حضرت والا اور جامعہ معہد الخلیل الاسلامی
از: محمد یوسف مدنی
حضرت والد صاحب رحمہ اللہ نے اپنے پیچھے جہاں اور متعدد دینی خدمات چھوڑیں وہیں آپ کا ایک عظیم صدقۂ جاریہ جامعہ معہد الخلیل الاسلامی بھی ہے، جو زندگی بھر آپ کی تمام تر صلاحیتوں اور توانائیوں کا بنیادی مرکز رہا۔ یہ حضرت رحمہ اللہ کا اخلاص اور آپ کی غیر معمولی عزیمت و استقامت کا ثمرہ ہے کہ حضرت رحمہ اللہ کی حیات ہی میں یہ مکتب ایک معہد سے آگے بڑھ کر ایک جامعہ کی شکل اختیار کر چکا تھا، جس میں اور اس سے ملحقہ شاخوں میں اس وقت تقریباً بارہ سو سے زائد طلباء و طالبات شعبۂ حفظ و ناظرہ و درجاتِ کتب میں زیرِ تعلیم ہیں۔
ادارے کی بنیادی خصوصیت جس کو ابتدا ہی سے اس کے بانی رحمہ اللہ نے مدِ نظر رکھا یہ ہے کہ اس میں تعلیم کے ساتھ طلباء کی تربیت اور اصلاحی محنت کو بھی ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ طلباء و اساتذہ میں علم و عمل کے حوالے سے پائی جانے والی کوتاہیوں پر بروقت تنبیہ اور اس کے سدِ باب کی کوشش کی جاتی ہے، جس کے بحمداللہ خوشگوار نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ حضرت رحمہ اللہ نے بارہا اپنے بیانات و ملفوظات میں فرمایا کہ ’’اس ادارے کے دو ہی بنیادی مقصد ہیں: ایک رسوخ فی العلم، دوسرا تعلق مع اللہ‘‘۔ یوں بفضلہ تعالیٰ یہ ادارہ بیک وقت مدرسہ بھی ہے اور خانقاہ بھی۔
حضرت رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ ’’شروع میں میں کوئی باضابطہ عالم نہ تھا بلکہ تبلیغ و دعوت کے کام کو اوڑھنا بچھونا بنا رکھا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے مجھے ’’مولوی یحییٰ‘‘ کہا تو اس سے میں نے عالم بننے کی نیک فال لی‘‘۔ چنانچہ مسجد نبوی میں خود حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے درسِ نظامی کی بسم اللہ کرائی، اور پھر حضرت والد صاحب رحمہ اللہ نے اپنے شیخ کے ایماء پر جامعہ بنوری ٹاؤن میں حضرت مولانا محمد یوسف بنوری اور حضرت مفتی ولی حسن رحمهم الله کی شفقتوں تلے بڑی عمر میں درسِ نظامی کی تکمیل فرمائی۔ باضابطہ جید عالم بنے اور وفاق المدارس کی سطح پر دوسری پوزیشن لی۔
اس کے بعد حضرت شیخ رحمہ اللہ ہی کی خواہش اور ان کی منشا کی تکمیل میں مدینہ منورہ سے ایک ایسے وقت میں ہجرت فرمائی جب وہاں کی تعبیہ (Nationality) ملنے کی کاروائیاں ہو چکی تھیں، بالیقین یہ ایک بہت بڑی قربانی تھی، مگر درحقیقت انہوں نے اس سلسلے میں حضراتِ صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کے طرزِ عمل کو مدنظر رکھا جو وصالِ نبوی کے بعد اشاعتِ دین کی خاطر دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیل کر نامِ خداوندی کو سربلند کرنے کی کوششوں میں تاحیات لگے رہے۔ فرماتے تھے کہ ’’رخصت ہوتے وقت میں نے حضرت شیخ رحمہ اللہ کے سر اور چہرہ مبارک کے بوسے لیے، اور شیخ رحمہ اللہ نے اس دعا کے ساتھ رخصت فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تم سے دین کا خوب کام لے‘‘۔
حضرت والد صاحب رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں خواب دیکھا تھا کہ گویا میں حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ کے جسم میں ہوں اور سورج پوری روشن ٹکیا کی صورت میں میرے سرہانے کی طرف سے آسمان کی طرف اٹھ رہا ہے۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے اس کی تعبیر یوں دی کہ ’’حضرت سہارنپوری رحمہ اللہ کی نسبتِ خاصہ تمہاری طرف منتقل ہوگی‘‘۔ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ ’’میرے خیال میں اس کا مصداق یہ مدرسہ ہی ہے جو ان کے نام پر تجویز کیا گیا‘‘۔
اسی طرح ایک مرتبہ حضرت شاہ عبدالعزیز دعاگو رحمہ اللہ خلیفۂ مجاز بانیِ تبلیغ حضرت مولانا الیاس صاحب کاندھلوی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضری ہوئی، حضرت نے نام پوچھا: میں نے عرض کیا: ’’محمد یحییٰ‘‘، فرمایا: ’’مُحَمَّدٌ يَحْيَى‘‘ (محمد زندہ ہوں گے) اللہ تعالیٰ تم سے دین کا کام لیں گے‘‘۔
الغرض اللہ پاک نے خدمتِ دین کی جو ازلی سعادت مقرر فرمائی تھی اس کا ظہور ابتداً دعوت و تبلیغ کے کام میں غیر معمولی اشتغال و انہماک اور بعدہٖ اس ادارے کے قیام کی شکل میں ہوا۔ ۱۹۸۰ء میں اپنے گھر کے ایک کمرہ میں برادرم مولانا محمد زکریا مدنی صاحب دام مجدہم استاذ الحدیث جامعہ معہد الخلیل اور مولانا محمد کامران سلمہ استاذ جامعہ ہٰذا سے قرآنی مکتب کی شکل میں مدرسہ کی ابتدا ہوئی۔ اس تقریب میں جس کے مہمانِ خصوصی فقیہ الامت حضرت مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمہ اللہ اور کبارِ مشائخ و اہلِ علم بھی تھے۔ ۱۹۸۲ء میں شعبۂ کتب کی ابتدا ہوئی، ابتدائی جماعت میں برادرم مولانا محمد الیاس صاحب، یہ عاجز و دیگر چند ساتھی اور تھے۔ جس کمرے میں ہم اہلِ خانہ رات کو سوتے صبح وہی درسگاہ ہوتی۔ اس زمانے میں ہمارے امتحانات کے لیے وقتاً فوقتاً کبارِ اہلِ علم حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ، حضرت قاری رضاء الحق صاحب رحمہ اللہ و دیگر حضرات کی تشریف آوری ہوتی رہتی تھی۔ حضرت مولانا فقیر محمد صاحب پشاوری رحمہ اللہ خلیفۂ مجاز حضرت تھانوی رحمہ اللہ کا تشریف لا کر بیان فرمانا اور تلاوتِ قرآن کے وقت کا گریہ ابھی تک خوب یاد ہے۔ اس کے بعد یہ برابر کی مسجد میں منتقل ہوا، اس زمانے میں بروز پیر عصر تا عشاء مجلسِ ذکر ہوتی تھی جس میں بڑے اہتمام کے ساتھ عرقِ گلاب کا چھڑکاؤ ہوتا تھا، پھر اصلاحی کتاب اور مجلسِ ذکر ہوتی تھی۔
پھر ادارے کو مستقل جگہ ملی تو وہاں منتقل ہو گیا جو موجودہ عمارت ہے۔ ۱۹۹۳ء / ۱۴۱۳ھ میں مدرسہ کا پہلا دورۂ حدیث تھا جس کے لیے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے خادم و کاتب اور تلمیذِ خاص استاذِ محترم حضرت مولانا حبیب اللہ المظاہری ثم المہاجر المدنی حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کی دعوت پر مدینہ منورہ سے بطورِ خاص تشریف لائے اور چار ماہ ادارے میں قیام پذیر رہے۔ اس وقت دورۂ حدیث میں ہم کل پانچ رفقاء تھے: (۱) یہ عاجز (۲) برادرم مولانا محمد الیاس مدنی صاحب (۳) مولانا محمد اسد صاحب (۴) مفتی محمد عمیر صاحب (۵) مفتی محمد سعد صاحب۔ آخر الذکر تینوں حضرات ہمارے عم زاد بھائی اور اعدادیہ تا دورۂ حدیث کے رفقاء ہیں، جس کی بڑی خوشگوار یادیں دل و دماغ میں محفوظ ہیں۔ مولانا محمد اسد صاحب مدرسہ کے درجاتِ علیا کے استاذ ہیں اور باقی دونوں حضرات مدرسہ عثمانیہ بہادرآباد میں شعبہ تدریس و افتاء سے منسلک ہونے کے علاوہ دیگر دینی خدمات میں بھی مصروفِ عمل ہیں۔ پہلے سال کے اس دورۂ حدیث پر حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کی خوشی دیدنی تھی، اس کے بعد بفضلہ تعالیٰ یہ سلسلہ جاری رہا۔ بائیس سالہ عرصہ میں صرف ایک مرتبہ درمیان میں دورۂ حدیث کا تعطل ہوا۔ گذشتہ سال ۴۰ طلباء اور ۲۱ طالبات نے سندِ فراغت حاصل کی۔ اس طرح اب تک کل فضلاء (بشمول طلبہ و طالبات) کی تعداد ۵۷۵ ہے۔
ادارے میں طلباء کی تعلیمی پختگی پر خوب زور دیا جاتا ہے جس کے لیے ماحول میں یکسوئی و عدمِ انتشار بنیادی چیز ہے، اسی لیے حضرت رحمہ اللہ ہمہ وقت طلباء پر اس حوالے سے بے حد زور دیا کرتے تھے کہ وہ دورانِ تعلیم سیاسی، تحریکی یا کسی بھی قسم کی غیر تعلیمی سرگرمی سے دور رہیں۔ بفضلہ تعالیٰ اس کے بڑے ہی خوشگوار نتائج سامنے آئے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت رحمہ اللہ کی تقریباً نصف زندگی کا محور و مرکز یہی مدرسہ رہا، رات دن اس کی تعمیر و ترقی کی فکر میں اپنے آپ کو گھلا دیا۔ اس کی خاطر اسفار و دیگر بیرونی مصروفیات (علاوہ حج و عمرہ کے) تقریباً موقوف ہی ہو گئی تھیں۔ ابتدائی زمانے میں جبکہ صحت خوب اچھی تھی ایسا بھی ہوا کہ باوجود گھر کے بالکل قریب ہونے کے کئی کئی دن مدرسہ ہی میں رہے۔ حضرت رحمہ اللہ اپنے آپ کو ادارے کا مہتمم ہی نہیں خادم بھی کہتے تھے، اور واقعی انہوں نے اپنی اس بات کو عمر بھر کے طرزِ عمل سے ثابت کر دکھایا، جانی، مالی ہر طرح سے حصہ ڈالا، مدرسہ کے چھوٹے چھوٹے کام خود انجام دینے میں عار محسوس نہیں کی۔ طلباء کے احوال سے براہِ راست واقفیت صرف ان کی نگرانی و تنبیہ کی حد تک نہیں، بلکہ ان کے ساتھ مالی و دیگر ہر طرح کے تعاون کا باعث بھی بنتی تھی۔ متعدد اسباق پڑھانے کے ساتھ براہِ راست تقریباً تمام ہی انتظامی کام، متعدد شعبۂ جات، ماہنامہ سلوک و احسان کی ادارت، اس کے مضامین کی تیاری، پھر اس کے ساتھ ساتھ خانقاہی ترتیبات یومیہ، ہفت واری اور ماہانہ سطح کی بھرپور انداز میں جاری رکھتے۔
آج سے بیس سال قبل رئیسِ جامعہ بنوری ٹاؤن حضرت مولانا حبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ نے مدرسہ سے متعلق تحریر فرما کر دی جس میں حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کی انتھک محنت و قربانی کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ہے:
يصدق أن معهد الخليل الإسلامي كراتشي معهد علمي معروف في كراتشي ويقوم المعهد بالدراسة من قسم التحفيظ والإعدادية والثانوية والعالية والعالمية ويخدم العلم والدين خدمةً ممتازة، وقد أسس هذا المعهد فضيلة الشيخ محمد يحيى المدني حفظه الله، ويقدم جهوداً جبارةً في صدد تعليم الطلبة وتربيتهم اخلاقاً وتعليماً وتربيةً ويقثفهم بثقافة اسلامية علمية وينشئهم تنشئة اخلاقية دينية بارعة.
هٰذا وان هٰذا المعھد یقدم اختباراتہ تحت اشراف ’’جمعیۃ وفاق المدارس العربیۃ‘‘ باکستان، ومتخرجوھا وطلبتھا یجتھدون ویحصلون علی تقدیرات فائقۃ فی الاختبار۔ واللہ نسأل أن یوفق مؤسسہ وأساتذہ لأکثر من ھذا وأغزر وأجمع وأبرع ویبارک فی جھودھم وھو الموفق، ھذا کما نری ولانزکی علی اللہ احدا۔
محمد حبیب اللہ مختار
رئيس الجامعۃ
وفاق المدارس میں امتیازی نمبرات
یہ حضرت کی بے لوث قربانی اور اخلاص کا ثمرہ تھا کہ متوسط درجہ کا ادارہ ہونے کے باوجود بفضلہ تعالیٰ سالانہ امتحانات میں وفاق المدارس العربیہ کی سطح پر وقتاً فوقتاً ادارے کے طلبہ کی پوزیشنیں آتی رہیں، جن کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:
| عدد | نامِ طالبعلم | پوزیشن | درجہ | سنہ |
|---|---|---|---|---|
| ۱ | مولانا محمد اسماعیل ریحان | اول | ثانیہ | ۱۴۱۱ھ |
| ۲ | مولانا منصور احمد | اول | رابعہ | ۱۴۱۲ھ |
| ۳ | مولانا منصور احمد | اول | سادسہ | ۱۴۱۴ھ |
| ۴ | مولانا توصیف احمد | سوم | ثانیہ | ۱۴۱۴ھ |
| ۵ | مولانا محمد نظام الدین | اول | سادسہ | ۱۴۲۴ھ |
| ۶ | حافظ محمد شکیل | اول | دراسات اول | ۱۴۲۵ھ |
| ۷ | عبدالرحمن باران | دوم | دراسات اول | ۱۴۲۵ھ |
| ۸ | محمد شکیل | سوم | دراسات سوم | ۱۴۲۶ھ |
| ۹ | محمد شعیب | سوم | دراسات اول | ۱۴۲۶ھ |
| ۱۰ | محمد شعیب | اول | دراسات دوم | ۱۴۲۷ھ |
| ۱۱ | مولانا معاذ احمد | سوم | دورۂ حدیث | ۱۴۲۸ھ |
| ۱۲ | محمد شعیب | اول | دراسات سوم | ۱۴۲۸ھ |
| ۱۳ | محمد امجد | اول | دراسات دوم | ۱۴۲۹ھ |
| ۱۴ | غضنفر حسین | دوم | دراسات دوم | ۱۴۲۹ھ |
| ۱۵ | اسد بٹلہ | سوم | دراسات دوم | ۱۴۲۹ھ |
| ۱۶ | محمد بابر خان | اول | دراسات دوم | ۱۴۳۰ھ |
| ۱۷ | محمد شاکر | دوم | دراسات دوم | ۱۴۳۰ھ |
| ۱۸ | شکیل احمد | سوم | دراسات دوم | ۱۴۳۰ھ |
| ۱۹ | محمد مدنی اقبال | اول | دراسات اول | ۱۴۳۲ھ |
| ۲۰ | طلحہ یوسف | سوم | دراسات سوم | ۱۴۳۲ھ |
| ۲۱ | محمد یوسف عبدالرحمن | دوم | رابعہ | ۱۴۳۳ھ |
| ۲۲ | محمد مدنی اقبال | اول | دراسات دوم | ۱۴۳۳ھ |
| ۲۳ | محمد مدنی اقبال | سوم | دراسات سوم | ۱۴۳۴ھ |
ان طلباء کے علاوہ طالبات کی ایک کثیر تعداد نے بھی درسِ نظامی اور شعبہ دراسات الدینیۃ میں ۱۴۱۰ھ سے ۱۴۳۴ھ تک وفاق المدارس میں ملکی سطح پر پوزیشنیں حاصل کیں جس کی تفصیل مستقل مضمون میں آ رہی ہے۔
الحمدللہ! اس کے نتیجے میں بہت جلد ادارہ تعلیمی اعتبار سے ملکی سطح پر ممتاز گنے چنے مدارس میں شمار ہونے لگا۔ چنانچہ گذشتہ سال مدرسہ کی سالانہ تقریب میں تشریف آوری کے موقع پر صدرِ وفاق المدارس شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب مدظلہ نے ارشاد فرمایا: ’’جامعہ معہد الخلیل الاسلامی پاکستان کے انتہائی اعلیٰ اور معیاری مدارس میں ایک قابلِ فخر اور قابلِ رشک مدرسہ ہے۔ وفاق المدارس کی ذمہ داری کے پیشِ نظر مدارس کے احوال پر جتنی میری نظر ہے آپ حضرات کی اتنی نظر نہیں اور اسی کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ آپ کا ادارہ معہد الخلیل پاکستان کا نہایت ممتاز، منفرد حیثیت کا ادارہ ہے‘‘۔
ادارے کی دوسری خصوصیت تعلیم کے ساتھ طلباء کی تربیت ہے۔ اس کے لیے حضرت رحمہ اللہ نے ایک تو مدرسہ میں باقاعدہ یومیہ نظام اس طرح مقرر فرمایا کہ تعلیمی سلسلہ کی ابتدا مجلسِ ختمِ یٰس سے اور انتہا اصلاحی تعلیم پر ہو۔ درمیان میں ذکر بالجہر کا وقت طے کیا، جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔ دوسرے ادعیہ مسنونہ، آداب کی قولاً عملاً ترغیب، نماز کی عملی مشق کا اہتمام ہوتا ہے۔ پھر قابلِ اصلاح کاموں پر روک ٹوک، حسنِ معاشرت و صفائی معاملات، نماز کی پابندی اور اس میں خشوع و خضوع جیسے اہم دینی امور پر پندرہ روزہ بیانات میں گفتگو ہوتی رہتی ہے۔
حضرت رحمہ اللہ کی شدید خواہش تھی کہ میرے ادارے میں طلباء خواہ کَمّاً تھوڑے ہوں مگر کیفاً مضبوط ہوں، وہ صرف دین پڑھ کر نہیں بلکہ اس کو سیکھ کر بھی جائیں، اسلامی تعلیمات عملی طور پر ان کی زندگی میں اس قدر راسخ ہو چکی ہوں کہ اس کا اثر اس کے حلیے، لباس، عادات و اطوار سے نمایاں ہو۔ چنانچہ اپنی اصلاحی گفتگو میں ابتدا بالسلام، طرزِ گفتگو میں تہذیب و شائستگی، غیر اخلاقی حرکات سے اجتناب، ہر کام میں وقت کی پابندی، ادعیہ و اذکار مسنونہ کا اہتمام، گھر جا کر والدین و دیگر اہلِ خانہ کی راحت رسانی کی فکر، ان کو خود نماز کے لیے بیدار کرنے کی ذمہ داری، گھر میں دینی ماحول کی تشکیل کی محنت اور اس طرح کی دیگر مفید باتوں پر خوب زور دیا کرتے تھے۔ نامناسب باتوں پر بروقت گرفت فرماتے اور اس سلسلے میں ذرا بھی تساہل نہ برتتے۔
ادارے کے شعبہ جات
- شعبہ حفظ و ناظرہ: فارغ التحصیل حفاظِ کرام: تقریباً ۳۰۰ | موجودہ تعداد: ۴۷۸ | قرائے کرام و نگران حضرات: ۲۴
- شعبہ درسِ نظامی: از درجہ اعدادیہ تا دورۂ حدیث (۱۱ سالہ نصاب): تعداد فارغ التحصیل علمائے کرام: ۲۷۳ | زیرِ تعلیم طلباء: ۲۷۸
- شعبہ الدراسات الدینیۃ: دو سالہ نصاب برائے طلباء و طالبات (ملحق وفاق المدارس): موجودہ طلبہ: ۲۹ | فارغ التحصیل طلباء: ۱۰۴ | فارغ التحصیل طالبات: ۱۰۲
- شعبہ مدرسۃ البنات: از درجہ اعدادیہ تا دورۂ حدیث: فارغ التحصیل عالمات: ۳۰۲ | تعدادِ معلمات: ۱۴ | عملہ: ۴
- فہمِ دین نصاب برائے خواتین: کم فرصت گھریلو خواتین کے لیے دوپہر میں درسِ قرآن و حدیث، مسائل فقہ، تجوید و ترجمہ قرآن کا نصاب۔
- دارالافتاء: عوام الناس کی دینی رہنمائی کے لیے (۷ مفتیانِ کرام کی خدمات)، اب تک ۳۰۰۰ سے زائد تحریری فتاویٰ جاری۔
- کتب خانہ و لائبریری: مختلف علوم و فنون پر بارہ ہزار کے لگ بھگ قیمتی کتب۔
- ماہنامہ سلوک و احسان: تقریباً ۲۶ سال سے جاری دینی و اصلاحی عام فہم رسالہ۔
- خانقاہی نظام: یومیہ مجلسِ ذکر، ختمِ یٰسین، اصلاحی کتب کا مطالعہ، ہفتہ وار و ماہانہ اصلاحی مجالس۔
- شعبۂ تخصص فی الفقہ: مفتیانِ کرام کی تربیت کے لیے قائم کردہ جدید شعبہ (۱۲ طلباء زیرِ تعلیم)۔
- شعبۂ الصف العربی: طلبائے کرام میں عربی استعداد کی بہتری کے لیے مغرب تا عشاء کا سلسلہ۔
شاخیں اور فروعات
- معہد الشیخ زکریا (پنجاب کالونی گزری)
- الرشید (مدنی مسجد بلوچ کالونی)
- مرکز الامداد (اللہ والا ٹاؤن بالمقابل رشیدیہ مسجد)
- روضۃ للوالدین (شعبہ بنات برائے قرآن شریف حفظ و ناظرہ)
جمیع شعبہ جات حفظ و کتب میں الحمدللہ تقریباً ۱۲۰۰ طلبہ و طالبات علمِ دین حاصل کر رہے ہیں۔