حضرت مولانا عبدالرؤوف میانوی صاحب دامت بركاتہم العالیہ
احقر کی ولادت ۲ مارچ ۱۹۶۷ء میں ہوئی۔ قصبہ نمک میانی، تحصیل بھلوال، ضلع سرگودھا آبائی علاقہ ہے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ عربیہ دار السلام منڈی پھلروان ضلع سرگودھا میں حاصل کی۔ دیگر علوم و فنون میانوالی، بھکر، فیصل آباد، لاہور، گوجرانوالہ اور راولپنڈی کے مختلف مدارس میں حاصل کیے۔ دورۂ حدیث ۱۹۸۷ء میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں کیا۔
حضرت والا رحمہ اللہ سے ۱۹۸۸ء میں اس وقت تعلق قائم ہوا جب کہ بندہ نے جامعہ معہد الخلیل الاسلامی میں تدریس کا آغاز کیا۔ تقریباً تین سال تک حضرت اقدس کی صحبت میں رہنے کی سعادت حاصل ہوئی۔
حضرت سے وابستہ حسین یادوں میں سے ایک یادگار واقعہ پیش خدمت ہے: احقر حضرت کے زیرِ سایہ معہد الخلیل میں مدرس تھا، ایک دن شرحِ جامی کا سبق پڑھا رہا تھا، غالباً پہلا گھنٹہ تھا کہ دفتر سے پیغام آیا کہ حضرت بلا رہے ہیں۔ جب بندہ حاضر ہوا تو فرمایا: ’’آپ کا فون آیا ہے‘‘، جب میں نے فون سنا تو اس میں میرے جواں سال بھائی کی اچانک وفات کی اطلاع تھی۔ فون سن کر پریشان ہونا فطری امر تھا، حضرت والا رحمہ اللہ نے (جو کہ مجھ سے پہلے فون سن چکے تھے) مجھے خوب دلاسا دیا اور حکم دیا کہ دو رکعت نفل پڑھو، نماز سے فراغت کے بعد حضرت نے انتہائی شفقت آمیز اور محبت بھرے لہجہ میں فرمایا (जिसे मैं आज तक नहीं भूल सका): ’’کیا پروگرام ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ گاؤں جانا ہے۔ حضرت نے فوراً گاڑی منگوائی، مجھے ساتھ بٹھایا اور ایئرپورٹ پہنچ کر فیصل آباد کی ٹکٹ خریدی پھر جب تک بورڈنگ کارڈ نہیں ملا تب تک حضرت انتظار فرماتے رہے۔ فجزاہ اللہ تعالیٰ علی ہٰذا المن والاحسان، وسقی اللہ ثراہ وجعل جنۃ الفردوس مثواہ۔
۲۰۰۶ء میں ایک دوست کی شادی پر کراچی جانا ہوا تو حضرت رحمہ اللہ کے یہاں بھی حاضری ہوئی۔ اطلاع ہونے پر حضرت اقدس رحمہ اللہ نے اپنے دولت خانہ پر بلایا، اپنے پاس بٹھا کر اپنے دستِ مبارک سے اپنے پاس سے ایک ٹوپی احقر کے سر پر رکھی اور فرمایا کہ ’’مشائخ کی طرف سے ودیعت کردہ امانت آپ کے سپرد کرتا ہوں‘‘۔ یوں حضرت رحمہ اللہ نے اجازت مرحمت فرمائی۔ احقر پر گریہ طاری تھا، روتے ہوئے عرض کیا: میں تو اس قابل نہیں۔ فرمایا: ’’آپ کو یوں ہی سمجھنا چاہیے۔ حق تعالیٰ شانہ آپ سے کام لیں گے ان شاء اللہ‘‘۔
حضرت اقدس رحمہ اللہ ہی کی اجازت اور دعا سے ۱۹۹۵ء میں بھلوال ضلع سرگودھا میں ’’الجامعۃ الربانیۃ للبنین والبنات‘‘ کے نام سے ایک ادارہ شروع کیا تھا، اس ادارہ کا انتظام و انصرام اور درس و تدریس ہی بڑی مصروفیت ہے۔ علاوہ ازیں دروسِ قرآن و حدیث کے ذریعے علاقہ بھر میں بندگانِ خدا تک دعوت پہنچانا بھی بندہ کا مشن ہے۔
حضرت مولانا عبدالرؤوف میانوی صاحب دامت بركاتہم العالیہ