مشفق استاذ اور مثالی سُسر
اہلیہ مولانا محمد زکریا مدنی
رمضان کے لمبے لمبے روزے اور سخت گرمی میں جب اپنے بھائی جان (مولانا وسیم احمد صاحب) کو بسوں میں سفر کر کے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضری دینے جانے والا دیکھتی تو سخت حیرانی ہوتی کہ کس قدر کمال کی محبت ہے کہ سخت گرمی اور روزے کی بھی پروا نہیں کرتے۔ بعد میں جب حضرت صاحب سے تھوڑی بہت پہچان ہوئی تو سمجھ آئی کہ حضرت صاحب کی شخصیت ہی ایسی ہے کہ اس سے ملنے کے شوق میں یہ بات معنی ہی نہیں رکھتی ہے۔ حضرتِ والا میرے شیخ بھی تھے اور استاذ بھی اور مہربان و مشفق سُسر بھی۔ میں شادی سے پہلے پردے میں الحمدللہ حضرت صاحب سے بیعت ہو گئی تھی اور بھائی جان کو حضرت صاحب کی خدمت میں حاضری دیتے ہوئے دیکھ کر دل میں یہ خواہش ہوتی کہ اے کاش! ہم بھی ان کی طرح حضرت صاحب کی کچھ خدمت کر سکیں۔ بعد میں اللہ پاک نے خوب موقع دیا۔ الحمدللہ دعا بھی قبول فرمائی، مگر ہائے افسوس! اس موقعے سے کامل فائدہ نہ اٹھا سکی۔
جب مدرسہ امینیہ للبنات میں بھائی جان کے مشورہ سے داخلہ کا ارادہ ہوا تو حضرت صاحب نے کمال شفقت فرماتے ہوئے ایک رقعہ حضرت مولانا نور الدین صاحب (جو اس وقت مدرسہ امینیہ کے مہتمم تھے) کے نام لکھا، جس کی وجہ سے اللہ پاک نے مدرسہ امینیہ میں داخلے ختم ہونے کے باوجود داخلہ دلوا دیا۔ پھر پڑھائی کے دوران بھی حضرت کی شفقت قائم رہی، وقفے وقفے سے کتابوں کے ہدیے بھجوایا کرتے تھے۔ بعد ازاں حضرت صاحب کے گھر میں آنے کے بعد بھی تعلیم و تربیت میں گہری نظر فرماتے تھے۔ میں نے سنن ابو داؤد حضرت والا ہی سے درساً پڑھی، اس طرح حضرت میرے باقاعدہ استاذ بھی تھے۔ تعلیم کے معاملے میں اس قدر فکر فرماتے کہ عالمیہ کے سال میں دو مہینے پہلے ہی فرما دیا، اب پڑھائی کے لیے بالکل فارغ ہو جاؤ، جب تک امتحان نہ ہو جائیں، پڑھائی کے سوا کوئی کام نہ کرنا‘‘۔ امتحانوں میں بھی اور امتحانوں سے پہلے بھی نظام الاوقات پر گہری نظر فرماتے، پڑھائی کے علاوہ دیگر مشاغل پر سخت نکیر فرماتے۔ امتحان کے زمانے میں رات جاگنے، دیر تک پڑھنے اور دن میں باتیں کرنے سے سخت ناراض ہوتے۔ تعلیم کے اوقات میں جب بندی آخری درجے میں تیسرے گھنٹے میں حضرت جی کے لیے روٹیاں پکانے جاتی تو حضرت جی نہایت شفقت سے فرماتے: ’’اگر پڑھائی کا حرج ہو رہا ہو تو آپ میری خاطر نہ آیا کریں‘‘۔ پڑھائی کو اپنی ضرورت پر ترجیح دیتے۔
بچیوں کی گھریلو تربیت پر حضرت کی گہری نگاہ تھی۔ کھانا پکانا، روٹی پکانا، کپڑے سینا، مہندی لگانا، دلہن کو تیار کرنا تمام باتوں کو گھر ہی میں کرنے کو پسند فرماتے۔ کرنے والے کی بہت تعریف فرماتے اور سب میں اس کا تذکرہ فرماتے اور فرماتے نیک اور شریف گھرانے میں روٹیاں گھر میں ہی پکتی ہیں۔
حضرت صاحب کی طبیعت میں سادگی بہت تھی، بہت ہی سادہ کپڑے، کم قیمت جوتی استعمال کرتے۔ ایک ہی جوڑے کو پھٹنے کے بعد اس قدر سلواتے کہ مزید سلائی کی گنجائش نہ رہتی، سویٹر وغیرہ کو بھی آخری حد تک کام میں لانے کی کوشش کرتے، سادہ کھانا حضرت کو مرغوب تھا اور گھر والوں کو بھی سادہ کھانے، مثلاً سرکہ روٹی اور کھجور روٹی کھانے کا درس دیتے۔
فیاضی بھی حضرت صاحب کا ایک نمایاں وصف تھا۔ مختلف مواقع پر حضرت صاحب نوازتے رہتے۔ ایک دفعہ سب گھر والوں پر ایک موقع پر کچھ تقسیم فرمایا پھر فرمانے لگے کہ ’’کون کون ان پیسوں کے کھلے کروائے گا؟‘‘ بندی نے جب حضرت کو پیسے کھلے کروانے کے لیے دیے اور نوٹ واپس کرنے لگی تو حضرت نے فرمایا کہ ’’یہ بھی رکھ لو، دے کر واپس کیا لینا؟ اور دیکھو! کسی کو بتانا مت‘‘۔
حضرت صاحب بچوں سے بھی انتہائی شفقت کا معاملہ فرماتے۔ گھر آکر ہر چھوٹے بڑے کو خود ہی سلام کرتے۔ محمد طلحہ سلمہٗ جب بھی رات کو روتا تو حضرت صاحب اور امی جان فوراً اٹھ کر آجاتے۔ معلوم فرماتے کہ رونے کی کیا وجہ ہے؟ اور مزید والدہ صاحبہ سے فرماتے کہ ’’طلحہ کو باہر لے لو، ان لوگوں کو صبح مدرسے بھی جانا ہے۔ ہم سنبھال لیں گے‘‘، ایسا کئی دفعہ ہوا۔ اور صبح کے وقت جب حضرت صاحب مطالعہ کرتے تو بچوں کی سیٹر اپنے قریب رکھ لیتے، سیٹر ہلاتے رہتے اور مطالعہ فرماتے رہتے۔
حضرت صاحب کی نظر میں بہوؤں اور بیٹیوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔ ایک موقع پر جب بندی کے کمرے میں حضرت صاحب نے گرمی محسوس فرمائی تو فوراً اپنا کمرہ ہمارے لیے خالی فرما دیا اور فرمایا: ’’جب تک گرمیاں ہیں، یہیں رہو، میں کہیں اور سو جاؤں گا‘‘ اور منع کرنے کے باوجود انتہائی مشقت کے ساتھ دوسرے کمرے میں تشریف لے گئے اور تمام گرمیاں ایسا ہی معمول رکھا۔ اگر کوئی کبھی بیمار ہو جائے تو اس کی صحت کے بارے میں انتہائی مشوش رہتے اور ہر طرح سے آرام کی نصیحت فرماتے اور صحت اور غذا کا خود خیال فرماتے اور خاص اپنی نگرانی میں کھلاتے پلاتے۔
حضرت صاحب ہر ایک کی چھوٹی بڑی ضروریات، ان کے خانگی معاملات، راحت و آرام پہنچانے اور گھریلو اسباب مہیا کرنے میں سب سے زیادہ پیش پیش رہتے۔ ہر موقع پر ہر ایک کے دکھ سکھ، خوشی غمی، صحت بیماری سے مکمل باخبر رہتے۔ میرے شوہر کے ٹونسلز کے آپریشن کے وقت صبح صبح گھر میں خود آکر معلومات لیتے کہ ناشتہ کیا ہوگا، اور بقیہ پورے دن کی کیا ضروریات ہیں۔ پھر ان تمام ضروریات کو فوراً خود ہی پوری فرماتے گھر کی عورتوں کے آرام کا بھی خاص خیال فرماتے، اپنی ذات کے لیے کبھی بھی سونے والوں کو نہیں جگاتے، چاہے کتنی پریشانی کیوں نہ ہو۔ کوئی بھی چیز اس وقت تک خود استعمال نہ فرماتے جب تک دیگر گھر والوں کو وہ چیز میسر نہ ہو جائے، مثلاً UPS اور ڈسپنسر وغیرہ۔
عشاء کے بعد تھوڑی دیر گھر کی خواتین کے ساتھ بیٹھ کر مجلس فرماتے، جس میں ستر بار درود تنجینا کا ختم ہوتا، تھوڑا بہت مزاح فرماتے، اپنے اسفار کے واقعات سناتے، کچھ کھانا پینا ہوتا۔ گھریلو حالات میں اجتماعیت کو بہت پسند فرماتے اور ساتھ کھانے کی، ساتھ رہنے کی ترغیب فرماتے، خاص کر رمضان کے مہینے میں اس بات کا ضرور اہتمام فرماتے کہ تمام خواتین ایک ساتھ مل کر روزہ کھولیں۔
حضرت صاحب کو خوش کرنے کا طریقہ نہایت آسان تھا، فجر کی نماز اول وقت میں پڑھنا، فجر کے بعد نہ سونا اور تلاوت کرنا حضرت صاحب کو نہایت پسند تھا اور فجر کے بعد سونے کو سخت ناپسند فرماتے۔ سفر میں جانے سے پہلے، اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے سب سے ملاقات کرتے، دعائیں فرماتے اور بطورِ شفقت سب کے سروں پر ہاتھ پھیرتے۔ حضرت صاحب موت کی یاد کثرت سے فرماتے اور موت کے بارے میں اشعار سناتے اور فرماتے کہ ’’جب میرے انتقال کی خبر سنو تو رونا نہیں بلکہ وضو کر کے دو رکعت فوراً ادا کرنے کے لیے کھڑی ہو جانا‘‘۔