مضامین

قیمتی نصائح برائے طلبہ

جمع و ترتیب: طلبۂ جامعہ معہد الخلیل الاسلامی

  • فرمایا: کام میں رسوخ اور گہرائی پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ جب کام کی افادیت کا لوگ کھلی آنکھوں مشاہدہ کریں گے تو ان شاء اللہ رجوع ہوگا۔ اس کے ساتھ جگہ اور اخراجات کی ضرورت بڑھے گی تو جس مالک الملک کا کام ہے تو وہ ایسے راستوں سے تمہاری مدد اور تائید کرائے گا جہاں سے تمہارا گمان بھی نہ ہوگا۔ ہماری دعوت تو مخلوق سے نظر ہٹا کر خالق کی طرف دیکھنے کی ہے۔ قلوب تو اس مالک کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ تو اس مالک کی توفیق سے اس کے کام میں محنت اور کوشش کرو اور وہ آپ کو بھول جائے؟ لہٰذا منگتوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلاؤ۔
  • فرمایا: اے اللہ! کسی محتاج کا محتاج نہ بنائیے گا۔ اپنے دَر کا بھکاری بنا لیجیے۔ ایک مسلمان بادشاہ کا قصہ سناتے کہ ایک مرتبہ سفر میں اپنے قافلہ سے بھٹک گیا، کسمپرسی کی حالت میں ایک غریب دیہاتی نے اس کی مدد کی۔ بادشاہ اس بُرے وقت میں کام آنے پر دیہاتی کا بڑا شکر گزار ہوا، رخصت ہوتے وقت بادشاہ نے غریب دیہاتی سے کہا کہ جب تمہیں کوئی ضرورت پیش آئے تو بلا تکلف فلاں شہر میں میرا محل ہے، آ جانا، میں تمہیں اتنے مال و دولت سے نوازوں گا کہ ساری عمر عیش سے گزرے گی۔ کچھ عرصہ گزرنے پر سخت ضرورت کے وقت دیہاتی کو بادشاہ کی بات یاد آئی۔ وہ تلاش کرتا ڈھونڈتا محل پہنچا تو دیکھا کہ بادشاہ اللہ پاک کے آگے ہاتھ پھیلا کر دعا مانگ رہا ہے۔ یہ کہتا ہوا واپس ہو گیا کہ یہ تو خود منگتا ہے۔ اس ذات سے نہ مانگوں جو سب کو دینے والی ہے؟
  • فرمایا: لوگ تو بزرگ بناتے ہیں، ہمارے ہاں تو انسان کو انسان بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
  • فرمایا: ہر جگہ اور ادارے کا ایک مقصد ہوتا ہے، ہر کارخانہ دار کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اچھی سے اچھی مصنوعات تیار کر کے مارکیٹ میں لائے، تاکہ اس کو زیادہ سے زیادہ مال و دولت اور شہرت حاصل ہو۔ ہمارے ادارے معہد الخلیل کا بھی ایک خاص مقصد ہے، وہ یہ کہ ہمارے طلباء اور متعلقین اپنے اکابر کی زندگیوں کو سامنے رکھ کر علم و تقویٰ میں رسوخ حاصل کریں۔ علم کے ساتھ ساتھ تزکیہ کے ذریعہ نورِ باطنی حاصل کریں اور یہ نور حاصل ہوتا ہے اکابر کی جوتیاں سیدھی کرنے اور اس راہ میں پیش آنے والی سختیوں کو برداشت کرکے اپنی اصلاح کرانے سے۔ یوں اصلاح کرا کر، اپنے ظاہر و باطن کو سنوار کر کسی بھی مجلس، علاقہ، شہر اور دنیا کے کونے میں جاؤ گے تو وہاں کے لوگ تم سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ اور لوگ یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کہاں کے تربیت یافتہ ہو؟ اس طرح ہمارا یہ ادارہ ’’مردم سازی‘‘ کا کارخانہ ہے اور اس کے تیار شدہ افراد کی دنیا میں بہت مانگ ہے۔
  • اکثر درد سے فرماتے کہ ’’دنیا بڑی دُکھی ہے، دنیا بڑی پیاسی ہے، اگر ہم اپنے اکابر کے صحیح جانشین بن جائیں تو دنیا میں ایک انقلاب آجائے۔ ہمارا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ ہم نے اپنے اکابر کے مشن اور راستہ کو چھوڑ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ تائیدِ خداوندی نے ہم سے منہ موڑ لیا۔ ہم غیروں کے طریقوں میں اپنی کامیابی ڈھونڈتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹھوکریں کھاتے ہیں اور بھٹکتے پھر رہے ہیں‘‘۔
  • مسلمانوں کی پستی اور حالتِ زار پر دردِ دل سے پڑھتے:
    مير کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب — اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
  • فرمایا: آرام طلبی اور طلبہ کا اپنے آپ کو ہر وقت بنانا، سنوارنا سخت ناپسندیدہ عادات ہیں۔ بچو! خود تو سوچو۔ اگر یہ عادتیں پکی ہو گئیں تو یہاں سے فارغ ہونے کے بعد ایسے علاقہ میں دینی خدمت کا موقع ملا یا جماعت میں ایسے پسماندہ علاقہ میں تشکیل ہوئی جہاں سخت گرمی ہی ہو اور بجلی وغیرہ کی سہولتیں میسر نہ ہوں تو کیسے گزارہ کرو گے؟ لہٰذا یہ بننے اور تربیت کرانے کا زمانہ ہے۔ اس میں مجاہدہ کی عادت ڈالو۔ فرمایا: حسین احمد کے حصہ کا پلاؤ کھانے والوں کو تن آسانی تو آساں ہے مگر قربانی مشکل ہے۔
  • اکثر بیانات میں طلباء و متعلقین کو نماز باجماعت تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ اہتمام کی بہت تاکید فرماتے اور بڑے درد سے فرماتے کہ ’’نمازوں کے اہتمام کے بارے میں تو ایک بے پڑھے لکھے، عام مسلمان، موچی، مزدور، بڑھئی، تاجر اور کسان وغیرہ سے بھی پوچھ ہوگی، آپ لوگ تو علمِ دین حاصل کر رہے ہو آپ سے تو آپ کے علم کے مطابق سخت مطالبہ اور پوچھ ہوگی‘‘۔
  • ایک واقعہ سنایا: ’’ایک عامی تاجر مکی مسجد میں شب جمعہ گزارتے تھے، ایک دن کہنے لگے کہ بھائی یحییٰ! لگتا ہے اللہ پاک ہم سے ناراض ہو گئے۔ آج تہجد کی نماز رہ گئی‘‘۔ اس پر فرمایا کہ ’’دین میں پختگی اور ترقی کا معیار یہ ہے کہ اپنے اندر اپنی اصلاح کی فکر اور کڑھن پیدا ہو جائے۔ اسی سے انسان ترقی کی منازل طے کرتا اور اپنے رب کا قرب پاتا ہے‘‘۔
  • فرمایا: تم میں سے ہر ایک اپنے گھر اور خاندان کے بدلنے کا ذمہ دار ہے اپنے گھروں سے بے دینی کے ماحول کو نکالو اور پیار و محبت کے ساتھ سمجھا کر دین داری کا ماحول بناؤ۔ تمہارے گھر میں کوئی بے نمازی نہ رہے، نمازوں کے اہتمام کے ساتھ دوسروں کو بھی نماز کی پابندی کی طرف لاؤ۔ تمہاری چال چلن، اندازِ گفتگو، لباس، کھانا پینا، ملنا جلنا، رشتہ داروں سے تعلقات، والدین کا احترام اور ان کی خدمت، چھوٹوں پر شفقت، بڑوں کا احترام، آس پڑوس سے تعلقات، غمی، خوشی، غرض یہ کہ چوبیس گھنٹے کی زندگی ایک داعی والی زندگی ہو۔ پتہ چلے کہ یہ معہد الخلیل میں پڑھنے والا طالب علم یا طالبہ ہے۔
  • طلباء کو خطاب کرتے ہوئے کہتے کہ ’’ہم جتنے اس وقت اس مجلس میں موجود ہیں اگر ہم بدل جائیں تو عالَم کی فضا بدل جائے، ایک عالِم پورا معاشرہ بدل سکتا ہے‘‘۔
  • فرمایا: عزیز طلبہ! اپنے مقام کو پہچانیے۔ آپ عام آدمی نہیں ہیں، آپ میں اور ایک اسکول کالج کے طالب علم میں واضح فرق ہونا چاہیے۔ گھروں میں جاؤ تو سلام میں پہل کرو، اونچی آواز میں بازاری لوگوں کی طرح والدین کے یا بہن بھائیوں کے ساتھ گفتگو نہ کرو، والدین کے کاموں میں ہاتھ بٹا دو، دسترخوان پر پانی وغیرہ کی خدمت اپنے ہاتھ میں لو، تاکہ ادب آداب میں دوسروں سے ممتاز نظر آؤ اس طرح پتہ چلے کہ مدرسہ سے کچھ سیکھ کر آئے ہو۔
  • فرمایا: اپنے گھروں کی شادی بیاہ کی رسومات و خرافات ختم کرنے میں مصلحت اور حکمت سے کام لو، دعوتوں میں بے جا اسراف، نمود و نمائش، کیمرہ ویڈیو کا استعمال، کھڑے ہو کر غیروں کی طرح کھانا کھلانے اور رات گئے دیر تک منعقد ہونے والی وہ تقریبات (مزاحاً فرماتے ایسی دعوت جس سے پیٹ بھی خراب اور ایمان بھی خراب) جن میں شرکت سے صبح کی نماز قضا ہو جائے، اور اللہ پاک اور اس کے حبیب کو ناراض کرنے والے اعمال سے خود بھی بچو اور اپنے گھر والوں کو بھی سمجھاؤ کہ یہی ناراضگی والے اعمال گھروں میں ناچاقی، لڑائی جھگڑے اور بے چینی اور بے سکونی کا سبب بنتے ہیں۔
  • اگر کوئی شخص اپنے ہاں شادی وغیرہ میں شریعت کی خلاف ورزی کے بعد اپنے گھر کی ناچاقی پریشانی علیحدگی اور گھریلو جھگڑا آ کر سناتا تو اس کو سمجھاتے کہ ’’اللہ رسول کو ناراض کر کے بے چینی اور بے سکونی بڑھتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں غیروں کی نقالی کر کے اپنے رب کو ناراض کر کے ہمیں سکون حاصل ہو جائے گا، یہ ان کی بھول ہے‘‘۔ بڑے درد سے فرماتے:
    میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب — اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
  • فرمایا: ایک اللہ والے شادی میں مدعو تھے وہاں رسومات و خرافات دیکھ کر میزبانوں سے دریافت کیا کہ آج تو آپ کے ہاں خوشی کا دن ہے، آپ خوشی میں اپنے رشتہ داروں کے علاوہ نوکروں، خادموں، ماسیوں اور بھنگنوں کے مطالبہ پر کیا دیتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہم اتنا دیتے ہیں کہ وہ خوش ہو جائیں۔ ان بزرگ نے درد بھرے لہجہ میں فرمایا: آپ نے اس موقع پر سب کا دل خوش کر دیا لیکن کیا رحمۃ للعالمین کی ذات ہی رہ گئی تھی جن کا دل خلافِ شریعت کاموں سے دکھانا تھا؟ یہ قصہ سنا کر اکثر آپ آبدیدہ ہو جاتے۔
  • فرمایا: تمہارے ماں باپ نے تمہیں اللہ تعالیٰ کے دین کے حصول کے لیے صبح سے شام تک فارغ رکھا وہ نہ تمہیں کمانے کے لیے بھیجتے ہیں اور تمہیں گھر کے کام کاج اور دوسرے تمام جھंझٹوں سے فارغ کر رکھا ہے، تم گھر جاتے ہو تمہارے لیے کھانا کپڑے تیار ہوتے ہیں۔ خود دکھ، بیماری اور دوسری پریشانیاں برداشت کر کے اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں تم سے یہ امید لگاتے ہیں کہ ہمارا بچہ دین پڑھ کر ہمارے گھروں، خاندانوں، محلوں اور شہروں کو دین کی روشنی سے منور کرے گا اور ہمیں کوئی دینی مسئلہ پیش آ جائے تو ہم اس سے پوچھ کر عمل کر لیں گے۔ ہمارے لیے بموجبِ حدیث صدقہ جاریہ بنے گا۔ لہٰذا احسن اخلاق و کردار سے اپنے والدین، بہن بھائیوں، عزیزوں، دوستوں، رشتہ داروں اور تمام لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو ایک اچھا نمونہ بنا کر پیش کرو۔
  • فرمایا: معاشرے کی تبدیلی افراد کی تبدیلی پر موقوف ہے۔ ہمارے معہد الخلیل کا مقصد بھی کردار سازی ہے۔ یہاں ایسے طلبہ و طالبات کو ترجیح دی جاتی ہے جو کچھ بننے اور معاشرے میں اپنی صلاحیتوں اور کردار کو پیش کر کے تبدیلی کا ارادہ رکھتے ہوں، آج دنیا راہِ حق کی متلاشی ہے، آج دنیا صحیح اسلامی معاشرہ دیکھنے اور اپنانے کو ترس رہی ہے۔
  • فرمایا: ایک مرتبہ ایک نومسلم کے سامنے حقیقی اسلامی معاشرہ کی خوبیاں بیان کی جا رہی تھیں، سب کچھ سن کر شدتِ شوق سے کہنے لگا: مجھے بھی ایسے شہر میں لے کر چلو جہاں حقیقی اسلامی معاشرہ قائم ہو۔
  • کبھی مثال دیتے ہوئے فرماتے: ایک کمرہ ہو، وہاں اندھیرا گھپ ہو، کوئی ایک موم بتی جلائے تو ایک دم روشنی ہو جاتی ہے۔ اور اگر کچھ بلب جلا دیے جائیں تو سارا کمرہ روشن اور اندھیرا غائب ہو جاتا ہے۔ دنیا کی نگاہیں تم طالبانِ دین کی طرف لگی ہوئی ہیں، اپنے مقصد اور اپنی قیمت کو پہچانو! اپنے ایک ایک لمحہ کو قیمتی بناؤ۔ اس زمانے میں بڑوں کا کہنا ہے کہ جو اللہ پاک کے دین کے لیے تھوڑا سا بھی اپنے آپ کو کھپاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو بہت نوازتے اور چمکاتے ہیں۔
  • فرمایا: اصل میں یہ ادارہ ’’دار التعليم والتربية‘‘ ہے۔
  • فرمایا: جس نے بننے کا ارادہ کیا ہو اس کی تو جوتیاں بھی ہم اٹھانے کو تیار ہیں، جس نے یہاں رہ کر اپنا اور دوسروں کے وقت کو ضائع کرنے کا ارادہ کیا ہو، وہ آج ہی کسی دوسری جگہ چلا جائے۔ خود تو سوچو آئندہ تم ہی لوگوں نے مقتدا بننا ہے، میری خواہش ہے یہاں سے فارغ ہو کر جانے والے صحیح دین کو بیان کرنے اور صحیح مسئلہ بیان کرنے میں نہ تو کسی کے آگے جھکیں اور نہ بکیں۔
  • فرمایا: تمہاری پہچان تمہارا کام اور تمہارا کردار ہونا چاہیے، اپنے اکابر کی جوتیوں کے صدقے دنیا میں پھرا ہوں، گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے، پورے شرح صدر کے ساتھ اپنی تمام عمر کے تجربہ سے یہ بات کہتا ہوں: صرف جمعیتوں، جماعتوں، تنظیموں اور ادارے بنانے کام نہیں چلے گا، جب تک افراد کے دلوں کو بدلنے اور کردار سازی پر محنت نہیں ہوگی، حالات کی تبدیلی اور زندگیوں میں انقلاب کی توقع بیکار ہے۔ تم میں سے ہر ایک چلتا پھرتا دین کا داعی بن سکتا ہے۔
  • فرمایا: صحابہ کرام کی پاکیزہ جماعت دنیا کے ایک ایسے علاقے میں گئی جن کا ماحول و معاشرہ بالکل مختلف تھا، وہاں حضرات صحابہ نے اسلامی اصولوں کے مطابق تجارت کی اور باکردار تاجر کی حیثیت سے اپنے آپ کو متعارف کرایا۔ ان حضرات کے اصولِ تجارت، کردار و معاملات کو دیکھ اور پرکھ کر وہاں کے لوگوں میں جستجو پیدا ہوئی اور ان لوگوں نے ان حضرات صحابہ کے ملک و مذہب کے بارے میں دریافت کیا، یوں لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے، دیکھتے ہی دیکھتے دور دراز علاقوں تک اسلام پھیل گیا۔
  • فرمایا: میرے ساتھیو! ’’کام کو پھیلاؤ، یعنی مرکز کی شاخوں کو دیکھ کر کام سے اور ذات کے بنانے سے بے فکر اور مطمئن ہو کر بیٹھ جانا یہی چیز تنزلی اور تباہی کا سبب بنتی ہے۔ انسان جب تک زندہ ہے وہ حالتِ عمل میں ہے، یا تو وہ اپنی فکر و ہمت سے اوپر کی طرف ترقی کی منازل طے کرتا ہے یا اپنی غفلت کی وجہ سے تیزی سے تنزلی کی طرف جاتا ہے، اس کے علاوہ تیسرا کوئی راستہ نہیں۔
  • فرمایا: مدرسہ نہ عمارت سے، نہ مال سے، بس اندر کے اسٹیم سے چلتا ہے۔ بہت دیکھ لیا، بس جی چاہتا ہے کہ ذکر پر سب سے زیادہ توجہ ہو۔
  • فرمایا: مدرسہ ایک مشق کی جگہ ہے اور اس کا میدان پورا عالَم ہے۔
  • فرمایا: ’’علم تحقیق و یقین کا نام ہے۔ کسی سوال کے جواب میں یہ کہنا کہ ’’میرا خیال یہ ہے…‘‘ یہ جہالت کی علامت ہے۔
  • فرمایا: اگر علمی آدمی بننا ہے تو اسے کاٹ دو (اور اپنے گھٹنوں کی طرف اشارہ فرمایا)۔ اصل عالم وہ ہے کہ اگر اس سے مسئلہ پوچھو تو وہ اس کا حوالہ بتا سکے کہ یہ فلاں کتاب کے فلاں باب میں مل جائے گا۔ مسئلہ کا ازبر ہونا ضروری نہیں۔
  • فرمایا: یہ مدرسہ میرا نہیں بلکہ یہ مدرسہ چار حضرات کا ہے۔ قاسم العلوم والخیرات حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی، امام ربانی حضرت مولانا مفتی رشید احمد گنگوہی، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، اور برکۃ العصر و ریحانۃ الہند حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہم اللہ۔
  • فرمایا: چار چیزیں ابدی ہیں، ان سے مفر نہیں: پہلی چیز کتاب یعنی قرآن و حدیث، دوسری چیز اس کتاب کے سیکھنے اور سکھانے کے مراکز یعنی مدارس، تیسری چیز اجتماعی پنج وقتہ اظہارِ عبدیت اور عاجزی کرنے کے مقام یعنی مساجد، اور چوتھی چیز تصحیحِ نیت، اخلاص اور تعلق مع اللہ پیدا کرنے کی جگہیں یعنی خانقاہیں۔
  • مفصل حکایت سناتے ہوئے فرمایا کہ امام شافعی رحمہ اللہ ایک بار امام محمد رحمہ اللہ کے مہمان ہوئے۔ آپ کی بیداری، علمی استنباط اور تواضع کے اس واقعے سے یہ معلوم ہوا کہ کھانے میں بھی برکات ہوتی ہیں۔ لہٰذا اب اگر کوئی طالب علم باہر ہوٹل میں کھانا کھائے یا چائے پیے، اس برتن میں جو بھنگی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور بازاری لوگوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، تو ذرا سوچیے! کہ اس کھانا یا چائے پینے کا کتنا نقصان ہوگا۔ تو ہر ایک طالب علم کا مدرسہ آنے سے مقصد اپنے ظاہر اور باطن کی اصلاح کرنا ہوا۔
  • فرمایا: حضرت گنگوہی رحمہ اللہ سہ دری میں بیٹھے حدیث کا درس دے رہے تھے کہ بارش شروع ہو گئی، تو طلبہ تو اپنی کتابیں اٹھا کر مسجد کے اندر کی طرف بھاگے لیکن حضرت اپنی چادر اٹھا کر باہر کی طرف گئے اور طلباء کی جوتیوں کو اس میں باندھ لیا کہ یہ علمِ نبوت کو سیکھنے کے لیے آئے ہیں۔ تو اپنی وضع قطع، ظاہری بول چال کا انداز سب کچھ مکمل طور پر ادب و آداب کے تحت کریں۔
  • فرمایا: درود شریف بہت بڑی چیز ہے۔ حدیث پاک میں ہے کہ اللہ نے کچھ فرشتے ایسے بنائے ہیں کہ ان کو ساری دنیا کی بات سننے کی قوت دی اور دنیا میں کسی خطہ میں کوئی پڑھے ’’اللهم صل علی محمد‘‘ تو وہ فوراً روضۂ اقدس پر جا کر عرض کر دیتے ہیں۔
  • فرمایا: میری گزارش یہ ہے کہ دوستی کو، باتوں کو، فضول آرام کو ترک کر دیں۔ مطالعہ کریں، رات کو دیر تک مطالعہ کریں بشرطیکہ صبح فجر کی نماز قضا نہ ہو۔ اور اگر نہیں تو جلدی سو اور صبح جلدی اٹھو۔ جو قومیں صبح جلدی اٹھتی ہیں وہ ہی ترقی کرتی ہیں، انہیں کو رزق میں برکت ملتی ہے۔ جو مجاہدے کے آدمی ہوتے ہیں، وہ اچھی زندگی یعنی عیش و آرام میں بھی زندگی گزار لے گا اور جو مجاہدے کے آدمی نہ ہوں تو وہ عیش و آرام کے بغیر تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔
  • فرمایا: میں نے یہاں یتیم خانہ نہیں کھولا، یہ دار الایتام نہیں ہے، اپنی تعلیم کے اندر رسوخ پیدا کرو، اپنی عادتوں کو بدلو، عین نماز سے پانچ منٹ پہلے آتے ہیں، یہ طلبہ کی شان ہے؟ توبہ! توبہ! استغفراللہ۔ ایک دھوبی، ایک چمار اور ایک جوتے گانٹھنے والے سے بھی اللہ کا مطالبہ یہ ہے کہ جب اذان ہو جائے تو وہ کام چھوڑ کر سیدھے مسجد میں آئیں اور یہ ماشاء اللہ پانچ منٹ پہلے چلے آ رہے ہیں۔
  • فرمایا: عزیز طلبہ اپنے وقت کو قیمتی بنائیے، ہر چیز بے قیمت ہے وقت سب سے قیمتی ہے۔ مال آج نہیں کل آ جائے گا، مال تو ایک ایسا سایہ ہے کہ آج ٹھہرا ہے پل بھر کے لیے پھر دھوپ آ گئی، اور عمر ایسا مسافر ہے جس نے مسلسل سفر کرنا ہے۔ تو اصل چیز وقت ہے۔
  • فرمایا: آج کے سبق کی تکرار آج ہی کریں۔ ایک آدمی سے کسی نے پوچھا: تم اتنے بڑے آدمی کیسے بنے؟ تو اس نے کہا: ٹھہرو! اس نے صندوق کھولا اس میں سے ایک تختی نکالی اس پر لکھا تھا: ’’ابھی یا کبھی نہیں‘‘ (Now or Never)۔ اس وقت کا کام اسی وقت کرو، کل پر ٹالو گے تو کبھی بھی نہیں کر سکو گے۔