مضامین

!کچھ یادیں! کچھ باتیں

از: بنت رفیق احمد صاحبہ (معلمہ جامعہ معہد الخلیل الاسلامی)

حضرت اقدس استاذ الاساتذہ مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب کی شفقتیں خصوصاً اور عموماً تمام ہی اہلِ تعلق پر تھیں۔ ہم جو حضرت کے لگائے ہوئے گلشن معہد الخلیل الاسلامی سے علمِ نبوت کی طلب میں پہنچے تو حضرت کے بنائے ہوئے ان اصول و ضوابط سے منتفع ہوئے جو اصلاح و تربیت کے لیے مثلِ صیقل تھے۔ حضرت مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ کے اجل خلفاء میں سے تھے، چنانچہ اس تعلق کا پورا عکس حضرت کی ذات میں نظر آتا تھا، آپ علم و آگہی کا مرقع تھے۔ آپ نے تزکیہ و سلوک کی بزم سجائی، ذکر اللہ نہ صرف خود کیا کرتے تھے بلکہ ہر تعلق والے کے لیے یہ خواہش ہوتی کہ اس کی زبان ذکر اللہ میں مشغول رہے۔

باقاعدہ طور پر ذکر بالجہر کی ترتیب اور خانقاہی نظام قائم فرمایا اور آخر وقت اسی حال میں دنیا سے پردہ فرمایا کہ حضرت کے اطراف ذکر جاری تھا۔ خود آپ بھی شدتِ مرض کے باوجود بار بار ذکر کی طرف توجہ فرماتے، اور جیسا کہ عام مشاہدہ ہے کہ آدمی زندگی میں جس چیز کی طرف زیادہ مشغول رہتا ہے وقتِ آخر بھی اسی طرف کا فکر و دھیان ہوتا ہے۔ اسی بنا پر بموجبِ حدیث إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالخَوَاتِيمِ ان شاء اللہ! اللہ پاک کے یہاں حضرت والا کا اعزاز و اکرام ہوگا۔

حضرت والا کے اخلاق، لطائف اور دعاؤں کی اجازت

حضرت کی شخصیت عجیب تھی۔ انتہائی سادہ طبیعت و مزاج کے مالک تھے۔ سبق کے دوران طالبات کے فطری مزاج کے مطابق بھی گفتگو فرما لیا کرتے، کہ بعض اوقات یہ تعجب ہوتا کہ کہاں حضرت کا مقام اور کہاں ہم؟ مثلاً طالبات سے ان کی سرگرمیوں سے متعلق پوچھ لیا کرتے یا کبھی مدرسہ میں کھانے کی کسی چیز سے متعلق طالبات کی رائے دریافت فرماتے۔ حضرت سوال فرماتے پھر جو طالبات کے مشورہ نما آراء کا سلسلہ ہوتا تو حضرت خاموشی سے سنتے رہتے اور کبھی کوئی ہلکا پھلکا تاثر دے دیتے۔

سبق کے دوران حضرت عام زندگی سے متعلق بھی مثالیں دیا کرتے۔ احادیثِ مبارکہ سے متعلق کبھی نصائح فرماتے۔ ایک مرتبہ ادعیہ سے متعلق احادیث کا سبق تھا، اثنائے سبق شفقتاً فرمانے لگے: ’’میری بیٹیو! میں تم کو اجازت دیتا ہوں کہ اول و آخر تین تین مرتبہ درود شریف پڑھ کر بسم اللہ کے ساتھ سورۂ فاتحہ پڑھ کر بیماری میں دم کر لیا کرو۔ اسی طرح اللَّهُمَّ أَذْهِبِ الْبَأْسَ سے متعلق بھی اول و آخر تین تین مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر دم کرنے کی اجازت فرمائی‘‘۔ حضرت کی اجازت کیا تھی ایک خزانۂ انمول تھی، کہ اسی دن درس گاہ میں طالبات نے اس اجازت کو غنیمت سمجھ کر دم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا:

ایں سعادت بزور و بازو نیست

تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

حضرت کے مزاج میں جلالِ فاروقی بھی تھا تو حلم و لطافت اور مزاح بھی خوب تھا۔ ایک مرتبہ ابو داؤد کے سبق میں سوار (کنگن) کے متعلق احادیث آئیں تو اس کی وضاحت فرماتے ہوئے سوار کا اردو ترجمہ ’’پہنچیں‘‘ سے فرمایا۔ پھر یہ شعر سنایا جس کو سن کر طالبات خوب محظوظ ہوئیں:

جو پہنچی ہم نے بھیجی تھی وہ پہنچی کہ نہ پہنچی

جو پہنچی تم کو پہنچی ہو تو لکھ بھیجو کہ ہے پہنچی

درود شریف کا معمول اور دنیاوی ناز و نعم سے بے رغبتی

حضرت خود بھی درود شریف کے ورد کا اہتمام فرماتے اور اہلِ تعلق کو بھی اس کی اہمیت و فضیلت کی تلقین فرماتے۔ اسی سلسلے میں ’’زاد الخلیل‘‘ کے نام سے خوبصورت چالیس درود پر مشتمل مجموعہ چھپوایا جو خوب عام ہے اور ان شاء اللہ حضرت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب و شفاعت کا سبب بنے گا۔ درود پاک تو گویا حضرت کا وظیفہ تھا۔ ایک مرتبہ عرض کیا کہ حضرت پتہ نہیں موت کے برحق ہونے کا تو یقین ہے، لیکن والد محترم کی وفات کے بعد سے دل پر ایسی وحشت طاری ہے کہ جس کے غلبہ سے بار بار طبیعت بگڑ جاتی ہے۔ حضرت فرمانے لگے کہ ’’درود شریف کثرت سے پڑھا کریں‘‘۔ الحمدللہ! اس نصیحت پر عمل سے افاقہ ہو گیا۔

حضرت بڑے مہمان نواز اور سخی تھے۔ اکثر سال میں ایک دو مرتبہ سب طلباء، اساتذہ اور منتظمین کی ضیافت کا اہتمام فرماتے، اور اس میں بھی نظم و ضبط کا لحاظ ہوتا کہ فلاں وقت کھانے کی ترتیب ہے، کتنے پہلے سے انتظام ہو؟ اور کتنے وقت میں کھانا کھایا جائے؟ اور بعد کے انتظامات کس ترتیب سے ہوں؟ سب امور پر حضرت کی گہری نظر ہوتی۔ دنیاوی ناز و نعم سے بے رغبتی حضرت کے سادہ معمولاتِ زندگی سے نظر آتی تھی۔ لباس سے لے کر ہر قسم کی ضروریاتِ زندگی میں سادہ اور معمولی چیزوں کا استعمال فرماتے، اپنے لیے باوجود ضعف اور پیرانہ سالی کے کوئی خصوصی امتیاز پسند نہ فرماتے تھے۔

پیکرِ عجز و وفا اور مدینہ منورہ میں موت کی آرزو

عاجزی اور فنائیت جو اہل اللہ کا خاص وصف ہوتا ہے اس کے بے شمار واقعات کا حضرت کے متعلقین نے خوب مشاہدہ کیا۔ علماء و طلباء کے علاوہ عام لوگوں سے بھی اکرام و محبت سے پیش آئے۔ اکثر کوشش ہوتی کہ باہر سے مہمان علمائے کرام آ کر اہلِ مدرسہ کو اپنی نصائح سے بہرور فرمائیں۔ ایسے موقع پر ان کے ساتھ عاجزی و فنائیت کا عجیب معاملہ فرماتے۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ جو بڑا ہوتا ہے وہ خود کو بڑا سمجھتا نہیں، یہی ان بزرگوں کا وصف ہے۔

حضرت کی بڑی خواہش تھی کہ مدینہ میں موت آئے اور وہیں قبر ہو:

نکل جائے دم تیرے قدموں کے نیچے

یہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے

اسی لیے آخر وقت میں جب صحت کی طرف سے کوئی اطمینان نہ رہا اور سفرِ آخرت کے آثار نظر آنے لگے تو حضرت شدت سے بار بار درِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری کی خواہش فرماتے رہے:

آرزو یہ ہے کہ پہنچوں جب مدینے کے قریب — نزع کا عالم ہو طاری، دم ہو سینے کے قریب

پھر اگر مر جاؤں جا کر میں مدینہ کے قریب — دفن کر دینا مجھے روضہ کی جالی کے قریب

مگر مشیتِ الٰہی کے مطابق حضرت کی وفات اپنے وطن میں ہوئی اور اپنے آبائی قبرستان میں تدفین ہوئی، لیکن حدیثِ نبوی کا مفہوم ہے کہ ’’جو میری سنتوں پر چلنے والا ہوگا وہ مجھ سے قریب ہے چاہے (مسافت کے اعتبار سے) کتنا ہی دور ہو اور جو مجھ پر کثرت سے درود بھیجنے والا ہوگا قیامت میں میرے قریب ہوگا‘‘۔

غمِ مصطفیٰ جس کے سینے میں ہے

جہاں بھی رہے وہ مدینے میں ہے