متروکہ جائیداد کی شرعی تقسیم، بہنوں کے وراثتی حقوق اور ان کا حکم
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ! ہم 6 بہنیں اور 3 بھائی ہیں، ہمارے والد صاحب کا 6 سال پہلے انتقال ہو گیا تھا، والد صاحب اپنی وراثت میں کچھ زرعی زمین، ایک پلاٹ اور ایک گھر چھوڑ گئے ہیں جس میں والدہ اور بھائی مقیم ہیں،شرعاً تو والد کے انتقال کے فوراً بعد جائیداد کی تقسیم ہو جانی چاہیے تھی،بھائی نے زمینوں کا بٹوارہ کر کے تمام بہن بھائیوں کے نام چڑھا دی ہیں لیکن ہم بہنوں کو نہیں پتہ کہ وہ زمینیں کہاں ہیں، تمام زمینوں کے معاملات ہمارا منجھلا بھائی دیکھتا ہے، وہ کہتا ہے زمینیں ہاتھ بٹائی پر دی ہوئی ہیں جس سے وہ ہر بہن کو سالانہ دیتا ہے لیکن تھوڑا تھوڑا کر کے،جو پلاٹ ہے وہ بھی ایسے ہی پڑا ہے، جب ہم اسے بیچنے کا کہتے ہیں تو بڑا بھائی کہتا ہے میں نے فروخت کا بولا ہوا ہے لیکن کس کو اور کتنے میں، یہ ہمیں نہیں معلوم،اس کے علاوہ جس گھر میں والدہ اور بھائی مقیم ہیں اس میں ہم سب کا حصہ ہے،ہم سب بہنیں کسی نہ کسی ضرورت میں پھنسی ہوئی ہیں اور ہم والدہ اور بھائیوں کی ناراضگی مول نہیں لینا چاہتیں اس لیے ہم چاہتی ہیں کہ اس پر شریعت کیا کہتی ہے، اس پر ایک فتویٰ چاہیے تاکہ آخرت کے معاملات کو دیکھ کر ہی ہمارے گھر والے کوئی فیصلہ لیں۔
جواب
واضح رہے کہ والدین کے ترکہ میں جس طرح ان کی نرینہ اولاد کا شرعی حق اور حصہ ہوتا ہے، اسی طرح بیٹیوں کا بھی شرعی حق اور حصہ ہوتا ہے،والدین کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ پر تمام شرعی وارثوں، مثلاً بیوہ، بیٹوں اور بیٹیوں کا اپنے اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق ثابت ہوجاتا ہے،اور مورث کے انتقال کے بعد وراثت کی تقسیم میں بلاعذر معتبر تاخیر کرنا درست نہین ہے بلکہ جتنی جلدی ممکن ہو تقسیم کرکے ہر وارث کو اس کا پورا پورا حق دیدیا جائے۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں والد کے انتقال کے بعد بیٹوں کا والد کے ترکہ، مثلاً زمین، مکان یا پلاٹ پر خود تنِ تنہا قبضہ کرکے اس سے فائدہ اٹھانا بہنوں کو ان کے شرعی حصے سے محروم کرنا بہنوں کے وراثت کی تقسیم کے مطالبہ کے باوجود اسے تقسیم کرکے بہنوں کو حصہ نہ دینا سراسر ظلم ناجائز اور سخت گناہ ہے، اسی طرح جائیداد کو چھپا کر رکھنا، بہنوں کو جائیداد کی تفصیلات یا مقام سے آگاہ نہ کرنا، یا ان کی رضامندی کے بغیر ان کا حصہ روک لینا بھی شرعاً درست نہیں، بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی بہنوں کو ان کا مکمل شرعی حصہ خوش دلی سے ادا کریں، کسی وارث کا حق دنیا میں روک کر رکھنا آخرت میں سخت گرفت کا سبب بن سکتا ہے اس لئے بہنوں کو ان کا حصہ دیکر اس کی تلافی کرلی جائے۔ لما في القرآن الکریم: يا ايها الذين امنوا لا تاكلوا اموالكم بينكم بالباطل. ترجمہ:اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔ وفي صحيح البخاري: عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ. (باب إثم من ظلم شيئا من الأرض(٣/١٣٠) ترجمہ:حضرت سالم سے ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص نے ناحق کسی زمین کا تھوڑا سا حصہ بھی لے لیا، تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔ وفیہ ایضا: أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ. ترجمہ: حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی کی زمین ظلم سے لے لی، اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ (باب إثم من ظلم شيئا من الأرض(٣/١٣٠) فتویٰ نمبر :35365
دارالافتاء :معہدالخلیل الإسلامی بہادرآباد کراچی۵
میراث کے مسائل کے احکام |