اللہ کے دین کا سچا داعی
الحاج جناب عتیق الرحمن صاحب
تقسیمِ ہند سے قبل انگریزوں کے زمانہ میں خوشاب پنجاب کے علاقہ سے ایک نومسلم خاندان جو تاجر پیشہ تھا ہجرت کر کے دہلی میں آباد ہوا۔ یہاں آکر اس کے کاروبار اور نسل میں بہت برکت ہوئی اور ان کی تجارت کلکتہ تا کراچی اور ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گئی۔ اس برادری کی خاص صفت ایمانداری اور دیانتداری سے تجارت کرنا اور زکوٰۃ پوری پوری ادا کرنا تھا۔ اس برادری نے دہلی میں اپنی ایک تنظیم ’’انجمن پنجابی سوداگران‘‘ قائم کی جس کے ذریعہ مختلف تعلیمی اور فلاحی ادارے قائم ہوئے۔ میرا اور بھائی محمد یحییٰ رحمہ اللہ کا تعلق اسی برادری سے تھا۔ تحریکِ پاکستان کی جدوجہد میں برادری کے سب ہی لوگ شریک تھے۔
بھائی محمد یحییٰ رحمہ اللہ اور میری عمر تقسیم کے وقت سات آٹھ سال کی تھی۔ میں اپنے والدین کے ساتھ براستہ بمبئی بحری جہاز سے، اور بھائی یحییٰ اپنے والدین اور بھائیوں کے ہمراہ لاہور میں ٹھہرتے ہوئے کراچی آگئے اور ہمارا قیام اسلم روڈ کے محلہ میں ہوا اور یہیں سے ہماری دوستی کی ابتداء ہوئی۔
تعلیم:
پرائمری تعلیم ہم دونوں نے الگ الگ اسکولوں میں حاصل کی۔ پرائمری سے فارغ ہو کر بھائی یحییٰ نے گورنمنٹ سیکنڈری اسکول کوتوال بلڈنگ میں داخلہ لیا، اور میں نے میٹروپولین ہائی اسکول میں (جو کہ انگلش میڈیم تھا) داخلہ لیا۔
حضرت مولانا محمد إلياس رحمہ اللہ کے خادمِ خاص حضرت بابوجی حافظ محمد یوسف دہلوی رحمہ اللہ کی صحبت سے ہمیں اسکول کے زمانے میں بھرپور استفادے کا موقع ملا۔ حضرت بابوجی رحمہ اللہ حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری رحمہ اللہ سے بیعت تھے۔ میری اور بھائی یحییٰ رحمہ اللہ کی دعوت و تبلیغ سے وابستگی انہی کی صحبت کی مرہونِ منت ہے۔ ہر قدم پر ہمیں ان کی رہنمائی اور تربیت حاصل رہی۔
بھائی محمد یحییٰ رحمہ اللہ سے اسکول کے زمانہ میں میرا بالکل بھائیوں کی طرح تعلق تھا۔ وہ میرے گھر آتے اور میں ان کے گھر جاتا تھا۔ بعد از فجر عیدگاہ میدان کے چبوترے پر بیٹھ کر ہم باتیں کیا کرتے تھے۔ ایک دن کہنے لگے کہ ’’میرا دل چاہتا ہے کہ تم بھی میرے اسکول میں آ جاؤ، تاکہ ہماری جماعت مضبوط ہو اور ہم اسکول میں بھی دین کا کام کریں‘‘۔ اس زمانہ میں گورنمنٹ ہائی اسکول کوتوال بلڈنگ کی شہرت اچھی اور قابل اساتذہ کی وجہ سے معروف تھی۔ بھائی محمد یامین اور بھائی شمیم بھی بھائی یحییٰ رحمہ اللہ کے ہم جماعت تھے۔ اللہ نے بھائی یحییٰ کو ایمان اور اعمالِ صالحہ کے لحاظ سے بہترین صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ہمیشہ اپنی کلاس میں وہ اعلیٰ نمبروں سے پاس ہوتے۔ اسی وجہ سے تمام اساتذہ کے منظورِ نظر تھے۔ اسکول میں طلباء کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ادبی و فلاحی مقابلے ہوتے تھے۔ پورے اسکول کے طلباء کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلا گروپ کریسنٹ ہاؤس اور دوسرا ویلنٹ ہاؤس کہلاتا تھا۔ ہر سال ان دونوں گروپوں کے انتخابات ہوتے تھے۔ عموماً بھائی یحییٰ اور بھائی یامین ان گروپوں کے صدر منتخب ہوتے۔
فلاحی کاموں کے ساتھ ساتھ دین کے لیے محنت کی فکر بھی بھائی یحییٰ کے سر پر سوار رہتی تھی اور چاہتے تھے کہ ہمارے طلباء ساتھی عصری تعلیم کے ساتھ دعوت کا کام بھی کریں۔ اس وقت بھائی یحییٰ ساتویں کلاس میں تھے اور میں اپنے اسکول میں چھٹی جماعت میں تھا۔ انہوں نے کوشش کر کے اپنے اسکول میں مجھے ٹرانسفر کرا لیا۔ اس طرح اس اسکول میں ہم نے چار سال ساتھ گزارے۔ انہوں نے ۱۹۵۶ء میں میٹرک کیا اور میں نے ۱۹۵۷ء میں۔ ایک ہی اسکول میں جمع ہونے کے بعد، الحمدللہ ہم نے اسکول کے طلباء ساتھیوں میں دعوت کا کام شروع کر دیا۔ طلباء سے خصوصی ملاقات کرتے، کام کا تعارف کراتے اور شبِ جمعہ کو مکی مسجد میں جڑنے کی دعوت دیتے۔ کرنے والی ذات تو اللہ ہی کی ہے، اس کے فضل سے ہماری ٹوٹی پھوٹی محنت کے ذریعہ اسکول کے طلباء کی کافی تعداد مسجد آنے لگی۔ ہم ان کا اکرام کرتے، اپنے بزرگوں سے ان کو ملواتے، اور ہمارے بزرگ بھی ہاتھوں ہاتھ ان کو لیتے اور زندگی کا مقصد سمجھاتے۔
میٹرک کرنے کے بعد بھائی محمد یحییٰ نے ڈی سی (D.C) کالج میں داخلہ لے لیا۔ اب ماشاء اللہ ہوسٹلوں میں بھی کام ہونے لگا۔ بعد از عصر مختلف ہوسٹلوں میں مقیم طلبہ میں ہم گشت کرتے، بعد از مغرب بیان ہوتا۔ طلبہ کو دعوتی کام میں جڑنے کی ترغیب دی جاتی۔ ان ہوسٹلوں میں کام کرنے سے دعوت کا کام ان طلباء کے ذریعہ مختلف شہروں اور دیہاتوں میں پہنچا۔ بعض عرب ممالک کے طلباء بھی یہاں آکر تعلیم حاصل کرتے تھے اور ان ہوسٹلوں میں مقیم تھے۔ ان سے بھی ملاقات رہتی تھی۔ بعض یہاں سے اپنی تعلیم سے فارغ ہو کر گئے اور اپنے ملک میں دعوت کے کام کے ذمہ دار بنے۔ ہماری جماعت ۲۰۰۱ء میں گلگت گئی، وہاں ایک انجینئر صاحب سے ملاقات ہوئی جو ذمہ داری سے کام کر رہے تھے۔ ان سے معلوم ہوا کہ وہ ان ہوسٹلوں میں اقامت کے دوران کام سے متعارف ہوئے تھے۔
اس زمانہ میں عید الفطر اور عید الاضحی میں غیر ملکی طلباء کی مکی مسجد میں ضیافت کی جاتی، ان طلباء میں عربی میں بھائی ابراہیم عبدالجبار یا کوئی دوسرے بزرگ بیان کرتے اور تشکیل ہوتی۔ الحمدللہ! یہ سلسلہ آج تک قائم ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی بنیاد میں بھائی یحییٰ کا حصہ بھی ہے۔ اب تو عصری اور عربی مدارس کی مستقل جماعتیں اللہ کے راستے میں نکلتی ہیں۔ یہ سب پہلے والوں کی نقل و حرکت کی برکت ہے۔
۱۹۵۷ء کی بات ہے، بھائی محمد یحییٰ کالج میں پڑھ رہے تھے۔ رائے ونڈ کے اکابر میں حاجی عبدالوہاب صاحب تشریف لائے ہوئے تھے، شبِ جمعہ کا اجتماع تھا۔ مغرب کے بعد مکی مسجد میں حاجی عبدالوہاب صاحب کا بیان ہوا۔ بیان کے بعد حاجی صاحب نے چلہ کی جماعت کا نقد تقاضا رکھا۔ احباب ارادے لکھواتے رہے نقد کوئی نام نہیں آیا، یہاں تک کہ گیارہ بج گئے۔ حاجی صاحب پُرعزم تھے کہ ان شاء اللہ آج نقد جماعت ضرور بنے گی۔ اس وقت شبِ جمعہ کا اجتماع مکی مسجد کے اندرونی احاطے میں ہی سما جاتا تھا، حاجی صاحب پُرزور انداز میں فرما رہے تھے کہ جب تک اپنے تقاضوں کو توڑ کر قربانی دے کر اللہ کے راستے میں نہیں نکلیں گے تب تک ہدایت کے فیصلے اللہ کی طرف سے نہیں ہوں گے۔ انہوں نے بھائی قمر احمد مخدومی مرحوم اور دوسرے ساتھیوں سے کہہ کر اندر کے دروازے بند کرا دیے اور فرمایا کہ جب تک نقد جماعت تیار نہیں ہوگی تب تک عشاء کی نماز نہیں ہوگی۔ یہ بھی فرمایا کہ ان شاء اللہ آج نقد جماعت اللہ کے راستہ میں ضرور نکلے گی۔ احباب ایک دوسرے کو ترغیب دیتے رہے اور کچھ نوافل اور دعاؤں میں لگ گئے۔ اللہ کو یہ عزم، جم کر بیٹھنا اور مانگنا ایسا پسند آیا کہ ہمارے نوجوان ساتھی جن میں ہمارے موجودہ امیر بھائی عبدالرشید سورتی صاحب، بھائی محمد یامین، بھائی احمد حسین پائلٹ، بھائی احمد حسن مرحوم (پی اے ایف – P.A.F، جن کا حال ہی میں مدینہ طيبة میں انتقال ہوا) اور دیگر دو تین ساتھی نقد تیار ہو گئے۔ بھائی یحییٰ بھی اس مجلس میں موجود تھے لیکن کسی وجہ سے نقد تیار نہ ہوئے۔ صبح کی نماز کے بعد ہدایات دے کر ان ساتھیوں کو حاجی صاحب نے رائے ونڈ روانہ فرمایا۔ احباب اس جماعت کو چھوڑنے کے لیے اسٹیشن پر آئے جن میں بھائی محمد یحییٰ رحمہ اللہ بھی تھے۔ جانے والے ساتھیوں نے پھر بھائی یحییٰ کو ترغیب دی تو وہ بھی اللہ کے کام کے لیے اللہ کے بھروسہ پر جماعت کے ساتھ روانہ ہو گئے۔ ان کے اس طرح قربانی کے ساتھ نکلنے کی وجہ سے گھر والوں کی طرف سے کچھ حالات آئے۔ ۲۰ جنوری ۱۹۵۸ء کو انہوں نے ایک خط کے ذریعے مجھ سے اس کی تفصیل پوچھی اور ساتھ ہی یہ بھی تحریر فرمایا کہ ’’حالات تو اللہ کی ذات سے سدھرتے ہیں، فیصلے ان ہی کے دربار سے ہوتے ہیں۔ میں بھی ان کے فضل کی درخواست کروں گا۔ اللہ کا اعلان ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے آزمائے گا اور غیب پر یقین رکھنے والے کے لیے ہی راستے کھلتے ہیں‘‘۔
بھائی یحییٰ اور ان کی جماعت نے میوات کے دیہاتوں میں کام کیا۔ اپنے ایک خط میں انہوں نے مجھے تحریر فرمایا کہ ’’یہاں میوات میں کام کی خوب فضا ہے۔ شہریوں کی بنسبت ان کے عوارض بہت کم ہوتے ہیں۔ یہ लोग قربانی دینے میں ہمارے اسلاف کی خوبیوں کے حامل ہیں‘‘۔ اس جماعت نے بہت ہی عزم و ہمت اور درد و فکر سے میوات میں کام کیا۔ جس گاؤں میں یہ جماعت جاتی وہاں سے نقد جماعت چلہ اور تین چلہ کی وصول کر کے رائے ونڈ بھیجتی۔ اس کے بعد بعض ساتھی اپنا وقت پورا کر کے رائے ونڈ سے واپس آگئے اور بھائی یحییٰ، بھائی یامین اور بھائی احمد حسن (پی اے ایف) رائے ونڈ میں مقیم ہو گئے۔ بھائی یحییٰ نے رائے ونڈ میں بہت کام کیا۔ مختلف بیرونِ ملک سے جماعتیں آنے لگیں۔ بھائی محمد یحییٰ جاپان کے نومسلم جوانوں کو لے کر قصور اور دوسرے مقامات میں بھی تشریف لے گئے۔ پھر یہ نوجوان کراچی بھی آئے۔ یہاں بھی ان سے ملاقات ہوئی۔ ان کی قربانی اور جذبات پر رشک آتا تھا۔ میوات سمیت دیگر علاقوں میں منعقدہ تبلیغی اجتماعات کے انتظامات میں بھائی یحییٰ رحمہ اللہ بھرپور جدوجہد فرماتے۔
حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ رائے ونڈ کے سالانہ اجتماع میں بمع رفقاء تشریف لاتے تھے۔ بھائی محمد یحییٰ رحمہ اللہ حضرت کی خدمت میں رہتے اور حضرت کے بیانات بھی مستقل لکھا کرتے تھے۔ بھائی یحییٰ رحمہ اللہ کی رائے ونڈ میں اقامت کے عرصے میں ہمارے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا۔ بذریعہ خطوط اور آنے جانے والوں کی زبانی بھائی یحییٰ رحمہ اللہ کی اکثر یہ حسرت مجھ تک پہنچتی: ’’کاش! آپ بھی میرے همراہ ہوتے‘‘۔
میں راقم کالج کے مقیم طلبہ کی ایک جماعت چلے کے لیے تیار کر کے رائے ونڈ لے کر گیا۔ بھائی محمد یحییٰ رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی تو بہت خوش ہوئے۔ میوات کی ایک پچیس روزہ تشکیل میں بھائی یحییٰ ہمارے ساتھ تھے۔ ہم نے مختلف دیہاتوں میں کام کیا اور ہر گاؤں میں جماعتیں نکال کر رائے ونڈ بھیجتے رہے۔ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک ہم پیدل چلتے تھے۔ مقامی احباب بھی ساتھ ہوتے، سلیقہ سکھاتے راستہ طے ہو جاتا تھا۔ ماشاء اللہ! بھائی یحییٰ کو میواتی زبان پر عبور حاصل تھا، اور پنجابی زبان بھی پنجابیوں کی طرح بول لیتے تھے، جس کی وجہ سے ہر شخص ہماری بات سمجھ لیتا تھا۔ الحمدللہ! اس نقل و حرکت سے اس علاقے میں دین کی ایک فضا قائم ہو گئی۔ کھانے کو کبھی ملا، کبھی نہ ملا۔ کبھی کھانے کو کچھ نہ ملا تو چنے چبا لیتے۔ بعض دفعہ صرف روٹی ہی ملتی، سالن نہ ملتا۔ جماعت اگر نہیں نکلتی تو روتے ہوئے جنگل میں نکل جاتے اور خوب الحاح و زاری سے اللہ سے سجدہ میں مانگتے۔ اس طرح اللہ جماعت کی کوئی صورت پیدا فرما دیتے۔ بعض مساجد میں ٹھہرنے نہیں دیا جاتا تھا، بستر مسجد سے باہر پھینک دیے جاتے۔ درختوں کے سائے میں کپڑے بچھا کر اعمال سر انجام دیے جاتے۔ بھائی یحییٰ نے پیدل جماعتوں میں بھوکے پیاسے بڑے مشقت بھرے سفر کیے۔ ان کی فکر اور بے چینی تھی، وہ جہاں جاتے وہاں دین کی فضا قائم ہو جاتی۔ ۱۹۵۷ء تا ۱۹۵۹ء وہ رائے ونڈ میں مقیم رہے۔
اکابر رائے ونڈ کے مشورہ سے ۵۹ء کے آخر میں کام کی صحیح ترتیب کو سیکھنے اور رئیس التبلیغ حضرت جی مولانا محمد یوسف کی صحبت حاصل کرنے کے لیے مرکز نظام الدین میں حاضری دی۔ حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحب نے اس گوہرِ نایاب کی انتہائی قدر دانی فرمائی۔ مرکز نظام الدین میں آپ کو حضرت مولانا علی میاں، مولانا منظور نعمانی، مولانا حفظ الرحمن اور مولانا سعید احمد خان صاحب جیسی ہستیوں کی صحبت نصیب رہی۔ مرکز نظام الدین میں قیام کے دوران وقتاً فوقتاً بھائی یحییٰ مجھے نظام الدین آنے کی دعوت دیتے رہتے۔ موقع بموقع خطوط کے ذریعے اپنے حالات سے آگاہی فراہم کرتے رہتے۔ بھائی یحییٰ کے اصرار پر راقم بھی بالآخر مرکز نظام الدین پہنچ گیا۔ حضرت جی عمرے کے لیے حجازِ مقدس روانہ ہو چکے تھے۔ سفرِ عمرہ سے واپسی ہوئی تو مجھے بھی بھائی یحییٰ کے ساتھ حضرت جی رحمہ اللہ کی صحبت سے استفادے کا بھرپور موقع ملا۔
نظام الدین میں حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ کے معمولات:
نظام الدین میں حضرت جی کے معمولات یہ تھے:
فجر کی نماز کے بعد بیان تقریباً تین گھنٹے کا، جس کو بھائی یحییٰ لکھتے تھے۔ بیان کے بعد ناشتہ، اس وقت مہمانوں کو ناشتہ و کھانا کھلانے کی ذمہ داری بھائی یحییٰ پر تھی۔ ناشتہ کے بعد تعلیم ہوتی تھی اور آنے والوں کی جماعتیں بنتی تھیں۔ حضرت جی آکر ہدایات دیتے اور دعا کر کے جماعتوں کو رخصت فرماتے۔ جماعتوں کو رخصتی کی ہدایات بھی بھائی یحییٰ دیتے تھے۔ اس کے بعد خواص و عام کھانا کھاتے اور کھانے کے بعد سب کو ظہر تک آرام کا وقفہ دیا جاتا۔ حضرت جی رحمہ اللہ بھی تھوڑی دیر کے لیے قیلولہ فرماتے۔ اس وقت خدام حاضرِ خدمت ہوتے جن میں یہ ناکارہ اور بھائی محمد یحییٰ بھی ہوتے۔ ہم لوگ پاؤں دباتے اور سر پر مالش کرتے۔ اس وقت حضرت اپنے اسلاف کی خاص کر مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ کی قربانیوں اور جدوجہد کے واقعات سناتے تھے۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ ہماری دادی مولانا محمد الیاس کو گود میں لیتیں اور اس طرح لوریاں دیتیں:
مؤذن مرحبا بروقت بولا تیری آواز مکہ مدینے
جدائی میں تیری اے میرے فرزند مجھے اک اک گھڑی سو سو مہینے
اسی میں کبھی کبھی آنکھ لگ جاتی۔ اذان ہوتے ہی اٹھ جاتے، ظہر کے بعد مدرسہ کاشف العلوم کے طلبہ کو حدیث کا درس دیتے۔ اس کے بعد ڈاک وغیرہ دیکھ کر جواب لکھواتے۔ بھائی محمد یحییٰ بھی خطوط کے جواب لکھتے تھے۔ مسجد میں تعلیم کا عمل جاری رہتا۔ عصر کے بعد کبھی ڈاکٹروں میں یا دینی مدارس کے طلبہ میں یا خواص میں گفتگو فرماتے تھے۔ بھائی محمد یحییٰ ان تمام موقعوں پر حضرت کی باتیں نوٹ کرتے رہتے۔ مغرب کے بعد سورہ یٰس کا ختم ہوتا۔ حضرت جی رحمہ اللہ اوابین سے فارغ ہو کر تشریف لاتے، اور دعا کے موضوع پر بیان فرماتے، جس کا موضوع ہوتا کہ ’’انبیاء اور صحابہ کے تمام مسائل دعا سے حل ہوتے تھے، ہمارے مسائل بھی دعا سے حل ہوں گے‘‘۔ اس کے بعد طویل دعا فرماتے، بھائی یحییٰ اس دعا کو بھی لکھ لیتے تھے۔ اس کے بعد عمومی کارگزاری کا عمل شروع ہوتا۔ عشاء کے بعد حضرت جی رحمہ اللہ حیات الصحابہ میں سے واقعات سناتے۔ اس سے پہلے ان کی قربانیوں کے تذکرے کرتے۔ عربی کی عبارت پڑھ کر ترجمہ کرتے اور دعا فرماتے، بھائی یحییٰ اس مجلس کی ساری کارروائی بھی نوٹ کر لیتے تھے۔
حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ کے بیانات و ملفوظات کی بیس پچیس کاپیاں بھائی یحییٰ کے پاس جمع ہو گئی تھیں، جو کہ انہوں نے انتقال سے کچھ عرصہ قبل میرے حوالے کی تھیں۔ میں ان بیانات پر کام کر رہا ہوں، بھائی یحییٰ کی خواہش تھی کہ ان بیانات کو علیحدہ علیحدہ چھوٹے چھوٹے رسائل کی صورت میں شائع کیا جائے اور کم قیمت رکھی جائے تاکہ سن کر شوق ہو اور سلسلہ وار خریدے جا سکیں۔ بعد میں صاحبزادگان کے مشورے سے یہ فیصلہ ہوا کہ ان کو سلسلہ وار کتابی صورت میں ’’حرمین شریفین کے بیانات‘‘ کے نام سے شائع کیا جائے۔ ان شاء اللہ یہ کام تکمیل کو پہنچ گیا تو بہت ساری جلدوں میں آئے گا۔ دو جلدیں کمپوزنگ کے بعد بالکل تیار ہیں۔ اللہ کرے کہ یہ کام میری زندگی میں تکمیل تک پہنچے، اس لیے کہ اس میں دعوت کا کام کرنے والوں کے لیے رہنما اصول ہیں۔
دعوتی کام میں انتھک جدوجہد، تصوف و سلوک میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی طرف سے اجازت یابی، محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے زیرِ تربیت درسِ نظامی کی تکمیل، معہد الخلیل الاسلامی کی تاسیس و ترقی اور تزکیہ و اصلاحِ باطن میں گراں قدر خدمات، یہ سب بھائی یحییٰ رحمہ اللہ کی عند اللہ مقبولیت کی نشانیاں ہیں، ان شاء اللہ۔ اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے!