تقسيمِ میراث کے وقت سابقہ سالوں کا کرایہ مانگنا
سوال
السلام عليكم ورحمة اللہ وبرکاتہ! دادی کی بلڈنگ تھی اس میں چھ مکان تھے دادی کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، دادی کانتقال جنوریء میں ہوا تھا چار گھر بیٹوں کےپاس تھے اور ایک گھر بیٹی کے پاس تھا اور ایک گھر جو کرادیہ دار نے چھوڑ دیا تھا اس گھر پر چھوٹے بھائی قبضہ کرکے گودام بنالیا تھا، بلڈنگ بیچنے کی مستقل کوشش میں لگے ہوئے تھے لیکن پارٹی سواد کرتی اور پھر پیچھے ہٹ جاتی اس دوران جن کے پاس پیسے تھے انہوں نےدوسرا گھر لے لیا اور اس گھر کو گودام بنالیاتھا ،ایک چچا نے جب گھر چھوڑا اور دوسرا گھر لیا تو ایک پھپو سے کہا تم یہاں رہ لو لیکن وہ نہیں آئی آخر کار ء میں بلڈنگ کا سودا فائنل ہوگیا سب کے مشورے سے اب دو بہنیں ڈیمانڈ کرتی ہیں کہء سے ء تک کا گھر کا کرایہ دو(بہنیں شادی شدہ ہونے کی وجہ سے مشترکہ گھر میں نہیں رہتی تھیں)۔ تو بلڈنگ کے سودے کے ٹائم ان سے کہا ابھی یہ رکھو بعد میں پوچھیں گےکسی مفتی سے کہ کرایہ بنتا ہے یا نہیں؟ آپ سے گزارش ہماری قرآن و احادیث کی روشنی میں رہنمائی کردیجئے۔ کیونکہ اگر ان کا حق بنتا ہے تو ہم ادا کریں جلد از جلد۔ والد کی نوکری پیشہ میں 20 ہزار روپےتنخواہ ہے۔ آپ کی رہنمائی کے منتظر ۔ جزاک اللہ
جواب
صورتِ مسئولہ میں مرحومہ دادی کے انتقال کے بعد متروکہ جائیداد میں تمام ورثاء، یعنی بیٹے اور بیٹیاں، برابر کے حق دار ہیں۔ تاہم ء سے ء کے دوران وہ بیٹیاں جو شادی شدہ ہونے کی وجہ سے مشترکہ گھر میں رہائش اختیار نہ کر سکیں اور پہلے سےان کا بھائیوں کے ساتھ کسی قسم کا کرایہ طے نہیں ہوا تھا، ان کے لیے اب تقسیمِ جائیداد سے قبل بھائیوں سے کرایہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔ البتہ اگر بھائی اپنی خوشی اور رضامندی سے کرایہ کے طور پر کچھ دینا چاہیں تو باعثِ ثواب ہوگا۔ مجلة الأحكام العدلية - (1 / 208) المادة () إنما تعتبر وتجري المهايأة بعد الخصومة, فعليه إذا سكن أحد صاحبي الدار المشتركة في جميع الدار مدة مستقلا بدون أن يدفع أجرة عن حصة الآخر فلا يسوغ لشريكه أن يقول له: إما أن تدفع لي أجرة حصتي عن تلك المدة وإما أن أسكن بقدر ما سكنت. إلا أن له - إن شاء - تقسيم الدار إن كانت قابلة للقسمة وإن شاء طلب المهايأة على أن تكون معتبرة من بعد ذلك أي من تاريخ المخاصمة. العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية - (1 / 90) (سئل) فيما إذا سكن أحد الشريكين في الدار المشتركة بينهما بطريق الملك مدة بلا إجارة ولا أجرة لحصة شريكه والآن يكلفه شريكه الذي لم يسكن إلى دفع أجرة حصته في المدة المزبورة أو يسكن في الدار بقدر ما سكن بدون وجه شرعي فهل لا يلزمه ذلك؟(الجواب) : نعم قال في المنظومة المحبية لو أحد من الشريكين سكن ... في الدار مدة مضت من الزمن فليس للشريك أن يطالبه .........بأجرة السكنى ولا المطالبة بأنه يسكن مثل الأول .......... لكنه إن كان في المستقبل يطلب أن يهايئ الشريكا ....... يجاب فافهم ودع التشكيكا فتویٰ نمبر :34647
دارالافتاء :جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
میراث کے مسائل کے احکام |