!یادوں کے اَن مٹ نقوش
از: بنت محمد یعقوب و بنت محمد یاسین (معلماتِ جامعہ معہد الخلیل الاسلامی)
دنیا میں ہر شخص جانے کے لیے آیا۔ بڑے بڑے بادشاہ بھی اس عالم سے کوچ کر گئے۔ دنیا کا کوئی شخص حتی کہ انبیاء علیہم السلام بھی موت کے قانون سے مستثنیٰ نہیں۔ دنیا میں آنا ہی جانے کی تمہید ہوا کرتی ہے، لیکن ان جانے والوں میں کچھ خوش نصیب ایسے بھی ہوا کرتے ہیں کہ وہ دنیا سے اس شان سے جاتے ہیں کہ اطرافِ عالم میں صفِ ماتم بچھ جاتی ہے، آسمان و زمین نوحہ کرتے ہیں، زندگی اس طرح گزار کر جاتے ہیں کہ زندگی ان پر رشک کرتی ہے اور موت ان پر ناز کرتی ہے۔
پھیل جاتی ہے ہر طرف خوشبو
جب بھی ہم ان کا نام لیتے ہیں
اپنے اپنے وقت پر سبھی گئے اور سبھی نے جانا ہے، یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں، جانے والوں کو کوئی نہیں روک سکتا، لیکن یہ فطری امر ہے کہ دائمی جدائی متعلقین، معتقدین کو جو دکھ، رنج و الم دیتی ہے وہ بھی ایک فطری عمل ہے جسے الفاظ میں پرویا نہیں جا سکتا… یہ حقیقت ہے کہ جب نعمت انسان کے پاس ہوتی ہے وہ اس کی قدر نہیں کرتا، بچھڑ جانے کے بعد اس کی کمی محسوس کرتا ہے۔ ہم آپ کی زندگی میں کماحقہ قدر نہ کر سکے، آج قدم قدم پر آپ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ اب معلوم ہوتا ہے کہ ہم کس شفیق و مربی سے محروم ہو گئے۔ آپ کے دم سے اصلاح کی محفلیں زندہ تھیں، شمع کی مانند پگھلتے رہے مگر دوسروں کو روشنی دیتے رہے۔ آج آپ ہمارے درمیان نہیں لیکن آپ کی حسین یادیں اب بھی ہمارے سینے میں جمع ہیں اور قلب و جگر کو معطر کرتی ہیں۔
مدرسۂ بنات کا قیام اور اسلاف کے نقوش
हमारे حضرت دین کے سچے عاشق اور خاص الخاص انسان تھے۔ دین کے عاشق تو بہت ہوئے ہیں اور آئندہ بھی تا قیامت ان شاء اللہ ہوں گے، لیکن ایسا شخص جو مقصود و مطلوب کی خاطر اپنے آپ کو بھلا دے، اپنی ذات کے لیے کچھ نہ کرے، اس کی ذات پیچھے رہ جائے، اس کا مقصد آگے بڑھ جائے، یہ صفات ہمارے حضرت میں تھیں۔ ۱۴۰۱ھ بمطابق ۱۹۸۲ء میں حضرت اقدس مولانا محمد یحییٰ مدنی نور اللہ مرقدہ خلیفۂ مجاز برکۃ العصر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب مہاجر مدنی رحمہ اللہ نے اکابر علماء و مشائخِ عظام کی موجودگی میں اپنے گھر کے ایک کمرے میں دو طالبعلموں سے مدرسہ معہد الخلیل الاسلامی کی بنیاد ڈالی۔ چند سالوں بعد جب مدرسہ بنات شروع کرنے کا داعیہ پیدا ہوا تو اس سلسلہ میں اکابر علماء حضرت مولانا مفتی محمد عاشق الٰہی مہاجر مدنی، حضرت فقیہ العصر مفتی عبدالستار صاحب رحمہما اللہ تعالیٰ و دیگر اکابر علمائے کرام سے صلاح و مشورہ فرمایا۔ آخر کار آپ کی کوششیں رنگ لائیں اور ۱۴۱۸ھ شوال میں باقاعدہ مدرسہ بنات کا آغاز ہوا اور درجہ عامہ تا عالمیہ تمام درجات سے اس کی ابتدا ہوئی۔
حضرت کے ہاں تعداد پر نگاہ نہیں ہوتی تھی۔ اکثر فرماتے تھے کہ ’’ایک بھی ہو، لیکن کام کرنے والا ہونا چاہیے‘‘۔ شعبہ بنات میں درسِ نظامی (چھ سالہ کورس)، دراساتِ دینیہ (دو سالہ کورس)، شعبۂ خواتین اور چھوٹے بچے بچیوں کے لیے ناظرۂ قرآن کی تعلیم (روضۃ الوالدین) کے شعبجات جاری ہیں۔
طالبات کے لیے شفقتیں اور فراہم کردہ سہولیات
بعض حضرات اس انداز سے اپنی زندگی کا سفر گزار کر جاتے ہیں کہ ان کا ایک ایک لمحہ مخلوقِ خدا کی خدمت و فکر میں گزرتا ہے۔ ہمارے حضرت بھی انہی میں سے ایک تھے۔ آپ طالبات کو اولاد کے مقام پر رکھتے تھے، ممکنہ سہولیات پہنچانے کے لیے ہر وقت متفکر رہتے۔ مدرسۂ بنات میں ہر کمرہ کشادہ، روشن، ہوادار، پنکھے، قالین، لائٹ جانے کی صورت میں جنریٹر کی سہولت، گرمیوں میں ٹھنڈے پانی کا انتظام اور سردیوں میں وضو کے لیے گرم پانی کا اہتمام فرمایا۔ آپ طالبات کے کھانے پینے کے لیے کینٹین کا انتظام فرمایا اور بارہا یہ فرماتے تھے کہ ’’ہمارا مقصد پیسہ (منافع) کمانا نہیں ہے، بلکہ طالبات کو اچھی چیز مہیا کرنا ہے‘‘۔ اسی طرح طالبات کی آمد و رفت کے لیے مناسب فیس کے ساتھ گاڑیوں کا انتظام فرمایا، جو طالبات فیس دینے کی استطاعت نہ رکھتیں، ان کا خرچہ بھی مدرسہ سے پورا کیا جاتا تھا۔ وفاق میں ممتاز آنے والی اور امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات کو کتب کا ہدیہ عطا فرماتے رہے۔
آپ کے درس کی چند نمایاں خصوصیات
آپ نے اپنے شیخ حضرت مولانا زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ کی پیروی میں سنن ابو داؤد شریف کے درس کو ترجیح دی۔ یہ آپ کا ہم طالبات پر بڑا احسان تھا کہ باوجود ضعف، کمزوری، بیماری کے آپ مدرسہ بنات میں درس کے لیے تشریف لاتے۔ آپ کا اندازِ درس دوسرے مدرسین سے نرالا تھا، حتیٰ کہ کمزور سے کمزور ذہن کی طالبہ بھی آپ کے درس سے فائدہ حاصل کرتی تھی۔ دورانِ درس وقتاً فوقتاً کلمہ طیبہ آپ کی زبان پر جاری رہتا، دورانِ درس اصلاحی پہلو پر بھی نظر رہتی، قیمتی نصائح سے سرفراز فرماتے۔ کوئی طالبہ سوال کرتی تو پوری توجہ سے سوال سنتے، اس کی ہمت افزائی فرماتے، آواز میں دلوں کو موہ لینے کی تاثیر تھی۔
ختمِ بخاری کے موقع پر زریں ارشادات
- سب چیزوں کو چھوڑ کر اپنا محبوب مشغلہ مطالعہ کتب کو بنائیں۔
- جو شخص مشغول فی العلم ہو، لاکھوں کتابیں بھی ہوں تو ان کتابوں کی زکوٰۃ واجب نہیں۔
- اپنے اسلاف کی زندگی کو سامنے رکھا جائے۔
- اب آپ علمی میدان میں آگئے، پچاس طلبہ نہیں، آپ پچاس مدارس اور مبلغین ہیں، آپ پچاس سنتوں کے مائل کرنے والے داعی ہیں۔ یہ جب ہوگا جب زندگی میں تقویٰ، وقار، ورع ہو…
- ان کتابوں کا ختم کرلینا یہ دلیل تکمیل نہیں، بلکہ دلیلِ مناسبت ہے، یعنی مناسبت ہوگئی، اگر اس لائن میں چلنا چاہیں تو ترقی کر سکتے ہیں۔ پھر وہ چیز ملے گی: مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ۔
تربیتی اور اصلاحی فرمودات
حضرت رحمہ اللہ کے مزاج میں استقامت اور اصول پسندی خوب تھی۔ آپ وقت کی قدر و قیمت سے حقیقی معنی میں واقف تھے اور طلباء و طالبات کو بھی خصوصی تاکید فرماتے تھے۔ فرماتے تھے کہ ’’ہر چیز بے قیمت ہے وقت بہت زیادہ قیمتی ہے‘‘۔ طالبات کو اکثر غصے پر قابو پانے کا سبق سکھاتے، فرماتے کہ طالبات اکثر کہتی ہیں کہ غصہ آ جاتا ہے، والدہ کو جواب دے دیتی ہیں، تو بھئی غصہ اَنا یعنی ’’میں‘‘ کی وجہ سے آتا ہے۔ اپنی اَنا کو مٹا دو تو غصہ نہیں آئے گا۔
ایک بار ذکر کے متعلق ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’تم ذکر اللہ کر کے تو دیکھو، اللہ کی قسم شیرینی سے بھی زیادہ لذت زبان کو حاصل ہوگی‘‘۔ نیز فرمایا: ’’اذان کے بعد کسی کام میں برکت نہیں ہوتی‘‘۔ فرمایا: ’’جس طالبعلم کو دوستی کا مرض ہوگا وہ ایک نہ ایک دن ضرور ضائع ہوگا، اور جس طالبعلم کو کتاب کا مرض ہوگا وہ ایک نہ ایک دن ضرور بنے گا۔ ہر کام کرنے سے پہلے سوچیں کہ سنت کے مطابق یہ طریقہ ہے یا نہیں؟ اپنے آپ کو چوبیس گھنٹے سنتوں میں ڈھال لیں، اس سے اللہ کو راضی کرنا ہے‘‘۔
نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے
ایک بار ششماہی تقریب کے موقع پر ارشاد فرمایا کہ چار باتوں کا اہتمام کرلیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے آپ سے اپنا کام لینے کے لیے ارادہ فرما لیں گے: (۱) وقت پر حاضر ہونا (۲) مطالعہ کرنا، حفظ کرنا (سبق یاد کرنا) تکرار وغیرہ (۳) اپنے اخلاق کی تعمیر کرنا (۴) مجلسِ ذکر کی پابندی۔ اللہ تعالیٰ حضرت والا کو ان کے گراں قدر خدمات کا بہترین بدلہ عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔