مکاتیبِ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا سہارنپوری بنام حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ
باسمہٖ سبحانہ
بخدمت والدین عزیزی الحاج مولوی یحییٰ سلمہٗ!
بعد سلام مسنون، تمہارا مشترکہ محبت نامہ عزیزم الحاج مولوی یحییٰ سلمہ کی معرفت پہنچا۔ بھائی یونس صاحب نے اپنے حالات رضاکاری کے اور بہت کام اپنے ہاتھ سے کرنے کے اور باوجود دیر سے سونے کے جماعت کے وقت خود بخود آنکھ کھل جانے کے جو لکھے ہیں، ان سے بہت مسرت ہوئی۔ اللَّهُمَّ زِدْ فَزِدْ۔ اس کے علاوہ جو معمولات آپ نے لکھے، وہ بھی بہت باریک ہیں، اللہ تعالیٰ قبول فرماوے اور دونوں کو اپنی رضا و محبت عطا فرمائے، مرضیات پر عمل کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے، نامرضیات سے حفاظت فرمائے۔
آپ کی بیماری کی خبر سے بہت قلق ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنے فضل و کرم سے صحتِ کاملہ عاجلہ مستمرہ عطا فرمائے۔ ابھی حرم شریف جانے کا وقت قریب ہے، ان شاء اللہ آپ کی تعمیلِ حکم کروں گا۔ مولوی یحییٰ سلمہٗ کی طرف سے ان کی اور ان کے والدین اور اہلیہ کی طرف سے صلوٰۃ و سلام پہلے بھی پیش کرتا رہا۔ نیز آپ کی فرمائش کے موافق ان شاء اللہ یہ دعا بھی کروں گا کہ اللہ تمہیں بھی اور اس ناکارہ کو بھی صحت و قوت عطا فرمائے، چلتے ہاتھوں پیروں اٹھائے۔ آپ کی بچی کے رشتہ کے لیے بھی دعا کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے بہترین زوج میسر فرمائے۔
عزیز مولوی یحییٰ کا آنا تو پسند نہیں آیا، میں نے تو ان کو آنے کی ممانعت کا خط بھی لکھ لیا تھا، مگر میرا خط پہنچنے سے پہلے وہ روانہ ہو چکے تھے، کہ میری نگاہ میں علمی مشغلہ سب سے زیادہ اہم ہے اور اس کا حرج بہت سخت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان کو ان کی اس محبت کا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنا یہ علمی حرج کیا، اللہ تعالیٰ علمی نقصان کی بھی تلافی فرمائے، ان کو علومِ ظاہریہ و باطنیہ دونوں سے مالا مال فرمائے۔
آپ کا مرسلہ عطرِ عود اور اگربتی پہنچ گئی۔ جزاکم اللہ تعالیٰ! اللہ تعالیٰ اس گرانقدر عطیہ کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ اہلیہ محترمہ نیز اہلیہ عزیز مولوی یحییٰ اور اس کی بہنوں سے سلام مسنون فرماویں۔ یہ ناکارہ سب کے لیے دعا کرتا ہے۔ فقط والسلام
حضرت اقدس شیخ الحدیث صاحب بقلم حبیب اللہ
۱۵ جون ۱۹۷۳ء
باسمہٖ سبحانہ
عزیزم مولوی یحییٰ سلمہٗ!
بعد سلام مسنون، ایسے گئے کہ خط بھی نہ بھیجا رسید کا، تمہارے جانے کے بعد سے بخیر اس کے خط کا انتظار تھا۔ اللہ کرے کہ خیریت سے پہنچ گئے ہو اور جو علمی نقصان اور حرج یہاں کے آنے میں ہوا اس کی تلافی ضرور کر دی ہو۔ تمہارے یہاں کے قیام سے ایک راحت تو بہت رہی، اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے، وہ یہ کہ ہر وقت جم کے رہنے والا جس کو بازار یا سونا یا حرج یا تفریح سب سے بے فکری ہو وہ تم ہی نکلے۔ اللہ تعالیٰ ہی جزائے خیر عطا فرمائے۔
ایک ضروری خط مولانا بنوری کے نام لکھوا رہا ہوں۔ بہت اہتمام سے مولانا کی خدمت میں پیش کر کے وقتاً فوقتاً جواب کی یاد دہانی کر کے اس کا جواب اہتمام سے بھیجوادیں۔ بذریعہ رجسٹری بھیجیں اگر مولانا کی تحریر ہو، اور اگر جواب یا معذرت ہو تو پھر رجسٹری کی ضرورت نہیں۔ والدین و اہلیہ سے سلام مسنون۔ فقط والسلام
حضرت شیخ الحدیث صاحب مد فیوضہم بقلم حبیب اللہ
۹ جولائی ۱۹۷۳ء
باسمہٖ سبحانہ
عزیزم الحاج مولوی یحییٰ سلمہٗ!
بعد سلام مسنون، شدید انتظار میں تمہارا محبت نامہ پہنچا۔ میری بیماری کے متعلق آپ نہ فکر میں پڑیں، نہ تحقیقات کریں۔ ضعف و پیری میں ہوتا ہی رہتا ہے۔ بحمداللہ! اب طبیعت ٹھیک ہے۔ اس سے تعجب ہوا کہ تم نے لکھا کہ تاحال تیرا کوئی خط نہیں ملا۔ میں تو آپ کو پاکی خط کئی لکھوا چکا ہوں، جن میں ۸ جولائی کا لفافہ خاص طور سے قابلِ ذکر ہے، اس میں مولانا یوسف صاحب دام مجدہم کے نام بھی ایک طویل خط تھا۔ خدا کرے کہ وہ خط پہنچ گیا ہو۔ یہاں سے یہ طیارے والے بہت وعدے کر کے جاتے ہیں، مگر کراچی اور بمبئی جا کر بھول جاتے ہیں۔ مولانا کے نام خاتمہ البذل کے سلسلے میں بھی کئی خط تو آپ کے واسطہ سے اور دیگر وسائط سے لکھ چکا ہوں، مگر ان کا بھی کوئی جواب نہیں ملا۔
تمہارے خط سے معلوم ہوا کہ مولانا کے پاس ایک پرچہ میرا اس مضمون کا پہنچ چکا ہے، مگر تم نے بھی اس میں مولانا کی کوئی رائے نہیں لکھی کہ مولانا کو اس وقت فرصت ہے یا نہیں۔ ’’لامع‘‘ کے صفحات محررہ مولوی شاہد صاحب پہنچ گئے، اس کے متعلق تو مولانا عبدالحفیظ اسی لفافہ میں مستقل پرچہ لکھیں گے۔ میں تو صرف دو باتیں لکھ سکتا ہوں کہ ماشاء اللہ تحریر بہت عمدہ ہے، اللہ مبارک کرے۔ اللَّهُمَّ زِدْ فَزِدْ۔ دوسرے یہ کہ یہ تجارتی کام ہے اور لمبا کام ہے، مختصر نہیں ہے، اس لیے اس سلسلہ میں مولوی عبدالحفیظ صاحب کی پیشکش کو رد نہ کریں اس لیے کہ کتابوں کا تعلق ان ہی سے ہے، اس لیے میں نے نہیں لکھا۔
میرے رائے ونڈ کے اجتماع میں آمد کے سلسلہ میں تو بہت زور بندھ رہے ہیں، مگر ابھی تک تو قانونی مراحل طے نہیں ہوئے، ماہِ مبارک کا مسئلہ بھی بہت زور کا ہے۔ اکابر ہند کی رائے یہ ہے کہ رمضان تو سہارنپور ہی ہونا چاہیے، چاہے رمضان کے بعد واپسی ہو جائے، مگر اپنے سفر کی معذوری کی بنا پر بار بار کی آمد و رفت مشکل ہے، اس لیے مدینہ ہی کا غالب گمان ہے۔ مولانا یوسف صاحب سے دریافت کر کے پوری اطلاع دیں کہ خاتمۃ البذل کے متعلق کچھ تحریر کر سکتے یا نہیں؟ والدین اور اہلیہ سے سلام مسنون۔ فقط والسلام
حضرت شیخ الحدیث صاحب بقلم حبیب اللہ
۹ جولائی ۱۹۷۳ء
۷۸۶
محترم و مکرم الحاج بھائی یحییٰ صاحب سلمہٗ!
بعد سلام مسنون، تمہارا لفافہ العلاء سے پہنچا اگرچہ تم نے یہ نہیں لکھا کہ تمہارا علاء میں قیام کب تک ہوا اور ۱۶ جولائی کو تم نے کراچی واپسی کو لکھا ہے اس لیے خیال تھا کہ ۱۶ کے قریب کراچی جواب لکھ دیا جائے۔ پھر خیال ہوا کہ شاید روانگی میں تاخیر ہو اس لیے مختصر پرچہ بھائی سلیم کی رجسٹری میں لکھ رہا ہوں کہ کراچی کے لیے مکہ مکرمہ تو جانا نہیں ہوگا۔ تم نے ماہِ مبارک یہاں گزارنے کے متعلق لکھا کہ کوشش میں ہوں کہ ویزا مل جاوے۔ یہ ناکارہ دعا کرتا ہے اللہ جل جلالہ سہولت کے ساتھ میسر فرماوے۔ کراچی کی بہ نسبت جدہ میں آسانی سے مل سکتا ہے۔ یہ ناکارہ دل سے دعا کرتا ہے اللہ جل جلالہ سہولتیں پیدا فرماوے۔
اس ناکارہ کی حجاز کی حاضری کا مسئلہ ابھی تک پختہ نہیں، رمضان سے پہلے کی تو کوئی صورت نہیں، حج کے موقع پر یا حسبِ سابق بعد حج محرم میں امکان ہے۔ تم نے اس ناکارہ کے متعلق اپنی محبت سے جو کچھ لکھا وہ واقعہ کے خلاف ہے۔ اس ناکارہ کا وجود عالم کے لیے شرور کا سبب نہ بناوے تو مالک کا احسان ہے۔ مدینہ پاک قیام کی دعائیں تم حضرات کرتے رہو یہ تمہارا احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ تم دوستوں کی برکت سے مدینہ پاک کے قیام کے اسباب پیدا فرماوے۔
کتابوں سے ہٹ کر سہارنپور آنے کا ولولہ شیطانی ہے، جب تم نے طلبِ علم شروع کر دیا تو اسی میں اہتمام سے مشغول رہو۔ البتہ رمضان یہاں گزارنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ تمہارے اقامہ کی تجدید کی خبر سے بہت مسرت ہے، اللہ تعالیٰ مبارک فرمائے۔ چشمہ کا نمبر تو مل گیا مگر عینک کے بعد بھی صفائی نہیں آئی، جس کے لیے ڈاکٹر دوبارہ علیگڑھ بلا رہا ہے۔ ڈاکٹر ایوب صاحب کے حالات سے بہت مسرت ہوئی۔ اس ناکارہ کی طرف سے معمولات کی پابندی پر مبارکباد پیش کر دیں۔ ڈاکٹر ایوب صاحب رمضان یہاں گزاریں تو زیادہ اچھا ہے۔ کراچی پہنچنے پر اپنی اہلیہ اور والدین سے سلام مسنون۔ تمہارا خواب مبارک ہے کسی تعبیر کا محتاج نہیں۔ تم لوگوں کے اشغال و اوراد ہی اس ناکارہ کے لیے پھل ہیں جو تم کھلا رہے ہو۔ فقط والسلام
حضرت شیخ الحدیث صاحب بقلم محمد اسماعیل
۹ جولائی / ۴ جمادی الأولى
باسمہٖ سبحانہ
عزیزم الحاج مولوی یحییٰ سلمہٗ!
بعد سلام مسنون، کئی دن ہوئے تمہارا خط پہنچا تھا، اس میں کئی پرچے تھے، ایک عزیز شاہد کا بھی تھا اور اس کی کتابت کا نمونہ بھی تھا، ان سب کا جواب میں نے لکھ دیا تھا کہ ایک صاحب کے ساتھ بھیج دوں۔ مگر چونکہ حضرت مولانا کی خدمت میں خاتمہ بذل کے متعلق بھی خط لکھنا ضروری تھا، جو میں نے سب سے پہلے ۸ جولائی کو لکھا تھا، مگر اس کے اس خط سے یہ معلوم ہوا کہ وہ نہیں پہنچا۔ اس لیے میں نے بعد میں اس لفافہ کو مولانا ہی کے نام رجسٹری کرا دیا تھا اور اسی میں آپ کا پرچہ بھی رکھ دیا تھا، امید ہے کہ پہنچ گیا ہوگا۔ اس خط میں اسی کی یاددہانی کرانا مقصود ہے۔
حضرت مولانا سے بعد سلام مسنون کہہ دیں کہ میں نے اس میں تین خط آپ کی خدمت میں لکھے، ایک کا پہنچنا تو بھائی یحییٰ کے خط سے معلوم ہو گیا، مگر ابتدائی خط جو ۸ جولائی کو لکھا تھا بھائی یحییٰ ہی کے خط سے معلوم ہوا کہ وہ نہیں پہنچا۔ معلوم نہیں کہ جناب کو اس وقت اس کے لکھنے کی فراغت ہے یا نہیں؟ اگر ہو تو ضرور تکلیف فرماویں۔ میں نے مصر میں بذل آخری جلد کی تکمیل کو آپ کے جواب کے انتظار میں طباعت سے روک رکھا ہے۔ اللہ کرے کہ آپ کو مزید مشاغل اس کے لیے مانع نہ ہوں۔ آپ کے مشاغل سے تو انکار نہیں، مگر مشاغل کے ساتھ علوِ ہمت سے بھی انکار نہیں۔ عزیز محمد سلمہٗ سے سلام مسنون کے بعد فرما دیں کہ یہ ناکارہ تمہارے لیے دل سے دعا کرتا ہے۔ فقط والسلام
حضرت اقدس شیخ الحدیث صاحب مد فیوضہم بقلم حبیب اللہ
۳۰ جولائی ۱۹۷۳ء
باسمہٖ سبحانہ
عزیزم بھائی یحییٰ سلمہٗ!
بعد سلام مسنون، میں نے تمہیں متعدد خطوط جس میں حضرت مولانا سے اختتامِ بذل کے سلسلہ میں لکھے اور ایک رجسٹری خود مولانا کے نام ۲۹ جولائی کو لکھی تھی، اس میں ایک پرچہ آپ کے نام رکھا تھا، جس میں آپ کے نام کے ساتھ خطوط کی فہرست بھی لکھی تھی، مگر اب تک آپ کی طرف سے کسی خط کی رسید یا جواب نہیں ملا۔ مجھے حضرت مولانا کی اختتامی تحریر کے متعلق شدت سے انتظار ہے کہ مولانا تحریر فرما سکتے ہیں یا نہیں۔
براہِ کرم بواپسی حضرت مولانا سے دریافت کر کے اطلاع کریں کہ بذل کی آخری بیسویں جلد طبع ہو رہی ہے، اگر مولانا برائے کرم تحریر فرما سکیں تو میں مصر والوں کو لکھوں کہ ابھی اس کو نہ طبع کرائیں، بلکہ آخری اوراق کو باقی رکھیں اور اگر خدانخواستہ مولانا کوئی عذر فرما دیں تو اس سے بھی بواپسی مطلع فرمائیں، تاکہ میں مجبوراً مصر والوں کو معذرت لکھ دوں۔ اگر مولانا تکلیف فرما کر مضمون تحریر فرما دیں تو بہت ہی کرم ہو، ورنہ مولانا کے مشاغل کے تحت اصرار تو بے جا ہے۔ مولانا کی خدمت میں بعد سلام مسنون، یہی کارڈ پیش کر دیں اور جو جواب فرماویں اس کا ایک پرچہ بھائی یوسف صاحب کو دے دیں کہ ان کے خطوط کثرت سے آتے رہتے ہیں اور ایک ڈاک سے بھی احتیاطاً بھیج دیں۔ نہایت عجلت میں یہ خط لکھوا رہا ہوں کہ جانے والا ابھی جا رہا ہے۔ فقط والسلام
حضرت شیخ الحدیث صاحب مد فیوضہم بقلم حبیب اللہ
۳ اگست ۱۹۷۳ء
بوساطت رائے ونڈ
باسمہٖ سبحانہ
عنایت فرمايم جناب الحاج بھائی یحییٰ صاحب!
بعد سلام مسنون، آج کی ڈاک سے ہندی لفافہ میں تمہارا محبت نامہ بلا تاریخ پہنچا اور اس کے ساتھ ہی حضرت مولانا محمد یوسف صاحب زاد مجدہم بنوری کا بھی گرامی نامہ پہنچا۔ اس کا جواب بھی اسی خط کے ساتھ ارسال ہے، دوسرا ورقہ پھاڑ کر سادہ لفافہ میں رکھ کر حضرت مولانا کی خدمت میں پیش کر دیں۔ پرسوں کی ڈاک سے عزیزم الحاج عبدالحفیظ سلمہٗ کا خط پہنچ گیا تھا جس پر اس نے آپ کے گراں قدر ہدیہ دو سو روپے قیمتِ عقیقہ کی وصولی کی اطلاع دی تھی۔ ایک سو دس روپے کا تو جانور عقیقہ کا آیا، بقیہ میں ایک دیگ پلاؤ اور ایک دیگ شوربا اور ان کے مناسب نان لگوا کر آج جمعہ کے دن آپ کی طرف سے دعوتِ عقیقہ کر دی۔ میں نے مولوی نصیر سے کہہ دیا کہ آنے والوں کی پابندی نہیں چونکہ مہمانوں کا ہجوم بھی زیادہ ہے اور مدعوین کی تعداد بھی بڑھ گئی۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ نومولود کو علم و عمل، رشد و ہدایت اور وسعتِ رزق کے ساتھ اپنے والدین کے ظلِ عطوفت میں عمرِ طبعی کو پہنچائے۔ اہلیہ محترمہ اور والدین سے بھی مبارکباد کہہ دیں۔
تم نے حضرت مولانا بنوری کا خط بھیج دیا بہت اچھا کیا اس کا شدید انتظار تھا۔ حجازِ مقدس حاضری کی تمنا تو میری بھی ہے مگر ٹانگوں کے جمود نے ایسا معذور بنا رکھا ہے کہ چارپائی کے قریب قدمچہ ہے۔ چار آدمی پکڑ کر کرسی کی طرح سے قدمچہ پر بٹھا دیتے ہیں اور فراغت پر اٹھا لیتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کوئی تکلیف تو مجھے اس پر نہیں ہے، لیکن مدینہ پاک کی حاضری پر محرومی کا قلق ضرور ہے۔ امسال حاضری کی تو بظاہر کوئی صورت نہیں ہے۔ مولوی انعام الحسن صاحب کا بھی چونکہ لندن وغیرہ ممالک کے تین ماہ کا سفر ہے اس لیے ان کی بھی اس سال حجاز حاضری کی کوئی صورت نہیں، البتہ وہ تو اس طویل سفر سے واپسی پر عمرہ کر کے واپسی کا ارادہ کر رہے ہیں۔ اس ناکارہ کی حاضری تو معلوم نہیں کہ مقدر ہے یا نہیں اور ہے تو کب۔
سندھ کی لسانی عصبیت اور فساد کی خبریں تو بہت کثرت سے سننے میں آئیں، اللہ تعالیٰ ہی رحم فرمائے ہر جگہ فسادات ہی کی خبریں ہیں جو اپنے ہی اعمال کے ثمرے ہیں۔ اس سے بہتر مسرت ہوئی کہ ان حالات میں بھی سندھ میں دو روزہ تبلیغی اجتماع ہو گیا اور اللہ تعالیٰ مثمرِ ثمرات و برکات بنائے۔
اگر اسباق کی کثرت کی وجہ سے معمولات میں کمی ہو جائے تو کچھ مضائقہ نہیں لیکن کوئی معمول بالکلیہ ترک نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے نقصان ہوتا ہے۔ یہ ناکارہ دل سے دعا کرتا ہے اللہ جل جلالہ آپ کے وقت میں برکت فرمائے اور استقامت و ترقیات سے نوازے۔ آمد و رفت کی سہولت کی خبریں تو ہم بھی بہت دنوں سے سن رہے ہیں، اللہ تعالیٰ سہولت فرمائے مگر ابھی تک تو ڈاک کا سلسلہ بھی شروع نہیں ہوا۔ عزیز محمد الیاس اور فاطمہ سے بھی دعوات فرما دیں، اللہ تعالیٰ ان کو بھی مکارہ سے حفاظت فرما کر دارین کی ترقیات سے نوازے۔ آپ کی ہمشیرہ کے جوڑ کے لیے بھی یہ ناکارہ دل سے دعا کرتا ہے اللہ جل جلالہ بہترین زوج میسر فرمائے، باحسنِ وجوہ اس مبارک کام کی تکمیل فرمائے۔ والدین کے لیے بھی یہ ناکارہ دل سے دعا کرتا ہے۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدیر بینات سے بھی سلام مسنون کہہ دیں۔ فقط والسلام
حضرت شیخ الحدیث صاحب بقلم حبیب اللہ
۴ اگست ۱۹۷۳ء
باسمہٖ سبحانہ
برادرم الحاج مولوی یحییٰ سلمہٗ!
بعد سلام مسنون، تمہارا لفافہ جس میں حضرت مولانا کا بھی خط تھا اس کا جواب تو اسی وقت لکھوا دیا تھا، مگر کوئی معتبر جانے والا نہیں ملا تھا کہ مفتی زین العابدین صاحب کی معرفت خاتمۃ البذل بھی پہنچ گیا۔ مجھے تمہارے اس دوسرے خط سے اور مفتی صاحب کی زبانی یہ معلوم ہوا کہ مولانا نے کس قدر انہماک اور مشغولی سے ۶، ۷ گھنٹے میں تحریر فرما کر اور آپ کی مساعیِ جمیلہ سے حاجی فرید الدین کی معرفت ہوائی اڈے پر پہنچنا معلوم ہو کر بہت ندامت ہوئی، کہ میری وجہ سے مولانا کو کتنی دقت اٹھانی پڑی۔ اللہ تعالیٰ ہی بہترین جزائے خیر عطا فرمائے۔
تمہارے خط سے ۱۰ اگست کو شادی مبارک کا مژدہ ہونا معلوم ہوا، ان شاء اللہ باحسنِ وجوہ تکمیل ہو گئی ہوگی۔ میری طرف سے مولانا کی خدمت میں خاص طور سے مبارکباد پیش کر دیں۔ دستی خطوط اس وجہ سے بھیجنے کی کوشش کرتا ہوں کہ ڈاک کا مسئلہ تو اور بھی زیادہ گڑبڑ ہے، سہارنپور کے متعدد خطوط اب تک نہیں پہنچے، اگرچہ دستی والے بھی بہت دق کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ بھائی شاہد کے لامع کے اوراق بھی پہنچ گئے، اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزائے خیر عطا فرمائے۔ اس وقت عبدالحفیظ میرے پاس تھا، لامع کے اوراق اور جو خط اس کے نام تھا اس کے حوالہ کر دیا، اگر وہ کوئی پرچہ دے گا تو اس لفافہ میں رکھ دوں گا۔ سنا ہے کہ کل کو جانے والا ہے، تم نے اور مولوی عبدالرزاق صاحب نے اس کے ٹائپ اور مقابلہ میں جو دقت اٹھائی اللہ تعالیٰ ہی جزائے خیر عطا فرمائے۔ تم نے لکھا کہ شادی سے فراغ پر تفصیل لکھوں گا، تفصیل کا انتظار ہے۔ مجھے تو اس شادی سے بہت مسرت ہے، اللہ تعالیٰ خیر فرمائے۔ والدین اور اہلیہ سے سلام مسنون کہہ دیں۔ فقط والسلام
حضرت شیخ الحدیث صاحب مد فیوضہم بقلم حبیب اللہ
۱۳ اگست ۱۹۷۳ء
عزیزم الحاج بھائی یحییٰ سلمہٗ!
بعد سلام مسنون، کل منگل کے دن ۱۸ ستمبر کو عصر کے بعد جبکہ میں حرم میں جا رہا تھا ایک صاحب آپ کا دستی خط اور کتابیں اور پاکی کارڈ لے کر پہنچے، اس وقت تو ان سے ملنے کا وقت نہیں تھا، وہ چیزیں میں نے لے کر چلتے چلتے رکھوا دیں۔ کارڈ ۱۰۰ عدد موصول ہو گئے، لیکن ’’فضائلِ رمضان‘‘ آپ نے ۲۵ عدد لکھے، مگر مجھے ۱۲ عدد ملے۔ ان صاحب سے کہہ تو دیا کہ کل کو تین بجے تشریف لے آویں، مگر اب تو ۳ کے بجائے ۵ بجنے کو ہے نہیں آئے۔
آپ کے یہاں آنے کا اشتیاق تو مجھے بھی بہت پیدا ہو گیا تھا اور یہ معلوم ہوا کہ آپ کے یہاں کا ویزا تو پہنچ گیا، ہند کی اجازت کا وعدہ بھی ہو گیا۔ میں ۲۷ رجب کو مکہ مکرمہ آ گیا، اس لیے کہ ۵ شعبان کو آپ کے یہاں کی روانگی طے ہو گئی تھی، اس سے قبل ۹ اگست کو مفتی صاحب پہنچے تھے اور انہوں نے بہت توثق سے بتایا تھا کہ ویزا سب مکمل ہو گیا۔ میرا طیارہ چھوٹنے والا تھا، اس لیے ساتھ نہیں لا سکا، کل آ جائے گا۔ پھر ۱۵ اگست کو بھائی یوسف رنگ والوں کا خط ملا کہ ویزا روانہ ہو چکا، خط سے پہلے پہنچ گیا ہوگا۔ اس کے بعد سے احباب کے خطوط بھی بہت کثرت سے آتے رہے کہ ویزا روانہ ہو گیا، مگر مفتی صاحب، قاضی صاحب جدہ روزانہ آدمی بھی بھیجتے رہے، ٹیلیفون بھی کرتے رہے، مگر یہاں سے یہی جواب ملتا رہا کہ اب تک نہیں آیا۔ ہم بھی کوشش اور تقاضا کر رہے ہیں، بہرحال حاضری مقدر میں نہیں تھی، مگر یہ معمہ سمجھ میں نہیں آیا کہ ہوا کیا؟ اگر کچھ صحیح بات معلوم ہو سکے تو ضرور لکھو۔
حضرت مولانا کی خدمت میں بھی سلام مسنون کے بعد ولیمہ سے محرومی کا افسوس عرض کر دو۔ مولانا نے یہ صحیح فرمایا کہ اس معذوری کی حالت میں میرے لیے بھی یہ مختلف اسفار مشکل تھے۔ قاضی صاحب سے درخواست بھی کی تھی کہ میرا تو صرف ایک ہی جگہ کا سفر طے کریں، رائے ونڈ کے احباب وہیں آ جائیں گے، مگر پھر بھی دو چار جگہ تو جانا لابدی بتایا جا رہا تھا، وَالْخَيْرُ فِيمَا وَقَعَ۔ عزيز محمد سلمہٗ کے تبلیغ میں جانے کی خبر سے مسرت ہے، اللہ تعالیٰ موجبِ خیر بنائے۔
خاتمۃ البذل کے متعلق بڑی حیرت ہے کہ اس کی رسید نہ پہنچ سکی۔ میں اصل اور اصلاح شدہ نقل دونوں کی رسیدیں بہت اہتمام سے بھیج رہا ہوں، کتاب تو اللہ کے فضل سے طبع بھی ہو گئی۔ حضرت مولانا کی تشریف آوری پر طبع شدہ دکھاؤں گا۔ چونکہ ایک ہی جلد آئی ہے اس لیے پیش کرنا تو مشکل ہے، ان شاء اللہ بعد میں خدمت میں پہنچ بھی جائے گی۔ حکیم یاسین صاحب والے پیکٹ کی رسیدیں میں نے ہمروز بھیجیں، جو مجھے مدینہ میں مل گیا تھا، جس کو میں نے بھی ہمروز مصر بھیج دیا۔ والدین، ہمشیرہ اور بھائی صاحبان سے سلام مسنون کہہ دیں۔ یہ ناکارہ ان سب کے لیے دعا کرتا ہے۔ فقط والسلام
ایک ضروری امر:
اپنے مطبوعہ ’’فضائل‘‘ کے دس نسخوں کا ایک پیکٹ بنا کر عزیز مولوی احسان الحق سلمہٗ کے نام لکھ کر ان کے پاس بھیج دو۔ اور پیکٹ میں چند نسخوں پر تو نام لکھ دینا: (۱) مولوی محمد عمر پالنپوری (۲) حاجی غلام رسول صاحب کلکتہ، بوساطت نظام الدین (۳) حاجی یعقوب صاحب بمبئی، بوساطت نظام الدین (۴) حکیم محمد الیاس صاحب سہارنپور (۵) عزیز طلحہ سہارنپوری (۶) مولوی نصیر الدین سہارنپور (۷) اہلیہ شاہ مسعود صاحب، بوساطت عزیز طلحہ سہارنپور (۸) وقف بر مرکزِ تبلیغ سہارنپور۔ دو نسخے بغیر نام کے مولوی نصیر الدین کے پاس بھیج دیں، کہ جن کو اہم اور ضروری سمجھیں ان کو دے دیں۔ پیکٹ میں ایک پرچہ اپنی طرف سے لکھ دینا کہ زکریا نے مدینہ سے یہ دس نسخے بھیجنے کے لیے لکھا ہے۔
حضرت اقدس شیخ الحدیث صاحب بقلم حبیب اللہ
۹ ستمبر ۱۹۷۳ء
عزیزِ گرامی قدر مولوی یحییٰ سلمہٗ!
بعد سلام مسنون، میرا ایک رڑکی کا خط کئی سال ہوئے عینی میں چھپا تھا، مجھے تو یاد بھی نہیں تھا، مگر یہاں پہنچ کر بعض لوگوں نے اس کا مطالبہ کیا بالخصوص بھائی یاڈیا نے تو بہت تقاضا کیا۔ میں نے مولوی نصیر کو لکھ دیا، انہوں نے اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ایک ہفتہ میں چھاپ کر بھیج دیا۔ اس کو دیکھ کر برا حال ہوا کہ یہ تو بہت ہی بیکار اور مختصر ہے، اس لیے میں نے اس پر کچھ اضافے کیے بالخصوص مولانا یوسف صاحب کی دعائیں اور اس کو ’’نصائحِ حج‘‘ کے نام سے چھپوا دیا۔ کل کی ڈاک سے اس کے ۳، ۴ نسخے آئے ہیں۔ میرا یہ خیال ہے کہ آپ اس کو پاکستان میں جلد طبع کرا لیں۔ آپ کو اگر دقت ہو تو بھائی یوسف رنگ والوں کو دے دیں اور اس کے بعد کچھ نسخے تو رائے ونڈ بھیج دیں اور کچھ آپ رکھ لیں اور پانچ سو کے قریب میرے پاس بھیج دیں۔ اگر ایک ہزار طبع کرائیں تو نصف مجھے بھیج دیں اور ۲۰۰ رائے ونڈ اور ۳۰۰ آپ رکھ لیں۔
لیکن ایک غلطی اس میں نصیر سے ہو گئی اور وہ یہ کہ اخیر کے دو صفحوں پر ’’فضائل‘‘ کا اشتہار ہونا چاہیے، مگر اس نے کاپی بغیر اس کے پوری کر دی۔ اگر آپ عکس چھاپیں تو مجبوری ہے اور اگر کتابت کراویں تو رسالہ ۳۰ صفحوں پر کرا دیں یا اس سے بھی کم کرا دیں۔ اور اخیر کے دو صفحوں پر فضائل کے رسائل کا اشتہار اور جہاں جہاں ملتے ہوں وہاں کے پتے۔ باقی نام کے ساتھ معلم کی معرفت کا لفظ اس کو اگر فوٹو لیں تو چیپی لگا دیں اور کتابت کرادیں تو اس کو نہ کرائیں۔ لوگ کہتے ہیں معلم کا نام نہیں ہونا چاہیے یہ موجبِ الزام ہے۔ حضرت مولانا سے سلام مسنون۔ اہلیہ اور والدین سے بھی سلام مسنون کہہ دیں۔ فقط والسلام
حضرت شیخ الحدیث صاحب بقلم حبیب اللہ
۷ نومبر ۱۹۷۳ء
باسمہٖ سبحانہ
عزیزم بھائی یحییٰ سلمہٗ!
بعد سلام مسنون، تمہارے دو خط پہنچے، پہلے کا جواب تم نے فوری منگایا تھا اس لیے مکی ایئرلیٹر پر لکھوا دیا تھا، خدا کرے پہنچ گیا ہو، جس میں تم نے لکھا تھا کہ تمہاری اہلیہ کو والدین سے ملے بہت دن ہو گئے، اس کا شدید تقاضا ہے کہ اس کو والدین کے پاس چھوڑ جائیں، چند ماہ بعد چلی جائے گی۔ مگر چونکہ آپ کے عمرے کی آمد پر آپ کی آمد کو حرج کے خیال سے پسند نہیں کیا تھا اس لیے آپ اپنی آمد میں میری اجازت کی ضرورت سمجھ رہے تھے، اس لیے فوری جواب لکھوا دیا تھا کہ یہ تو مجبوری ہے، آپ عمرہ کی آمد پر اہلیہ کو لے آتے تو اچھا تھا، جبکہ آپ کی تحریر کے موافق دس بارہ دن تک آپ کے اسباق نہیں ہوں گے تو مضائقہ نہیں۔
آپ نے جو دس نسخے افریقی کے ہاتھ بھیجے تھے وہ تو جدہ میں محبوس ہے، جس کی تفصیل حضرت مولانا کے پرچے میں ہے، لیکن آج ایک دوسرے صاحب کے ہاتھ تقریباً بخاری کے ۲۰ نسخے پہنچ گئے۔ جزاکم اللہ تعالیٰ!
رسالہ ’’نصائحِ حج‘‘ اب تک نہیں پہنچا۔ آپ نے اچھا کیا کہ اس کو چھوٹی تقطیع پر طبع کرایا۔ آپ نے تقریر کے جو نسخے اس ناکارہ کو ہدیہ بھیجنے کا ارادہ فرمایا اللہ تعالیٰ اس کا دونوں جہان میں بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ والدین و اہلیہ سے سلام مسنون کہہ دیں۔ آپ نے اپنے اس خط میں بھی اپنی اہلیہ کے جلد پہنچانے کی وجوہ لکھی ہیں اور یہ کہ اس کی کوئی بہن ۱۵ سالہ ہیں جو یہاں آئی ہے۔ ان سب کا جواب تو ایئر لیٹر پر لکھوا چکا ہوں کہ ان حالات میں شوق سے آ جائیں، بالخصوص جبکہ آپ کے یہاں عید الاضحی کی ۱۵ دن کی تعطیل بھی ہوتی ہے۔ بھائی صاحب رنگ والوں سے سلام مسنون کے بعد کہہ دیں کہ آپ کے مرسلہ پاجامے ۶ عدد پہنچ گئے، جزاکم اللہ تعالیٰ! نیز اس کے ہمراہ ڈبے بھی، مگر پان لانے والے کی بے احتیاطی سے ایسے گلے کہ ایک ٹکڑا بھی کام کا نہ رہا۔ ۲۵ نومبر کے چلے ہوئے مجھے ۵ دسمبر کو ملے۔ آپ کے سیخ کے کبابوں اور پانوں کی رسید تو ہمروز ہی لکھوا دی تھی۔
چونکہ آپ کے گرامی نامے میں آپ نے اپنا کوئی نظامِ سفر نہ لکھا کہ آپ دلی جا رہے ہیں یا جدہ سیدھے آ رہے ہیں، اور کب تک آ رہے ہیں، اس لیے مستقل خط نہ لکھا۔ آپ اپنا نظام لکھ دیتے تو اچھا تھا۔ آپ کی ہمشیرہ زادی کی شادی سے مسرت ہے، اللہ تعالیٰ مبارک فرمائے، زوجین میں محبت عطا فرما کر اولادِ صالح عطا فرمائے۔ فقط والسلام
خط لکھنے کے بعد اسی وقت ۶ دسمبر جمعرات کی صبح کو مکہ مکرمہ سے تمہارے رسالہ ’’نصائحِ حج‘‘ کے ۱۰۰ نسخے پہنچ گئے۔ جزاکم اللہ تعالیٰ! اسی وقت ڈاک سے ہی تمہارا ایک لفافہ پہنچا جس میں مختصر پرچہ اور ۵ عدد نسخے ’’نصائحِ حج‘‘ کے بھی تھے۔
حضرت شیخ الحدیث صاحب بقلم حبیب اللہ
۵ دسمبر ۱۹۷۳ء
باسمہٖ سبحانہ
عنایت فرمايم جناب الحاج بھائی یحییٰ صاحب سلمہٗ!
سلام مسنون، عرصہ سے تمہارا کوئی خط نہیں ملا۔ تمہارے سابقہ خط پر ہی میں نے عزیز مولوی عبدالحفیظ کو بیروت تقاضا لکھا تھا کہ بھائی یحییٰ کے ۲۰ نسخے بذل کے اب تک نہیں پہنچے۔ اس نے پہلے بھی لکھا تھا اور کل کے خط میں پھر یہی آیا کہ وہ آخری جہاز سے روانہ ہو چکے ہیں۔ خدا کرے کہ مل جاویں۔
یہاں ایک سخت حادثہ پیش آ گیا کہ اتوار کے دن عزیز محمد ادریس کے چچا عبدالرؤوف مکہ سے کار میں آ رہے تھے، رابغ کے قریب کار کا ٹائر پھٹ گیا اور کار الٹ گئی۔ جس کی وجہ سے بھائی عبدالرؤوف کا تو اسی وقت انتقال ہو گیا اور عزیز محمد کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور دماغ پر بھی چوٹ بہت آئی، جس کی وجہ سے وہ جدہ کے ہسپتال میں داخل ہے۔ عزیز عبدالحفیظ کو اول ٹیلیفون کرنے کی کوشش کی وہ تو ملا نہیں۔ پھر ارجنٹ تار دیا گیا جس کی وجہ سے وہ کل منگل کے دن قبیلِ مغرب جدہ پہنچ گیا۔ حضرت مولانا سے بھی اور دیگر احباب سے بھی مرحوم کی مغفرت اور اس کی صحت کے لیے بہت اہتمام سے دعا کرائیں۔
اس خط کا جواب مکہ کے پتہ سے بھیجیں کہ کتابیں مل گئیں یا نہیں، اس لیے کہ اس ناکارہ کا ارادہ بارادۂ ہندو پاک یکم جمادی الاولى کو مدینہ پاک سے روانگی کا ہے اور جدہ سے یکم جمادی الثانیہ کو یا اس سے ایک دو دن پہلے جہاز کی ترتیب دیکھ کر اس ناکارہ کی ہندوستان سے پاکستان اترنے کی اجازت براہِ راست سفارت جدہ میں پہنچ گئی ہے۔ البتہ پاکستانی ویزہ کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔ اگر وہ بھی مل گیا تب تو دو ہفتے کے لیے راستہ میں آپ کے یہاں ٹھہرنے کا خیال ہے، نہ مل سکا تو پھر جدہ سے سیدھے بمبئی جانا ہوگا، اس کی ہر وقت کی اطلاع بھائی یوسف رنگ والے اور حاجی فرید الدین صاحب سے معلوم کی جا سکتی ہے۔ حضرت مولانا کی خدمت میں بہت اہتمام سے سلام کے بعد دعا کی درخواست بھی کر دیں۔ اور اس کی بھی کہ یہ کتابیں بہ سہولت ٹائپ پر منتقل ہو جائیں۔ دو ہفتے کی جدوجہد کے بعد بیروت کا کام قابو میں آ گیا تھا، مگر عزیز عبدالحفیظ کے حادثہ کی وجہ سے اس کو فوراً جدہ پہنچنا پڑا۔ خدا کرے اس کی آمد کی وجہ سے زیادہ حرج نہ ہو۔ فقط والسلام
حضرت شیخ الحدیث صاحب بقلم حبیب اللہ
۱۵ مئی ۱۹۷۴ء
باسمہٖ سبحانہ
عنایت فرمايم بھائی یحییٰ سلمہٗ!
بعد سلام مسنون، مدینہ کے قیام میں آپ کا بڑا زور دار خط آیا تھا جس میں آپ نے بہت ہی وجوہ و دلائل سے اپنے عمرہ پر آنے کی اجازت مانگی تھی اور جواب تار سے منگایا تھا۔ صوفی اقبال نے آپ کی ہدایت کے موافق اسی وقت آپ کو آمد کی اجازت کا تار دے دیا تھا جس کی بنا پر وہ مدینہ منورہ کے قیام میں بھی آپ کی آمد کے منتظر رہے اور یہ ناکارہ جب ۳ رجب کو مکہ آیا اور وہ میرے ساتھ آئے تو دو مرتبہ انہوں نے حتمی پیشین گوئی آپ کے آنے کی کی، کہ آج بھائی یحییٰ پہنچیں گے۔ میں نے پوچھا کہ کوئی اطلاع آئی ہے اس کا تو انہوں نے صاف اقرار کیا نہیں، مگر ہر ایک سے کہتے رہے کہ آج آویں گے۔ معلوم نہیں کہ وہ تار آپ تک پہنچا نہیں، اور مزید تعجب یہ ہے کہ آپ کا کوئی خط بھی اس دوران نہیں پہنچا۔ مانعش خیر باد۔
مولوی شاہد صاحب سے سلام مسنون کے بعد کہہ دیں کہ امید ہے کہ لامع کا کام تیزی سے چل رہا ہوگا۔ اور آپ حضرت مولانا سے وقتاً فوقتاً اس کے خاتمۃ الطبع کی تحریر کو یاد دلاتے ہوں گے۔ اس لیے کہ مولانا مشغول بہت رہتے ہیں ایسا نہ ہو کہ بذل کی طرح سے اس کو بھی نہایت عجلت میں لکھنے میں مولانا کو دقت پیش آوے۔ میرا خیال یہ ہے کہ لامع کے جتنے فرصے میری روانگی تک چھپ جائیں ایک ایک ڈبہ بطورِ نمونہ اپنے ساتھ لیتا جاؤں۔
بھائی متین صاحب مکی مسجد سے بعد سلام مسنون کہہ دیں کہ آپ کا مختصر پرچہ پہنچا، تم دوستوں کو میری آمد کی خبر سے جتنی مسرت ہے یہ تمہاری محبت کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری اس محبت کو طرفین کے لیے دینی ترقیات کا ذریعہ بنائے، مگر میرے امراض کی روز افزوں زیادتی کی وجہ سے سفر بہت ہی دشوار ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے خیریت سے پہنچا دے۔ اس مرتبہ ہمیشہ کے خلاف جہازوں میں بھی تغیرات بہت ہی زیادہ ہوتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ہی خیریت سے پہنچا دے۔
ایک ضروری امر بھائی یوسف کو لکھنا بھول گیا ان سے یہ کہہ دیں کہ آپ کے یہاں سے جو کابل کا جہاز تا دہلی لاہور سے جاتا ہے، اس کے اوقات میں تو کوئی تغیر نہیں ہوا؟ یہاں تحقیقات کی، مدینہ میں بھی تحقیقات کی، مگر یہاں کسی ٹائم ٹیبل میں اس جہاز کے متعلق کچھ نہیں ملا، تحقیق فرمائیں۔ اگر جلد مطلع فرما دیں تو اچھا ہے تاکہ دہلی اطلاع کر سکوں۔ اس لیے آپ کے یہاں سے تو ڈاک کی کوئی صورت نہیں۔ حضرت مولانا کی تشریف آوری پشاور سے ان شاء اللہ ہو گئی ہوگی۔ بندہ کی طرف سے سلام مسنون کے بعد دعا کی درخواست۔ فقط (عزیزم مولوی زبیر سلمہٗ سے بھی سلام مسنون اور دعوات)۔ والسلام
حضرت شیخ الحدیث صاحب بقلم حبیب اللہ
۸ جون ۱۹۷۴ء
باسمہٖ سبحانہ
عزیزم الحاج مولوی یحییٰ سلمہٗ!
بعد سلام مسنون، اپنی بخیر رسی کی تفصیل تو مولانا کے پرچے میں لکھ چکا ہوں۔ بعد ملاحظہ مولانا کی خدمت میں پیش کر دینا۔ عزیز محمد بنوری کے نہ ملنے کا بہت ہی قلق ہے۔ تعجب ہے کہ ان کی کار سب سے پہلے روانہ ہوئی، پھر کہاں کھوئی گئی؟ کہ نہ ان سے ملنا ہوا، نہ بھائی عبدالوہاب سے، نہ مدنی دوستوں عطاء الرحمن، یعقوب سے۔ میں نے مستقل تلاش کرایا، قاضی صاحب نے مستقل تلاش کرایا، مگر کچھ پتہ نہ چل سکا۔
میں نے بذل مصری ۵۰ نسخوں کے لیے عبدالحفیظ کو مکہ میں بھی تقاضا کیا۔ پاکستان سے بھی تین خط اس کو لکھے اور ہر ایک میں تمہارے ۵۰ نسخے کا تقاضا کرتا رہا۔ ارادہ تو میں بھی خط لکھنے کا کر رہا ہوں، مگر یہاں ہجوم میں بہت کم وقت ملے گا، تم بھی تقاضے کا میری طرف سے خط لکھو کہ میں کئی خط لکھ چکا ہوں۔ بھائی یحییٰ کی بذل مقدم ہے، تاکہ اس کے پیسے لامع میں کام آویں۔ دوسرا پرچہ مولانا کے نام اور تیسرا بھائی یوسف کے نام اسی لفافہ میں ہیں، تکلیف کر کے پہنچا دیں۔ امید ہے کہ کلثوم کے پیسے تم نے پہنچا دیے ہوں گے۔ پیر طریقت کا کوئی اشتہار ملے تو ضرور مولوی احسان کے ذریعہ بھیج دینا۔ تم نے جس کا ذکر کیا تھا وہ بھی نہیں مل سکا۔ خیال رکھیو! اس قسم کا کوئی اشتہار ہوا کرے تو تمہیں براہِ راست بھی طیارہ کے مسافروں کے ہاتھ میرے پتہ سے دہلی یا بمبئی ڈلوا دینا، آسان ہے۔ بشرطیکہ تمہارے پاس ہندی ٹکٹ یا لفافے موجود ہوں۔ لامع کا ٹائٹل باوجود میرے تقاضے کے عین روانگی کے وقت انہوں نے دیا، جس سے بڑی کلفت ہوئی، حالانکہ صبح ہی سے تقاضا کرتا رہا۔ اگر مل جاتا تو اس کے تین فوٹو کرا کر ایک شاہد کو دے دیتا اور ایک عبدالحفیظ کو بھیج دیتا، فوٹو تو کوئی حجاز کرا دے۔ فقط والسلام
حضرت شیخ الحدیث صاحب بقلم حبیب اللہ
۱۵ جولائی ۱۹۷۴ء
۷۸۶
محترم المقام جناب الحاج بھائی محمد یحییٰ صاحب زید مجدہ!
بعد سلام مسنون، امید ہے کہ مزاجِ گرامی بعافیت ہوں گے۔ احقر بھی بحمداللہ بعافیت ہے۔ امید و بیم میں آپ کے یہاں کا سفر مقدر نہ ہوا۔ دیکھیے پھر کب مقدر ہے؟ اس سے پہلے احقر کا عریضہ ایئر لیٹر موصول ہوا ہوگا، جس میں احقر نے اپنی دواؤں کے نسخوں کی تفصیل لکھی تھی اور امید ہے کہ آپ نے کسی معتبر شخص کے ذریعہ اس کو تیار کرانے کی سعی فرما لی ہوگی۔ بہرحال دوائیں تیار کرا کر روانہ فرمانے کی سعی فرماویں اور اب تو جناب بھی حاضری کی سعادت کے لیے سعی فرمائیں گے، اللہ جل جلالہ بعافیت ملاقات میسر فرماوے اور حاضری کے اسباب پیدا فرماوے۔ ان دواؤں کے علاوہ ہمدرد کی سو عدد گولیاں بھی روانہ فرماویں اور جو کچھ حساب ہو تحریر فرماوئیں۔ احقر صوفی اقبال صاحب کے پاس جمع کرا دے گا۔ باقی دعواتِ صالحہ میں فراموش نہ فرماوئیں۔ احقر بھی آپ کے لیے دعا سے دریغ نہیں کرتا اور مکہ مکرمہ حاضری کے بعد آپ کے لیے طواف کی بھی سعادت حاصل ہوئی اور مدینہ پاک کے قیام میں روضۂ اقدس پر صلوٰۃ و سلام بھی پیش کرتا رہا۔ فقط والسلام
محتاجِ دعا: محمد اسماعیل بدات عفی عنہ
از زکریا: بعد سلام مسنون، پہلے عریضہ میں جگہ نہ رہی اس لیے مولوی اسماعیل کے پرچہ میں بھائی یوسف صاحب کو یہ پیام لکھوانا ہے کہ میں چونکہ پاکستان آ رہا تھا اس لیے پاکی کارڈ لفافے ساتھ نہیں لایا۔ پاکی لفافوں کی تو زیادہ ضرورت نہیں، لیکن کوئی جلد آنے والا ہو تو ۴۰، ۵۰ پاکی کارڈ ضرور بھیج دیں کہ رمضان میں تو خط لکھنا میرے بس کا نہیں۔ بھائی یوسف صاحب کی خدمت میں برابر پرچہ جو اسی لفافہ میں ہے دے دیں اور حضرت مولانا کو بھی سنا دیں اور تمہیں بھی سراغ لگ سکے تو ضرور لگا لو۔ حضرت قاضی صاحب اور مفتی صاحب کو بھی بڑا تعجب ہو رہا ہے۔
باسمہٖ سبحانہ
عزیزم الحاج مولوی یحییٰ سلمہٗ!
بعد سلام مسنون، رات مکہ سے عزیزم شمیم کا دستی خط پہنچا جس میں تمہارا ایک دستی پرچہ بھی آیا۔ عزیز شمیم نے لکھا ہے کہ تم نے باوجود واقف اور تجربہ کار ہونے کے کتاب کے دس نسخے کسی آنے والے کے ہاتھ جو یہ خط بھی لے کر آیا بھیجے۔ اسے سامان میں رکھوا دیتے تو زیادہ اچھا تھا وہ ہاتھ کے سامان میں لائے اور ظہران کے کسٹم نے ان کو ضبط کر لیا۔ تمہیں سمجھدار ہو کر اور تجربہ کار ہو کر ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا!
میں تو پاکستانی خطوط میں کسی جانے والے کا انتظار کیا کرتا ہوں کہ پاکستان اب بھی لوگ جا رہے ہیں۔ چنانچہ قاضی عبدالرحمن صاحب اس وقت میرے پاس تشریف رکھتے ہیں اور ۴، ۵ دن میں واپسی کا ارادہ کر رہے ہیں۔ مگر میرے کاتبوں مولوی اسماعیل، مولوی حبیب اللہ کی رائے یہ ہے کہ پاکستانی ایئر لیٹر جلدی پہنچ جاتے ہیں۔ اس لیے ایئر لیٹر فوری لکھوا رہا ہوں اس لیے کہ تم نے اپنے آنے کے متعلق اس میں فوری استفسار کیا۔ تم نے جو تفاصیل لکھی ہیں بالخصوص تمہاری اہلیہ کا اپنے والدین سے ملاقات وغیرہ وہ تو اہم ہیں، اس لیے شوق سے آ جاؤ مگر میری حالت رمضان کے بعد کچھ ایسی گری ہوئی ہے کہ ابھی تک تو مکہ جانے کی ہمت نہیں ہے۔ اگرچہ لوگوں کا بہت اصرار ہے مگر طبیعت زیادہ گر رہی ہے۔ تعجب ہے کہ ملک صاحب کا خط بہت دیر میں پہنچا حالانکہ انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جاتے ہی دے دوں گا۔
اگر نصائحِ حج کو تم طبع کرا رہے ہو تو بھائی یوسف رنگ والوں کو اطلاع کر دیجیو کہ میں نے ان کو بھی اس کی طباعت کے واسطے لکھا تھا۔ امید ہے کہ تمہاری کتابت پوری ہو گئی ہوگی، اور جیسا کہ میں نے پہلے تفصیل لکھ دی تھی ۳۰ صفحے پر کتاب اور دو صفحے پر فضائل کے کتابوں کا اشتہار آ گیا ہوگا۔ آپ نے تاخیر پر معافی مانگی اس میں آپ کا کیا قصور؟ قصور تو اس کا ہے جس نے پہنچانے میں تاخیر کی حالانکہ وہ مجھ سے وعدہ کر گئے تھے کہ فوراً آپ تک پہنچا دیں گے۔ تم نے لکھا کہ حاملِ عریضہ کے ہاتھ دس نسخے بھیج رہا ہوں وہ تو پہنچے نہیں، مقدر۔
تمہارے خط سے بہت قلق ہوا اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے صحتِ کاملہ عاجلہ مستمرہ عطا فرمائے اور نعم البدل عطا فرمائے۔ تمہارے حج کے آنے کے متعلق جو تم نے اہلیہ اور اس کے گھر والوں کا تقاضا لکھا یہ ضرورت تو اہم ہے اگر اس کی وجہ سے آ سکتے ہو تو ضرور آ جاؤ۔ والدین و اہلیہ سے سلام مسنون کہہ دو اور حضرت مولانا یوسف صاحب بنوری اور عزیز محمد بنوری کی خدمات میں سلام مسنون کہہ دیں۔ یہ ناکارہ دونوں کے لیے دعا کر رہا ہے اللہ تعالیٰ ہر نوع کے مکارہ سے حفاظت فرما کر دارین کی ترقیات سے نوازے۔ آپ کے دار العلوم کے لیے بھی دعا کرتا رہتا ہوں اللہ تعالیٰ اس کو بھی مادی اور روحانی ہر نوع کی ترقیات سے نوازے۔ فقط والسلام
حضرت شیخ الحدیث صاحب بقلم حبیب اللہ
باسمہٖ سبحانہ
عزیزم الحاج مولوی یحییٰ کراچوی سلمہٗ!
بعد سلام مسنون، کل افریقی طلبہ کے ساتھ تمہارا محبت نامہ مع دس عدد جوابات اعتراضات بہ تبلیغ نظام الدین پہنچ کر موجبِ مسرت ہوا۔ مولانا یوسف صاحب بنوری کی تقدیم کی نقل بذریعہ رجسٹری بمبئی سے پہنچ چکی تھی اور اس کی رسید بھی ہمروزہ بھیجوا چکا تھا احتیاطاً تمہارے آج کے لفافہ میں مکرر لکھوا رہا ہوں وہ مولانا کی خدمت میں پیش کر دیں۔ اس سے بہت مسرت ہوئی کہ اوجز مدرسہ کے لیے پہنچ گئی، تمہارے یہاں خطوط کا بھیجنا مشکل اور کتاب کا بھیجنا اس سے بھی مشکل، ہر چیز کا فکر لگا رہتا ہے اس لیے اوجز کی رسید سے بہت مسرت ہوئی۔ امید ہے کہ آپ نے اس کو مدرسہ میں داخل کر دی ہوگی اور مدرسہ کی باقاعدہ رسید ضرور لے لیں کہ مولانا مد فیوضہم کے کتب خانہ میں متعدد کتب میں نے داخل کیں مگر ڈاک کی بدنظمی کی وجہ سے ان کے رسائد کا بھی حال معلوم نہ ہو سکا۔ اگر تحقیق کر کے یہ معلوم کر سکو کہ بذل المجہود، لامع الدراری، کوکب الدری، اوجز المسالک، رسالہ حجۃ الوداع مطبوعہ لیتھو ٹائپ اور مقدمہ اوجز ٹائپ میں سے کون کون سی کتابیں مدرسہ کے کتب خانہ میں موجود ہیں تو اچھا ہے کہ میں بقیہ کی تکمیل کی کوشش کروں۔
اس سے بہت مسرت ہوئی کہ تمہارے بھائی نے، اللہ تعالیٰ ان کو بہت ہی جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے اعتراضات جوابات طبع کر کے علماء کی خدمت میں پیش کر دی۔ میری طرف سے شکریہ کے بعد کہہ دیں کہ یہ ناکارہ دل سے دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس دینی خدمت کی بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ تم نے لکھا کہ تیرے پاس بھی ۵۰ نسخے بھیجنے کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ بہترین جزائے خیر عطا فرمائے۔ تم نے لکھا کہ اس وقت ۲۰ نسخے ارسال ہیں مگر جو صاحب پرچہ لائے انہوں نے صرف دس نسخے دیے اور جب میں نے بقیہ دس کا مطالبہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں دس ہی دیے گئے ہیں، لیکن دوسرے دن تمہارے بھائی کی طرف سے دس نسخے دوسرے طلبہ کے ہاتھ پہنچے دونوں کو ملا کر ۲۰ ہو گئے۔
تمہاری آمد اور ملاقات کا اشتیاق تو مجھے بھی رہا مگر تمہارے یہاں سے تو آمد کی کوئی صورت ہی نہیں بنتی، اللہ تعالیٰ ہی اپنے فضل و کرم سے کوئی صورت پیدا فرما دے تو بہت سے احباب کی تمنا ہے۔ جواباتِ اعتراضات کے دو دو نسخے اپنے مدرسہ میں، مفتی شفیع صاحب کے مدرسہ میں اور دوسرے معروف مدرسوں میں اگر وقف کرا دو تو اچھا ہے کہ یہ پائیدار ہے اور نفع بھی عام ہے۔
تم نے لکھا گذشتہ سال کی طرح ساتھی اعتکاف نیو ٹاؤن کی مسجد میں کرنے کا مشورہ کر رہے ہیں، بہت مناسب ہے۔ کوشش کریں کہ اگر پورے ماہ کا نہ ہو تو کم از کم اخیر عشرہ کا اہتمام ضرور ہو۔ میرا جدید رسالہ ’’اکابر کا رمضان‘‘ امید ہے کہ رائے ونڈ سے پہنچ گیا ہوگا۔ اگر نہ پہنچا ہو تو عزیز مولوی احسان سلمہٗ سے خط لکھ کر منگا لیں کہ تمہارے نام کا رسالہ میں مطہرہ کے رسالوں میں بھیج چکا ہوں۔ میں نے تو دو گڈیاں بنائی تھیں ایک کراچی کی ایک رائے ونڈ کی مگر چونکہ بھائی یوسف صاحب طویل سفر میں تھے اس لیے کراچی والی گڈی بھی رائے ونڈ پہنچ گئی ہوگی۔
والدین و اہلیہ و ہمشیرہ اور بھائی صاحبان سے سلام مسنون کہہ دیں۔ یہ ناکارہ ان سب کے لیے دل سے دعا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ اپنی رضا و محبت نصیب فرمائے، مرضیات پر عمل کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے، نامرضیات سے حفاظت فرمائے۔ عزیزان ہارون، طلحہ مع اپنی زوجات کے ۳۰ ستمبر کے جہاز سے بمبئی سے روانہ ہوئے ہیں، ۶ اکتوبر کو اس جہاز کے جدہ پہنچنے کی خبر تھی۔ امید ہے کہ پہنچ گیا ہوگا۔ بخیر رسی کی اطلاع ابھی تک نہیں آئی۔ فقط والسلام
حضرت شیخ الحدیث صاحب بقلم حبیب اللہ
۲۹ شعبان
از احمد گجراتی: بعد سلام مسنون، تعویذ مل گئی ہوگی۔ ماہِ مبارک میں خصوصاً دعا کی درخواست۔
باسمہٖ سبحانہ
مکرمی بھائی یحییٰ صاحب سلمہٗ!
بعد سلام مسنون، حضرت کی طبیعت بحمد اللہ ٹھیک ہے، البتہ کھانسی خوب ہو رہی ہے۔ اقامہ مکمل ہو گیا، اب پاکستان جانے کی اجازت کی اطلاع کا انتظار ہے، شعبان تک ان شاء اللہ امید ہے۔ رمضان کے بارے میں ابھی تک فیصلہ نہ ہو سکا کہ کہاں ہوگا، حضرت کا رجحان مدینہ کا ہے، ورنہ ہندوستان کا۔ اپنے بھائی صاحب سے سلام مسنون کہہ دیں اور یہ بھی کہ میرا خط ان کو مل گیا یا نہیں۔ فقط والسلام
حضرت اقدس قاضی صاحب مدظلہ بقلم حبیب اللہ
۳۰ جولائی ۱۹۷۳ء