ایک روشن ستارہ
حضرت مفتی محمد عبداللہ صاحب
رئیسِ دار الافتاء جامعہ خیر المدارس ملتان
بندہ لکھنے لکھانے کے فن سے نابلد ہے، لیکن لاڈلے محترم و مکرم مخدوم صاحبزادگان کی کچھ فرمائش ہی ایسی تھی جسے رد کرنا ناممکن تھا، جیسے سیدنا حضرت بلال رضی اللہ عنہ مؤذنِ حضر و سفر نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرما لینے کے بعد اذان کہنا چھوڑ دی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خالی نشست گاہ دیکھنے کی تاب نہ لاتے ہوئے ملک شام منتقل ہو گئے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عالمِ خواب میں ارشاد فرمایا: ’’بلال! میری ملاقات کے لیے کیوں نہیں آتے؟‘‘ بیداری پر فوراً حاضری کا پروگرام بنالیا، جب مدینہ طیبہ میں حاضری ہوئی تو صاحبزادگان سیدنا حضرت امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما نے اذان کہنے پر اصرار کیا، تو لاڈلوں کی فرمائش ایسی نہ تھی جسے رد کیا جا سکے، چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ دورِ نبوی کی اذان سن کر مرد و خواتین، صحابہ و صحابیات روتے ہوئے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے اور مدینہ منورہ میں ایک کہرام مچ گیا۔ اس طرح مخدوم صاحبزادگان کی فرمائش کو قبول کرتے ہوئے قلم اُٹھایا، اللہ پاک کوئی کام کی بات جو میرے اور قارئین کے لیے دنیا و آخرت میں نافع ہو، لکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مخدوم العلماء والصلحاء ہمارے حضرت اقدس مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کیا تھے؟ میری کوتاہ نظر نے جو محسوس کیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ آسمانِ دین کے ایسے روشن ستارے تھے جس کی روشنی سے تبلیغ، تدریس، تصوف، علم و عمل، اخلاص، تقویٰ، گوشہ نشینی، جہاد، خانقاہیں، مدارس، مساجد، ختمِ نبوت، ناموسِ رسالت، ناموسِ صحابہ وغیرہ کی شمعیں روشن تھیں، اور وہ ان تمام شعبہ ہائے دین کے لیے باغ و بہار تھے۔ اس اجمال کی تھوڑی سی تفصیل ناظرین و قارئین کی نذر کرنا چاہوں گا۔
بلند ہمتی
حضرت اقدس رحمہ اللہ کو مدنی کہنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت رحمہ اللہ ایک عرصے تک بمعہ اہل و عیال مدینہ طیبہ زادھا اللہ عزاً و شرفاً میں اقامت پذیر رہے۔ سب بچوں کا اقامہ یا شہریت حاصل تھی۔ سعودی حکومت کی بے جا دخل اندازی اور سختی کی وجہ سے وہاں چونکہ کھلم کھلا درس و تدریس، خانقاہی سلسلہ جاری رکھنا انتہائی دشوار تھا، اس لیے تمام مفادات کو بالائے طاق رکھ کر کراچی تشریف لے آئے۔ یہاں آکر ایک ایسا مرکز قائم کیا جس کا نام سنتے ہی علم و عمل، خانقاہ و مدرسہ کا تصور خود بخود پیدا ہوجاے، میری مراد ’’معہد الخلیل الاسلامی‘‘ بہادرآباد کراچی ہے۔ ہمارے مدارس کا پہلا استناد مسجد نبوی میں قائم اصحابِ صفہ کا مدرسہ ہے اور ثانوی نسبت مرکز علم و عمل دار العلوم دیوبند سے ہے، جس میں ایک مقام پر پتھر تختی میں کندہ ہے: ’’در خانقاہ مدرسہ دیدم‘‘ معہد الخلیل الاسلامی بھی گویا اسی کا مصداق ہے۔
بلندیٔ سوچ
حضرت اقدس مدنی طيب اللہ ثراہ وجعل الجنۃ مثواہ کی زبان سے یہ فرمان بھی سنا کہ ’’میری کوشش یہ ہے کہ بڑے بڑے خاندانوں کے بچوں کو اس ادارہ میں جمع کیا جائے، پھر ان کی تعلیم و تربیت پر محنت کر کے ایک عظیم جماعت تیار کی جائے، اس سے ایک: تو دین کی عظمت ظاہر ہوگی۔ اور دوسرے: یہ لوگ دین کی بات کھل کر کریں گے، کسی قسم کے دبائو کا شکار نہ ہوں گے، کیونکہ جسے اپنی ملازمت بچانے اور معاش کا فکر درپیش ہو وہ دینی مسئلہ کھل کر بیان نہیں کر سکتا۔ تیسرے: بڑے خاندانوں کے بچوں میں عالی صفات ہوں گی جن کا تذکرہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں موجود ہے: خِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ۔ اس کا مشاہدہ حضرت صدیق اکبر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی المرتضیٰ، سعد بن ابی وقاص، زید بن ثابت، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم وغیرہ کی بابرکت شخصیات سے کیا جا سکتا ہے۔ تنقیص مقصود نہیں صرف اظہارِ شانِ ارشادِ نبوی کے لیے عرض کرتا ہوں کہ ماریں سب سے زیادہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ وغیرہ حضرات نے کھائی ہیں، لیکن مقامات حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے حضرات لے گئے، یہ درحقیقت خاندانی اوصاف اور خوبیوں کی وجہ سے تھا۔ اسلام کی روشنی نے ان میں مزید نکھار پیدا کر دیا۔ ان بچوں کی خاندانی صلاحیتیں سائنس کی بجائے علمِ دین اور تفقہ فی الدین کے کام آئیں گی‘‘۔ اس سے حضرت والا کی دینی سوچ کی بلندی معلوم ہوتی ہے۔
نقص فی الدین کا برداشت نہ کرنا
وفاق المدارس کی طرف سے داخلہ امتحان کے لیے جب تصویر کو ضروری قرار دیا گیا تو ایک دردِ دل رکھنے والے سائل نے مختلف دار الافتاؤں کی طرف رجوع کیا، تو اس پر بعض مفتی صاحبان نے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ جامعہ دار العلوم عیدگاہ کبیر والا ضلع خانیوال کے مفتی صاحبان حضرت والا سے ملنے گئے تو ارشاد فرمایا، جس کا حاصل یہ تھا کہ ’’آپ نے حق گوئی کا حق ادا کر دیا‘‘۔
غالباً پندرہ سال قبل کا واقعہ ہے کہ سمندری ضلع فیصل آباد میں بنین و بنات کا ایک ادارہ حضرت اقدس سیدی والدی مفتی عبدالستار صاحب رحمہ اللہ کی سرپرستی میں قائم ہوا، اس کی ضروریات اور ترقی کے لیے رمضان المبارک میں کراچی حاضری کا ارادہ تھا۔ حضرت اقدس کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا، جس میں ادارہ سے متعلق صرف ایک جملہ تھا کہ ’’درمیانی عشرہ میں مدرسہ کے سلسلہ میں حاضری کا خیال ہے‘‘ باقی سارا خط رمضان، دعا وغیرہ سے متعلق تھا، تقریباً چار یا پانچ روز بعد حضرت کا والا نامہ موصول ہوا، جس میں دو باتوں کا خصوصی تذکرہ تھا:
۱۔ ’’بہت سے اچھے، قابل مدرسین جن کا حلقہ درس خوب تھا، ان کو اپنا مدرسہ بنانے کی صورت میں ضائع ہوتے ہوئے دیکھا۔ اس ارشاد میں عجیب تنبیہ تھی کہ اس مجرب ضرر سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا، کہیں یہ درس و تدریس مدرسہ کی نذر نہ ہو جائے‘‘۔
۲۔ اس ضرر سے تحفظ کے لیے ایک عجیب وغریب دعا سے نوازا کہ ’’اللہ پاک آپ کو ایسے معاونین سے نوازیں کہ آپ کو بازاروں کا چکر نہ لگانا پڑے‘‘۔ جب اس وقت کراچی حاضری ہوئی تو حضرت نے اپنے ایک شاگرد کو ایک خاص صاحب کا نام بتلایا اور فرمایا کہ مفتی صاحب کو وہاں لے جائو اور مدرسہ کے لیے تعاون کرنے کا کہو اور میرا سلام پہنچا دو۔ اس کے بعد بھی حضرت اقدس رحمہ اللہ ہمیشہ مدرسہ کے لیے تعاون فرماتے رہے۔ جزاہم اللّٰہ أحسن الجزاء۔
چھوٹوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی ترقی کی فکر
فقیہ العصر حضرت اقدس مفتی عبدالستار صاحب رحمہ اللہ کو حق تعالیٰ نے فقاہت کا جو مقام عطا فرمایا ہے تقریباً تمام اہلِ علم و افتاء ان کی فقاہت کے گن گاتے ہیں، کراچی کے ایک بڑے دار العلوم کے ایک جید مفتی صاحب نے منیٰ کی ایک خاص مجلس میں ارشاد فرمایا کہ پاکستان کے مفتی اعظم میری نظر میں مفتی عبدالستار صاحب خیر المدارس ملتان والے ہیں، بلکہ کراچی کے ایک بہت بڑے دار العلوم کے مہتمم صاحب نے ماہانہ فقہی مجلس میں شرکت کے لیے کراچی کی دعوت دی اور بڑی بڑی مراعات کی پیش کش کی وغیرہ وغیرہ۔ کوئی فقیہ النفس کا خطاب دیتا، بہرحال اصل مقصد تو غالباً حضرت اقدس سیدی والدی رحمہ اللہ سے استفادہ مقصود ہوگا۔ تاہم بندہ تہی دامن کو حضرت رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ہم معہد الخلیل الاسلامی میں شعبہ تخصص فی الفقہ شروع کرنا چاہتے ہیں (بندہ کے پاس بھی جامعہ خیر المدارس میں تخصص فی الفقہ کے اسباق تھے)۔ کیا ایسا ممکن ہوگا کہ پندرہ روز بعد بدھ شام کو آپ کراچی آجائیں جمرات اور جمعۃ المبارک درس اور ضروری ہدایات اور مطالعہ طلباء کے ذمہ لگا دیں پھر پندرہ دن بعد آکر سابقہ کو چیک کر لیا کریں اور آئندہ پندرہ روز کے لیے ضروری ہدایات دیں اور مطالعہ ذمہ لگائیں؟‘‘ اور فرمایا کہ ’’سولت والے سفر کا انتظام ہم کر دیں گے‘‘۔
بندہ نے اپنی نااہلی کی بنا پر عذر کیا، فرمایا: ’’نہیں، حضرت اقدس والد صاحب سے ضرور مشورہ کرو‘‘۔ بہرحال بعض اعذار کی وجہ سے اسے عملی جامہ تو نہ پہنایا جا سکا، تاہم اس سے حضرت والا کی چھوٹوں کی اور ادارہ کی ترقی کے لیے فکرمند ہونے کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
تداعی کے جواز پر راقم الحروف نے ایک مضمون لکھا۔ حضرت والا سے رمضان المبارک میں حاضری کے موقع پر اس کا تذکرہ ہوا تو ارشاد فرمایا: ’’ اسے ضرور ارسال کرنا‘‘۔ بندہ نے شوال میں وہ مضمون حضرت کی خدمت میں ارسال کیا، اس کے بعد حضرت اقدس حرمین شریفین کے لیے تشریف لے گئے۔ بندہ کے نام بھی بلاوا آگیا۔ بندہ بھی وہاں مدینہ طیبہ میں حاضر ہوا، موبائل سے حضرت اقدس سے رابطہ ہوا، حال احوال لینے کے بعد پہلی بات یہ ارشاد فرمائی کہــ ’’آپ کا مضمون خوب پسند آیا، اس کی خوشی میں آپ سے کشتی کرنے کو دل چاہتا ہے‘‘۔ (سبحان اللہ)
مساجد، مدارس، مکاتبِ قرآنیہ کی عملی سرپرستی
حضرت رحمہ اللہ ایک عرصے تک قاعدے، سپارے، پنج پارہ، قرآن کریم، عمدہ انداز میں چھپوا کر مدارس و مساجد میں ارسال کرتے رہے۔ ایک مرتبہ تفسیر عثمانی عمدہ انداز میں چھپوا کر پورے ملک کی تمام اہم مساجد میں رکھوانے کا اہتمام فرمایا۔
اکابر کی شروحاتِ حدیث بذل المجہود، الدر المنضود شرح أبی داود اور عربی، اردو کتب و رسائل تقریباً پورے ملک میں طلباء، طالبات عالمیہ کے لیے مفت تقسیم کرتے رہے، بلکہ درس و تدریس میں مشغول اہل علم کی خدمت میں ضروری اہم شروحات ارسال فرماتے رہے، جامعہ خیر المدارس ملتان کے بعض اکابرین کے لیے نقدی کی شکل میں ہدیہ ارسال کرنے کا بھی معمول رہا۔
بندہ ہر سال رمضان میں کراچی جاتا۔ میرا ٹھکانہ معہد الخلیل الاسلامی میں ہوتا ہے، سحری افطاری یا کبھی دونوں وہیں ہوتیں، بعض اوقات امامت کے لیے حکم فرماتے۔ سحری افطاری میں کھانا اپنے ساتھ بٹھا کر کھلاتے، اللہ پاک کی مختلف نعمتیں حضرت مدنی رحمہ اللہ کے مبارک ہاتھوں سے نصیب ہوتیں۔ اگر واپسی میں کبھی ریل میں سحری یا افطاری کا امکان ہوتا تو حضرت اسٹیشن پہنچوانے کا انتظام کرتے اگر کوئی اور انتظام نہ ہوتا، اور سحری افطاری کے لیے کھانا پھل یا نقدی عنایت فرماتے اور فرماتے کہ ’’راستہ میں ہماری طرف سے افطاری کر لینا‘‘۔
حضرت رحمہ اللہ کی تواضع
جامعہ خیر المدارس کے شیخ الحدیث حضرت اقدس مولانا محمد صدیق صاحب دامت برکاتہم نے سنایا کہ رمضان المبارک میں مدینہ طیبہ میں حاضر تھا۔ کرسی پر ایک ساتھی مجھے صلوٰۃ و سلام کے لیے لے جارہا تھا۔ حضرت مدنی رحمہ اللہ بھی وہیں تھے۔ حضرت شیخ الحدیث کا بازو پکڑ کر بڑی عاجزی اور تواضع سے فرمایا کہ حاضری کے وقت میرا بھی سلام عرض کر دیں۔
حضرت اقدس سیدی و مولائی والدی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد جب معہد الخلیل الاسلامی میں حاضر ہوا۔ حضرت مدنی رحمہ اللہ کی خدمت میں بیٹھا تھا۔ میں نے عرض کیا حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کا سایہ اٹھ گیا اب آپ ہی ان کی جگہ پر ہیں۔ میں نے سر ننگا کر کے عرض کیا کہ ان کی جگہ آپ میرے سر پر ہاتھ پھیر دیں ۔ اصرار پر ہاتھ تو پھیر دیا لیکن بڑائی کا سر کچلنے کے لیے اسی لمحہ ارشاد فرمایا کہ ’’اب تم میرے سر پر ہاتھ پھیر دو‘‘ اور سر مبارک سے ٹوپی اتار دی۔ بندہ نے ہاتھ پھیرنے کی بجائے سر مبارک کا بوسہ لے لیا۔
آخری عشرے کا اعتکاف
ملکی سطح پر کئی خانقاہوں میں پورے رمضان المبارک کا اعتکاف کرنے اور بعض میں صرف آخری عشرہ میں اعتکاف کا اہتمام ہوتا ہے، اور ان حضرات کا کہنا یہ ہوتا ہے یہ اعتکافِ محض نہیں بلکہ ایک خانقاہی چلہ یا خانقاہی عشرہ ہے۔ مختلف خانقاہوں میں الحمدللہ شرکت کا موقع ملا، اکثر جگہوں پر معدودے چند افراد کے علاوہ اکثر عوام الناس کی بھرتی ہوتی ہے۔ منتظمین حضرات شاید اسی تعداد سے خوش ہوں گے۔ الحمدللہ! جسے خانقاہی نظام قرار دیا جا سکتا ہے یا جسے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ کے اعتکاف سے مشابہت تھی وہ در حقیقت حضرت مدنی رحمہ اللہ کی خانقاہ کا عشرۂ اعتکاف تھا۔ تقریباً سب ہی حضرات باقاعدہ ذاکر و شاغل اور مرتبہ احسان سے مس رکھنے والے ہوتے تھے۔ کبھی کبھی رات گزارنے کا اور کبھی مجلس ذکر میں شرکت کا موقع ملتا۔ ذاکرین کے ذکر میں ایک سوز، دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی ایسی آواز ہوتی جس سے میرے جیسے اناڑی بھی محظوظ ہوتے اور دلی تڑپ میں اضافہ کا باعث بنتی۔
تاثیر تربیت
حضرت مدنی رحمہ اللہ کے تلامذہ اور متوسلین پر حضرت رحمہ اللہ کی تربیت کے آثار نمایاں نظر آتے۔ حضرت رحمہ اللہ کی طرح وہ بھی الحمدللہ ہر طرح کے تصنع سے بیزار معلوم ہوتے۔ تاثیرِ تربیت کے دو واقعات پیش خدمت ہیں:
۱۔ ایک سال بندہ نے بھی آخری عشرہ حضرت مدنی رحمہ اللہ کے یہاں گزارا۔ قرب و جوار کے معتکفین عید کا اعلان سن کر گھروں کو روانہ ہوگئے۔ ہم لوگ چونکہ ملتان نہیں پہنچ سکتے تھے اس لیے عید وہیں کرنے کا پروگرام تھا۔ کراچی شہر کا ایک طالب علم جس کی عمر دس گیارہ سال ہوگی، وہ گھر والوں کے بار بار فون کرنے پر بھی گھر جانے کے لیے تیار نہ تھا۔ جب مدرسے کے ذمہ دار نے اس سے پوچھا کہ تم کیوں نہیں جاتے؟ تو وہ کہنے لگا کہ میں عید پڑھ کر گھر جائوں گا، اور وجہ یہ بیان کی کہ اگر میں اب گھر چلا گیا، میرے دوسرے بھائی بہن بازار جائیں اور عید کے روز، اور چاند نظر آنے پر بازاروں میں ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہوتا ہے، بے پردہ عورتیں ہوتی ہیں، ان پر نظر پڑے گی۔ اس بچے کے ان جذبات کو کس نے پروان چڑھایا اور اس عمر میں بچوں کے کیا جذبات ہوتے ہیں، وہ کسی پر مخفی نہیں۔ یہ میرا چشم دید واقعہ ہے۔
۲۔ حضرت اقدس رحمہ اللہ کی وفات کے موقع پر سلوک و احسان میں ایک واقعہ مذکور تھا، اسے بھی حضرت اقدس مدنی رحمہ اللہ کی حسنِ تربیت اور تاثیر صحبت کا ایک کرشمہ قرار دے سکتے ہیں۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت سالانہ امتحانات ہورہے تھے۔ معہد الخلیل الاسلامی کا ایک طالب علم سوال سمجھنے کے لیے کھڑا ہوا۔ نگران حضرات میں سے ایک صاحب نے سوال سمجھانے کے ساتھ ساتھ جواب کی طرف بھی اشارہ کر دیا۔ آفرین ہے اس طالب علم پر کہ اس نے دریافت کردہ جزء کا جواب پرچے میں لکھنے کے بجائے دوسرا جزء حل کیا اور اس کا جواب لکھا، تاکہ میری کاپی میں نگران کا بتایا ہوا جزء شامل نہ ہوجائے کیونکہ وہ خیانت تھی، دیانت و امانت کے اصول کے خلاف تھا۔ سبحان اللہ! حالانکہ بعض طلبہ عزیز اس عمر میں پرچہ حل کرنے کے لیے ہر قسم کی بددیانتی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اس واقعہ سے حضرت مدنی رحمہ اللہ کی صحبت نے طلبہ اور متعلقین پر کیسے کیسے نقوش چھوڑے اس کا اندازہ بخوبی ہو گیا ہوگا۔
یہ تو حال ان لوگوں کا ہے جو مدرسہ میں تعلیم و تربیت کے لیے داخل ہوئے، اسباق پڑھے اور چلے گئے۔ اور جو حضرات چوبیس گھنٹے، دن رات آپ کے سایۂ عطوفت میں رہتے، ان پر ہر لمحہ توجہ مبذول رہتی، اور ’’والدین‘‘ ایسی ہستی سے عبارت ہے جو اپنی اولاد کے ہر ہر فرد کو اپنے مقام سے آگے دیکھنا چاہتی ہے۔ اس ہستی کی عنایات نے کہاں سے کہاں پہنچایا ہوگا، اس کا اندازہ کرنا کسی ذہین فطین کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب گلشنِ خلیل میں درجہ عالمیہ کے ذریعے گلشنِ حبیب سجانے کا ارادہ فرمایا تو کسی جامعہ یا دار العلوم سے بھیک نہیں مانگنی پڑی، بلکہ حضرت مدنی رحمہ اللہ نے اپنے سایۂ عطوفت میں جو نرسری تیار کی تھی انہیں گلشن نبوی کی آبیاری کے لیے مقرر کیا۔ ہمارے ایک شاگرد مولانا عبداللہ صاحب مظفرگڑھی جو آج کل غالباً جامعۃ الرشید کراچی میں مدرس ہیں وہ اس وقت معہد الخلیل الاسلامی میں مدرس تھے۔ ان کی زبانی حضرت مدنی رحمہ اللہ کے ایک صاحبزادے حضرت مولانا محمد زکریا دام مجدہ کے بارے میں سنا۔ ماشاء اللہ! وہ معارف السنن کا مطالعہ نہیں کرتے بلکہ گویا وہ اسے چاٹتے ہیں۔ دوسرے صاحبزادے حضرت مولانا یوسف صاحب زید مجدھم کی خوشبو دیکھنی ہو تو ان کی بخاری شریف کی شرح دیکھ لی جائے۔
جب معہد الخلیل الاسلامی میں دار الافتاء اور شعبہ تخصص فی الفقہ کا اجراء ہوا، تب بھی حضرت ہی کے گلشن کا ایک عظیم پھول، مخدوم و مکرم حضرت مولانا مفتی محمد دام مجدہ دار الافتاء اور تخصص فی الفقہ کی زینت بنے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا حضرت اقدس مدنی رحمہ اللہ نے جن مقاصد کے لیے مدینہ طیبہ کی بہاروں کو ایک وقت میں خیر باد کہا تھا، وہ مقاصد الحمدللہ علی وجہ الاتم پورے کر کے راہی آخرت ہوئے۔ مقاصدِ حسنہ کی تکمیل کے بعد اب جنت البقیع میں پھر مستقل قیام کے لیے بے چین رہنے لگے تھے، لیکن عرفت ربی بفسخ العزائم کے تحت جانا نصیب نہ ہوا۔ اللہ پاک ہمیں بھی حضرت اقدس مدنی رحمہ اللہ کے نقشِ قدم پر چلائے، ان جیسے اخلاق، علوم، جذبات اور کامیابیاں نصیب فرمائیں۔ آمین بجاہ وجہہ الکریم۔
تاہم بعض اہلِ کشف سے منقول ہے کہ تدفین کے بعد تبدیلی مکان ہوتا رہتا ہے، جو لوگ جنت البقیع کے قابل نہیں ہوتے ان کو وہاں سے نکال لیا جاتا ہے، وہاں کی تمنا رکھنے والوں اور وہاں کے لائق اموات کو وہاں پہنچا دیا جاتا ہے۔ اگر یہ بات برحق ہے تو حضرت اقدس مدنی رحمہ اللہ کے بارے میں ہمارا ظنِ غالب ہے کہ آپ کے ساتھ ضرور یہ معاملہ پیش آیا ہوگا۔ آپ کی اس آخری خواہش کی حق تعالیٰ شانہ نے ضرور قدر دانی فرمائی ہوگی۔
لفظ ’’یحییٰ‘‘ کا حاصل معنی فارسی زبان میں ’’زندہ باد‘‘ کا ہے، ان شاء اللہ حضرت اقدس مدنی رحمہ اللہ کا نام اور کام حضرت کے لائق و فائق صحیح خلف الرشید صاحبزادگان اور متوسلین اور مرکزِ علم و عمل گلشنِ معہد الخلیل الاسلامی کے ذریعہ تا صبحِ قیامت زندہ و تابندہ رہے گا، اور آخر میں ایک دعائے نبوی پر اس مضمون کو ختم کرتے ہیں:
إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا، وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا يَحْيَى لَمَحْزُونُونَ، وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
بندہ محمد عبداللہ عفا اللہ عنہ
خادمِ دار الافتاء جامعہ خیر المدارس ملتان