!قیمتی اثاثہ
حضرت مولانا عبدالرئوف میانوی صاحب
سابق مدرس جامعہ معہد الخلیل الاسلامی
یہ کوئی ۱۹۸۸ء کی بات ہے کہ بندہ حضرت اقدس مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کی خدمتِ عالیہ میں حضرت مولانا فضل محمود مرحوم کے ہمراہ بغرضِ تدریس حاضر ہوا۔ اس وقت حضرت کا گلشنِ معہد الخلیل ابتدائی مراحل میں تھا اور اساتذہ میں سے بڑے حضرت اور مولانا مفتی سعید احمد صاحب مدظلہ تھے، آپ نے درخواست لکھنے کا حکم دیا۔ چنانچہ تحریری درخواست پیش کی گئی۔ اس کے بعد کچھ زبانی باتیں پوچھنے کے بعد ارشاد ہوا کہ آپ ہمارے ہاں مدرس ہیں۔ اسی وقت ارشاد ہوا کہ ہمارے ہاں تو اخلاص کے ساتھ نورانی قاعدہ پڑھانے والا بخاری پڑھانے والے سے کم نہیں ہے۔ غالباً یہ بات میری اصلاح کے لیے تھی اور اس سے مجھے فائدہ بھی بہت زیادہ ہوا۔ چنانچہ جب اسباق کی تقسیم ہوئی تو جہاں اس احقر کو نور الانوار کا سبق دیا گیا وہیں دو بچیوں کو نورانی قاعدہ پڑھانا بھی میرے سپرد ہوا، ایک حضرت رحمہ اللہ کی صاحبزادی اور دوسری بھتیجی تھیں جو کہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی۔ الحمدللہ! ان دونوں بچیوں نے میرے پاس ہی ناظرہ قرآن کریم مکمل کیا۔
حضرت کے ہاں جس چیز نے بندہ کو بہت زیادہ متاثر کیا وہ وقت کی پابندی تھی اور ہر کام وقت پر کرنے کا شدید اہتمام تھا۔ اس کے لیے حضرت نے اپنی ذات کو پیش کیا ہوا تھا۔ صبح جب مدرسہ شروع ہوتا تو سب سے پہلے حضرت خود تشریف فرما ہوتے، پھر اساتذہ، طلبہ جمع ہوتے جاتے اور اجتماعی طور پر سورۂ یٰس پڑھنے کے لیے بیٹھ جاتے۔ پھر حضرت کی دعا سے یہ پُر کیف محفل اختتام پذیر ہوتی اور کبھی دعا کے بغیر ہی اٹھ جانے کا اشارہ ہوتا اور ایسا شاید اس لیے ہوتا تھا کہ کہیں یہ التزام بدعت کے زمرے میں نہ آ جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہر متعلقہ معاملہ کی کڑی نگرانی فرماتے اور فرماتے تھے: ’’ذمہ دار کا اپنے تمام معاملات سے علی العلم ہونا ضروری ہے‘‘۔ مریدین، مسترشدین ہوں، یا متعلقینِ مدرسہ و طلبہ، یا اپنی اولاد ہی کیوں نہ ہو، سب پر کڑی نگاہ رکھتے۔ حقیقت میں اس کے پیچھے بھی جذبہ خیر خواہی موجزن ہوتا تھا۔ اپنی ذات کے لیے تو کبھی بھی کسی سے انتقام نہیں لیتے تھے، البتہ جب کوئی شرعی حد توڑی جاتی یا اصول و ضوابط کو پامال کیا جاتا تو لَا يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ کی عملی تفسیر بن جاتے تھے، پھر حق کہنے میں نتائج کی پروا نہیں کرتے تھے۔ اسی پابندیٔ وقت، کڑی اور مسلسل نگرانی اور حسنِ انتظام نے بہت جلد معہد کو چار چاند لگا دیے اور اسے ملک کے بڑے جامعات کی لڑی میں پرو دیا۔ تقبل الله سعی الشيخ رحمہ اللہ۔
بڑوں کے کردار بھی بڑے ہوتے ہیں۔ ہمارے حضرت بھی اپنے بڑے پن کی وجہ سے کھلے دل سے اپنے چھوٹوں کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ معہد الخلیل میں تدریس کے زمانہ میں بندہ کے قلم سے مقدمۃ الجامی کی شرح توضیح المعانی کے نام سے جب شائع ہوئی اور حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کی تو کمالِ شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کتاب کو چوما اور آنکھوں سے لگایا اور ڈھیروں دعاؤں سے نوازا اور بھرپور حوصلہ افزائی فرمائی۔ ایک دفعہ بندہ نے مجالس الابرار عربی کا قلمی نسخہ پیش کیا تو بہت خوش ہوئے اور ارشاد فرمایا: ’’یہ تو بڑی قیمتی چیز ہے‘‘۔
ایک دفعہ احقر نے فقیہ النفس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کی تقریرِ بخاری و مسلم کے افادات پر مبنی دو نایاب رسالے پیش کیے جنہیں حضرت گنگوہی کے نامور شاگردِ رشید رئیس المفسرین مولانا حسین علی الوانی رحمہ اللہ نے دورانِ سبق قلمبند کیا تھا، حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی الکوکب میں بھی ان کا حوالہ موجود ہے، تو حضرت نے انہیں مکتبۃ الشیخ سے ’’التقریر الجنجوہی علی الصحیحین‘‘ کے نام سے شائع فرمایا اور عادتِ کریمہ کے مطابق اساتذہ میں کتاب مفت تقسیم فرمائی۔
اور ایک چیز جو کہ اس دور میں حضرت اقدس کا یہی طرۂ امتیاز تھا وہ آپ کی فیاضی اور سخاوت تھی۔ ہر زائر و وارد کسی نہ کسی طرح اس سے ضرور مستفید ہوتا تھا، خصوصاً جب کوئی مسترشد ہدیہ پیش کرتا تو اسے کئی گنا زیادہ دینا گویا ضروری جانا جاتا تھا۔ جب بھی مکتبۃ الشیخ سے کوئی نئی کتاب چھپتی تو ہر استاذ کو ضرور دی جاتی۔ واقعات تو بہت ہیں میں صرف اپنا ایک واقعہ عرض کرتا ہوں:
ایک دفعہ احقر کا کسی دوست کی شادی پر کراچی جانا ہوا تو میرے دونوں بیٹے حافظ محمد احسان الحق اور حافظ محمد احتشام الحق بھی ہمراہ تھے۔ حضرت کی خدمت میں حاضری ہوئی، بچوں کو دیکھ کر انتہائی خوشی کا اظہار فرمایا اور بہت دعائیں دیں۔ جب واپسی کی اجازت چاہی تو ایک خطیر رقم (چالیس ہزار روپیہ) احقر کو دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ کا مدرسہ غریب ہے، یہ اساتذہ کے وظیفہ میں لگا دینا۔ عرض کیا حضرت آپ صرف دعا فرما دیا کریں۔ ارشاد فرمایا: ’’دعا بھی اور دوا بھی، ان شاء اللہ‘‘۔
احقر نے جب اپنی ایک ذاتی مجبوری کے تحت کراچی چھوڑنے کا ارادہ کیا اور حضرت سے اجازت چاہی تو فرمایا: دل نہیں چاہتا کہ آپ جائیں تاہم آپ کی مجبوری ہے اس لیے اجازت ہے، لیکن آپ تاحیات معہد کے استاذ ہیں اور اعزازی رسالہ بھی جاری فرمایا جو کہ باقاعدگی سے ہر ماہ علمی، اصلاحی مضامین کے علاوہ اخبار الجامعہ سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔
اگر یہاں اس بات کا تذکرہ نہ کروں تو یقیناً بات ادھوری رہے گی کہ حضرت کے وصال کے بعد بھی مخدوم زادگان حضرت مولانا الیاس صاحب، مولانا محمد یوسف صاحب، مولانا محمد زکریا مدنی، مفتی محمد مدنی زید مجدہم اور آپ کے بھتیجوں اور روحانی بیٹوں مولانا عاصم، مولانا اسد، مولانا عدنان زید مجدہم اور حافظ شاہد اور مولانا سہیل زید مجدہما کا احقر کے ساتھ وہی ادب و احترام اور شفقت و محبت والا معاملہ ہے۔
قصۂ مختصر یہ کہ حضرت کے زیرِ سایہ رہ کر بہت کچھ سیکھا، بلکہ یہ کہتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہوں کہ حق تعالیٰ شانہ کی توفیق اور مدد سے احقر جن تعلیمی، تدریسی، دعوتی اور اصلاحی کاموں میں مصروف ہے یہ سب حضرت رحمہ اللہ کی تربیت اور دعاؤں کا نتیجہ اور ثمرہ ہے اور حضرت اقدس رحمہ اللہ کی صحبت میں گزرے ہوئے ایام میرا قیمتی اثاثہ ہیں۔
بندہ عبدالرئوف
خادم انتظام و تدریس جامعہ ربانیہ بہلوال، ضلع سرگودھا
۱۴ ربیع الاول ۱۴۳۵ھ