہا ہے۔ آپ خود بھی صاحبِ قلم تھے، مضامین تحریر فرماتے، کتب کی اشاعت اور تراجم کی سرپرستی کرتے، اور یوں علمی و فکری میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیتے رہے۔
مجالسِ ذکر اور اعتکاف کا اہتمام
آپ کی زندگی کا مرکزی پہلو اور محور تزکیۂ نفس تھا۔ رمضان المبارک میں اعتکاف کا ایسا روح پرور نظام قائم ہوتا جس میں سینکڑوں افراد شریک ہو کر اپنی زندگیوں کا رخ بدل لیتے۔ مجالسِ ذکر، دعائیں، اصلاحی بیانات؛ یہ سب ایک مربوط نظام کے تحت جاری رہتا۔
خلفاء اور تسلسلِ فیض
حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنیؒ سے ایک جہاں نے کسبِ فیض کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں متعدد اہلِ علم و اہلِ دل افراد کو اجازت و خلافت سے نوازا۔ آپ کے خلفاء الحمد للہ مختلف علاقوں میں ذکر و اصلاح کی محنت کو آگے بڑھا رہے ہیں اور آپ کے فیض کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔
بیماری، استقامت اور آخری ایام
1998ء میں دل کے بائی پاس آپریشن کے بعد آپ کی صحت گرنا شروع ہوئی، مگر آپ کی ہمت اور عزم میں کوئی کمی نہ آئی۔ بیماری کے باوجود تدریس، ذکر اور ادارے کی نگرانی جاری رہی۔ 2012ء کا آخری رمضان بھی آپ نے اعتکاف اور اصلاحی سرگرمیوں میں گزارا۔
وصال اور ہمہ گیر اثرات
3 ربیع الثانی 1434ھ مطابق 15 فروری 2013ء کو یہ مردِ حق اپنے رب سے جا ملا۔ آپ کا وصال ایک عظیم خلا تھا، مگر آپ کا قائم کردہ نظام، تربیت یافتہ افراد اور آپ کی علمی و روحانی میراث الحمد للہ آج بھی زندہ ہے۔
حیاتِ مبارکہ کا درس
حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنیؒ کی حیاتِ مبارکہ سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اخلاص، استقامت اور دین کی سچی خدمت انسان کو بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے۔ آپ نے اپنی عملی زندگی سے ثابت کیا کہ ایک فرد اگر علم، عمل اور اخلاص کو جمع کر لے تو وہ محض ایک انسان نہیں رہتا بلکہ ایک فکر بن جاتی ہے اور افکار زمانوں تک زندہ رہتے ہیں۔