ورثاء کی اجازت کے بغیر میراث کی رقم کاروبار میں لگانا اور نقصان کرنا
سوال
ہم چار بہن بھائی ہیں، دو بڑے بھائی ہیں، پھر دو بہنیں، جب والد والدہ کا انتقال ہوا اس وقت میراث میں والدہ کا سونا، ایک گھر اور دو دکانیں تھیں، والدین کی وفات کے بعد ہم چاروں کی شادی اسی ہی مال کو بیچ کر کی گئی اور چاروں کی شادی میں برابری کا خرچہ نہیں ہوا، آخر میں ایک دوکان بچی جس کی مالیت ایک کروڑ روپے تھی، دونوں بھائیوں نے وہ دکان بیچ کر انویسٹمنٹ کر دی، انویسٹمنٹ کرتے وقت دونوں بھائیوں کی نیت اچھی تھی، بہنوں کا بھی فائدہ سوچا، لیکن دونوں بہنوں سے اجازت نہیں لی تھی، ہم دونوں لا علم تھیں، ایک سال بعد جب دونوں بھائیوں میں مالی پریشانی کے سبب علیحدگی ہو گئی، تب ہم دونوں بہنوں کو دوکان فروخت اور انویسٹمنٹ کا معلوم ہوا اور یہ بھی کہ انویسٹمنٹ میں نقصان ہو گیا ہے،
جواب
شرعی اعتبار سے میت کے انتقال کے بعد اس کا ترکہ جلد از جلد ورثاء میں تقسیم کردینا چاہیے۔ کسی ایک یا چند ورثاء کا بلاوجہ پورے ترکہ پر قبضہ رکھنا، یا دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر اس میں تصرف کرنا شرعاً جائز نہیں۔ نیز اگر بعض ورثاء، دوسرے ورثاء کی اجازت کے بغیر ترکہ میں کاروبار یا کوئی اور تصرف کریں اور اس کے نتیجے میں نقصان ہوجائے، تو اس نقصان کے ذمہ دار وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے بلا اجازت تصرف کیا ہو۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر دونوں بھائیوں نے اپنی بہنوں کی اجازت کے بغیر ترکہ کی دکان جو کہ ان کے قبضے میں تھی فروخت کرکے اس کی رقم سے کاروبار کیا جس کےنتیجے میں نقصان ہوگیا، تو وہ دونوں بھائی اپنی بہنوں حصص کے ضامن ہوں گے، اور ان کے حصوں کی ادائیگی ان کے ذمہ لازم ہوگی۔ البتہ فی الوقت جو مال L.C.D کی شکل میں پڑا ہوا ہے کم قیمت پر بکے یا بالکل نہ بکے یا کرایہ کی کوئی شکل بنے تو ان تمام صورتوں میں بہنیں اپنے حصص کے بقدر اصل ترکہ میں شریک ہیںاور ترکہ میں جو نقصان ہوا ہے وہ بھائیوں کے ذمہ لازم ہے۔ جہاں تک چھوٹی بہن کی کفالت کا تعلق ہے، تو نکاح کے بعد شرعی طور پر اس کے نان و نفقہ کی ذمہ داری اس کے شوہر پر عائد ہوتی ہے۔ البتہ اگر کسی وجہ سے بھائی نے اپنی بہن کی کفالت بطورِ تبرع و احسان اپنے ذمہ لے لی ہو، تو ایسی صورت میں وہ اس خرچہ کا بہن سے مطالبہ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ البتہ اگر بھائی نے یہ اخراجات بطورِ قرض یا واپسی کی نیت سے کیے ہوں، اور اس پر عرف، قرائن یا باہمی اتفاق دلالت کرتا ہو، تو پھر بہن کو ترکہ میں جو حصہ ملے گا، اس میں سے بھائی اپنے خرچ کے بقدر مطالبہ کرسکتا ہے۔
الفتاوى الهندية - (2/346) لو تصرف أحد الورثة في التركة المشتركة وربح فالربح للمتصرف وحده، كذا في الفتاوى الغياثية. درر الحكام في شرح مجلة الأحكام - (3 / 51) المادة () - (إذا أخذ الورثة مقدارا من النقود من التركة قبل القسمة بدون إذن الآخرين وعمل فيه فخساره يعود عليه، كما أنه لو ربح لا يأخذ الورثة حصة فيه) إذا تصرف أحد بلا إذن في مال الغير وربح يكون الربح له ويتفرع عن ذلك مسائل عديدة: المسألة الأولى - إذا أخذ أحد الورثة مقدارا من النقود من التركة قبل القسمة بدون إذن الآخرين أو إذن الوصي إذا كان الورثة صغارا فكما أن الضرر يعود عليه ويأخذ الورثة حصتهم في رأس المال فقط كذلك لو ربح فلا يأخذ الورثة حصة من الربح.... مثلا لو أخذ أحد الورثة من تركة مورثه بدون إذنهم مائة دينار وباع واشترى بها فربح خمسين دينارا فتكون الخمسون دينارا له وليس للورثة الآخرين الاشتراك في هذا الربح ويكون ذلك الوارث ضامنا للورثة حصصهم في رأس المال كما أنه لو خسر في البيع والشراء تلك المائة الدينار كلا أو بعضا فيعود الخسار المذكور عليه ويضمن حصص الورثة الآخرين. الموسوعة الفقهية الكويتية - (28/296) الأصل أنه لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه، فإن أذن وترتب على الفعل المأذون به ضرر انتفى الضمان، لكن ذلك مشروط: بأن يكون الشيء المأذون بإتلافه مملوكا للآذن، أو له ولاية عليه. وأن يكون الآذن بحيث يملك هو التصرف فيه، وإتلافه، لكونه مباحا له. فتویٰ نمبر :34819
دارالافتاء :معہد الخلیل الإسلامی بہادر آباد کراچی۵
میراث کے مسائل کے احکام |