الشیخ يحيى المدني رحمہ اللہ …نموذج فی الاعتدال
حررہ: الشیخ ولی خان المظفر مد ظلہ
رئیس المجمع العالمي للدعو والأدب الإسلامي
بسم الله الرحمن الرحيم
حامداً ومصلیاً ومسلماً۔ وبعد، فإن خالق الكون أبدع في تكوين هذه الكائنات العظيمة الهائلة المتعددة الجوانب والمختلفة الأنواع، لكن الكائن الإنساني صنعه بيديه المقدستين الطاهرتين تشريفاً وتكريماً لشأن هذا العنصر البديع، فجعل فيه مسلماً وكافراً، ذكراً وأنثى، طفلاً وشاباً وشيخاً، سعيداً وشقياً، باراً وعاصياً، معروفاً كالمعرفة ومجهولاً كالنكرة، مقتدى ومقتدياً۔ وأكبرهم وأسعدهم وأعرفهم وأشهرهم وأكرمهم الأنبياء عليهم السلام، ثم الصديقون والشهداء والصالحون، وجعل منهم علماء يرثون الأنبياء عليهم السلام في الفكر والنظر والقول والعمل، والعلم والعرفان والسلوك والاحسان۔
فكان سعادة الشيخ يحيى المدني ۔رحمه الله تعالى رحمة واسعة وأدخله فسيح جناته۔ من أكرم ورثة الأنبياء عليهم السلام وأحسنهم خلقاً وأوصلهم وأرحمهم وأجودهم وأبرهم وأوسعهم صدراً وأرحبهم قبولاً للصغار والكبار والأصدقاء والأجانب والمواطنین والوافدين، ويشهد بذلك جميع من كان يعرفه أو كانت له أدنى صلة بشخصيته إدارة القيادة وإرشاداً وإشرافاً وعلاقةً، لكن الذي يميّزه من بين الآخرين من أمثاله هو وصف الوسطية والاعتدال، فكان نموذجاً وأسوةً وقدوةً في زمانه ومكانه في عدم التعصب وعدم التطرف الحزبي واللساني والطائفي واللوني والدموي والوطني والمسلكي، كان يحب الكل ويحبه الكل، فما أحسنّه محباً وحبيباً، وما أحسنهما إذا اجتمعا في فرد أو شخص أو قائد أو عالم أو مرشد!
كان يحب اللغة العربية لغة القرآن الكريم ولغة الحبيب المصطفى صلى الله عليه وسلم ولغة الحرمین الشریفين والقبلتين المطهرتين المقدستين اللتين تقع كلاهما في بلاد العرب شعب الرسول صلى الله عليه وسلم وقومه الأولى به صلى الله عليه وسلم۔ كان يرغب ويرغب ويحث ويحض على تعلمها وتعليمها ونشرها وإشاعتها۔ وكان يكرم حاملي اللغة العربية والماهرين فيها تشجيعاً لهم وترحيباً بهم۔ مرات قال لي: ’’أريد أن أجعل اللغة الرسمية لجامعة معهد الخلیل الإسلامي اللسان العربي بنين وبنات‘‘۔ وقد قام بأعمال في هذه المجال ونجح فيها نجاحاً ما۔ فما أحوجنا إلى مثله اليوم في هذا المضمار!
كان مزاجه وفطرته وشعاره ’’لا ضرر ولا ضرار‘‘ وكان مصداقاً لقول أمير المؤمنين سيدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه: ’’المؤمن لا يلدغ ولا يلدغ‘‘۔
كان رجلا سمحاً لا يخشى بوادرها، مستقيماً، والاستقامة فوق ألف كرامة، كانت لي به صلة قديمة حينما كنت في الوفاق، وصلة جديدة حينما صرت مشرفاً لمؤسسة المظفر الخيرية العالمية، ثم مؤسساً ومشرفاً لجامعة اللغة العربية المفتوحة، فكان من أكثر العلماء الذين أصدقونا أموالاً هائلة متبرعين في الأمور الخيرية والشؤون التعليمية والأدبية، فجزاه الله خيراً عنا وعن الأمة الإسلامية جمعاء۔
بيد أن وسطيته واعتداله كانتا من مميزات لشخصيته السمحة وأنا كنت دائماً الأحظ من كريم خصاله وجميل سجایاہ هذه الصفات العليا المحمودة المطلوبة في الإسلام والمجتمع الإنساني ككل۔
فنسأل الله عز وجل أن يبدلنا خيراً منه وأن يرحمه ويغفر له وأن يتجاوز عنه وأن يتغمده في عفوه ومغفرته وكرمه وأن يلهمنا وذويه والأسرة العلمية والعائلة الدعوية التبليغية الصبر والسلوان۔
اللهم لا تفتنا بعده، ولا تحرمنا أجره۔ وصلى الله وسلم على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
ولي خان المظفر
رئیس المجمع العالمي للدعوة والأدب الإسلامي
(ترجمہ و تلخیص)
اس میں کوئی شک نہیں کہ خالقِ کائنات نے منجملہ تمام دیگر انوکھی مخلوقات کے انسان کو اپنے دستِ اقدس سے بنا کر تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی اور ان میں بھی بعض کو کافر اور بعض کو مومن اور کسی کو عاصی اور کسی کو مطیع، مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا۔ چنانچہ ان میں سب سے افضل و ارفع انبیائے کرام علیہم السلام کی ذاتِ اقدس کو، پھر ان کے بعد صدیقین، شہداء اور صالحین کے لیے ترتیب وار درجات مرحمت فرمائے، اور انہی میں ایک سلسلہ علمائے دین کا جاری کیا جو اپنے گفتار و کردار، علوم و عرفان اور سلوک و احسان میں انبیاء کے ورثاء کہلائے۔
چنانچہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہمارے حضرت مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ بھی تھے جو کہ اخلاص و اخلاق کے پیکر، رحم دلی اور سخاوت کے سمندر ہونے کی وجہ سے انبیاء کے سچے جانشینوں اور ورثاء میں سے تھے۔ وہ جہاں اپنی دیگر صفاتِ عالیہ کے ساتھ متصف تھے وہیں ان کے اندر صفتِ اعتدال اور میانہ روی امتیازی درجہ کی تھی۔ اسی وجہ سے وہ ملک و زبان، رنگ و نسل اور مسلک و مشرب میں تعصب کو چھوڑ کر اعتدال کی راہ کے سالک تھے۔ ہر ایک سے محبت کرتے اور ہر ایک کے نزدیک محبوب تھے۔
عربی زبان سے محبت کیا کرتے تھے، خود اس میں راغب تھے اور دوسروں کو بھی اس کے تعلیم و تعلم، نشر و اشاعت کی ترغیب دیتے، ماہرینِ عربی زبان کا خوب اعزاز و اکرام کرتے تھے۔ بہت دفعہ مجھ سے فرمایا: ’’میں یہ چاہتا ہوں کہ معہد الخلیل کی اصل زبان عربی لازم کر دوں، بنین و بنات دونوں کے لیے‘‘۔ اور اس سلسلے میں اقدامات بھی کیے جن میں وہ ایک حد تک کامیاب بھی ہوئے اور اب ہمیں اس میدان میں حضرت کے مثل ہی کی ضرورت ہے۔
ان کا مزاج اور فطرت درحقیقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کا مصداق تھا: ’’مومن نہ تو ڈستا ہے اور نہ اس کو ڈسا جا سکتا ہے‘‘۔ وہ انتہائی سادہ انسان تھے، نیک اعمال پر جمنے والے تھے اور درحقیقت استقامت ہزار کرامتوں سے بہتر ہے۔
میرا اس وقت سے ان کے ساتھ تعلق تھا جب میں وفاق المدارس میں خدمات انجام دے رہا تھا، پھر جب میں نے ’’المظفر ٹرسٹ‘‘ کی بنیاد رکھی اور عربی کی نشر و اشاعت کے حوالے سے جامعۃ اللغۃ العربیۃ میں مالی مدد کی ضرورت پیش آئی تو وہ ان علماء میں سے تھے جنہوں نے تعلیمی سرگرمی میں عظیم مال کی صورت میں تبرعات پیش کیں۔ (اللہ ان کو ہماری اور پوری امت کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے)۔
بہرحال ان کا اعتدال اور انصاف ان کی پاکیزہ شخصیت کی امتیازی صفات ہیں، جو میں نے ان میں بغور ملاحظہ کیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ ہمیں ان کا نعم البدل عطا فرمائیں اور ان کی مغفرت فرمائیں اور ہمیں اور ان کے باقی پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائیں۔
اللَّهُمَّ لَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ وَلَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ۔