حضرت والد ماجد رحمہ اللہ صفات و کمالات کے آئینے میں
محمد یوسف مدنی
حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کے وصال کو سال بھر سے زائد عرصہ ہو چکا، مگر ابھی تک دل پر ان کے فراق کا غم روزِ اول کی طرح تازہ ہے۔ شاید ہی کوئی موقع ایسا ہو جس میں ان کی یاد نہ تڑپاتی ہو۔ مسجد ہو یا مدرسہ کا دفتر، باہر کی مصروفیات ہوں یا گھر کا بستر، ہر جگہ ان کی یاد ستاتی اور آنکھوں کو اشک بار کر ڈالتی ہے۔ منہ چھپا کر یا کمرے میں بند ہو کر جی بھر کر رولینا وقتی طور پر غم کو ضرور ہلکا کر دیتا ہے، مگر شاید زندگی کی آخری سانس تک یہ زخم مندمل نہ ہو سکے۔ جس درخت کی ٹھنڈی چھائوں تلے عمر کے اڑتیس سال گزارے ہوں اس شجرِ سایہ دار کا بدل مل جانا ممکن نہیں۔ ان کی زندگی بھر کے احوال اور ساری ادائوں کو سمیٹنے کا حوصلہ ہے نہ ہمت، البتہ بطورِ افادہ ان کی شخصیت کے چند امتیازی پہلوئوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اگر کوئی ان کی پوری سیرت و شخصیت کا نچوڑ پوچھے تو یہ کم فہم و بے سمجھ گناہگار اس کو چار نکتوں میں سمیٹ کر کہے گا:
(۱) اخلاص (۲) مجاہدہ و قربانی (۳) عزیمت واستقامت (۴) اکابر کے مسلک پر تصلّب۔
اب آپ کی شخصیت کے چند امتیازی پہلوئوں پر قدرے تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالنے کی کوشش کرتا ہوں:
۱۔ شانِ محبوبیت
بعض لوگوں کے ساتھ حق تعالیٰ شانہ کا معاملہ اجتبائی ہوتا ہے۔ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی بنا پر وہ ہر چھوٹے بڑے کی آنکھوں کا تارا بن جاتے ہیں، وہ جس مجلس میں جاتے ہیں اسے لوٹ لیتے ہیں۔ یہی کچھ حال حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کا بھی تھا۔ آپ کے اندر فطرتاً بڑی قائدانہ صلاحیتیں تھیں، اسکول کی تعلیم کے زمانے میں بھی اپنی جماعت میں امتیازی حیثیت رکھتے تھے، جب دعوت و تبلیغ کے کام سے وابستہ ہوئے تو بھی جماعتیں نکالنے میں پیش پیش ہوتے، ساتھیوں کو ہدایات دینا اور ان کو رخصت کرنا جیسے کام ان کے ذمہ بھی ہوتے۔ حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ کی غیر معمولی شفقتیں اور توجہات رہیں۔ ان کے تمام بیانات وملفوظات کی مجالس میں نہ صرف شرکت بلکہ سب کو لکھ کر محفوظ کرنا، پائوں دبانے اور سر کی مالش میں دیگر خدام کا حصہ دار ہونا ودیگر سعادتیں حاصل رہیں۔
بسا اوقات حضرت جی رحمہ اللہ آپ کی خاطر دورانِ بیان وقفہ فرما لیتے۔ در حقیقت آپ میں موجود عشق و محبت کی چنگاری اور ایمان و یقین کا شعلہ یہیں سے جل اٹھا تھا۔ جامعہ بنوری ٹائون میں تعلیم کے حصول کے زمانے میں بھی باوجود طالبعلم ہونے کے کبار اساتذہ و مشائخ حضرت بنوری، حضرت مفتی ولی حسن، حضرت مولانا ادریس میرٹھی رحمهم اللہ ودیگر کے منظورِ نظر تھے، امتحان ہال میں سے آپ کو بلا کر چائے پلائی جاتی۔
پھر برکۃ العصر حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے یہاں تو کیا کہنے، اپنے شیخ کی منشا کے مطابق خدمت اور ان کی راحت رسانی سے ان کے دل جیت لئے۔ مدینہ منورہ میں تقریباً دس سال رات کا کھانا اپنے شیخ کے دستر خوان پر کھایا اور وہاں مہمانوں کو کھلانے کی ذمہ دار جماعت میں آپ بھی ہوتے تھے۔ جہاں آپ کو اپنے مُرشد سے والہانہ عشق تھا وہاں شیخ کو بھی اپنے اس جانثار مرید سے بے حد پیار تھا۔ لیجئے! آپ بھی حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے چند مکتوبات کے اقتباسات پڑھیے۔ ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں:
’’والدین واہلیہ و ہمشیرہ اور بھائی صاحبان سے سلام مسنون کہہ دیں۔ یہ ناکارہ ان سب کے لیے دل سے دعا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں۔ اللہ اپنی رضا و محبت نصیب فرمائے۔ مرضیات پر عمل کرنے کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے، نامرضیات سے حفاظت فرمائے‘‘۔
ایک مکتوب میں ہمارے دادا، دادی جان کو تحریر فرماتے ہیں:
’’مولوی یحییٰ سلمہٗ کی طرف سے، ان کے والدین اور اہلیہ کی طرف سے صلوٰۃ وسلام پہلے بھی پیش کرتا رہا‘‘۔
ایک جگہ فرماتے ہیں:
’’تمہارا خواب مبارک ہے، کسی تعبیر کا محتاج نہیں، تم لوگوں کے اشغال و اوراد ہی اس ناکارہ کے لیے پھل ہیں جو تم کھلا رہے ہو‘‘۔
یہ اپنے شیخ سے محبت ہی تھی کہ بفضلہ تعالیٰ ہم تینوں بڑے بھائیوں کی دعوتِ عقیقہ ان کے دسترخوان پر ہی کرائی۔ چنانچہ برادر محترم مولانا محمد الیاس صاحب کے عقیقہ سے متعلق حضرت شیخ رحمہ اللہ ایک مکتوب میں فرماتے ہیں:
’’پرسوں کی ڈاک سے عزیزم الحاج عبدالحفیظ سلمہٗ کا خط پہنچ گیا تھا، جس پر اُس نے آپ کے گراںقدر ہدیہ دو سو روپے قیمت عقیقے کی وصولی کی اطلاع دی تھی۔ ایک سو دس روپے کا تو جانور عقیقہ کا آیا، بقیہ میں ایک دیگ پلائو اور ایک دیگ شوربہ اور ان کے مناسب نان لگوا کر، آج جمعہ کے دن آپ کی طرف سے دعوتِ عقیقہ کر دی۔ میں نے مولوی نصیر سے کہہ دیا کہ آنے والوں کی پابندی نہیں، چونکہ مہمانوں کا ہجوم بھی زیادہ ہے اور مدعوین کی تعداد بھی بڑھ گئی۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے، نومولود کو علم و عمل، رُشد و ہدایت اور وسعتِ رزق کے ساتھ اپنے والدین کے ظلِ عطوفت میں عمر طبعی کو پہنچائے۔ اہلیہ محترمہ اور والدین سے بھی مبارکباد کہہ دیں‘‘۔
ایک جگہ تحریر فرمایا:
’’تمہارے یہاں کے قیام سے ایک راحت تو بہت رہی، اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے، وہ یہ کہ ہر وقت جم کے رہنے والا جس کو بازار یا سونا یا ہراج یا تفریح سب سے بے فکری ہو وہ تم ہی نکلے۔ اللہ تعالیٰ ہی جزائے خیر عطا فرمائے‘‘۔
ان اقتباسات سے آپ کی شانِ رفعت بخوبی واضح ہو رہی ہے اور یقینا سلوک و تصوف میں ترقی کے اندر شیخ کی نظر اور توجہ بے حد اثر رکھتی ہے۔ حضرت والد صاحب کے بارے میں اگر یوں کہا جائے کہ قسمت کے دھنی تھے، تو شاید غلط نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ان کے ساتھ بڑا عجیب معاملہ تھا عام طور پر جس کام میں ہاتھ ڈالتے پورا ہو کر رہتا۔ بڑے بارعب، صاحبِ عزت، اونچی نسبت کے حامل، کسبِ معاش سے فارغ، رات دن خدمتِ دین کے لیے موفق من اللہ، ان کے چھوٹے تو کیا بڑے برادران بھی جان نچھاور کرنے والے تھے۔ پھر بفضلہ تعالیٰ اولاد ہی نہیں داماد بھی ایک سے بڑھ کر ایک صالح و سعادت مند اور قدر دان ملے۔
۲۔ اخلاص وبے نفسی
حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کا مزاج اپنے آپ کو نمود ونمائش سے بچاکر رکھنے کا تھا۔ اونچے درجے کے اکابر سے تعلقات اور بڑے بڑے کاموں کی سرپرستی کے باوجود اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بہت سے بڑے کاموں میں اس طرح بھرپور حصہ ڈالا کہ کسی کو پتا تک نہ چلنے دیا۔ میڈیا اور دیگر تشہیری ذرائع سے آپ کو طبعاً بالکل مناسبت نہیں تھی، فرماتے تھے کہ ’’بس کسی کونے کنارے میں قاعدہ پڑھاتے ہوئے زندگی پوری کر لو، اسی میں عافیت ہے‘‘۔ کبھی فرماتے کہ ’’اخلاص کے ساتھ بچوں کو قاعدہ پڑھانا بلا اخلاص بخاری شریف پڑھانے سے افضل ہے‘‘۔
۳۔ قربانی
آپ کی ابتدائی زندگی عصری تعلیم کے حصول میں گزری، مگر پھر اس سب کو چھوڑ کر دعوت و تبلیغ کے کام میں اس طرح مشغول ہوگئے کہ اپنی تعلیم کا خیال تھا نہ معاش کی فکر۔ اس وقت کے مجاہدات بھی غیر معمولی تھے، تیس تیس میل بھوکے پیاسے پیدل چلے، فرماتے کہ ’’بڑوں کی طرف سے ہمیں جماعتوں کی تشکیل و دیگر محنتوں میں اس طرح جھونک دیا جاتا کہ کھانے کا پوچھا تک نہ جاتا، جس سے مقصد تربیت تھی۔ پھر حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے دولت کدے پر سر رکھا تو بھی ہر دنیوی مشغلہ کو چھوڑے رکھا۔ خود فرماتے تھے کہ ’’ایک بار میں نے شیخ سے عرض کیا کہ فارغ وقت میں کچھ ٹائپنگ کا کام کر لیا کروں؟ تو فرمایا: پیارے! پھر تو ہمارے کام کا تو رہے گا نہیں‘‘۔ یہ سن کر کسی بھی کام کا خیال ترک کر دیا۔
اس کے بعد مدینہ منورہ کے قیام کو ایسے وقت میں چھوڑ کر آئے کہ وہاں نیشنلٹی ملنے کے حالات سازگار ہو چکے تھے، یہ دین کی اشاعت کی خاطر دوسری بڑی قربانی تھی۔ پھر کراچی میں مدرسہ کی بنیاد ڈال کر یوں گھٹنے کاٹ ڈالے کہ گرد و پیش کی کوئی خبر نہ رہی۔ صلاحیت اور عقل و دانش کا یہ حال تھا کہ بقول حضرت مولانا سعید احمد خان صاحب رحمہ اللہ: ’’مولوی یحییٰ بازار میں آئیں تو بھائو بدل ڈالیں‘‘۔ مگر ساری زندگی تعلیم و ذکر اللہ میں اس طرح گزاری کہ دکان کی، نہ ملازمت۔ تاجر برادری سے تعلق ہونے کے باوجود خود بھی کاروباری زندگی سے دور رہے اور اپنی اولاد کو بھی خدمتِ دین کے لیے وقف رکھا۔
۴۔ عزیمت و بلند همتی
اس عاجز نے ساری زندگی حضرت رحمہ اللہ کو دین کی محنت میں کوشاں اور استقامت کا حامل پایا۔ جس کام کی ٹھان لیتے اسے کر گزارتے۔ ابتداء میں جب مدینہ منورہ سے تشریف لائے تو برادری میں کوئی خاص شناخت نہیں تھی، مگر اسی وقت اپنی دہلی برادری میں کام کرنے کی ٹھان لی اور ایک منظم و معیاری ادارہ بنا ڈالا۔ ’’سلوک و احسان‘‘ کے نام سے ایک رسالہ اکابر کی مشاورت کے بعد جاری فرمایا، جس سے متعلق حضرت مولانا فقیر محمد صاحب پشاوری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ’’چلے گا، چلے گا، شیخ کی برکت سے چلے گا‘‘۔ پھر تقریباً بائیس سال سے زائد عرصہ تنہا خود ہی اس مجلہ کے سارے کام سنبھالے ۔ اس کے بعد رسالے کی ادارت کی ذمہ داری اس عاجز کے کندھے پر ڈالتے ہوئے فرمایا: ’’لو! یہ میں تمہارے حوالے کرتا ہوں‘‘۔
کسی بھی مدرسہ میں دورۂ حدیث کی معیاری تعلیم کوئی آسان بات نہیں ہوتی، مگر مدرسہ میں دورۂ حدیث کے پہلے ہی سال فیصلہ فرمایا کہ ’’میرے بچے یہیں پڑہیں گے‘‘۔ چنانچہ اس کے لیے مدینہ منورہ سے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے معتمد کاتب و خادم و تلمیذ خاص حضرت مولانا حبیب اللہ المظاہری رحمہ اللہ کو مدعو فرمایا۔ اس کے علاوہ دیگر جید اساتذہ کرام کا بھی انتظام فرمایا۔
بڑے جفا کش و چاق و چوبند تھے۔ ہر محنت والے کام میں سب سے آگے رہتے۔ اللہ تعالیٰ نے کثرتِ حج و عمرہ کی سعادت بھی نصیب فرمائی تھی۔ حج کے موقع پر باوجود ضعف و پیرانہ سالی اور متعدد اعذار کے جوانوں سے آگے نظر آتے۔
۵۔ شریعت و سنت پر استقامت
حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کی نگاہ میں تصوف کا مفہوم بالکل سادہ اور آسان تھا، وہ لمبے چوڑے مجاہدات اور کشف و کرامات کے قائل نہ تھے۔ اپنی مجالس میں بارہا فرمایا کہ ’’بزرگی کا اصل معیار شریعت پر استقامت اور سنت کی اتباع ہے، اس کے علاوہ سب دھوکہ ہے۔ طریقت شریعت کی لونڈی اور اس کے تابع ہے، اس سے ہٹ کر کوئی چیز نہیں‘‘۔ خود آپ کی ذات میں یہ چیز رچ بس چکی تھی کہ اس سے سرِ مو تجاوز کرنا آپ کے لیے ممکن نہ تھا۔
تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ نماز کا غیر معمولی اہتمام تھا، فرماتے تھے کہ ’’یہ دین کی سب سے پہلی سیڑھی ہے، اس کے بغیر سب کچھ مردود ہے‘‘۔ بسا اوقات ساری رات بے چینی اور تکلیف میں گزرتی، مگر نمازِ فجر کے لیے آپ کو پہلے سے بیٹھا ہوا پایا جاتا۔ سخت بیماری اور ضعف کے ایام میں دو خادم آپ کو کرسی پر بٹھا کر وہ کرسی اٹھا کر مسجد میں لاتے اور پھر آپ قیام کی حالت میں صفِ اول میں نماز ادا فرماتے تھے۔ اسفار میں اس بات کا خاص خیال رکھتے کہ نماز میں کوتاہی نہ ہو۔ اور بسا اوقات نمازوں کے اوقات کو دیکھ کر روانگی کا نظام بناتے۔ قرآن کریم کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔ نظام الاوقات کے خوب پابند تھے۔ زمانۂ طالبعلمی ہی سے تہجد کے وقت ذکر بالجہر کا اہتمام تھا، اس کے علاوہ بعد نمازِ فجر مجلسِ ذکر، بعد عصر تلاوت اور بعد نمازِ مغرب مطالعہ بالخصوص بذل المجہود یا کسی دوسری شرح حدیث کا آپ کے معمولات میں اس طرح داخل تھا کہ اخیر تک اس میں سرِ مو فرق نہیں آیا۔ (الا ماشاء اللہ)
۶۔ حسنِ معاملات
اسلامی تعلیمات کا یہ اہم ترین شعبہ ہے، علامہ شامی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ایک دانق (سدس درہم) کے عوض سات سو باجماعت نمازوں کا ثواب دینا پڑے گا۔ آج کل اس کی قیمت تقریباً سولہ روپے بنتی ہے۔ افسوس آج اچھے خاصے دیندار سمجھے جانے والے لوگ بھی اس حوالے سے بے حد غفلت کے مرتکب ہیں۔ بلاشبہ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ اس حوالے سے ایک لائق اقتداء شخصیت تھے۔ کسی کا ایک پیسہ بھی اپنے اوپر رکھنا گوارا نہیں کیا۔ جس سے جو مالی معاملہ کرتے بالکل صاف اور واضح کرتے۔ اگر کسی سے کوئی چیز منگواتے تو اس کو اس کے پیسے ضرور ادا فرماتے خواہ وہ کتنی ہی منت سماجت کرتا۔ یوں فرماتے کہ ’’منگوانے پر جو چیز لائو گے اس کے پیسے تو لینے ہی ہوں گے‘‘۔
ہم بچوں کے ساتھ بھی عام طور پر اسی طرح کا معاملہ ہوتا۔ فرماتے تھے کہ ’’یہ چیز میں نے اپنے شیخ سے سیکھی ہے‘‘ اور اس ضمن میں یہ واقعہ بارہا سنایا کہ ’’ایک مرتبہ میں سفر سے واپس آیا، حضرت سے ملا تو مصافحہ کے فوراً بعد فرمایا: پیارے! تو نے جو رقم بطور امانت کے طور پر میرے پاس رکھوائی تھی وہ میری جیب میں ہے جب ضرورت ہو لے لینا!‘‘۔
۷۔ سادگی اور تواضع
یہ بھی بڑی عجیب چیز ہے. آدمی اپنے کو جتنا مٹاتا ہے اتنا ہی وہ اونچا ہو کر ابھرتا ہے۔ یہ شان بھی حضرت والد صاحب رحمہ اللہ میں خوب دیکھی۔ اپنے لیے غیر معمولی پروٹوکول اور بے جا تکلفات کو کبھی پسند نہیں فرمایا۔ لباس، وضع قطع اور بود و باش سے ذرا بھی مشیخیت کے آثار نہیں ٹپکتے تھے۔ اس گناہگار کو تقریباً دس سال دفتر میں حضرت رحمہ اللہ کی صحبت حاصل رہی، ان کی نشست بالکل معمولی اور سادہ تھی۔ کبھی جاتے ہوئے کوئی بات اہم کہنی ہوتی تو بندہ کے پاس آکر کھڑے ہو کر فرماتے، یہ عاجز کبھی کھڑا ہو جاتا اور کبھی بیٹھا ہوا ہی سنتا رہتا، مگر اس کو محسوس نہ فرماتے۔
گھر سے مدرسہ آتے جاتے وقت اپنا سامان تھیلا اور کتاب خود اپنے ہاتھ ہی میں لے کر آتے۔ کبھی بندہ یا کوئی اصرار کر کے لے لیتا، ورنہ خود سے نہ دیتے۔ ماہانہ اصلاحی مجلس میں سب کے ساتھ گھل مل کر کھانا نوش فرماتے تھے۔ دعوت میں فرشی نشست کے علاوہ کوئی ترتیب پسند نہ تھی۔ دوسرے سے معافی مانگنے میں ذرا بھی پس و پیش نہ فرماتے، سفر روانگی کے موقع پر اس کا خاص اہتمام فرماتے۔ اپنے چھوٹوں کی بھی اس انداز میں حوصلہ افزائی فرماتے کہ آدمی شرم سے پانی پانی ہو جائے۔
ایک مرتبہ مدرسہ میں ختمِ بخاری کے موقع پر بندہ جب درس دے کر اٹھا اور حضرت رحمہ اللہ بیان کے لیے تشریف فرما ہوئے تو فرمایا: ’’ایک وقت تھا کہ یہ چھوٹے سے بچے تھے۔ پھر ابتداء سے انتہاء تک تعلیمی مراحل یہیں طے کئے۔ اب یہ آپ کے سامنے درسِ بخاری دے کر اُٹھے ہیں‘‘۔ پھر یہ شعر پڑھا:
كَانَ مَمْلُوكِي فَأَضْحَى مَالِكِي إِنَّ هَذَا لَمِنْ أَعَاجِيبِ الزَّمَنِ
اللہ اکبر! کیا ٹھکانہ ہے اس تواضع اور بے نفسی کا۔ کسی حدیث کا حوالہ یا مطلب سے متعلق استفسار کرنے میں عار محسوس نہ فرماتے۔ اس جاہل کو آتا جاتا تو کچھ نہ تھا، ادھر ادھر کی ہانک کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتا۔ مدرسے کے سارے کام از خود انجام دینے کے باوجود اوروں کے سامنے بارہا فرمایا: ’’میں تو کچھ بھی نہیں کرتا یہی لوگ کر رہے ہیں‘‘۔ وصال سے کچھ عرصہ قبل ایک سفر کے دوران باصرار ختمِ نبوت کے طلباء میں اپنا نام لکھوایا۔
حضرت خواجہ مجذوب رحمہ اللہ کے یہ اشعار جب حضرت مفتی شاہد صاحب رحمہ اللہ خلیفۂ مجاز حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ سے سنتے تو آپ کی کیفیت ہی کچھ اور ہو جاتی۔ بھیگتی آنکھوں کے ساتھ لکھ رہا ہوں آپ بھی پڑھیے:
یہ قرب مبارک تجھے اے صوفی صافی!
مجذوب کو ایک دور کی نسبت بھی ہے کافی
اس رند کے حق میں یہ دعا کردے خدارا!
توفیقِ ندامت سے ہو غفلت کی تلافی
بخشے اللہ وہ تجھ کو بلندیٔ مراتب
مجھ کو ہو عطا میری خطائوں کی معافی
۸۔ اخفائے حال و گوشہ نشینی
وہ اونچی نسبت کے حامل تھے، مگر اپنی بزرگی کے برملا اظہار کی عادت انہیں نہ تھی۔ خواہ مخواہ اپنے آپ کو نمایاں کرنے کا کوئی شوق نہ تھا۔ اس حوالے سے ہمیں بھی اس کی خوب تاکید رہتی۔ میڈیا سے دور رہنے کی تلقین فرماتے اور اس کے نقصانات کی بھی خوب وضاحت فرماتے تھے۔ بڑے اونچے درجے کے اکابر سے برابری کے تعلقات ہونے کے باوجود اپنے آپ کو جلسے جلوس کے اسٹیج اور کیمروں سے دور رکھا۔ خوب یاد ہے کہ ایک مرتبہ حدود اللہ کے حوالے سے ایک عظیم الشان سیمینار عالمگیر مسجد کے باہر منعقد کروانے کی سعادت ہوئی، جس میں متعدد مصالح کی بنا پر الیکٹرونک میڈیا کا بھی نظم تھا۔ اس تقریب میں تشریف تو لائے مگر اسٹیج پر نہ چڑھے اور اس پر بندے کی خاصی اصلاح فرمائی۔ فرماتے تھے: ’’چپکے چپکے بس اتنا تھوڑا کام کرو جس کو سنبھال سکو، اور یہی کرتے ہوئے مرجائو‘‘۔
۹۔ زہد و قناعت
بقول اہل اللہ زُہد کی حقیقت یہ ہے کہ دل میں دنیا سے بے رغبتی ہو۔ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کا دل واقعتا دنیا کی محبت سے پاک تھا۔ ان کو عمدہ کپڑوں اور شاہانہ سواری کا کوئی شوق نہ تھا۔ عمر بھر جو آتا گیا لٹاتے گئے۔ اکثر کوئی رقم ہدیہ دیتے یا بعد میں کسی مصرفِ خیر میں خرچ کا تذکرہ آتا تو ایک خاص انداز سے کہتے:
اسی دریا میں طوفاں ہے، اسی میں اس کی رحمت ہے
ان کا کوئی اکائونٹ نہ تھا، نہ کوئی بینک بیلنس۔ وہ چاہتے تو اپنے اور اپنی اولاد کے لیے مضبوط اور شاندار کاروباری ترتیب بنا سکتے تھے، مگر ان کے قلب و دماغ میں دین ہی سب کچھ تھا۔ فرماتے تھے کہ ’’اصل مولوی وہی ہے جو اپنی اولاد کو بھی اس کام میں لگائے‘‘۔ الغرض علمِ دین کی بے حد قدر و عظمت اور دنیا کی بے وقعتی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی پائی۔
۱۰۔ استغناء وخودداری
یہ شان بھی آپ میں خوب نمایاں تھی۔ ایک زرخیز ومتمول علاقے میں رہتے ہوئے بھی کبھی اپنی ذات کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ حق بات کے برملا اظہار میں کسی کی دنیوی اور مصنوعی وجاہت آپ کے سامنے رکاوٹ نہ بن سکتی تھی۔ اچھے اچھے صاحبِ حیثیت لوگوں کو آپ کے سامنے بچھتے ہوئے دیکھا۔ بسا اوقات کسی غلطی پر ایسے لوگوں کو کھری کھری سنا ڈالتے۔ بارہا اپنے بیانات اور مجالس میں یہ مصرعہ دہراتے:
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی حاجت نہیں مجھے
آپ کے اپنے ہاتھوں کے لکھے ہوئے یہ اشعار آپ کی شانِ استغناء و خودداری کو کیسے اچھے انداز میں ظاہر کر رہے ہیں:
سونے چاندی کے لقمے مبارک تمہیں
جَو کی اک خشک روٹی بہت ہے مجھے
زہر بن جائے جو زندگی کے لیے
مجھ کو ایسا نوالہ نہیں چاہیے
غیرتِ عشق بھی تو کوئی چیز ہے
میرا کاسہ ہے خالی تو خالی رہے
جو مدد دے کے خودداریاں چھین لے
اس طرح دینے والا نہیں چاہیے
۱۱۔ فیاضی وسخاوت
شروع ہی سے کھلی طبیعت کے مالک تھے۔ اولاد و احباب و رفقائے سفر پر خرچ کر کے ان کے دل موہ لیتے۔ ان کا دسترخوان بالخصوص ماہِ مبارک میں دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ جب بھی ہم بہن بھائیوں میں سے کسی کو ایسے وقت خدمت میں حاضری کا موقع ملتا کہ کچھ نوش فرما رہے ہوں تو ممکن نہ تھا کہ بغیر کھلائے پلائے چھوڑ دیں۔ ان کی عنایات صرف اپنے اہلِ خانہ پر ہی نہیں، اساتذہ، طلبہ و خدامِ مدرسہ پر بھی حسبِ حال خوب رہتی تھیں۔ اسفار بالخصوص سفرِ حجاز میں اکابر کی مادی ہدایا سے خدمت کا بھی خوب معمول رہا۔
۱۲۔ حسنِ انتظام وزیرکی
بڑے معاملہ فہم و مردم شناس تھے۔ عام طور پر آدمی کو دیکھ کر ہی اس کے متعلق ایسی رائے قائم فرماتے جو بعد میں درست ثابت ہوتی۔ کسی کے دھوکے میں آنے والے نہ تھے۔ فرماتے: ’’بزرگی تیقظ کا نام ہے، بیوقوفی کا نہیں‘‘۔ انتظامی شان بھی اعلیٰ درجہ کی تھی جو دسترخوان پر اور نمایاں ہوتی۔ اپنے احباب و متعلقین میں بھی سفر میں امیر وہی ٹھہرتے۔ فرمایا: ’’حضرت بنوری رحمہ اللہ کی دوسری شادی کے موقع پر اساتذہ جامعہ بنوری ٹائون اور حضرت کے لیے میں نے ایک بس کا انتظام کیا جس کا نام ’’بمباٹ ایکسپریس‘‘ رکھا تھا‘‘۔ ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختم نبوت میں کراچی سے ٹرین کے ذریعہ جو وفد ختمِ نبوت کانفرنس راولپنڈی میں شرکت کے لیے روانہ ہوا اس کے امیر بھی آپ ہی تھے۔
ہر ایک پر خوب نظر ہوتی اور ہر بات سے باخبر رہنے کی کوشش کرتے، جس کے بکثرت واقعات ہیں۔ حیرانگی ہوتی کہ فلاں بات آپ کے علم میں کیسے آگئی؟ ہماری ابتدائی طالبعلمی کے زمانہ میں مزاحاً (اس انداز سے کہ مزاح ظاہر نہ ہو) فرماتے تھے: ’’میرے پاس جن ہیں جو مجھ کو ہر چیز کی خبر پہنچا دیا کرتے ہیں‘‘۔ اور ہم سمجھتے کہ شاید واقعتا ایسا ہی ہے۔ بڑے ہی بارعب تھے، ان کے سامنے اپنی رائے رکھنا بھی ہمت کی بات سمجھی جاتی تھی۔ شان بادشاہوں کی سی تھی۔ جس چیز کا حکم دے دیا اس کو کر گزرنا سب کے لیے لازم ہوتا۔ فقیری میں بادشاہی کا خوب مصداق تھے۔ اپنے گھرانہ ہی نہیں پورے خاندان کے بڑے اور قائد سمجھے جاتے تھے۔ ’’چاچا جی‘‘ کا مختصر سا لفظ سب اہلِ خاندان کے لیے اپنے اندر بے حد وزن رکھتا تھا۔
۱۳۔ اکابر سے سچا تعلق
آپ واقعی اپنے بڑوں کے سچے عاشق تھے، بالخصوص حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا، حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمهم اللہ کے، اور اس کو ’’سلسلۃ الذہب‘‘ کہتے تھے۔ ان کا دعویٰ صرف زبانی نہ تھا، عملی تھا۔ چنانچہ اکابرِ دیوبند کے مسلک و مشرب پر عقائد و نظریات سے لے کر تعلیم اور تہذیب و ثقافت تک ہر پہلو میں مضبوطی کے ساتھ ڈٹے رہے، اسی تصلب کا نتیجہ تھا کہ مدارس میں عصری تعلیم کے امتزاج کو بالکل ناپسند فرماتے تھے۔ اپنی اولاد و متعلقین کے حق میں دنیوی تعلیم کو شجرۂ ممنوعہ قرار دے رکھا تھا۔ ساری عمر ہم بھائیوں بہنوں کو اسکول، کالج کی ہوا بھی نہ لگنے دی، اپنے گھر ہی میں نہیں بلکہ پورے خاندان میں حفظِ قرآن و حصولِ علم دین کو فروغ دیا۔
ان کی مجالس اکابر کے تذکروں سے بھری رہتی تھی۔ ان کے قصے سنا کر خود بھی لطف لیتے اور دوسروں کو بھی محظوظ کرتے، اسی کا اثر تھا کہ بچپن ہی سے اکابر کے مکاتیب و ملفوظات کو بارہا پڑھنے اور سننے کی نوبت آئی۔ اپنے شیخ پر تو دل و جان سے فدا تھے۔ ان کی ایک ایک بات بلکہ ایک ایک ادا کو بڑی عقیدت و یقین کی کیفیت کے ساتھ بیان کرتے۔ فرمایا: ’’ایک مرتبہ میں نے کسی کو کچھ ہدیہ دیا، شیخ کو پتہ چلا تو مجھ سے ذرائع آمدنی سے متعلق دریافت فرمایا۔ میں نے عرض کیا: جی فی الحال تو والد صاحب کی طرف سے تعاون رہتا ہے اور کوئی صورت نہیں۔ فرمایا: جب تک تم پر اللہ کی طرف سے عطایا کا دروازہ نہ کھلے اس وقت تک ہدایا موقوف رکھو۔ مجھے اس وقت ہی سے یقین تھا کہ مجھ پر من جانب اللہ وسعتِ رزق ہوگی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا‘‘۔ اپنے شیخ کے عملیات وتعویذات پر بھی بہت اعتقاد تھا، اس عاجز کو کئی مرتبہ ان کے بتلائے ہوئے حفاظتی وظیفہ کی تلقین فرمائی، فرماتے: ’’یہ سحر اور دوسرے اثرات کو کاٹ کر رکھ دیتا ہے‘‘۔
ایک مرتبہ فرمایا کہ ’’جب حضرت شیخ رحمہ اللہ کے وصال کا وقت قریب ہو گیا تو ڈاکٹروں سے اشارہ ملنے پر حضرت مولانا طلحہ صاحب نے شیخ رحمہ اللہ کے پاس ذکر شروع فرما دیا تھا، تم بھی اسی طرح کرنا۔ الحمدللہ حضرت رحمہ اللہ کی اس خواہش کو پورا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔
۱۴۔ تربیتِ اولاد
اس سلسلے میں ان کا طرزِ عمل شاید آج کی نوجوان نسل کو تو بمشکل ہی ہضم ہو سکے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس بارے میں ان کا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد مبارک پر تھا:
مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا مِنْ نَحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ (رواه الترمذي)
کوئی والد اپنے بیٹے کو عمدہ آداب کی تربیت سے بہتر عطیہ نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کبھی بھی بے جا لاڈ پیار سے اپنے بچوں کو بگاڑنے کی کوشش نہیں کی۔ اس پر خوب نظر رہتی کہ میرے بچوں میں صاحبزادگی کا سور نہ آجائے، چنانچہ کبھی بھرے مجمع میں بھی ڈانٹ پلا دیتے۔ ہماری غلطیوں پر بروقت ٹوک دیتے اور فرماتے: ’’پھر تم لوگوں کو ٹوکنے والا نہ ملے گا‘‘۔ اولاد کی تربیت کے سلسلے میں اپنے شیخ کے ساتھ ان کے والد ماجد کا طرزِ عمل اور اس کے واقعات ہمارے سامنے خوب دہراتے رہتے۔ اس بات پر خوب نظر ہوتی کہ ہم تکبیر اولیٰ کے ساتھ پہلی صف میں نماز میں شریک ہوں۔ امام کے سلام پھیرتے ہی اپنے مخصوص انداز میں دائیں بائیں نظر دوڑاتے، اگر کوئی قسمت سے مسبوق ہوتا تو الامان والحفیظ، بس ان کی شیر جیسی نگاہ ہی ہمارے لیے کافی ہوتی۔ فرماتے: ’’اس مسجد کا کم از کم یہ فائدہ تو ہو کہ میں اور تم سب لوگ پہلی صف میں نماز پڑھ لیا کریں‘‘۔ شروع میں اذان بھی خود ہی دیتے اور ہمیں بھی اس کی فضیلت بتلاتے اور اس سلسلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقولہ سناتے کہ ’’کاش میں نے اپنے دونوں بیٹوں کے حق میں بارگاہِ رسالت سے اذان کو مخصوص کرا لیا ہوتا‘‘۔ ابتدائی زمانہ میں خود ہی امامت کراتے بعد میں ہم بچوں کو مقرر فرمایا۔ نماز نہ پڑھانے پر خوب کھنچائی ہونا بھی یاد ہے۔ اسی طرح شروع ہی سے گلی کوچوں کے لڑکوں کے ساتھ کھیل، دوستی پر خوب پابندی رہی، جو آخر وقت تک رہی، گو ہم جیسے نالائقوں نے ان کڑی پابندیوں میں بھی چور دروازوں سے فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
اولاد کے بارے میں دو باتوں پر خاص نظر تھی: ۱۔ دل میں مال کی محبت نہ ہو ۲۔ بڑائی اور خودبینی کا احساس نہ ہو۔ اگر اس کی بو بھی محسوس ہوتی تو تیور بدل جاتے ۔ اس نااہل و سیہ کار نے اپنے تعلیمی اور بالخصوص تدریسی زندگی کے سارے مراحل انہی کے سایۂ شفقت تلے گزارے۔ درجہ اعدادیہ تا دورۂ حدیث (درمیان کے چند سالوں کو نکال کر) آپ سے شرفِ تلمذ رہا۔ سبق میں بڑے بارُعب ہوتے۔ دورانِ سبق کسی بات پر ہنسی آجاتی تو خیر نہ ہوتی۔ دورۂ حدیث میں سنن نسائی اور شمائل نبوی آپ سے پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ایک مرتبہ فرمایا: ’’میں تمہارا والد بھی ہوں، استاذ بھی اور شیخ بھی‘‘ اور واقعی انہوں نے تینوں باتوں کا حق ادا کر دیا۔
۱۵۔ اولاد پر غیر معمولی شفقت
ہم پر ان کے احسانات حدِ احصاء سے باہر ہیں۔ ہماری دینی و دنیوی ضروریات کی بھرپور کفالت جاری رکھی۔ ایک طرف ہمیں از اول تا آخر پڑھایا تو دوسری طرف ہماری جو بھی ضرورت یا تکلیف کا موقع ہوتا اس میں بلا امتیاز سب ہی کا بھرپور خیال رکھتے۔ حرمین کے اسفار میں جب ساتھ نصیب ہوتا تو خوب پیسے عنایت کرتے۔ ماہِ رمضان یا عید الفطر کے موقع پر ہم سب بھائیوں کو پانچ ہزار، کبھی پچیس ہزار اور کبھی چالیس ہزار روپے عیدی کے نام سے عطا فرمائے۔ اس عاجز کو دو مرتبہ سفرِ حج پر اور تین مرتبہ عمرے کے لیے اپنے خرچ پر بھیجوایا۔ اسی طرح دیگر بہن بھائیوں کو بھی حج و عمرے کرائے۔ کبھی بھی ہمیں معاش کی فکر میں نہ لگنے دیا، نہ اس کو پسند فرمایا۔ ہر موسم کے پھل اور سردیوں میں دیسی انڈے بڑے سلیقے کے ساتھ ہم بھائیوں کے گھر بھیجواتے۔ اگر کسی بات پر ناراض ہو جاتے تو فوراً ہی تلافی فرما دیتے، مگر دل میں کسی کے لیے ناراضگی اور عداوت دور دور تک نہ تھی۔ اس عاجز کو کبھی پیار سے ’’یوسف جان‘‘ کہتے۔ کبھی فرماتے: ’’تیری وجہ سے میں ابویوسف ہوں‘‘۔ آہ! اس شفقت و محبت کا ذکر کس طرح اور کیا کیا کروں۔ مختلف مجالس اور تقاریب میں بیانات کے لیے بھیجتے۔ پھر کبھی تقریب ہی کے دوران اور کبھی بعد میں خوب حوصلہ افزائی فرماتے ہیں۔
بندہ کے فراغت کے پہلے ہی سال ’’ہدایۃ النحو‘‘ اور ’’میبذی‘‘ کے اسباق سپرد کیے۔ دوسرے سال ’’نخبۃ الفکر‘‘ اور تیسرے سال ایک ادارے میں ’’بخاری شریف‘‘ جلد ثانی کے لیے تقرر کروایا۔ اس کے بعد اپنے مدرسہ میں ’’مسلم شریف‘‘ کا۔ اور پھر فراغت کے ساتویں سال جب بندہ کی عمر تئیس سال کے لگ بھگ تھی، اکابر سے مشاورت کے بعد ’’بخاری شریف‘‘ جلد اول کا سبق عنایت فرمایا۔ الحمدللہ! بندہ سے غیر معمولی محبت و اعتماد کا تعلق تھا۔ پہلے ہی سال ختمِ بخاری کے موقع پر حکم فرمایا کہ ’’آخری حدیث کا درس تم نے دینا ہے‘‘۔ بعد میں بڑی خوشی کا اظہار فرمایا اور گھر تشریف لا کر والدہ صا حبہ (أدام اللہ ظلہا علینا) سے بھی حوصلہ افزائی کے کلمات کہے ۔ اس کے بعد سے اکابرین سے ملاقات کا جب بھی موقع ملتا بندہ کا بخاری شریف کی تدریس کی نسبت سے بطورِ خاص تعارف کروا کر خوب دعائیں دلواتے۔ دوسروں کے سامنے ہم بچوں کا اس مشفقانہ انداز میں تذکرہ فرماتے کہ نگرانی کی سختی کا احساس لمحہ بھر میں کافور ہو جاتا۔
خوب یاد ہے کہ غالباً ۱۹۹۶ء میں اس عاجز کو اپنے ساتھ سفرِ حج پر لے گئے۔ یہ بدعمل و بدسلیقہ خدمت تو کیا کرتا الٹا بوجھ بنا رہا۔ منٰی روانگی سے پہلے رات کو بندہ کو ایک سخت قسم کی تکلیف لاحق ہوگئی، بڑے فکر مند ہوگئے اور ڈاکٹر سے چیک اپ کروا کر فوری انجکشن لگوایا، جس سے فوری آرام آگیا۔ وصال سے پونے دو سال قبل بندہ کو بچوں سمیت عمرہ کے لیے بھیجا اور ٹکٹ، ویزے کے تمام اخراجات خود ادا فرمائے، اور یہ صرف میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ سب ہی برادران کے ساتھ اس طرح کا معاملہ تھا۔ چند سال قبل بندہ ملائیشیا کے سفر پر گیا تو بڑی دعائوں کے ساتھ انتہائی آبدیدہ ہو کر رخصت فرمایا۔ وہاں بندہ کا ارادہ واپسی کی تاریخ جلدی کروانے کا ہوا، حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کا یہاں سے فون آیا فرمانے لگے: ’’میں ٹریول ایجنٹ کے پاس ہی بیٹھا ہوں، بس تم مجھے اپنا PNR بتلادو، باقی کام میں خود کرلوں گا‘‘۔ آہ! اب دکھ تو اس بات کا ہے کہ اپنی سستی و ناقدری کی وجہ سے سب سے پیچھے رہ گیا۔
’’تحفۃ القاری‘‘ جلد اول کی تکمیل کے موقع پر یہ عاجز مسودہ آپ کی خدمت میں لے گیا تو باوجود ضعف و اعذار کے بخوشی کلماتِ تبریک لکھنے پر آمادہ ہوئے اور یہ تحریر لکھ کر عنایت فرمائی جو شفقت و تربیت کا حسین امتزاج ہے:
الحمْدُ لِلَّهِ وَحْدَهُ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ، وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ۔
امابعد! عادت اللہ کچھ اس طرح جاری ہے کہ ہر زمانے میں کچھ مخصوص موفق بندے (اہلِ علم و تُقی، مقبولینِ بارگاہِ الٰہی) ایسے پیدا کئے جاتے ہیں کہ ان کی تعلیم و تربیت، توجہ و دعائوں کے اثرات کھلی آنکھوں نظر آتے۔ ان ہی مبارک نفوس میں سے برکۃ العصر قطب العالم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ کی ذاتِ گرامی بھی تھی۔ جن کی تربیت و توجہات سے ایک معتد بہ رجال کار بنے جو رشد و ہدایت کے ہمہ گیر کاموں میں مشغول ہیں۔
مترجمِ کتاب الجہاد والسیر من صحیح البخاری نور چشمی مولوی محمد یوسف مدنی سلمہٗ جن کی پیدائش مدینہ پاک میں ہی ہوئی اور عقیقہ بھی برکۃ العصر رحمہ اللہ ہی کے دسترخوان پر بیسیوں اہلِ علم و مشائخ کی شرکت میں ہوا۔ حضرت والا نے ہی ان کا نام ’’محمد یوسف‘‘ تجویز کیا۔ غالباً ان کی عمر سال ڈیڑھ سال کی ہوگی کہ بندہ ایک روز بعد نمازِ ظہر حرمِ نبوی شریف میں ان کو دم کرانے کے لیے حضرت رحمہ اللہ کی خدمت میں لے گیا۔ بندہ چونکہ حضرت کا همدم خادم تھا تو شفقت سے کچھ پڑھ کر دم فرمایا اور اس کے بعد مجھ سے ایک موقع پر فرمایا کہ ’’اس نے مجھے خوب گھورا‘‘۔ مجھ کو رچشم کے نزدیک یہی اس کے لیے پہلی بنیاد تھی اس کی ہونہاری اور کامیابی کی جانب۔ حفظِ قرآن کریم کی بسم اللہ شیخ القراء حضرت قاری فتح محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ رحمۃً واسعۃً اور تکمیل کے بعد ابتداء سے لے کر تاآخر ساری کتب معہد الخلیل الاسلامی میں پڑھیں۔ میرے محسن حضرت اقدس مولانا سحبان محمود صاحب ایک دفعہ امتحان لینے کے لیے معہد تشریف لائے اور انہوں نے درجہ ثانیہ کی کتب بشمول ’’مرقاۃ‘‘ وغیرہ کا امتحان لیا تو بے حد مسرت کا اظہار فرمایا اور تعریفی کلمات و تحریر سے نوازا۔ معہد سے تکمیل کے بعد اسی میں درجہ ثانیہ کی ’’ہدایۃ النحو‘‘ کی تدریس کے لیے تقرر ہوا، اور آج تقریباً بارہ سال سے ’’بخاری شریف‘‘ ان کے زیر تدریس ہے۔ خادم و بانی معہد نے باوجود اپنے داعیہ کے حضراتِ اکابرین، اساتذہ حضرت مولانا حبیب اللہ صاحب مظاہری زید مجدہ، شیخ الحدیث حضرت مولانا غلام محمد صاحب، حضرت مولانا مفتی عبدالستار صاحب مفتی جامعہ خیر المدارس، حضرت مولانا عبدالرشید صاحب نعمانی رحمهم اللہ اور حضرت مولانا محمد منظور صاحب مدظلہ العالی سے مسلسل استشارہ کا تعلق رکھا اور انہی حضرات کے انشراح و اعتماد پر تقسیمِ کتب میں عمل کرتا رہا۔ انہی حضرات کے اعتماد پر ان کے لیے بخاری شریف تجویز کی۔
اگرچہ موصوف نے ساری ہی کتب اول تاآخر سمجھ سے پڑھیں، لیکن حدیث پاک کے ساتھ خصوصی شغف و مطالعہ کا معمول دیکھا۔ قابلِ شکر ہے کہ ان کو محقق العصر محدث کبیر حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی رحمہ اللہ کی خصوصی شفقت وتلمذ بھی حاصل رہا۔ بسا اوقات مکتبہ مدرسہ سے کتب اساتذہ کرام اپنے نام پر لے کر مطالعہ کے لیے ان کو دیا کرتے تھے۔ ’’طحاوی شریف‘‘ مکمل اگرچہ مدرسہ کے نصاب میں شامل نہیں تھی لیکن بالاستیعاب ان کو پڑھا، مطالعہ کیا اور پڑھایا۔ تقریباً بارہ سال سے بخاری شریف جلد اول اور پانچ سال سے مجلدین ان کے زیرِ تدریس ہیں۔ گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران کتاب الجہاد والسیر کا ترجمہ، تشریحات مع حل اللغات پر کام مکمل کیا۔ اب یہ کتاب میرے ہاتھوں میں ہے ۔ ان شاء اللہ ثم ان شاء اللہ یہ کام میرے لیے معافیٔ سیئات اور مغفرت کا خصوصی ذریعہ شمار کی جائیگی۔
لَعَلَّ رَحْمَةَ رَبِّحِينَ يَقْسَمَا تَأْتِي عَلَى حَسَبِ عِصْيَانِ فِي الْقِسَمِ
دعا ہے کہ اللہ پاک نور چشمی عزیز جان کو خود بینی، تعلِّی وغیرہ سے محفوظ رکھے۔ حقیقی تواضع کے ساتھ طالبعلمانہ صورت نصیب رہے۔ کتاب کا فیض عام ہو، عنداللہ مقبولیت نصیب ہو۔ وما ذٰلک علی اللہ بعزیز، وللّٰہ الحمد أولاً وآخراً، وصلی اللہ تعالیٰ علی سیدنا محمد وعلیٰ آلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
محمد یوسف مدنی عفی عنہ
بانی و مہتمم جامعہ معہد الخلیل الاسلامی
ایک طویل عرصہ تک بعد نمازِ عصر مسجد میں ان کی نشست کے پاس ہم برادران کا جمع ہونا لازمی تھا۔ اسی میں گھریلو ودیگر امورِ مدرسہ پر گفتگو بھی رہتی اور نصائح و تادیب وتنبیہ بھی۔ گھر میں جب سارے بھائی اکٹھے ہوتے تو مخصوص انداز میں سب کے نام لے کر بڑے ہی پیارے سے گنتی کرتے اور فرماتے: ’’بھئی پانچواں، ساتواں کون رہ گیا؟‘‘۔ ایک مرتبہ ہاتھ کی کھال زور سے کھینچ کر فرمانے لگے: ’’اولاد تو جسم کا عضو ہوتی ہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ ان کی شفقتوں اور محبتوں کا بدلہ ان کو اپنی شایانِ شان عطا فرمائیں۔ آمین۔
۱۶۔ جامعیت کا حسین نمونہ
عملی طور پر اپنے آپ کو تعلیمی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے باوجود فکری و نظریاتی اعتبار سے تمام دینی کاموں کے صرف سرپرست ہی نہیں بلکہ عملی شریک تھے۔ انہوں نے تمام کارہائے خیر کو اپنا کام سمجھ کر ان میں جسمانی و مالی ہر طرح کا حصہ ڈالا، کتنے ہی مدارس و مکاتب ان کے تعاون سے مستفید ہوتے رہے، اطرافِ عالم میں ہونے والی اقامت دین کی کوششوں میں وہ ابتدائی زمانہ کے حصہ ڈالنے والے اکابر میں تھے۔ نقد رقوم و دیگر اجناس کے ذریعے انہوں نے متعدد قدرتی آفات و مصائب کے موقع پر برادرانِ اسلام کے ساتھ بھر پور تعاون کیا جس کا بہت سوں نے آپ کی حیات اور بعد میں برملا اعتراف کیا۔ بسا اوقات اس حوالے سے ہم کم فہم، جذباتی لوگوں کو تحفظات ہوتے کہ مدرسہ کے مستقبل کے تعمیری منصوبے اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ مگر واقعتا ان کے اخلاص و للہیت کو سمجھنا آسان نہ تھا۔ اپنے متعلقین و متوسلین کو بارہا یہ نصیحت فرماتے کہ کسی بھی دین کے کام میں اس قدر غلو مت کر جانا کہ بقیہ سارے کاموں کی نفی کر ڈالو۔
۱۷۔ موت کی یاد
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:(من أکیس الناس؟) فرمایا: (اکثرھم ذکرا واستعدادا للموت)۔ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کو ہم نے اس کا خوب مصداق پایا۔ چنانچہ ہر موقع پر چھوٹا ہو یا بڑا اس سے اپنے حق میں دعائے حسنِ خاتمہ کی درخواست ضرور کرتے۔ دعا جب کراتے تو عجیب انداز سے یہ جملہ فرماتے جو عموماً ان کی دعا کا حصہ تھا: ’’اے اللہ! ہسپتالوں، ڈاکٹروں، نرسوں اور غیر محرموں کے ہاتھوں کی موت سے محفوظ فرما، ہمارے آخری وقت کو زندگی کا سب سے بہتر وقت فرما، دنیا سے چھوٹنے کا غم نہ ہو، تیری لقاء کی تڑپ ہو اور تو بھی ہم سے ملنے سے راضی ہو، کسی اعلیٰ دینی خدمت میں لگے ہوئے اپنی طرف منتقل فرما‘‘۔ بارہا فرمایا: ’’کبھی مدرسے کے ارد گرد کے گھروں پر نظر دوڑا کر سوچتا ہوں کہ یہ جتنے گھر بنانے والے تھے، ان میں سے اکثر اب دنیا میں نہیں ہیں، تو ہم نے بھی یہاں سے جانا ہے‘‘۔ ایک مرتبہ فرمایا: ’’سفر میں احباب جا رہے تھے، ایک مسافر اچانک ہی ملکِ عدم کوچ کر گیا، اس پر ایک ساتھی نے یہ شعر کہا:
موت کیا ہے زمانے کو بتلائوں میں ایک مسافر تھا رستے میں نیند آگئی
ایک بار کہنے لگے: ’’اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ کے یہاں معافی سو فیصد اور یقینی ہے تو میں ایک لمحہ کے لیے بھی یہاں رکنے کو تیار نہیں‘‘۔
وصال سے چند ماہ قبل گھر میں شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے صاحبزادے حضرت مولانا ارشد مدنی مدظلہ العالی کی ناشتہ کی دعوت فرمائی۔ واپسی کے وقت جب حضرت گاڑی میں بیٹھنے لگے تو بہت ہی رقت کے ساتھ فرمایا: ’’مرنے کے بعد کی بڑی فکر ہے کہ کیا ہوگا؟‘‘ اس پر حضرت نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’یہی فکر ان شاء اللہ اس کی علامت ہے کہ وہاں آسانی ہوگی‘‘۔ (أوکما قال)
یہ عاجز جب اپنی بڑی بچی کو تکمیلِ حفظ کے موقع پر آپ کے پاس گھر لے گیا تو خوشی میں ایک اشرفی اور قیمتی جوڑا اس کو تحفہ کے طور پر دیا اور بڑی لجاجت کے ساتھ بچی کو دعائوں کے لیے کہا۔ اس کے بعد جب عزیزم ہارون سلمہٗ کو اس کی تکمیلِ حفظ کے موقع پر لے گیا تو اس کو بھی انعام دیا اور روتے ہوئے کہنے لگے: ’’مجھے بھی قیامت کے دن شفاعت کے موقع پر یاد رکھنا‘‘۔ آہ! کیسی بے نفسی اور فنائیت تھی۔
جنت البقیع کا پیوند بننے کی بے حد خواہش تھی۔ خود فرماتے تھے کہ ’’میں تو وہاں صرف مرنے کے لیے جاتا ہوں‘‘۔ سفر حجاز کا زیادہ وقت مدینہ منورہ ہی میں گزارتے۔ عام طور پر جمعرات کے دن سب برادران کو ٹیلیفون کے پاس جمع ہونے کا پیغام پہلے سے بھیجوا دیتے اور پھر فرداً فرداً دعا اور حال احوال کا تبادلہ ہوتا۔ ایک مرتبہ بندہ نے صلوٰۃ وسلام کے لیے عرض کیا تو فرمانے لگے: ’’کہنے کی ضرورت نہیں، میں پہلے ہی سے بار بار عرض کر رہا ہوں‘‘۔ آخری سفرِ عمرہ کے موقع پر جب بندہ نے رابطہ کیا اور خیریت دریافت کی تو آبدیدہ ہو کر فرمانے لگے: ’’دعا کرو: بس یہیں مدینہ میں موت آجائے‘‘۔ دعائوں کے لیے عرض کیا تو خوب دعائیں دیں: ’’اللہ تعالیٰ خوب کام لے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔
الغرض حق تعالیٰ شانه نے حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کو غیر معمولی اوصافِ حسنہ سے نوازا تھا۔ ’’ایک کہانی تھی سو ختم ہوگئی‘‘۔
مدتوں یاد آئیں گی تیری شفقتیں یاد آآکر رلائیں گی تیری عنایتیں
حضرت رحمہ اللہ کی عادت تھی کہ کسی مرحوم کا تذکرہ یوں فرماتے: ’’خدا بخشے! بڑی خوبیاں تھیں جانے والے میں‘‘۔ اسی پر اپنے اس مضمون کو اشک بار آنکھوں کے ساتھ ختم کرتا ہوں۔
حضرت جگر مرادآبادی رحمہ اللہ کا شعر معمولی ترمیم کے ساتھ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کے نذر ہے:
جان کر منجملہ خاصانِ میخانہ تجھے مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے
اللہ تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائے، ان کی ہر شفقت، ہر ڈانٹ، ہر پیار اور احسان کے بدلے میں ان کے کروڑوں درجات بلند فرمائیں اور روزِ محشر ہم سب نسبی و روحانی اولاد کو ان کی رفاقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب عطا فرمائیں۔ آمین۔