مضامین

خدامِ ختمِ نبوت کے سرپرست حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ سے وابستہ چند یادیں

از: مولانا قاضی احسان احمد صاحب (نائب امیر عالمی مجلس تحفظِ ختم نبوت کراچی)

زهد و تقویٰ، فہم و فراست، جود و سخا، اخلاص و للہیت، خشوع و خضوع اور ان جیسی بے شمار صفات عطیہ خداوندی ہیں۔ ان ملکوتی صفات سے اہلِ حق علمائے کرام متصف ہوتے ہیں۔ رب کریم ان وارثانِ انبیاء کو مخلوق کی رہبری و رہنمائی کے لیے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازتے ہیں۔ شیخِ طریقت حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ بھی انہی عظیم المرتبت شخصیات میں سے تھے جن کو رب العزت نے بے شمار فضائل و مناقب سے نوازا تھا۔ شروع ہی سے باری تعالیٰ نے آپ کے قلب کو دین اور اہلِ دین کی محبت و عظمت سے لبریز کر دیا تھا۔ اسی کا ثمرہ ہے کہ تا حیات اشاعتِ دین، اسلامی تعلیم و تعلم اور تبلیغِ اسلام سے وابستہ رہے۔

حکیم الامت حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی رحمہ اللہ نے تعلیم اور تبلیغ کی اپنے مخصوص انداز میں وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’تعلیم کہتے ہیں منتشر کو مجتمع کرنا اور تبلیغ کہتے ہیں مجتمع کو منتشر کرنا‘‘۔ حق تعالیٰ نے مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کو اس تعریف کا کامل مصداق بنایا؛ منفرد نوعیت کا مدرسہ قائم کیا، منفرد اندازِ تربیت اختیار کیا، اہلِ ثروت، کھاتے پیتے گھرانوں کے بچوں کو دین کی طرف متوجہ کیا اور بہت اچھے انداز و ماحول میں بہترین نتائج حاصل کرنے میں کامیاب و کامران رہے۔

تحفظِ ختم نبوت کا مشن اور والہانہ لگاؤ

حضرت مولانا مدنی رحمہ اللہ کو تحفظِ ختم نبوت کے مشن سے بھی خاصی دلی محبت اور والہانہ عقیدت تھی، کیوں کر نہ ہوتی، یہ محبت انہیں اپنے مشائخ اور اساتذہ کرام سے ورثے میں ملی تھی۔ جامعہ کی تعلیمی مصروفیات اور سالکین کی تربیت کے ساتھ ساتھ محاذِ ختم نبوت پر کام کرنے والوں سے دلی عقیدت و محبت اور لگاؤ رکھتے تھے، کیونکہ آپ کے شیخ بھی اپنی خانقاہ میں ذکر و اذکار، سلوک و احسان اور تزکیۂ نفس کے ساتھ ساتھ اصلاحِ عقائد پر زور دیتے تھے۔ خطیبِ پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ’’عقیدہ مضبوط… عمل تھوڑے… جنت قریب۔ عقیدہ خراب… عمل کثیر… ٹھکانہ جہنم‘‘۔ اس لیے خانقاہ کا اصل مقصد عقائد و نظریات کی پختگی اور درستگی ہوتا ہے۔

مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کو اپنے استاذ، علومِ انوری کے وارث حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ سے بھی خاص عقیدت و محبت تھی۔ حضرت بنوری رحمہ اللہ عالمی تحفظِ ختم نبوت کے سابق امیرِ پنجم تھے۔ آپ کے زمانۂ امارت میں مجلس کو ظاہری، باطنی، اندرون اور بیرونِ ملک بہت ترقی نصیب ہوئی۔ گویا تحفظِ ختم نبوت سے دلی لگاؤ حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کو اپنے استاذِ گرامی سے ملا تھا۔ چنانچہ آپ پر مدرسہ کی چاردیواری میں تعلیم و تعلم، اصلاح و ارشاد کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کا کازِ ختم نبوت سے وابستہ کرنے کی فکر بھی ہر وقت دامن گیر رہتی تھی۔ جماعتی مبلغین یا دوست ملاقات کے لیے آتے تو انتہائی شفقت و محبت فرماتے۔ راقم الحروف بھی اسی کام کی غرض سے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتا تو محبت سے اپنے پاس بٹھاتے اور کافی دیر تک جماعتی سرگرمیوں پر، اکابرین کے حال احوال اور نظم و نسق سے متعلق استفسار فرماتے۔ بندہ اپنی معلومات اور سوچ و فکر کی حد تک جواب دیتا، خوشی کا اظہار فرماتے، دامن دعاؤوں سے بھر کر رخصت کرتے۔

وصال سے چند دن قبل کی پُراثر یاد

وصال سے چند دن قبل بندہ عیادت کے لیے حاضر ہوا۔ برادرِ محترم مفتی سلمان صاحب سے زیارت کے لیے عرض کیا تو نقاہت اور ضعف کی وجہ سے شاید پہچان نہ سکے، اگلے روز خود موبائل سے کال کی اور ارشاد فرمایا: ’’میں آپ سے معذرت چاہتا ہوں، میں آپ کو پہچان نہ سکا تھا، آپ کے نام کے ایک اور مولانا بھی ہیں اور گزشتہ دن ان سے ملاقات ہوئی تو سمجھا کہ وہی ہیں، اس وجہ سے بات نہ ہو سکی‘‘۔ میں نے حضرت سے عرض کی کہ کوئی ایسی بات نہیں، ہم تو آپ کے غلام ہیں اور خادم ہیں۔ مزید محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ’’آپ تحفظ ختم نبوت کا کام کرتے ہیں اور مجھے ملنے کے لیے آتے ہیں اول تو ہمیں دفتر ختم نبوت آنا چاہیے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ختم نبوت جماعت کے ساتھی آئیں اور ان سے ملاقات نہ ہو، یہ نہیں ہو سکتا‘‘۔

اکثر مجھے مولانا فون کر کے اکابرین مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ، مولانا عزیز الرحمن جالندھرحمہ اللہ کی خیر و خیریت پوچھتے اور کراچی کے ختم نبوت کے پروگراموں کی ترتیب معلوم کرتے۔ آخر میں فرماتے: ’’ہمیں ضرور یاد رکھیں، مدرسہ میں بھی پروگرام کرانا ہے‘‘۔ اللہ اکبر! یہ فکر اور محبت سب کچھ آپ کی ختم نبوت سے دلی محبت کا ثمرہ ہے۔ مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ صحیح معنوں میں اسلاف کی نشانی اور یادگار تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے، آپ کے مشن کو جاری و ساری فرمائے، آپ کے فرزندانِ گرامی کو آپ کا صحیح اور کامل جانشین بننے کی توفیق نصیب فرمائے۔

آئیے! آج ہم بھی اپنے اکابر کی زندگیوں کو اپنے لیے مشعلِ راہ بنائیں، ان کی سوچ اور فکر کو اپنائیں، ان کے جذبۂ عشق و وفا سے سبق حاصل کریں۔ ان کے روشن کیے ہوئے چراغ کو بجھنے سے بچائیں۔ مگر وہ بد نصیب جس نے دنیا کے لیے دین سے بے وفائی کی، عہدے کی لالچ میں دین فروخت کیا، منصب کے حصول کے لیے قرآن و سنت سے روگردانی کی، وہ اس دنیا و آخرت میں ناکام رہے۔