پرانی میراث کی تقسیم اور ورثاء کے حصص
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرعِ متین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ آج سے دس بارہ سال قبل محترم ٖغلام رسول بن رودو خان کا نتقال ہوا ، بوقتِ انتقال درج ذیل پسماندگان تھے، مرحوم کے ایک بھائی اور دو بہنیں ، اہلیہ ،سات بیٹے اور پانچ بیٹیاں ۔ ترکہ میں ایک مکان ہے جس کو 6,200,000 روپے میں فروخت کردیا گیا اب یہ رقم مذکورہ وارثین میں کس طرح تقسیم ہوگی اور کس کو کتنا حصہ ملے گا ۔ امید ہے کہ شریعت کے مطابق تقسیم فرماکر احسان فرمائیں گے۔ ولکم جزیل الشکر والامتنان۔
جواب
صورت مسئولہ میں مرحوم (غلام رسول) نےاپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ جائیدادمثلاً مکان و پلاٹ، سونا چاندی ،نقد رقم،مالِ تجارت، کپڑے ، برتن غرض ہر طرح کا چھوٹا بڑا جو ساز و سا مان چھوڑا ہے،نیز مرحوم کاوہ قرض جوکسی شخص یاادارہ کےذمہ باقی ہو،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکا لے جائیں، تاہم اگر کسی نے یہ اخراجات بطورِ احسان ادا کر دئیےہوں تو مرحوم کے ترکہ سے یہ اخراجات نہیں نکالے جائیں گے،اس کےبعد مرحوم کے ذمہ اگرکوئی قرض واجب الاداء ہواسکو ادا کریں،اس کی ادائیگی کے بعد اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ترکہ کے ایک تہائی(۳/۱) مال کی حد تک اس وصیت پر عمل کریں،اس کے بعدباقی ترکہ کے کل ایک سو باون (152) برابرحصے كركے مندرجہ ذیل نقشہ کے مطابق تقسیم کیا جائےگا۔ البتہ مرحوم کے بہن بھائی متروکہ جائیداد میں شرعی طور پر حقدار نہیں ۔ میراث کی تقسیم کا نقشہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔ مسئلہ :8/152 (مرحوم غلام رسول) مضروب(19) ترکہ(6,200,000) میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
القراٰن الکریم۔النساء:(11) [ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن]….. [فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ] الفتاوى الهندية - (6 / 447) التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف…ثم بالدين… ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث........ فتویٰ نمبر :34644
دارالافتاء :معہد الخلیل الإسلامی بہادر آباد کراچی۵
میراث کے مسائل کے احکام |