مضامین

ابا جان رحمہ اللہ کے آخری ایام

صاحبزادہ مولانا محمد زکریا مدنی

اس ناکارہ اور ہم تمام اہلِ خانہ کے حق میں جمعرات کا دن، ۳ ربیع الثانی ۱۴۳۴ھ بمطابق ۱۴ فروری ۲۰۱۳ء کبھی بھلایا نہ جا سکے گا۔ اس دن ہمارے والد ماجد، شیخ و مرشد، مشفق و مصلح، استاذ و مربی، عالم ربانی، ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک، ہماری کل کائنات اس عالم آب و گل کی سرحد عبور کر گئے۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کا سانحہ ارتحال کس قدر غموں کا پہاڑ لیے تھا، اس سانحہ نے ہمیں غمی اور خوشی کے حقیقی مفہوم سے آشنا کر دیا۔ اِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى۔ اللہ پاک نے آزمائش میں صبر کرنے کا جو حکم دیا ہے اور صبر کرنے پر اس قدر ثوابِ عظیم کے وعدے فرما رکھے ہیں، آج معلوم ہو رہا ہے کہ یہ ثواب عظیم کس لیے ہے؟ اس غم نے ہمیں اس حقیقت سے روشناس کر دیا۔ حضرت والد ماجد ہم اہلِ خانہ کی زندگی کے ہر پہلو میں ہمارے لیے رہنما تھے۔ ان کی ذاتِ بابرکات متنوع اور کثیر جہات سے ہم پر شفیق و مہربان تھی۔ زمانہ کی اونچ نیچ میں لفظ ’’ابُّو‘‘ سہ حرفی کلمہ ہمارے لیے ہفت اقلیم کی سلطنت سے بڑھ کر تھا، ان کی آغوش میں آکر ہماری ہر قسم کی بے چینی و اضطراب، فرحت، سکون و اطمینان سے بدل جاتی تھی:

مَا كَانَ قَيْسٌ هَلْكُهُ هَلْكَ وَاحِدٍ      وَلَكِنَّهُ كَانَ بُنْيَانَ قَوْمٍ تَهَدَّمَا

ہمارے لیے واقعی قابل نصیحت اور لائق تقلید سبق ہے کہ ابا جی رحمہ اللہ کے دل میں بالکل دنیا کی اور مال کی محبت تھی ہی نہیں۔ آپ کا کوئی اکائونٹ کسی بینک میں اور نہ کوئی لاکر اپنا، نہ ہی اپنی اولاد کا کسی کا بھی زیر استعمال نہیں تھا۔ جس شخص نے ساری زندگی جہد مسلسل کے ساتھ گزاری، ۱۰ سے ۱۵ سال دیارِ حبیب صلی اللہ علیہ وسلم میں رہ کر اپنا گھر بنایا، شادی کی، اولاد ہوئی، بارہ ذکور و اناث کو عقدِ زواج میں منسلک کر کے ان کی دنیوی و دینی تربیت کو اپنا اولین فرضِ منصبی بنائے رکھا جن میں پانچ بیٹیاں بھی شامل ہیں۔ ایسے حالات میں کاروبار، تجارت، لین دین کے متعدد تقاضے انسان کو کس طرح پھنسائے رکھتے ہیں لیکن آفرین ہے ابا جان رحمہ اللہ پر کہ اپنے آپ کو کس طرح ان سے بچائے رکھا، کہ ان معاملات سے بالکل پاک و صاف کر لیا اور ان سب ضروریات سے گزر کر بھی بالکل صوفی منش سادی سی زندگی اپنی مختصر سی کائنات پر گزارا کرنے لگے۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ (الحدیث) کا وہ واقعی عملی نمونہ تھے۔

اپنی زندگی کے آخری رمضان میں خاص کر دعائوں میں گریہ و زاری کا غلبہ انفراداً و اجتماعاً رہا۔ خاص کر اللّٰھم انی أسألک الرضا بعد القضاء وبرد العیش بعد الموت ولذۃ النظر الی وجہک، والشوق الی لقائک، وأعوذبک من ضراء مضرۃ وفتنۃ مضلۃ وغیرہ دعائیں گڑگڑا کر مانگنا خوب یاد ہے… اس رمضان المبارک کے بعد ماہِ شوال میں پھر سے پُر عزم اور مدرسہ کے تمام معاملات میں خوب نشاط و محنت کے ساتھ منہمک ہو گئے۔ مجھے غالب گمان تقریباً یقین کے قریب قریب ہے کہ آپ کی اہم دعا ’’یا اللہ! کسی اعلیٰ دینی خدمت میں لگے ہوئے مجھے اپنی طرف منتقل فرما‘‘ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ ’’ڈاکٹروں، نرسوں، نامحرموں کی، کشف ستر والی موت سے ہماری حفاظت فرما‘‘۔ یہ دعا تو آپ کی زندگی کا تقریباً وظیفہ رہی۔ اللہ پاک نے مدرسہ کی خدمت، طلبہ کی تعلیم و تربیت، مریدین کی اصلاح و ارشاد، مہماتِ مدرسہ اور اس کی فلاح و بہبود تعمیر و ترقی کی فکر وغیرہ وغیرہ امور کو سمیٹتے ہوئے ابا جی رحمہ اللہ کو اپنی طرف منتقل فرمایا۔

امسال طلبہ و طالبات میں اسباق بھی خوب پڑھائے، اپنی ہمت سے بڑھ کر پابندیٔ وقت کے ساتھ اپنا درس حدیث دیا۔ اس عاجز و ناکارہ کا سبق کئی سال سے حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کے سبق کے بعد ہوا کرتا تھا۔ اپنے اعذار و امراض اور دیگر مصروفیاتِ مدرسہ کی وجہ سے مجھے آئے دن حکم ہوتا کہ تم میرا گھنٹہ بھی پڑھانا۔ آج گھنٹہ تبدیل کرلو، میں تمہاری جگہ گھنٹہ لے لوں گا اور تم میرا۔ اس طرح تو سالہاسال کا معمول تھا اور اس عاجز کو فائدہ یہ ہوتا کہ سبق زیادہ پڑھانے کا موقع مل جاتا۔ لیکن امسال معاملہ برعکس تھا، اپنا سبق پڑھانے کے بعد میرا گھنٹہ بھی حضرت والد ماجد رحمہ اللہ پڑھا دیا کرتے۔ کبھی بعد میں فرمادیتے ’’معاف کرنا میں نے تمہارا گھنٹہ بھی پڑھادیا‘‘۔

۲۷ دسمبر بروز جمعرات شعبۂ بنات میں اپنا آخری درس دیا اور وقت کا اندراج بھی فرمایا۔ اس کے بعد ۳۰ دسمبر بروز اتوار امتحان سہ ماہی کے سلسلہ میں تقریب منعقد ہوئی جس میں حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کا آخری بیان ہوا۔ اس میں بھی اپنی دنیا سے بے رغبتی اور مدرسہ کی ابتداء کی مکمل روئیداد سنائی۔ اپنے بڑے بھائی صاحبان خاص کر جناب شیخ ذکر الرحمن رحمہ اللہ اور جناب الحاج حافظ فیروز الدین دام ظلہم کی خدمات، مدرسہ کے ساتھ ہر نوع کے تعاون اور ان کے احسانات کو ذکر فرمایا۔ مدرسہ کا مسلک و مشرب پڑھ کر سنایا اور مدرسہ کی بنیاد اور اس کے نہج اور طرز کو واضح فرمایا۔ اور جیسا کہ بارہا مجالس میں آپ کو دیکھا جاتا کہ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کچھ پیشگی منصوبہ بندی کے بغیر بیان فرماتے۔ دعا فرمادیتے پھر دوبارہ اپنے سلسلۂ کلام کو شروع فرماتے۔ ایسا ہی کچھ اس دن ہوا۔ دعا کے بعد دوبارہ مدرسہ کی ابتداء، بنیاد، مقاصد کو تفصیل سے بیان فرمایا اور الدِّينُ النَّصِيحَةِ پر عمل کرتے ہوئے خیر خواہی، وعظ و ارشاد پر مشتمل مواعظ ارشاد فرمائے۔ اس میں یہ بھی فرمایا: ’’مجھے اس دنیا میں رہنے کی کوئی تمنا نہیں رہی، ایک صحابی کے बारे میں آتا ہے: شَهِيدٌ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ میرا حال بھی کچھ اس جیسا ہے‘‘ أو كما قال۔ بہرحال تقدیر الٰہی سے یہ بیان آخری ثابت ہوا۔

اس کے بعد جنوری کے پہلے ہفتہ میں بظاہر معمول کے مطابق طبیعت نرم گرم رہی۔ اسی دوران ایک دن مجھ سے فرمایا: ’’مجھے نیند زیادہ آرہی ہے، سو کر اٹھنے کو دل نہیں چاہتا‘‘۔ میں نے عرض کیا کہ کوئی دوا تو نہیں لے رہے؟ تو فرمایا کہ ’’نہیں پھر بھی نیند بہت آ رہی ہے‘‘۔ جنوری کا مہینہ شروع ہو چکا تھا۔ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کو سردی بہت ہی زیادہ لگتی تھی، اس کے لیے ہیٹر اور گرم بوتل سے سکائی اور پھر لحاف اوڑھ کر بھی سردی میں کپکپاتے رہتے تھے۔ ان دنوں بھی حضرت والد ماجد رحمہ اللہ نے ہیٹر وغیرہ استعمال کرنا شروع فرمادیا تھا۔ غالباً ۱۰ جنوری یا ایک دو دن پہلے سے کھانے پینے میں کمی اور معمولات میں فرق آگیا تھا۔ ایک دن بخار چڑھ گیا۔ زکریا حاضر ہوا تو كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ ۝ وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ ۝ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ آیات تلاوت فرما رہے تھے۔ خیریت دریافت کی تو فرمایا کہ ’’دعا کرو کہ بس اللہ پاک عافیت کے ساتھ اپنے وقت پر مجھے اپنے پاس بلالے، بس اب یہی دعا کیا کرو‘‘۔ کچھ دیر کے بعد طبیعت میں بہتری محسوس کی تو بہت ساری باتیں فرمائیں۔ بہت سی باتیں ہماری معاش سے متعلق اور بہت سی معاد سے متعلق اور فکر آخرت سے متعلق۔ اس کے بعد کسی دن مغرب کے بعد اور کبھی عشاء کے بعد اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے نیند کا غلبہ ہو جاتا تھا اور کبھی ایک جانب جھک جاتے تھے۔ تو آپ کو دو بھائی سہارا دے کر اندر کمرے میں لٹا دیتے۔

بیماری کا سن کر ہماری پھوپھی صاحبہ بھی ان دنوں آئیں اور چچا محترم شیخ فرید احمد صاحب تشریف لائے۔ بروز اتوار ۱۳ جنوری کو عالمگیر مسجد میں مولانا سہیل الرحمن صاحب استاذِ حدیث مدرسہ معہد الخلیل کی بیٹی کا نکاح تھا۔ جو حضرت والد صاحب نے پڑھانا تھا۔ ایک دو دن پہلے اس کا بھی تذکرہ ہوا اور یہ بھی بات آئی کہ نکاح کون پڑھائے گا؟ تو فرمایا کہ ’’لوگ کہہ رہے ہیں کہ میں پڑھائوں گا، پتہ نہیں کون پڑھائے گا؟‘‘۔ چنانچہ اتوار بعد نمازِ عصر نکاح میں شریک ہوئے لیکن خود نکاح نہیں پڑھا سکے۔

۱۴ جنوری بروز پیر رات کو ٹبہ ہسپتال تشریف لے گئے۔ ہسپتال جانے سے ہمیشہ بچا کرتے تھے، لیکن طبیعت میں مسلسل بے چینی، سردی، گھبراہٹ وغیرہ امور دیکھ کر محترم جناب حافظ محمد شاہد صاحب نے ڈاکٹر اسد اللہ کنڈی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور ان کی ہدایت پر جناب حافظ صاحب اور بھائی محمد مدنی وغیرھم ٹبہ ہسپتال لے کر چلے گئے۔ ٹبہ ہسپتال میں معمول کی کاروائی جاری رہی۔ ڈاکٹر بشیر حنیف جو ٹبہ ہسپتال میں اس وقت سب سے سینئر ڈاکٹر تھے ان کے زیرِ نگرانی داخل کیا گیا۔ منگل کے بعد والی رات اس عاجز کو ہسپتال میں ٹھہرنے کی سعادت حاصل رہی، طبیعت خوب حاضر تھی خود اٹھ کر بیت الخلاء گئے اور ہسپتال میں وضو کے لیے گرم پانی طلب فرمایا۔ بعض نمازوں میں امامت کا شرف احقر کے حصے میں آیا۔

بروز جمعرات، ۴ ربیع الاول طبیعت بظاہر بہتر رہی۔ جمعہ ۵ ربیع الاول کو والد صاحب گھر آگئے۔ رات کو چچا جان جناب شیخ فرید احمد صاحب اور پھوپھی صاحبہ اور دیگر اہلِ خانہ والد صاحب کے ارد گرد جمع تھے۔ پیشاب کے کم آنے کی شکایت ہسپتال میں ہوگئی تھی اور ڈاکٹر صاحب نے بھی اسی شرط کے ساتھ بھیجا تھا کہ اگر پیشاب آنے میں کمی ہو تو فوراً واپس آیئے گا۔ رات کچھ دیر گفتگو رہی۔ بہت مشکل سے ایک آدھ نوالہ کھانے میں لیا۔ طبیعت کو اُبھارنے کے لیے بازار سے کچھ سامان منگوایا تھا جو موافق نہیں آیا۔ وہیں چوکی پر بیٹھے بیٹھے نماز وغیرہ سے فارغ ہوئے۔ خود چل کر حمام تشریف لے گئے اور یوں فرمایا کہ ’’کمزوری بہت ہو گئی ہے‘‘۔ رات والد محترم کے ساتھ والدہ صاحبہ کے علاوہ بھائی خلیل احمد بھی تھے۔

صبح بروز ہفتہ ۶ ربیع الاول نماز وغیرہ سے فراغت کے بعد کچھ ناشتہ کر کے دوائی لی لیکن اب قابلِ تشویش بات یہ تھی کہ پیشاب بالکل نہیں آرہا تھا۔ تقریباً ساڑھے بارہ بجے تک یہی کیفیت رہی۔ چنانچہ دوبارہ ٹبہ ہسپتال لے جایا گیا۔ شام تک ایمرجنسی وارڈ میں ہی رہے، پھر رات کو اسپیشل وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔ میری بڑی ہمشیرہ نے یخنی بنا کر بھیجی جو اس فقیر نے اپنے ہاتھ سے کچھ پلانے کی سعادت حاصل کی۔ ۷ ربیع الاول بروز اتوار ڈاکٹروں کی تشخیص ہوئی کہ گردے کمزور ہو گئے ہیں اس کے علاج کی مختلف صورتیں قابلِ غور رہیں اور بدرجۂ مجبوری ڈائیلاسس شروع کیا گیا جو ایک ایک دن کے وقفے سے ہوتا رہا۔ ۹ ربیع الاول سے طبیعت میں کمزوری بڑھتی جا رہی تھی، کھانا پینا کم ہوتا جا رہا تھا، غنودگی زیادہ رہنے لگی تھی، مگر اس حال میں بھی توجہ الی اللہ اور ذکر میں مشغول رہتے، وقتاً فوقتاً کلمہ طیبہ زبان پر جاری رہتا۔

۱۱ ربیع الاول بروز جمعرات کو دوائوں کے اثر کی وجہ سے طبیعت میں بہت بے چینی رہی۔ مسلسل مجھے اٹھائو، مجھے بٹھائو، مجھے کمرہ سے باہر لے کر چلو فرماتے رہے۔ گردوں کے عمل کی کمزوری کی وجہ سے پیشاب آنا کم ہوا، اور اس سے دل متاثر ہوا، اور گزشتہ کل سے ڈاکٹروں کی یہ رائے بھی ہوئی کہ جگر میں ورم ہو گیا ہے، اس ورم کو دیکھنے کے لیے انڈواسکوپی تجویز ہوا۔ رات کو انڈواسکوپی ہوئی ۔ ڈاکٹر نے اس میں تشویش کا اظہار کیا۔ یہ رات CCU میں گزاری۔

12 ربیع الاول غالباً قبیل نمازِ فجر مجھے طلب فرمایا اور فرمایا کہ ’’میں نے تم سب کو معاف کردیا۔ تم بھی مجھے معاف کردینا‘‘۔ یہ بات ایک عرصہ سے معمول میں داخل تو تھی، لیکن اس طرح رات کے آخری پہر طلب کرکے یہ فرمانا قابلِ تشویش تھا۔ کچھ دیر خاموشی کے بعد فرمایا کہ ’’میرا تو ۱۵، ۲۰ منٹ پہلے انتقال ہونے والا تھا‘‘۔ اس کے بعد اپنے وارڈ بوائے سے بھی کہا کہ ’’بھائی مجھے معاف کردینا‘‘۔ جمعہ کے دن مرض کی کیفیت کو دیکھ کر ڈاکٹر صاحبان، چچا جناب شیخ فرید احمد صاحب اور اہلِ خانہ کی طرف سے یہ رائے ہوئی کہ آغا خان ہسپتال منتقل کیا جائے۔

چنانچہ اگلے دن ۱۳ ربیع الاول بروز ہفتہ آغا خان ہسپتال کی ترتیب بنائی گئی۔ یہ فقیر حاضر ہوا تو طبیعت کافی ہشاش بشاش تھی۔ مجھ سے پوچھا کہ ’’تم عمرہ کر کے آگئے؟‘‘ میں اس سوال پر چونکا۔ کیونکہ والد محترم نے کئی مجالس میں اس فقیر کے ساتھ عمرہ کی ترتیب بنا رکھی تھی۔ میں نے کہا کہ ان شاء اللہ آپ کے ساتھ سفر ہوگا۔ مجھ سے کہا: ’’چلو گھر چلو‘‘۔ میں نے کہا: ابھی ایمبولینس آرہی ہے۔ فرمایا: ’’اس کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ میں نے کہا کہ آپ کو سہولت رہے گی۔ چلنا نہیں پڑے گا۔ فرمایا: ’’ٹھیک ہے‘‘۔

امن ایمبولینس کے ذریعے آپ کو آغا خان منتقل کیاگیا۔ ۱۴ ربیع الاول بروز اتوار عیادت کرنے والے حضرات بکثرت آتے رہے۔ ۱۵ ربیع الاول پیر کو اسپیشل روم میں منتقل کئے گئے اور تین دن تک یہیں دیکھ بھال ہوتی رہی۔ نالی کے ذریعے غذا دی جاتی رہی اور مختلف بلڈ ٹیسٹ لیے گئے۔ ڈاکٹر حضرات خیریت وغیرہ دریافت کرتے رہے۔ حضرت والد رحمہ اللہ نے جب دیکھا کہ وہ میری بات نہیں سمجھ رہے تو قلم کاغذ منگوایا اور اپنی خیریت انگریزی میں لکھ کر دی۔ ۱۶ ربیع الاول اور اگلے دن کی رات گزارنے کی سعادت اس خادم کے حصہ میں رہی، رات متعلقہ ڈاکٹر عملہ کو کھانے اور دیگر ضروریات کے بارے میں بتانا، ان سے کام لینا اور دن میں دیگر برادران مسلسل علاج اور ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرتے رہے۔

بدھ اور جمعرات ۱۷، ۱۸ ربیع الاول کو کچھ غنودگی میں اور کچھ وقت استحضار کے ساتھ گزرا۔ ڈاکٹر حضرات، مستقل معائنوں اور دوائوں کے ساتھ ساتھ بے اطمینانی کا اظہار کرتے رہے۔ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ جب کچھ استحضار محسوس فرماتے تو گھر چلنے پر اصرار فرماتے۔ حضرت شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب ادام اللہ ظلال مجدہم علینا کو والد ماجد کی صحت کے حوالہ سے فون پر مطلع کیاگیا۔ حضرت والا نے والد ماجد کے قریب کھڑے ہو کر پانچ سو دفعہ ’’يا سلام‘‘ اور آیاتِ شفاء پڑھ کر دعا مانگنے کا فرمایا۔ الحمدللہ! جہاں صلوٰۃ تنجینا کا ختم، ختمِ خواجگان، سورۂ یٰس کا ختم وغیرہ کا جو معمول گھر میں اور صبح کے اوقات میں طلبہ اور طالبات میں چل رہا تھا اس کے ساتھ اس ختم کو بھی شامل کیاگیا۔ اسی دوران مختلف احباب صحت و مرض کے متعلق خواب بھی دیکھتے رہے۔ ایک خواب یہ بھی دیکھا گیا کہ بروز جمعرات دوپہر کے وقت وصال ہو گیا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ ہفتہ کے روز صحت کے ساتھ گھر تشریف لا رہے ہیں۔ آغا خان میں ایک خاص عمل یہ دیکھا کہ بار بار مسواک طلب فرماتے۔ ایک بیٹے نے مسواک دی، کچھ وقت بعد دوسرے بیٹے سے مسواک طلب فرماتے۔ اللہ پاک نے اس شدتِ مرض میں آقا سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرایا کہ ہمارے آقا نے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ہاتھ میں مسواک دیکھ کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنها سے مسواک طلب فرمائی تھی۔

جمعہ کے دن ۱۹ ربیع الاول، یکم فروری کو حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کے معالج کی ڈیوٹی تبدیل ہو جانے کی وجہ سے ڈاکٹر جنید پٹیل صاحب نے والد محترم کو دیکھنا شروع کیا۔ مذکورہ بالا ڈاکٹر صاحب بظاہر کلین شیو ہیں لیکن حضرت والد ماجد اور ہم بھائیوں کو دیکھ کر کہنے لگے کہ آپ کے والد ماجد رحمہ اللہ نے ان حالات میں خاص وصیت فرما رکھی ہوگی۔ آپ لوگ اس موقع پر ہسپتال میں کیوں ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ یہ ڈاکٹر صاحب حضرت والد ماجد رحمہ اللہ اور ہمارے مزاج سے خوب واقف نکلے۔ اب ہسپتال سے منتقلی کے طریقۂ کار پر غور کیا جانے لگا۔ ہسپتال کے اصول میں یہ ممکن نہ تھا کہ اس حالت میں مریض کو چھٹی دی جائے اور کیا گھر پر اس طرح نگہداشت اور آرام و علاج ممکن بھی ہے؟ بھائیوں اور بہنوں کے مسلسل مشوروں اور بڑوں کی سرپرستی میں اس پر غور ہوتا رہا۔ بہرحال ہسپتال میں سہولیات تھیں۔ یہی سہولیات بمعہ تیمارداران کے اور ڈاکٹر حضرات کے معائنہ اور فزیو تھراپی وغیرہ، ان سب امور کو سامنے رکھ کر بحمداللہ ہسپتال سے گھر منتقلی کی ترتیب بنائی گئی۔ اگلا سارا دن انتظامات اور ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے لوازمات میں کام آیا۔ بعد از نمازِ عشاء ایمبولینس میں گھر تشریف آوری ہوئی۔

گھر میں داخل ہونے تک بالکل حرکت نہ تھی، لیکن گھر میں داخل ہوتے ہی ہر شخص کو پہچاننے لگے بلکہ باقاعدہ گفتگو فرمانے لگے۔ ہم سب اہلِ خانہ کو ایک طرف خوشی تھی اور دوسری طرف انتہائی تشویش، کہ اچانک یہ تبدیلی کیسے ہے؟ اللہ پاک ہی فضل فرمائے۔ رات تقریباً دو بجے کے قریب خیال ہوا کہ آکسیجن کا سلنڈر ختم ہونے والا ہے۔ اسی وقت گاڑی میں لے جا کر مزید دوسرا سلنڈر لانے کی کوشش کی گئی۔ تقریباً تین بجے سے پہلے یہ سامان لے کر گھر پہنچا۔ رات تقریباً ساری جاگ کر ہی گزری۔ مولوی ابراہیم شاہد اور مولوی احمد بلال سلمہما رات بھر ساتھ رہے۔

اگلے دن بروز اتوار ۲۱ ربیع الاول صبح کی غذا، دوا، کچھ آرام وغیرہ کے بعد قرب و جوار سے اساتذہ، طلبہ کے علاوہ دیگر رشتہ دار ملاقات کے لیے آتے رہے اور ہر ایک کو پہچان کر اُن سے ان کے حسبِ حال گفتگو فرماتے رہے۔ دوپہر کو پھر کچھ وقفہ کے بعد یونہی آنے جانے کا سلسلہ لگا رہا۔ ہمارے چچا جان جناب شیخ حافظ فیروز الدین صاحب ان دنوں علیل چل رہے تھے اور ان کے سر سے آپریشن کے ذریعہ بلڈ نکالا گیا تھا، وہ بھی اپنی بیماری اور شدید معذوری کے ساتھ تشریف لائے اور حضرت والد صاحب رحمہ اللہ سے گفتگو فرماتے رہے۔ اب حضرت والد ماجد رحمہ اللہ نے نمازیں اشارے سے پڑھنی شروع کردی تھیں۔ آپ کی چارپائی کو قبلہ رخ کردیا جاتا۔ کوئی بھائی امامت کراتا، آپ اس کی اقتداء میں نماز ادا فرماتے۔ ہمارے بہنوئی حافظ شکیل سلمہ عیادت کے لیے آئے تو والد محترم نے ان کے سامنے بآوازِ بلند پڑھنا شروع کیا: ’’مِنْ رَبُّكَ؟ … رَبِّيَ اللَّهُ … مَا دِينُكَ؟… دِينِي الْإِسْلَامُ …مَنْ رَسُولُكَ الخ‘‘۔

رات ٹھہرنے کی سعادت اس عاجز کے حصے میں آئی۔ اٹھانا، بٹھانا، حرکت دیتے رہنا، مسلسل حرکت کے ذریعہ خود بھی بیدار رہے اور ساتھی بھی بیدار رہے۔ رات ایک موقع پر مجھ سے فرمایا: ’’تم کون ہو؟‘‘ میں نے کہا: آپ مجھے نہیں پہچان رہے؟ تو فرمایا: ’’نہیں‘‘۔ میں نے پھر کہا: آپ مجھے پہچانتے ہیں… بند آنکھوں کے ساتھ فرمایا: ’’نہیں‘‘۔ میں نے کہا کہ آپ کے تیسرے نمبر کے بیٹے کا کیا نام ہے؟ تو فرمایا: ’’زکریا… زکّو… زکریا‘‘۔ میں نے کہا: بالکل صحیح پہچانا۔ کچھ دیر گزرنے کے بعد کہا کہ مجھے نمکو لادو۔ وہ لاکر پیش کیا گیا۔ پھر بالکل آخری پہر بوتل کا مطالبہ کیا، بوتل لے کر آئو۔ پھر کچھ فرماتے رہے یہاں تک کہ اذانِ فجر ہو گئی۔ اذان سن کر پھر اُٹھنے کا ارادہ فرمایا۔ الحمدللہ، معلوم ہو رہا تھا کہ استحضار ہوتا جا رہا ہے۔

۲۴ ربیع الاول تک طبیعت بہتر رہی۔ مختلف امور کے متعلق گفتگو اور مدرسہ کے متعلق معلومات لیتے رہے۔ انہی دنوں میں ایک دن بعد نمازِ مغرب ہم برادران اور دیگر احباب و ذمہ داران مدرسہ جمع تھے تو بآوازِ بلند فرمایا: ’’میرے مدرسے کے مہتمم مولوی محمد الیاس صاحب ہیں‘‘۔ ذکر اللہ کی بار بار کثرت فرماتے رہے، ایک مجلس میں مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ پڑھتے رہے اور دَخَلَ الْجَنَّةَ والے جملے کو بار بار پڑھتے۔ بیماری کے دوران جب بھی کچھ وقت خاموشی میں گزرتا تو پھر لا الٰہ الا اللہ کو بآوازِ بلند مخصوص ضرب کے ساتھ پڑھا کرتے۔

ایک دفعہ مجھے بلا کر فرمایا کہ ’’میری آخری خواہش ہے کہ جب میرا انتقال ہو تو میرے ساتوں بیٹے میرے پاس ہوں۔ تین میرے داہنی جانب اور تین میرے بائیں جانب اور ایک سامنے پائینتی کی طرف‘‘۔ طبیعت میں شدید تقاضا تھا کہ کھانے کی نالی اتار دی جائے اور منہ سے غذا لوں۔ ڈاکٹر فاروق راجہ مرحوم جو ساتھ تھے ان سے بھی تقاضا کیا انہوں نے بھی کچھ وقت لگائے رکھنے کو کہا۔

ان تین دنوں میں مدینہ طیبہ کے سفر کا تقاضا بھی فرماتے رہے۔ ہمارے بہنوئی مفتی سلمان یاسین نیز مولوی احمد بلال وغیرہ سے بھی اس کا تذکرہ فرمایا اور احرام کیسے باندھا جائیگا وغیرہ وغیرہ، سوالات کیے۔ ایک دفعہ والدہ صاحبہ سے بھی فرمایا کہ ’’جلدی کچھ سامان لے لو مدینہ طیبہ کا سفر کرنا ہے‘‘۔ نیز دیگر احباب سے بھی اس کا تذکرہ فرماتے رہے۔

بروز جمعرات ۲۵ ربیع الاول طبیعت ویسی ہی تھی۔ سفرِ مدینہ طیبہ کا تقاضا بھی رہا اور اس حوالے سے مولوی احمد بلال سلمہ کو ایک تحریر بھی لکھ کر دی، جملہ برادران اور بہی خواہان بھی مشورہ کرتے رہے۔ آج رات ڈاکٹر جنید پٹیل صاحب نے گھر آکر معائنہ کرنا تھا۔ بعد نمازِ مغرب ڈاکٹر صاحب آئے اور معائنہ کیا۔ حضرت والد صاحب نے ان سے فرمایا کہ ’’غذا کی نالی کو ہٹا دیں‘‘۔ نیز سفر کا بھی غالباً ذکر فرمایا۔ ڈاکٹر صاحب نے مکمل معائنہ کیا۔ دوائوں میں ردو بدل کے لیے ڈاکٹر خورشید صاحب سے رابطہ کیا۔ دونوں کے مشوروں سے دواء تجویز ہوئی۔ اور کہا کہ آپ بس دو ہفتے اس نالی کو لگا رہنے دیں اور ان دوائوں کا اہتمام فرمائیں۔ ڈاکٹر صاحب نے برادران سے الگ مجلس میں بات کی اور کہا کہ جس طرح چراغ گل ہونے سے پہلے ٹمٹماتا ہے اس وقت یہی کیفیت ہے۔ سفر حجاز کے متعلق تفصیلی گفتگو کی اور فرمایا کہ بس بیٹھنے کے قابل ہو جائیں تو سفر کر لیں، اس وقت سفر کرنے کے لیے آپ کو بہت سارے جھوٹ بولنے پڑیں گے۔ (بس یہ خیال ہوا کہ چند دن میں وھیل چیئر پر بیٹھنے کے قابل ہونے ہی والے ہیں، تب سفر کی ترتیب بن جائے گی)۔

ہفتہ والے دن ۲۷ ربیع الاول صبح گیارہ بجے کا وقت ہوگا۔ میرے بھانجے مولوی ابراہیم شاہد کا فون آیا کہ ابّا بلا رہے ہیں۔ زکریا سبق پڑھا رہا تھا۔ اس اچانک مطالبہ پر حاضر ہوا۔ مجھے دیکھ کر پورے استحضار کے ساتھ فرمایا کہ کل جو حدیث پڑھی جا رہی تھی اُسی طرح کر لینا، زکریا نے سر ہلایا، لیکن یہ سمجھ کر کہ شاید سوال و جواب سے تکلیف ہوگی، خاموش رہا۔ اسی طرح مفتی سلمان یاسین صاحب سے بھی کہا۔ مجھے پھر طلب کیا اور یہی بات فرمائی۔

بروز اتوار ۲۸ ربیع الاول چچا جان جناب شیخ حافظ فیروز الدین صاحب وھیل چیئر پر تشریف لائے۔ بڑے تایا جان جناب شیخ عطاء الرحمن وغیرہ حضرات بھی تشریف لاتے رہے۔ آج سے زکریا نے غور کیا اشارہ سے نماز پڑھنے کا طریقہ جو کچھ دن پہلے شروع کیا تھا اس میں بھی استحضار کم ہوتا جا رہا تھا اور نماز کے دوران بھی یاد نہیں رہتا تھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں یا نہیں۔

اتوار کے بعد رات برادرم مولانا یوسف مدنی صاحب ٹھہرے، ساری رات بے چینی میں گزری۔ پیر ۲۹ ربیع الاول اور منگل یکم ربیع الثانی خاموشی اور سکوت سے گزرے۔ حرکت، کلام، سلام بالکل بند، کسی نے کچھ پوچھا تو بمشکل سر کے اشارہ سے جواب دیا۔ اس کیفیت کو دیکھ کر پھر ڈاکٹر صاحب سے وقت لیا گیا۔ پیر کے بعد رات کو ٹھہرنے کی سعادت اس عاجز کے حصے میں آئی تھی۔ پنکھے کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے کہا: کھول دوں؟ فرمایا: ’’ہاں‘‘۔ رات بھر دس بیس منٹ کے وقفہ سے آواز لگاتے۔ غالباً تکلیف کی وجہ سے یا بے چینی تھی۔ اٹینڈنٹ بھی رات بھر کروٹ دلاتا رہا، کبھی سر اوپر کر دیا اور کبھی تکیہ نکال دیا۔ شاید رات بھر میں ایک گھنٹہ یا زائد آرام فرمایا ہو۔

منگل کا دن خاموشی سے گزرتا گیا، ڈاکٹر خورشید صاحب سے وقت لے کر ان کے پاس معائنہ کے لیے لے جایا گیا۔ مولانا الیاس صاحب، مفتی محمد مدنی، حافظ شاہد صاحب وغیرہ حضرات ساتھ گئے۔ تقریباً رات عشاء کی نماز کے قریب واپسی ہوئی۔ بھائی جان نے آکر بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے اور یہی بتلا رہے ہیں کہ طبیعت ڈائون سے ڈائون ہوتی جارہی ہے۔ بدھ کا دن بھی بالکل سکوت اور خاموشی سے گزرا کوئی بات نہیں ہوئی۔ بالکل اب تو کسی کے آنے اور جانے پر بھی کچھ اظہار کرنا ختم کردیا تھا۔

بعد نمازِ عشاء ڈاکٹر جنید صاحب پھر تشریف لائے اور آکر سلام کیا۔ کوئی جواب نہیں دیا۔ زکریا نے بآواز کہا کہ ڈاکٹر جنید صاحب آئے ہیں تو سر کو معمولی سا حرکت دے کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اشارہ کیا۔ حضرت! کیسے ہیں؟ ڈاکٹر صاحب کا سوال تھا۔ سر کو معمولی سا حرکت دے کر خیریت کا جواب دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے معائنہ کیا۔ کمرے میں ہوا کی آمد و رفت کے لیے کھڑکی کھلوائی اور ہم بھائیوں کو باہر طلب کیا۔ ہم سے باتیں کرتے ہوئے اشارہ، کنایہ، صراحت سے ہمارا ذہن بنانے لگے۔ پیشاب آنا بند ہوگیا تھا، اسباب کے درجے میں ڈرپ لگائی۔ ہمیں کہا کہ اس وقت میں آپ حضرات ان کے قریب بیٹھنا چاہیں، بیٹھ جائیں، ہاتھ لگائیں یا نہ لگائیں، یہ آپ حضرات کی مرضی ہے۔ حضرت اس وقت سب کچھ سمجھ رہے ہیں، یہ میں نہیں کہہ سکتا۔ لیکن حضرت کچھ بھی نہیں سمجھ رہے، یہ میں نہیں کہوں گا۔ حضرت کی روحانیت کس قدر بڑھ چکی ہے میں اس کو نہیں سمجھ سکتا۔ ڈاکٹر صاحب نے مزید واضح الفاظ میں فرمایا کہ آپ حضرات کلمہ پڑھانا چاہیں، پڑھا لیں۔ میرے خیال میں کچھ بھائی موجودہ حالت کی فکر کریں اور کچھ بھائی آگے کے مرحلہ کی تیاری کریں۔ ڈاکٹر صاحب نے مزید کہا کہ اس وقت میں کبھی تکلیف کی شدت ہو جاتی ہے، اس کے لیے دوا دینی پڑتی ہے۔ ایک دواء کا نام لے کر فرمایا کہ میں اس کے متعلق شریعت کا مسئلہ بھی حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب سے معلوم کر چکا ہوں۔ اگر ضرورت پڑے تو وہ بھی دی جا سکتی ہے۔ پھر سوال کرنے پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ تکلیف کی جہاں شدت ہوتی ہے یہ دوا اس جگہ کو سن کردیتی ہے، لیکن دوا دینے کے بعد کبھی مریض کومے میں چلا جاتا ہے۔ اس لیے اس دوا کو دینے نہ دینے کا آپ کو اختیار ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی کہا کہ یہ چار اسٹیپ ہوتے ہیں اور میرے خیال میں یہ تیسرا اسٹیپ ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے جانے کے بعد حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کے پاس مجلس ذکر کا انعقاد ہوا۔ تقریباً آدھ گھنٹہ کے قریب مجلس ذکر رہی۔ والد ماجد رحمہ اللہ خاموش تھے۔ آنکھیں بھی کھول دیتے تھے، لیکن زبان سے کوئی کلمہ نہیں فرماتے۔ کبھی ذکر بالجہر میں افراد و احباب کے زیادہ ہونے کی وجہ سے آوازیں کچھ بلند بھی ہو جاتی۔ اس عاجز فقیر نے ڈاکٹر فاروق راجہ صاحب سے کہا کہ ایسا তো نہیں کہ ہمارے زور سے ذکر بالجہر کرنے کے سبب حضرت بے آرامی کا شکار ہو رہے ہیں؟ حضرت نے فرما رکھا تھا کہ جب ڈاکٹر تشویش کا اظہار کردیں اور کہہ دیں کہ آخری وقت ہے تو ذکر بالجہر شروع کردینا۔ ڈاکٹر فاروق صاحب نے کہا کہ آپ लोग حضرت کی راحت کا سامان کر رہے ہیں۔ رات بارہ بجے کے بعد کچھ سکون اور خاموشی سی ہو گئی۔ تمام برادران اور حافظ شاہد صاحب اور بھائی سلمان وغیرھم رات دیر گئے تک گھر ہی میں رہے۔ بڑے بھائی مولانا الیاس صاحب اور بھانجے مولوی سلیمان شاہد ساری رات کمرہ میں ساتھ ہی رہے۔ رات ایک موقع پر نبض ڈوب سی گئی تھی۔ ڈاکٹر فاروق راجہ مرحوم جو یہیں گھر میں تھے فوراً آئے اور کچھ دیر بعد بظاہر طبیعت علی حالہ واپس آگئی۔

نمازِ فجر کے بعد اشراق تک حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کے ارد گرد مجلس ذکر بالجہر قائم رہی اور احباب نے اذکارِ مسنونہ، تلاوت وغیرہ کا معمول پورا کیا۔ اس دوران والد ماجد بالکل خاموش سے رہے، غالباً بآواز ذکر کرنے کی ہمت نہیں ہو پا رہی تھی۔ ورنہ بیماری کے دوران زبان سے اور بالجہر ذکر کرنے کا معمول بہت ہی بڑھ گیا تھا۔ بغور دیکھنے سے لگتا تھا کہ ہلکی سی آنکھیں کھول رکھی ہوں، لیکن کسی قسم کی حرکت کرنے کی گویا ہمت نہیں تھی۔

تقریباً ۸ بجے کے قریب یہ مجلس ذکر وتلاوت اختتام پذیر ہوئی۔ اس سکون کی کیفیت کو دیکھ کر عقل و دماغ مائوف تھے۔ حاضر باش ڈاکٹر فاروق راجہ صاحب رات بھر ساتھ رہے اور ہمارے گھر ہی ان کا قیام رہا۔ اب بھائی محمد مدنی اور یہ خادم اس کمرے میں رہ گئے تھے اس وقت بالکل سکون کا وقت تھا، ڈاکٹر صاحب نے اس کیفیت کو دیکھا۔ دواء اور اس کے متعلقات کو حسبِ نظام برقرار رکھا لیکن طبیعت میں بظاہر بہتری اور سکون سا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اب حضرت سانس کھینچنے میں بہت تھک چکے ہیں۔ اس کا مطلب تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ دس بجے کے قریب اتنا سکون والا وقت، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ ہماری زندگی کا سب سے کٹھن اور صبرآزما وقت ہے اور حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کا سب سے مشکل ترین سفر شروع ہوا ہی چاہتا ہے۔ برادرم مولانا محمد یوسف مدنی صاحب سرہانے بیٹھ کر آہستہ آہستہ ذکر کرتے جا رہے تھے۔ میرے بہنوئی صاحبان اور دیگر برادران جمع تھے۔ جناب الحاج شیخ عبدالسلام چاولہ صاحب آئے اور خیریت معلوم کر کے مطمئن ہو کر کچھ دیر بعد چلے گئے۔

ساڑھے دس بجے ان دنوں مجلسِ ذکر کا گھنٹہ ہوا کرتا تھا، جس میں سب اساتذہ و طلبہ ذکر میں ہمہ تن مشغول رہتے، حسبِ معمول وہ مجلس قائم تھی۔ اس کے بعد ختم خواجگان اور دعا کا معمول جاری تھا، پونے گیارہ بجے یا اس کے چند منٹ بعد کمرہ میں موجود احباب، برادران، اعزہ و اقارب حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کے قریب ذکر میں مصروف تھے کہ حضرت والد صاحب نے ایک اطمینان کی سانس لی۔ بظاہر یہ ایک معمول کی سانس تھی۔ ڈاکٹر فاروق راجہ مرحوم نے بھائی محمد مدنی سے فوراً کہا: یٰس شریف پڑھیں۔ بھائی محمد مدنی نے یٰس شریف پڑھنی شروع کی۔ کچھ نہ سمجھتے ہوئے کہ کیا ہوا ہے۔ جس طرح کچھ دیر پہلے ابا جان رحمہ اللہ آنکھیں بند کئے ہوئے تھے بالکل ویسے ہی آنکھیں بند تھیں، اب ہمیشہ کے لیے بند کر چکے تھے۔ والدہ ماجدہ جو قریب میں تھیں ان کو بلایا گیا۔ والدہ صاحبہ پردے کے ساتھ برابر میں آکر کھڑی ہو گئیں۔ ڈاکٹر فاروق راجہ صاحب نے چیک اپ کیا اور تنفس وغیرہ امور کو بغور دیکھا۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول یہ آخری وقت ہے جس میں حضرت والد ماجد رحمہ اللہ آنکھیں بند کر چکے ہیں۔

۱۱ بجے کا وقت ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر فاروق علی موجود تھے اور ڈاکٹر یحییٰ چاولہ کو میں نے فون کر کے بلایا۔ چند منٹ بعد ڈاکٹر یحییٰ چاولہ بھی آگئے۔ ٹارچ کھول کر آنکھیں چیک کیں۔ ڈاکٹر فاروق راجہ مرحوم کے ساتھ کچھ گفتگو کی۔ یہ حضرات اب انتقال من دار الفناء الی دار البقاء کی تصدیق کر चुके تھے۔ اس وقت گھڑیاں تقریباً ۱۵:۱۱ بجا رہی تھیں۔ بہرحال تقدیرِ الٰہی سب تدبیروں پر غالب آچکی تھی۔ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ اس مرض الوفات میں بھی اور اس سے قبل بھی بارہا وصیت فرما چکے تھے کہ ’’میرے انتقال کی خبر سن کر رونا دھونا مت، بلکہ نماز، تلاوت، اذکار میں مشغول رہنا‘‘۔ الحمدللہ! اسی وقت حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کے قریب کھڑے ہو کر برادران میں سے جس جس کو توفیق ہوئی نماز میں مشغول ہو گئے۔ مدرسہ اور اس کی شاخوں میں بھی نماز میں مشغولی، کلمہ طیبہ کے ستر ہزار کے کئی کئی نصاب، تلاوت وغیرہ میں مشغولیت کی ترتیب بنائی گئی۔ فضول تبصروں کے بجائے بحمداللہ یہ وقت رجوع الی اللہ تعالیٰ میں گزرا۔

حضرت والد ماجد رحمہ اللہ نے ایک عرصہ سے ہمیں یہ تلقین فرما رکھی تھی کہ میری تجہیز و تکفین میں دیر نہ کرنا اور سنت کے مطابق تعجیل کرنا۔ حدیث مبارک ’’مردہ کہتا ہے کہ قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي (مشکوٰۃ: کتاب الجنائز) مجھے جلد لے چلو، مجھے جلد لے چلو‘‘، اکثر سنایا کرتے۔ اپنے شیخ و مرشد حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے سانحۂ ارتحال کو بکثرت سناتے اور فرماتے کہ عصر کے بعد حضرت کا انتقال ہوا تھا اور نمازِ عشاء کے بعد مسجد نبوی میں جنازہ کی نماز پڑھی گئی تھی۔ اس لیے برادران نے جمع ہو کر مشورہ کیا۔ قبرستان میں قبر کی پرچی کے لیے بھائی سلیم چاندنہ نے فوری تعاون کیا۔ بعد نمازِ عصر نمازِ جنازہ بنوری ٹائون جامع مسجد کے وسیع احاطہ میں جو کہ کچھا کھچ بھری ہوئی تھی اور تدفین برادری کے قبرستان شفیق پورہ میں طے ہوئی۔ اسی قبرستان میں ہماری دادی جان مرحومہ، تائی اور چاچی مرحومہ، تایا جان مرحوم وغیرہ اولاد اور احباب محوِ استراحت ہیں۔ اسی دوران زکریا اور جملہ اہلِ خانہ کے فون پر تعزیت کے فون شہر، بیرونِ شہر اور دیگر ممالک سے آتے رہے۔ اکابر مشائخ میں زکریا کے پاس اسی دوران حضرت شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی کا فون کیا۔ حضرت نے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ… عَظَّمَ اللَّهُ أُجُورَكُمْ الخ کے الفاظ سے تسلی فرمائی۔

تقریباً ایک بج رہا تھا۔ فوری غسل کی ترتیب بنائی گئی۔ غسل میں جملہ اہلِ خانہ، بھائی سلیم چاندنہ و دیگر احباب شریک رہے۔ شیخ عطاء الرحمن مدظلہ اور شیخ فرید احمد مدظلہ وغیرہما اسی کمرے میں تشریف فرما رہے۔ اس کے بعد حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کو آخری دیدار کے لیے مدرسہ لے جایا گیا۔ ایک قطار میں نظم کے ساتھ بحمداللہ تعالیٰ یہ عمل مکمل ہوا۔ پھر اہلِ خانہ نے خاص کر مستورات نے آخری دیدار کیا جو پندرہ بیس منٹ جاری رہا۔ زکریا نے بآواز کہہ دیا کہ کسی کی آواز نہیں نکلے گی۔ اس وقت اولاد، احفاد، اسباط، بیٹیاں، بہوویں وغیرہ جو صرف محرم تھیں وہی قریب کھڑی ہوئیں اور ترتیب سے قرآن کریم کا ایک ختم کریں۔ بحمداللہ تعالیٰ اس جذباتی وقت میں سب تلاوت قرآن میں مشغول رہے۔ اس میں ایک بڑی تعداد حفاظ کی تھی۔ غالباً ایک قرآن پاک یا اس سے زیادہ ختم ہوا۔ اسی دوران عمِّ محترم جناب الحاج شیخ فیروز الدین صاحب وھیل چیئر پر باوجود شدید علالت کے ہسپتال سے سیدھے تشریف لائے۔ موصوف کا خود بہت بڑا آپریشن ہوا تھا۔ اہلِ خانہ کی یہی رائے تھی کہ آنجناب کو اطلاع نہ ہو۔ مگر آنجناب ہسپتال سے باوجود سخت علالت کے اپنے بھائی مرحوم کے آخری دیدار کے لیے تشریف لائے۔ اور کچھ مکالمہ فرمایا، کچھ دیر وہیں رہے۔ اس کے بعد حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کو بنوری ٹائون کی جامع مسجد لے جانے کی تیاری شروع ہوئی۔ نمازِ عصر سے کافی وقت پہلے باطمینان جامع مسجد پہنچ گئے۔

نمازِ عصر کے بعد حسبِ وصیت برادرِ مکرم جناب مولانا محمد الیاس صاحب نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ وہاں سے قبرستان شفیق پورہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں اذانِ مغرب ہو گئی۔ قبرستان پہنچ کر پہلے باجماعت نماز ادا کی گئی۔ اس کے بعد تدفین کا مرحلہ شروع ہوا۔ بڑے بھائیوں کی طرف سے یہ طے کیا گیا تھا کہ سر کی جانب سے بھائی محمد مدنی اور پائوں کی جانب سے بھائی سلمان اتریں گے۔ ان حضرات نے حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کو قبر میں اتارا۔ پھر بھائی محمد نے اس عاجز فقیر کو اور بھائی سلمان نے حافظ محمد شاہد صاحب کو موقعہ دیا اور یہ دونوں حضرات باہر آگئے۔

اس عاجز نے سنت کے مطابق کمر کو قبر کی پچھلی دیوار کے ساتھ سہارا دے کر دائیں جانب حتی الوسع کروٹ دلائی۔ کفن کی گرہیں کھول دیں، کفن لپیٹا اور غلافِ کعبہ کا سادہ ٹکڑا رکھا۔ اب کسی بیٹے نے فِی أَمَانِ اللَّهِ کہہ fi اور کسی نے فِی جِوَارِ اللَّهِ تعالی کہہ کر سپردِ خدائے عزوجل کیا۔ گویا زبانِ حال سے کہہ رہے ہیں: نَمْ كَنَوْمَةِ الْعَرُوسِ۔

دفنانے کے بعد قبر بند کر کے مٹی ڈالنے کا عمل پھر سرہانے اور پائوں کی جانب اول و آخر سورۂ بقرہ کی تلاوت کے بعد برادرم مولانا محمد یوسف مدنی صاحب نے قبلہ رخ ہو کر دعا کرائی۔ اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ وَسَلُوا لَهُ الثَّبَاتَ فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ (ابو دائود) یہ حدیث ایسے ہی مواقع پر حضرت والد ماجد رحمہ اللہ سے سن رکھی تھی۔

متمم بن نویرہ کا یہ شعر خوب ہی سمجھ میں آگیا، جس میں چالیس سالہ رفاقت کے بعد جدائی کا منظر پیش کیا گیا ہے:

وَكُنَّا كَنَدْمَانَيْ جَذِيمَةَ حِقْبَةً      مِنَ الدَّهْرِ حَتَّى قِيلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا
فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا كَأَنِّي وَمَالِكًا      لِطُولِ اجْتِمَاعٍ لَمْ نَبِتْ لَيْلَةً مَعًا

کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ۔ اللّٰھم لا تحرمنا أجرہ ولا تفتنا بعدہ۔

حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کی محنتیں اور جد و جہد علومِ دینیہ محمدیہ کی ترویج و اشاعت کا مرکز مدرسہ معہد الخلیل، تزکیۂ نفس وتربیت باطنی کے لیے خانقاہ، رسالہ ’’سلوک و احسان‘‘، اللہ پاک کے نام کے لیے اس کی سب سے محبوب جگہوں میں جگہ مسجد وغیرہ، جو صدقاتِ جاریہ ہیں حضرت والا رحمہ اللہ ان محنتوں کا پھل خوب خوب وصول کر رہے ہوں گے اور اس ابدی آرام گاہ میں خوب راحت میں ہوں گے۔ حضرت شیخ مظہر جانِ جاناں رحمہ اللہ کا مشہور شعر ہے:

لوگ کہتے ہیں کہ مظہرؔ مر گیا      مظہرؔ تو اپنے گھر گیا

حضرت شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی لازال ظل مجدہ العالی نے متعدد دفعہ تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ بزرگوں کے انتقال کے بعد ان کے فیوض بڑھ جاتے۔ یہ عاجز اپنی کھلی آنکھوں سے، اس کا کھلا مشاہدہ کر رہا ہے۔ صبح اذانِ فجر کی پہلی آواز سے رات تک معمولات میں روز بروز کمّاً و كيفاً اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ تعلیمی، تربیتی وسلوکی ماحول میں بھی بہتر سے بہتر کی فکر اور اس کے لیے لائحۂ عمل، مشورہ اور نفاذ جاری و ساری ہے۔ اذانِ فجر کے بعد ہی طلبہ کا مسجد میں پہنچنے کا اہتمام، بعد نمازِ فجر مجلسِ ذکر، جس میں حضرت والا کے فیوض و برکات سے مستفید اہلِ تعلق کی شرکت، اس میں بھی خاصے افراد جمع ہو جاتے ہیں۔ طلبہ کی تعلیم میں بروقت حاضری، تعلیمی اوقات میں سارا وقت تعلیم میں صرف ہونا، اساتذہ و طلبہ کی وقت کی پابندی، ہر ڈیڑھ ماہ میں مقدارِ خواندگی تک پہنچانے کی کوشش، اساتذہ و طلبہ کا مل کر ایک جگہ اپنا اپنا ذکر کرنا، طعام و قیلولہ کے بعد عصر تک کے اسباق، بعد مغرب تکرار کا ماحول وغیرہ امور۔

دار الافتاء کے ذمہ داران نے حضرت والا کے فیوض و برکات کے بدولت مزید محنت کو بڑھاتے ہوئے تخصص فی الفقہ سالِ اول کے طلبہ کی تعلیم، اسباق اور اوقات کی ذمہ داری بھی اُٹھا رکھی ہے۔ شعبہ التکلم باللغۃ العربیۃ کا اجراء وغیرہ کے علاوہ شعبۂ بنات کا مستقل شعبہ اور مدرسہ کی دیگر شاخیں ’’الامداد، الرشید، القاسم، معہد الشيخ زکریا‘‘ حضرت والا رحمہ اللہ کے فیوض کو پھیلانے میں ایک نظام کے تحت مصروفِ عمل ہیں۔ اللہ پاک حضرت والا رحمہ اللہ کے اس چمن کو اپنے اور غیروں کے فتنوں اور شرارت سے محفوظ فرمائے اور حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کے فیوض کو تا قیامِ قیامت قائم و دائم رکھے۔ آمین۔

يَا رَبِّ لَا تَسْلُبْنِي حُبَّهُ أَبَدًا      يَرْحَمُ اللَّهُ عَبْدًا قَالَ آمِينَا