مضامین

حضرت والا کی طلبہ کو گراں قدر نصائح

مولانا محمد ابراہیم تقی صاحب
مدرس معہد الشیخ زکریا

حضرت کی محبت، شفقت اور عنایات سے تو وہ سبھی حضرات واقف ہیں جن کا حضرت رحمہ اللہ سے کسی نہ کسی درجے میں تعلق رہا ہے۔ گویا کہ حضرت رحمہ اللہ کے برتاؤ کو دیکھ کر ملنے والا یہ سمجھتا کہ حضرت رحمہ اللہ کو سب سے زیادہ اسی سے محبت ہے۔ لیکن تعلیم و تربیت کے حوالہ سے حضرت رحمہ اللہ کا معاملہ معہد کے تقریباً ہر طالب علم کے ساتھ قریب قریب ایسا تھا جیسا کہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے آپ بیتی میں اپنی تربیت کے متعلق حضرت مولانا یحییٰ کاندھلوی رحمہ اللہ کا برتاؤ لکھا ہے۔ درحقیقت ہم طلباء پر حضرت کی یہ بہت بڑی شفقت و مہربانی تھی گو مراحلِ تربیت کے نشیب و فراز کی وجہ سے بسا اوقات طبیعت پر بوجھ ہو۔ اگرچہ آخری زمانے میں کثرتِ امراض، کثرتِ طلبہ اور دیگر عوارض کی بنا پر اس میں کچھ تسہیل پیدا ہو گئی تھی، لیکن آخری وقت تک ہر معاملہ کی طرح تعلیم و تربیت کے متعلق بھی اپنے اکابرین کے طریقہ پر ممکن حد تک عمل کی کوشش فرمائی اور اس کی ترغیب بھی فرماتے۔ اس حوالہ سے چند امور اور واقعات جو ذہن میں ہیں درج کیے جا रहे ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب طالب علموں کو ان پر عمل کی توفیق نصیب فرمائے اور حضرت کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔

۱۔ تعلقات کا مرض:
حضرت رحمہ اللہ علمی اشتغال کے دوران فضول تعلقات اور دوستیوں، یاریوں کو سخت ناپسند فرماتے تھے، اور اس کو طالب علم کے لیے سمِّ قاتل قرار دیتے تھے۔ اور اکثر ہم طلبہ کو حضرت مولانا یحییٰ کاندھلوی رحمہ اللہ کے حوالہ سے یہ ارشاد فرماتے: ’’طالب علم چاہے کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو اگر اس کو تعلقات کا مرض ہے تو ایک نہ ایک دن ناکام ہو کر رہے گا، اور طالب علم کتنا ہی غبی کیوں نہ ہو اگر تعلقات کا مرض نہیں تو کامیاب ہو کر رہے گا‘‘۔ حضرت طلباء کو یکسوئی کے ساتھ علم حاصل کرنے کی بہت ترغیب فرماتے اور اس کی خوب نگرانی بھی فرماتے۔ ایک مرتبہ سالانہ تعطیلات میں جبکہ بندہ کے بعض ساتھی تفریح کے لیے فارم ہاؤس جا رہے تھے بندہ نے حضرت رحمہ اللہ سے اجازت طلب کی تو اجازت دیتے ہوئے فرمایا: ’’تعلقات اور دوستیاں لگانے سے بچنا‘‘۔

بندہ کے ابتدائی تعلیمی دور میں بارہا ایسا ہوا کہ جب کوئی نمازی یا اجنبی، بندہ سے مخاطب ہوتا تو فرماتے کہ تمہارا ان سے کیا رشتہ ہے؟ تم سے یہ کس سلسلہ میں بات کر رہے تھے؟ غرض اس حوالے سے حضرت رحمہ اللہ کے یہاں کسی قسم کی رعایت نہ تھی۔ خصوصاً متعلقین کو بعض اوقات معمولی سے شبہ پر بھی تنبیہ فرماتے تھے۔ طلبہ کا ایک دوسرے کے گھروں میں بے وجہ دعوتوں میں جانا، گاڑیوں، سواریوں میں بے وجہ ساتھ گھومنا، ہوٹلوں میں جانا حضرت رحمہ اللہ کو سخت ناپسند تھا اور اس پر نکیر فرماتے تھے۔

۲۔ علمی یکسوئی کی ترغیب:
حضرت رحمہ اللہ ہم طالب علموں کو علمی رسوخ اور یکسوئی کے ساتھ علم حاصل کرنے کی ترغیب فرماتے۔ اس سلسلہ میں اکابر کے واقعات خود سناتے یا شام کی تعلیم میں سنواتے۔ فرماتے تھے کہ ’’حقیقی طالب علم تو وہ ہے جس کا ذہن ہر وقت کسی نہ کسی مسئلہ میں مشغول ہو‘‘۔ فرماتے کہ ’’طالب علم تو وہ ہے جو علمی یکسوئی کی وجہ سے ایک جگہ کا ہو کر رہ جائے‘‘۔ فرماتے کہ ’’حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی ایک مرتبہ زمانۂ طالبعلمی میں چپل گم ہو گئی تو چھ ماہ تک نئی چپل خریدنے کی نوبت نہ آئی‘‘۔

ایک موقع پر بندہ سے ارشاد فرمایا کہ ’’تمہارا مجاہدہ علمی محنت اور اس کا انہماک ہے اور اس محنت کو کسی مجاہدہ سے کم مت سمجھنا‘‘۔ بارہا امام محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ اللہ کا وہ جواب سناتے جو انہوں نے کسی سائل کو رات نہ سونے کے جواب میں دیا تھا کہ ’’لوگ تو اسی بات پر انحصار کر کے سو رہے ہیں کہ کوئی مسئلہ پیش آئے گا تو امام محمد سے پوچھ لیں گے، اب اگر میں بھی سو جاؤں تو لوگوں کا کیا بنے گا‘‘۔ فرماتے تھے کہ ’’چالیس پچاس نمبرات لینے والا قانوناً تو پاس ہے، لیکن سوچنے کی بات ہے کہ عملی زندگی میں آپ کو سو میں سے چالیس مسائل آتے ہوں بقیہ ساٹھ نہ آتے ہوں تو اکثر مسائل تو نہیں آتے‘‘۔

۳۔ تقویٰ اور تعلق مع اللہ کی ترغیب:
قطب الاقطاب حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ کی خواہش تھی کہ ہر مدرسہ کے ساتھ خانقاہ بھی ہو، تاکہ طلبہ علم کے حصول کے ساتھ ساتھ اللہ سے تعلق بھی جوڑیں۔ حضرت رحمہ اللہ نے معہد الخلیل کے قیام میں اپنے شیخ کی خواہش کو ملحوظ رکھا اور اس میں خانقاہ بھی قائم فرمائی۔ طلبہ کے لیے مجلسِ ذکر اذانِ عصر سے پندرہ منٹ قبل ہوتی، پھر کوئی اصلاحی کتاب پڑھی جاتی۔ حضرت رحمہ اللہ اول تا آخر بنفسِ نفیس شریک رہتے اور درمیانِ کتاب گراں قدر نصائح بھی فرماتے۔ مجلسِ ذکر میں شرکت کی اہمیت پر طلبہ کو اس طرح ترغیب فرماتے کہ دن بھر تو ہم نے علم کے ذریعہ ایک ظاہری صورت بنائی ہے اور یہ مجلسِ ذکر پیٹرول (باطنی طاقت) کا کام دیتی ہے اس لیے مجلسِ ذکر کو معمولی نہ سمجھیں۔

حضرت رحمہ اللہ کی زبانی بارہا یہ جملہ سنا کہ ’’عزیز طلبہ اپنی قدر پہچانیے۔ آپ مدرسہ کی چیز (یعنی سچائی، امانتداری، عمدہ اخلاق وغیرہ) باہر لے کر جائیے، نہ کہ باہر کی چیز (برے اخلاق، باہر کی زبان وغیرہ) مدرسہ میں لے کر آئیں‘‘۔ فرماتے کہ ’’طالب علم کبھی چور، جھوٹا نہیں ہو سکتا، ہاں چور کبھی طالب علم کے روپ میں ہو سکتا ہے‘‘۔ حضرت فرماتے تھے کہ ’’ہمارا اس مدرسہ کے قیام کا مقصد ایسے راسخین فی العلم پیدا کرنا ہے جن میں توکل و استغناء کے ساتھ تعلق مع اللہ کی صفت ہو‘‘۔ فرماتے تھے کہ ’’طالب علم کی شان یہ نہیں کہ گھر والوں پر نئی چیزیں لانے کے لیے اصرار کرے، بلکہ جب گھر والے کہیں کہ نئے جوتے وغیرہ خرید لو تو کہے: الحمدللہ! میرے پاس موجود ہے، اس کی ضرورت نہیں‘‘۔

فرماتے تھے کہ ’’طالب علم کو چاہیے کہ فجر کی نماز جماعت سے پڑھے پھر پندرہ منٹ تلاوت کر کے مدرسہ کی تیاری کرے، فجر کے بعد سونا اچھی عادت نہیں‘‘۔ اتباعِ سنت، عمامہ، سلام، حلیہ و لباس، کھانا پینا وغیرہ چیزوں کی از خود اصلاح و ترغیب فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک طالب علم مسجد میں بائیں پیر سے داخل ہوا تو فرمایا: ’’واپس باہر جاؤ اور دائیں پیر کے ساتھ مسجد میں داخل ہو‘‘۔

حضرت کے ایک خلیفہ مجاز مولانا غلام مصطفی صاحب کا گڑھی حبیب اللہ سے ایک خط آیا جس میں انہوں نے اپنے مدرسہ کے احوال و معمولات درج فرمائے تھے، تہجد، مجلسِ ذکر وغیرہ امور سن کر حضرت رحمہ اللہ نے بڑی خوشی کا اظہار فرمایا اور بعض اساتذہ کو جمع کر کے وہ خط سنایا۔ فرماتے تھے کہ ’’بس یہی کام ہے۔ اگر طالب علم کا تعلق اللہ سے جڑ گیا تو کام ہو گیا‘‘۔ فرماتے تھے کہ ’’عزیز طلبہ! یہی آپ کے بننے کا زمانہ ہے، نہ معلوم تم میں کون شیخ الحدیث بنے گا، مفتی بنے گا، پھر ایک طبقہ آپ سے مستفید ہوگا‘‘۔

فرماتے: ’’مدرسہ میں ہوتے ہوئے طالب علم نماز میں مسبوق بنے۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ پھر مدرسہ کے علاوہ اوقات میں کیا امید لگائیں۔ ہمارے اکابرین میں سے کسی کا واقعہ سنا ہے کہ جب ان کے متعلق کسی نے پوچھا کہ کہاں ملیں گے؟ تو جواب دیا کہ مسجد چلے جاؤ، جو شخص پہلے آئے وہی تمہ مطلوب ہے‘‘۔ فرماتے تھے کہ ’’یہ طالب علم کی ذمہ داری ہے کہ اپنے تمام گھر والوں کو فجر کے لیے اٹھائے، نہ یہ کہ گھر والے اس کو اٹھائیں‘‘۔

ہر اسلامی مہینے کی آخری جمعرات کو معہد الخلیل الاسلامی کی خانقاہ میں بعد نمازِ مغرب تا اشراق کے معمولات مقرر فرمائے، اس میں شرکت کی ترغیب دیتے۔ فرماتے کہ ’’آخری جمعرات میں تہجد کے عمل کا مقصد بعد کی عملی زندگی میں اس عادت کو پختہ بنانے کی مشق ہے‘‘۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ حضرت سے ہر ملنے والا یہی سمجھتا کہ مجھ سے زیادہ محبت ہے، لیکن طلبہ پر شفقت و محبت کا رنگ ہی اور تھا جس کو ہر قریبی تعلق والا کھلی آنکھوں مشاہدہ کرتا۔ تربیت کے انداز میں ترغیب و ترہیب بھی حقیقتاً بڑی ہی شفقت تھی کہ بننے کے زمانے میں کوئی کمی رہ جائے تو اس کا ازالہ بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن عمومی و خصوصی ظاهری شفقت کا برتاؤ بھی خوب ہوتا۔ فرماتے تھے: ’’جو طالب علم پڑھنے کے لیے آیا ہے تو ہم اس کے خادم ہیں اور یہی ہمارے اکابرین کا طریقہ تھا۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ ایک مرتبہ درسِ حدیث دے رہے تھے کہ اچانک بارش شروع ہو گئی۔ طلبہ اپنی کتابیں بارش سے بچانے کے لیے اندر کی طرف بھاگے۔ تھوڑی دیر بعد دیکھا تو حضرت گنگوہی رحمہ اللہ ان طالبانِ حدیث کی جوتیاں سمیٹ کر اندر تشریف لا رہے ہیں، کہ ان طلبہ کی جوتیاں نہ بھیگیں‘‘۔

ایک مرتبہ جبکہ معہد الخلیل میں دوپہر کے کھانے میں تندوری روٹیاں شروع ہوئیں تو بعض طلبہ کے پیٹ کی خرابی کی خبر حضرت تک پہنچی تو دوبارہ چپاتیاں بنوانا شروع کروا دیں۔ معہد الخلیل کو جب پہلی مرتبہ امتحانی سینٹر قرار دیا گیا تو امتحان کے دوسرے دن نئی چھوٹی تپائیاں مدرسہ میں نظر آئیں۔ پرچہ کے بعد جب بندہ حضرت کے پاس حاضر ہوا تو دورانِ گفتگو فرمایا کہ ’’طلبہ کو امتحانی پرچہ مشقت کے ساتھ حل کرتا دیکھا تو نئی تپائیاں (طلبہ کی سہولت کے لیے) بنوائیں‘‘۔ گو وفاقی سطح پر تپائیاں لگانے کی اجازت نہیں ملی۔

ایک غریب فاضل معہد جو کہ مدرسہ کے مدرس بھی تھے کے والد کو بلوا کر فرمایا: ’’اس کے ولیمہ میں سو آدمیوں کا کھانا میری طرف سے ہوگا‘‘۔ کبھی عیدی، کبھی افطاری، کبھی دعوت وغیرہ کا نام لے کر ہدایا سے نوازتے تو کبھی مختلف کتب عنایت فرماتے۔ سالانہ امتحان کے آخر میں تقریباً دو ماہ کی تعطیلات کی وجہ سے غمگین ہو جاتے کہ اب علمی بہاریں ختم اور پڑھنے پڑھانے کے سلسلہ میں ایک لمبا وقفہ آ گیا ہے۔ طلبہ پر شفقت و محبت کے اتنے واقعات ہیں کہ اس کے لیے ایک الف لیلہ چاہیے۔ غرض یہ کہ صبح و شام طلبہ و مدرسہ ہی کی فکر میں رہتے۔

۴۔ تعیش سے دوری:
حضرت رحمہ اللہ خود بھی عیش و عشرت سے دور رہتے اور طلبہ کو بھی اس سے بچنے کی ترغیب فرماتے۔ فرماتے تھے کہ ’’جب کسی مدرسہ کے متعلق یہ سنتا ہوں کہ گدے پر بیٹھ کر اے سی میں پڑھتے ہیں، یا وہاں ایسی ایسی چیزیں ہیں تو افسوس ہوتا ہے کہ اگر سہولت پسندی کی عادت پڑ گئی تو ہم دین کا کام کیسے کریں گے‘‘۔ فرمایا: ’’مجھے کئی مرتبہ یہ کہا گیا کہ جی آپ کے کمرے میں اے سی لگوا دیں وغیرہ، لیکن میں نے منع کر دیا‘‘۔

یہ تو تعلیم و تربیت کے حوالے سے کچھ باتیں تھیں جو نہایت اختصار سے درج کی گئی ہیں۔ اب اس کے علاوہ چند امور مختصراً درج کرتا ہوں:

۵۔ تواضع:
درخت جتنا پھلدار ہوتا ہے اتنا ہی جھکا ہوا ہوتا ہے۔ حضرت اس دولت سے بھی مالا مال تھے۔ اپنی عمر کو مسجد، مدرسہ اور خانقاہ کے لیے وقف کرنے والے حضرت جب دعا مانگتے تو خوب تواضع اور ذلت کے اظہار کے ساتھ آہ و زاری سے دعا کرتے اور اپنے ایمان پر خاتمہ کی دعا بڑی لجاجت سے خود مانگتے اور دوسروں کو کہتے۔ رمضان المبارک میں تو مانگنے رونے دھونے کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا تھا۔ حضرت کی مجلس میں بیٹھنے والا بھی اس تواضع کے اثر کو لیے بغیر نہیں رہتا تھا۔ تواضع اور تربیت کا حسین امتزاج بھی ملاحظہ ہو: آخری عشرہ کے اعتکاف میں ایک مرتبہ بندہ حضرت کے حجرہ میں خدمت میں مصروف تھا اس دوران حضرت نے کسی کام کا حکم فرمایا۔ کچھ جگہ تنگ اور سب سے بڑھ کر اپنی حماقت سے عجلت میں بندہ حضرت کے پیروں کی طرف سے پھلانگتا ہوا گزرا تو پاس بلا کر فرمایا: ’’کہ دیکھو میں تو کچھ نہیں اور نہ میری کچھ حیثیت ہے، البتہ آپ کا یہ عمل خلافِ ادب ہے‘‘۔ بعض مواقع پر ہم طلبہ کو ترغیب کے بعد فرماتے کہ ’’نہ معلوم آپ میں سے کون قبول ہو جائے اور میرے لیے نجات کا ذریعہ بن جائے‘‘۔

۶۔ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اتباعِ سنت:
فرماتے تھے کہ بزرگی کا معیار کشف و کرامت نہیں بلکہ اتباعِ سنت ہے۔ چنانچہ چھوٹی چھوٹی سنتوں کا حتی الامکان اہتمام فرماتے اور ترغیب دیتے۔ یہ واقعہ تو پہلے بھی آیا ہے کہ مرضِ الموفات میں ایک فاضل کو موزے اتارنے کو فرمایا۔ وہ پہلے دائیں طرف کا موزہ اتارنے لگے تو پہلے بائیں طرف کا موزہ اتارنے کا اشارہ فرمایا۔ بموجبِ حدیثِ اتباعِ سنت میں سلام کو خوب پھیلانے کی ترغیب فرماتے اور عمل کرتے۔ ایک مرتبہ بندہ حضرت کے ساتھ ساتھ جب حضرت کے گھر کی طرف گیا، انٹر کام بجانے کے بعد آواز آئی: کون؟ تو جواب میں فرمایا: ’’السلام علیکم‘‘ (گھر میں داخلہ سے پہلے سلام کرنا سنت ہے)۔

ایک مرتبہ ہم سے فرمایا کہ ’’حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی فضائلِ نبوی خرید لو اور روزانہ ایک ایک سنت پڑھو اور عمل کی کوشش کرو‘‘۔ اسلامی مہینہ کی آخری جمعرات میں سوا لاکھ کے قریب درود شریف، جمعہ کے دن درودِ ناریہ قبل از جمعہ، بعد از عصر ۸۰ مرتبہ درود شریف حضرت ابوہریرہ کی روایت سے ثابت شدہ، درود شریف اور صلوٰۃ و سلام پر مشتمل صحاحِ ستہ سے لی گئی چہل حدیث کے پڑھنے کا اہتمام اور اس کی بھرپور نشر و اشاعت، ماہنامہ سلوک و احسان کے ماہِ ربیع الاول کے شمارے میں خصوصی دلچسپی اور اس کے ٹائٹل سے لے کر مضامین تک کی عمدگی کا اہتمام، روزانہ یٰس پڑھ کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایصالِ ثواب کرنے کا اہتمام اور اس کی ترغیب، عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کی سرپرستی (بقول حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کہ حضرت کے جانے پر آپ طلبہ جیسا خلا محسوس کر رہے ہیں، اس سے بڑھ کر ہم محسوس کر رہے ہیں) اور اس کے علاوہ دیگر امور عشقِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر ہیں۔

۷۔ منکرات پر نکیر:
اللہ والوں کی ایک علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے حکموں کو ٹوٹتا ہوا دیکھ کر حتی الامکان روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کرتے۔ حضرت کی کسی شادی یا دعوت میں جانے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہوتی تھی کہ اس میں کوئی مووی یا کیمرہ نہ ہوگا۔ ایک شادی میں کسی نے نادانستگی میں تصویر کھینچ لی تو جھپٹ کر اس سے کیمرہ چھینا اور اس میں سے ریل ضائع کر دی۔ بعد میں حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ کو کسی نے بتایا تو انہوں نے پیغام بھجوایا کہ مجھے آپ سے پہلے ہی بڑی محبت تھی لیکن اس واقعے کو سن کر اور محبت بڑھ گئی ہے۔ ایک مرتبہ ہوائی جہاز میں سفر کے دوران جبکہ جہاز مسلسل مغرب کی طرف بڑھ رہا تھا، عملہ نے روزہ کھولنے کا اعلان کیا تو حضرت کھڑے ہو گئے اور روزہ کھولنے سے منع فرمایا کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا۔

۸۔ توکل و استغناء:
حضرت فرماتے تھے کہ ’’اللہ سے تعلق جوڑ لو، ادھر ادھر سے نظریں ہٹا لو۔ دیکھو اللہ کیسی مدد کرتا ہے‘‘۔ ایک مرتبہ مجمع کے سامنے فرمایا: (غالباً اس میں مدرسہ کی معاونت کرنے والے بھی موجود تھے) ’’معاونت روکنی ہے تو روک لو مجھے اس کی پروا نہیں۔ اللہ ہی کارساز ہے‘‘۔ ایک صاحبِ خیر کے صاحبزادے کو (جن کی ڈاڑھی چھوٹی تھی) مسجد میں مصلے پر تراویح سنانے سے روک دیا کہ ’’ان کی امامت مکروہ ہے‘‘۔

۹۔ جامعیت و فکرِ عالم:
اپنے شیخ مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ سے جامعیت کی صفت بھی میراث میں ملی تھی۔ حضرت رحمہ اللہ کی ظاهری محنت اگرچہ مسجد و مدرسہ معہد الخلیل اور خانقاہ سے منسلک تھی، لیکن ہر طرف نظریں اور فکریں رہتی تھیں۔ جامعۃ الرشید والے بھی حضرت کو اپنا سرپرست گردانتے، تو ختمِ نبوت والے بھی سرپرستی چاہتے۔ غرض تبلیغ ہو یا جہاد حضرت کی ہر طرف گہری نظریں تھیں اور حکمت و بصیرت سے حضرت خوب امداد و دعاؤں سے نوازتے۔ بالاکوٹ و آزاد کشمیر کا زلزلہ، سقوطِ افغانستان، سیلاب زدگان، غرض امت پر آئی ہوئی آزمائشوں میں حضرت تڑپ جاتے اور ان کی امداد کی فکر میں لگ جاتے۔ ایک مرتبہ جبکہ رؤیتِ ہلال کمیٹی کی وجہ سے یہ خدشہ ہونے لگا تھا کہ ملک میں مسلکی اعتبار سے دو عیدیں ہو سکتی ہیں تو دورانِ اعتکاف اس ظاہری افتراق کو دور کرنے کے لیے حضرت نے خوب دعائیں منگوائیں۔

۱۰۔ نمازوں کا اہتمام و ترغیب:
ایک زمانہ تک معہد الخلیل میں کوئی مؤذن مقرر نہیں تھا۔ کبھی کوئی طالب علم، کبھی کوئی طالب علم اذان دیتا تھا۔ ان تمام اوقات میں حضرت خود اذان سے قبل تشریف لاتے، بارہا ایسا ہوا کہ مسجد میں کوئی اذان دینے والا نہ ہوتا تو حضرت خود اذان دیتے، گویا وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسَاجِدِ کا عملی نمونہ تھے۔ نمازوں کا ایسا زبردست اہتمام کہ ہمیں یاد نہیں کہ کبھی (علاوہ عوارض) ہمارے ۱۷ سالہ دور میں تکبیرِ اولیٰ سے تخلف رہا ہو۔ نمازِ باجماعت کی ترغیب بھی خوب فرماتے۔ فرماتے تھے کہ ’’ایک نماز جماعت سے پڑھ لینے کے بعد یہ سوچے کہ اگلی نماز جماعت سے کہاں ہوگی‘‘۔ عوارضات میں بھی جماعت کا اہتمام ہوتا تھا، کسی ایک طالب علم کو بلوا کر اس کی اقتداء میں جماعت سے نماز پڑھتے۔ نیز اخیر زمانہ میں بھی عوارضات و طویل بیماریوں کے باوجود فرائض کھڑے ہو کر ہی پڑھتے تھے، یہاں تک کہ دوسری رکعت میں کھڑے ہوتے ہوتے سورۃ الفاتحہ ختم ہونے کے قریب ہو جاتی یعنی کھڑے ہونے میں اتنی مشقت ہوتی پھر بھی اس کو برداشت فرماتے تھے۔

۱۱۔ رمضان المبارک:
حضرت کے یہاں رمضان کا رنگ ہی اور ہوتا تھا۔ تلاوتِ قرآن، نوافل، ذکر، مراقبہ اور آہ و زاری کی بڑی کثرت ہوتی تھی۔ فضول وقت کے ضیاع سے خود بھی بچتے اور معتکفین کو بھی بچنے کی ترغیب فرماتے تھے۔ اپنے شیخ کے مکمل طرز پر رمضان گزارنے کا اہتمام فرماتے۔ ابتداءً ہی معتکفین سے فرماتے کہ ’’ہم یہاں اللہ سے تعلق قائم کرنے آئے ہیں، لہٰذا اسی کو راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے‘‘۔ آپس میں تعلقات و فضول گفتگو کی ممانعت تھی۔ بارہا فرماتے تھے کہ ’’ہم جب شیخ کے پاس رمضان کرتے اور ہم سے کوئی غیر معتکف بات کرنا چاہتا تو ہم اس کو اپنے پاس لکھی ہوئی پرچی دکھاتے جس میں لکھا ہوتا کہ بھائی میں معتکف ہوں بات نہیں کر سکتا‘‘۔ فرماتے کہ ’’بھائی! کام میں لگے رہو، اگر کچھ عبادت کی طبیعت نہیں تو سو جاؤ، لیکن باتوں میں نہ لگو‘‘۔ شیخ کے طرز پر مکمل ماہِ رمضان کا اعتکاف فرماتے، البتہ اخیر زمانہ میں بوجہ عوارضات اخیر عشرہ کا اعتکاف ہوتا۔

مولانا محمد ابراہیم تقی صاحب
مدرس معہد الشیخ زکریا