بڑے مولانا
مفتی عبدالرحمن مدنی صاحب
سب انہیں احترام سے ’’بڑے مولانا‘‘ کہتے تھے، اور وہ تھے بھی بڑے، علم میں بڑے، عمل میں بڑے، کردار و صفات میں بڑے اور ہر بات میں بڑے اور بہت بڑے! یہ غالباً ۱۹۸۸ء کی بات ہے، جب قاری نسیم الدین صاحب کے مشورے پر ابو مجھے معہد الخلیل لے کر آئے۔ مدرسے بہت دیکھے تھے پر ایسا نہ دیکھا نہ تھا! یہ تو کوئی بنگلا اور کوٹھی معلوم ہوتی تھی۔ مین گیٹ سے داخل ہو کر بائیں ہاتھ پر وضو خانہ تھا۔ وضو خانہ واحد ایسی چیز تھی کہ جسے دیکھ کر مسجد یا مدرسے کا نقشہ ذہن میں ابھرتا تھا۔ صاف ستھرا، خوبصورت اور طلبہ بھی عام مدارس و جامعات کے طلبہ سے خاصے مختلف، صاف ستھرے، باادب اور رکھ رکھاؤ والے۔ بظاہر مدرسہ نہ لگنے والی یہ عمارت اندر سے ایک مکمل اور جاندار مدرسہ تھا۔ تمام ظاهری و باطنی خوبیوں سے متصف ایک خانقاہی مدرسہ، جس کے روحِ رواں تھے ’’بڑے مولانا‘‘ یعنی حضرت مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ۔ مجھے یہاں خود کو ڈھالنے اور ماحول میں ڈھلنے میں تھوڑا سا وقت لگا۔ شام میں تمام طلبہ گھر چلے جاتے۔ معہد الخلیل میں ہم صرف چار طلبہ رات کو رکتے تھے: میں، قاری نسیم الدین صاحب کے صاحبزادے مولانا عبدالملک عتیق اور دو اور طلبہ۔ بڑے مولانا ہمیں لغۃ الاسلام پڑھایا کرتے تھے۔
حضرت مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ عرف بڑے مولانا کے ایک صاحبزادے زکریا (استادِ حدیث حضرت مولانا زکریا صاحب) بھی ہمارے ساتھ اسی جماعت میں تھے۔ ہم جماعت میں کل نو طلبہ تھے۔ بڑے مولانا کا سبق ہم بہت محنت سے یاد کرتے تھے، اور مولانا سعید صاحب کا سبق بھی یعنی تعلیم الاسلام، کیونکہ ہم اچھی طرح جانتے تھے کہ ان دو اسباق میں ذرا سی بھی کوتاہی ہوئی تو معافی کا کوئی امکان نہیں، گوشمالی ہوگی اور ایسی ہوگی کہ طبیعت ہری ہو جائے گی! ہر طالب سے پورا سبق سنا جاتا تھا پھر سبق پڑھایا جاتا تھا۔ میری طبیعت دوسرے مدارس میں بنی تھی، زبان قینچی اور ہاتھ پیر تیر و تلوار تھے۔ ہر ہفتے بڑے مولانا کے حضور ایک آدھ پیشی ہو جاتی اور کئی مرتبہ تو ہفتے میں کئی بار یہ اعزاز حاصل ہو جاتا۔ نماز میں لاپرواہی، کسی سے کوئی ہلکا مذاق، کلاس میں دھکم پیل، کشتی؛ ادھر میں واردات کرتا ادھر بڑے مولانا بلوا لیتے۔ میں بڑا حیران ہوتا کہ بڑے مولانا کو کیسے خبر ہو جاتی ہے! پہلے پیار سے سمجھاتے، پھر لہجہ ذرا سخت ہوتا اور پھر پٹائی شروع ہو جاتی۔ میرا ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ میں رات کو بھی معہد میں رہتا تھا۔ رات کو معہد خالی ہوتا اور بڑے مولانا معہد والے مصلے میں نماز پڑھتے تھے اور فجر میں قریب والی ایک مسجد میں ہمیں پہنچنا ہوتا تھا اور بڑے مولانا پہلے ہی وہاں موجود ہوتے تھے، اس لیے ہم چاروں کو تو اور بھی اچھی طرح مولانا سمجھ گئے تھے۔ مجھ پر مولانا کی خاصی کڑی نظر رہتی، کلاس میں پٹائی بھی ہوتی تھی۔ مجھے کافی عرصے بعد پتہ چلا کہ زکریا بڑے مولانا کا بیٹا ہے۔ بڑے مولانا کے ہاں سب سے بڑا جرم تھا نماز میں لاپرواہی، تکبیرِ تحریمہ کا چھوٹ جانا۔ بڑے مولانا آہستہ آہستہ میرے حواس پر چھا گئے اور پھر پتہ چلا کہ وہ ہر ایک کے حواس پر چھائے ہوئے ہیں۔ ہمیں لگتا تھا کہ ادھر ہم نے شرارت کی اور ادھر بڑے مولانا آن موجود ہوں گے اور کئی مرتبہ ایسا ہوا بھی۔ انہیں جیسے کوئی جنون تھا، کوئی لگن تھی؛ تربیت، تربیت اور تربیت! خود کو گھلا رکھا تھا، فنا کر رکھا تھا، نہ اپنے آرام کا خیال اور نہ کوئی تکلف و تصنع اور نہ ہی کوئی رکھ رکھاؤ، فقیرانہ اور قلندرانہ طرزِ زندگی اور فقیرانہ اندازِ تربیت! اصل چیز تھا کام اور سارا دھیان اسی طرف رہتا تھا۔
معہد کی ہر چیز پر، ہر طالب علم پر، ہر کونے پر ان کی نظر تھی، ایک پارہ، ایک بے قرار روح! لاکھ ہم جاگتی آنکھوں سے بڑے مولانا کو گھر جاتے دیکھتے مگر پھر بھی سہمے رہتے کہ واپس نہ آ گئے ہوں۔ وہ جاتے کب تھے یہ تو پتہ لگ جاتا تھا، مگر وہ آتے کب تھے یہ کبھی پتہ نہ لگ پایا۔ ہم آپس میں کہتے تھے کہ بڑے مولانا مذاق مذاق میں گھر جاتے ہیں لیکن واپس سچ مچ آ جاتے ہیں۔ ان کی اپنی زندگی نہ تھی، خود کو پوری طرح وقف کر رکھا تھا معہد اور طلبہ کے لیے۔ دن رات بس یہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ پیر کا دن بہت سہانا ہوتا تھا۔ عصر کے بعد مجلسِ ذکر ہوتی تھی، تعلیم ہوتی، بیان ہوتا، خوشبو ہر طرف پھیلی ہوتی۔ بڑے مولانا اس دن اتنے سخت نہیں لگتے تھے۔ اس دن کا نور ہی الگ ہوتا تھا اور یوں اعدادیہ سال اول کا ہمارا تعلیمی سال گزر گیا، اور اب تو ہمارے بڑے مولانا ہی گزر گئے ہیں، جہاں کی دن رات تیاری کرتے تھے وہیں اپنے اللہ میاں کے پاس چلے گئے ہیں۔
حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے ساتھ جو انہوں نے ۲۰ سال گزارے تو حضرت شیخ جیسے ان کے دل و دماغ میں اتر گئے، قلب و جگر اور روح میں سرایت کر گئے۔ میری عمر صرف ۱۰ سال تھی لیکن حضرت حاجی صاحب سے حضرت شیخ الحدیث تک کے سارے واقعات مجھے معہد میں رہ کر یاد ہو گئے تھے۔ حضرت نانوتوی، حضرت مولانا یعقوب صاحب، حضرت مولانا خلیل احمد سہارن پوری، حضرت گنگوہی، پھر حضرت حکیم الامت، حضرت مدنی اور پھر حضرت شیخ کی پوری آپ بیتی! بڑے مولانا اکابر علمائے دیوبند کی چلتی پھرتی تصویر، ان کے واقعات کا چلتا پھرتا نمونہ، ان کے قصوں کا انسائیکلوپیڈیا اور ان کے نقشِ قدم اور طرزِ عمل کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔
روزانہ کی تلاوت، نماز باجماعت، عصر کے بعد کا کھیل، دوپہر کا سونا، طلبہ کا ہر عمل بڑے مولانا کی نظر میں رہتا تھا۔ خلافِ شریعت اور خلافِ سنت عمل ہوتا دیکھنا ان کے بس کی بات نہ تھی، سراپا غضب بن جاتے، فوراً روک دیتے، ٹوک دیتے، بڑے مولانا میں ایک سچا مدرس چھپا ہوا تھا۔ ان کو سب سے زیادہ مزہ بھی اسی کام میں آتا تھا، لیکن ذمہ داریاں اس قدر زیادہ تھیں کہ بس۔ بڑے مولانا نے اپنے شیخ کے ساتھ ۲۰ سال گزارے۔ عشق و محبت، اطاعت و فرماں برداری، دل سوزی و جاں گدازی کی سوغات اپنے شیخ سے لی اور خوب لی۔ سہارن پور، نظام الدین، جنوبی افریقہ، پاکستان میں فیصل آباد اور اس کے علاوہ پورے ۱۰ سال مدینہ منورہ، ۲۰ سال کی اس ہمرکابی نے بڑے مولانا کو عشقِ نبوی سے سرشار اور سنتِ نبوی کو آپ کی طبیعت بنا دیا تھا۔ بڑے مولانا کو تمام اکابر علمائے دیوبند سے والہانہ عشق تھا۔ ۱۹۸۲ء میں معہد کی بنیاد رکھی تو اپنے شیخ کے محبوب استاذ و مرشد حضرت مولانا خلیل احمد سہارن پوری کے نام پر معہد کا آغاز کیا۔
معہد الخلیل:
یہاں سب مدرسے بناتے ہیں یا جامعہ، حضرت نے یہاں بھی عاجزی سے کام لیا اور معہد بنایا۔ بڑے مولانا کا اخلاص بڑھا اور خوب پھلا پھولا۔ دہلی کالونی میں معہد الشیخ زکریا، بلوچ کالونی میں معہد الرشید، اللہ والا ٹاؤن میں الامداد؛ دوسری طرف اپنے شیخ کی تصنیفات و تالیفات اور ملفوظات کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا اور اس مقصد کے لیے ایک پورا ادارہ کھڑا کر دیا۔ مکتبۃ الشیخ کے نام سے حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ سے منسوب ہر کتاب اور ہر لفظ چھپا اور دنیا بھر میں پھیلا۔ شیخ کی محبت میں فنائیت اور دعوت و تربیت، یہ تھا آپ کی زندگی کا عنوان اور آپ کی زندگی کا نچوڑ۔ بے شمار غیر ملکی دعوتی اسفار پر آپ تشریف لے گئے۔ دو مرتبہ خانہ کعبہ کے اندر بھی جانے کا شرف حاصل ہوا۔ چار مرتبہ بیت المقدس تشریف لے گئے۔ جنوبی افریقہ، شام، حبشہ اور جانے کہاں کہاں۔ جوانوں اور نوجوانوں کو کان سے پکڑ کر کام پر لگا دیا۔ اپنے سارے بچوں اور بچیوں کو بھی دین کی خدمت پر لگا دیا۔ اولاد پر دوہری محنت کی، باپ والی خبر گیری بھی رکھی اور استاد والی نگاہ بھی، اور آج سب کے سب ہیرے ہیں اور ان کی روشنی سے علم و عمل کی دنیا دمک رہی ہے۔ معہد الخلیل اور ذیلی شاخوں اور مدارس میں اس وقت ماشاء اللہ تقریباً ۱۲۰۰ طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں اور مولانا کے صاحبزادوں کا بھی بس یہی اوڑھنا بچھونا ہے۔ ان تمام اداروں کا امتیازی وصف ہے تربیت، انفرادی توجہ، ہر ایک کا درد۔ بڑے مولانا نے اپنی ساری اولاد، بھانجوں، بھتیجوں اور دیگر رشتے داروں، آس پاس کے لوگوں، دوست احباب سب کے سب کو اپنے ساتھ جوڑا اور دین کے کاموں میں لگا دیا۔ آپ نے چوہتر سال کے قریب عمر پائی اور اس کا کوئی لمحہ ضائع نہیں کیا۔ اپنے پرائے سارے شاہد ہیں کہ جو کوئی بھی آپ کے دامن سے جڑ گیا اور آپ کے قریب آ گیا تو آپ نے اسے دامنِ مصطفیٰ سے جوڑ دیا، اس کی تربیت کی، اسے مانجھا، صاف کیا اور تراش خراش کر ہیرا بنا دیا۔
آپ ایک سچے اللہ والے اور متشابہات سے پاک ایک واضح اور قطعی شخصیت تھے۔ عقیدے سے مسلک و مشرب تک، شخصیت سے کردار تک، انداز سے اطوار تک، بات چیت سے معاملات تک ہر چیز صاف، واضح، نہ کوئی کجی نہ کوئی ٹیڑھا پن۔ آواز مردانہ وقار و جاہت کی گونجتی ہوئی صدا، الفاظ کے جوہری، مطالب کے شناور۔ انسانوں کی طبائع، ان کے مزاج اور ان کے امراض کے ماہر نباض و طبیب اور انسائیکلوپیڈیا، طبیعتوں کے قافیہ شناس اور مزاجوں کے رازداں، طبیعت میں دبدبہ، دل جری، نگاہ کھری، قاہری و دلبری کا مجموعہ، شجاعت و شرافت کا مرقع، دامن ہر داغ سے دھلا ہوا اور نفس سونے میں تلا ہوا۔ کوئی بدمعاش انہیں زک نہیں پہنچا سکا اور کسی شریف نے ان سے زک نہیں اٹھائی۔ جو ملا نہیں پچھتائے گا، جو ملا تو دل تھام کر رہ گیا۔
حضرت حاجی صاحب سے حضرت گنگوہی تک اور حضرت مدنی سے حضرت شیخ الحدیث تک انہوں نے ہر ایک کے علوم و احکامات کو مولائے روم کے شمس تبریز کی طرح جانا مانا اور ان کا ڈنکا بجایا۔ آپ ان سے ملتے تو بے ساختہ پکار اٹھتے:
بہت جی خوش ہوا کل جوش سے اے ہم نشیں مل کر ابھی اگلی شرافت کے نمونے پائے جاتے ہیں
طبیعت میں گداز، مزاج میں سوز و انداز، شوق میں پرواز، سیرت میں اعجاز، اخلاق میں اعلیٰ، کردار میں صدائے دل نواز، تحمل میں اکسیر، صبر میں بے مثال و بے نظیر، دل آئینہ، فطرت سادہ، عیب بین نہ عیب چین۔ جہاں گئے گناہوں کی گدلی دنیا کو پاکیزگی کا درس دے آئے، دلوں کے زنگ کو دھویا اور روحوں کو نئی زندگی دی، بندوں کو شہوت اور حرص کی پرستش سے نکال کر بندوں کے رب کی بندگی میں دے آئے۔ انہیں کسی سے دشمنی نہ تھی، وہ صرف شیطان اور شیطان کے چیلوں کے دشمن تھے۔ ساری عمر شیطنت سے لڑتے رہے اور شیطان کے خلاف محاذ کو گرم رکھا، اور شیطان اور نفس سے لڑنے کے گر بتاتے رہے، اور لوگوں کو فانی دنیا اور فانی حسن کی قید سے نکال کر ابدی دنیا اور ابدی حسن کی جانب بلاتے رہے۔
ایک عالمِ باعمل، امام و خطیب، مدرس، مدبر، مفکر، رہنما، مصلح شخصیت، تربیت و صلاح میں پرجوش، مگر اطاعتِ رب اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل میں یہ جوش اور جنوں بھی ہار جاتا اور وہ آگے نکل جاتے۔ صفات سے بھرپور، عاجزی سے شرابور، وہ شیطان سے دور اور شیطان ان سے دور۔ وہ کیا گئے، کراچی، پاکستان اور یہ دنیا سونی ہو گئی! ایک سچا اللہ والا، دل والا، فکر والا، ذکر والا، عاجزی و انکساری اور صبر و تحمل والا چلا گیا، دنیا برسوں روئے گی اور طلبہ مدتوں، جبکہ متعلقین ہمیشہ روئیں گے، ان سا اب نہ آئے گا اس چمن میں:
زمین کے تاروں سے اک تارہ آسمان کے تاروں میں جا چکا ہے
مگر تیری مرگِ ناگہاں کا مجھے اب تک یقین نہیں ہے
مفتی عبدالرحمن مدنی صاحب