ماہتابِ علم و فضل
حضرت مولانا محمد عابد صاحب مدظلہٗ
استاذ الحدیث جامعہ خیر المدارس ملتان
اللہ نے دین برحق کو قیامت تک زندہ و تابندہ رکھنا ہے اور اس مقدس کام کیلئے ہر دور میں ایک جماعت سرگرم رہی۔ سنن ابن ماجہ کی حدیث ہے: ’’لا یزال اللّٰہ لیغرس فی ھٰذا الدین غرساً یستعمھلم فی طاعتہ‘‘ (ترجمہ: اللہ تبارک وتعالیٰ دین میں ایسے پودے لگاتے رہتے ہیں جن کو اپنی طاعت و بندگی میں استعمال فرماتے ہیں)۔
دورِ حاضر میں اللہ نے حضراتِ اکابر علمائے دیوبند کو اس شرف سے خوب نوازا ہے۔ مرشدنا امام ربانی حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ ہمارے حضرات اکابر کی نسبتوں کے جامع اور امین تھے۔ دین کے مختلف شعبوں میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے قابلِ رشک خدمات لیں۔ آپ کی صحبت بابرکت سے ایک جہاں فیض یاب ہوا۔ مخدوم و مکرم حضرت مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کا شمار بھی آپ کے انہی صحبت یافتہ و تربیت یافتہ سعادت مندوں میں ہے جنہوں نے اپنے شیخ اور اپنے اکابر حضرات کے نقشِ قدم پر حیرت انگیز طور پر تعلیم، تزکیہ، تبلیغ کی جامعیت کے ساتھ ساتھ خدمتِ دین سر انجام دی۔ (تقبل اللّٰہ مساعیہ)۔
کراچی جیسے مادہ پرست شہر میں معہد الخلیل الاسلامی کے نام سے قابلِ رشک ادارہ قائم فرمایا جس کا نظام و انتظام ایک طالبعلم کو عالمِ ربانی بنانا ہے۔ الحمدللہ یہ اپنے اس مقدس مقصد میں کامیاب جا رہا ہے، اس ادارہ میں طالبعلم کو عالم کے ساتھ عارف بنانے کی محنت بھی ہوتی ہے، ظاہر کے ساتھ باطن کے سنوارنے کا اہتمام بھی ہے۔ حضرت مرحوم کا یہ ادارہ جیسے ان کیلئے صدقہ جاریہ ہے ویسے ہی دیگر مدارس کے لیے اسوۂ حسنہ بھی ہے۔
حضرت مولانا محمد یحییٰ صاحب مدنی مرحوم کو اپنے مرشد حضرت مولانا شیخ الحدیث محمد زکریا رحمہ اللہ سے عشق کی حد تک محبت و تعلق تھا۔ آپ کسی قیمت پر اپنے شیخ کے ذوق و فکر پر نظر ثانی کے لیے تیار نہ تھے، جس کا اثر آپ کی اولاد واہلِ تعلق میں نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے۔ حضرت مرحوم نے اپنے شیخ کے تحریری فیض کی اشاعت کا بھی قابلِ رشک اہتمام کیا۔ اس مبارک کام کے لیے ’’مکتبۃ الشیخ‘‘ کا قیام عمل میں آیا جس کے ذریعے ہر سال لاکھوں روپے کی مالیت کی کتب علماء و طلباء میں تقسیم ہوئیں۔ ملک کا شاید ہی کوئی مدرسہ و جامعہ ایسا ہو جو اس فیض سے بہرہ ور نہ ہو۔ فجزاہ اللّٰہ أحسن الجزاء۔
اللہ نے آپ کی قبولیت کے اثرات آپ کی زندگی میں ہی دکھا دیے چنانچہ آج معہد الخلیل الاسلامی کا شمار ملک کے چند معیاری جامعات میں ہوتا ہے جیسا کہ آپ کے جاری کردہ ماہانہ سلوک و احسان کا شمارہ ملک کے قابلِ قدر دینی و علمی ماہناموں میں ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ اللہ نے آپ کو قابلِ صد رشک اولاد و اصہار کی دولت سے بھی نوازا۔
آپ کے بڑے فرزند عزیزم مولوی محمد الیاس سلمہٗ جیسے ایک شیخ ہیں ویسے ہی ایک مدرس بھی اور اعلیٰ درجے کے منتظم بھی۔ آپ کے دوسرے فرزند عزیزم مولوی محمد یوسف سلمہٗ نے نوعمری میں علم و عمل کے ساتھ تصنیف میں جو حیرت انگیز ترقی کی اس نے ایک طبقہ کو حیرت زدہ کر دیا۔ موصوف نے صحیح بخاری کی اردو شرح ’’تحفۃ القاری‘‘ کے نام سے (جس کی اب تک چار جلدیں آ چکی ہیں) لکھ کر علماء کی ایک جماعت کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے، احقر بھی ’’تحفۃ القاری‘‘ سے استفادہ کرتا رہتا ہے۔ آپ کے صاحبزادے عزیزم مولوی محمد زکریا سلمہٗ نے سننِ ترمذی کی شرح ’’الکوکب الدری‘‘ کا اردو ترجمہ کیا اسی کے ساتھ ترمذی شریف کا درس بھی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ عزیزم مولوی محمد مدنی سلمہٗ کی خدمات ہوں یا حافظ شاہد صاحب کی، یہ سبھی قابلِ رشک ہیں۔ اگر آپ کے خاندان کو بیت العلم والحکمۃ کا لقب دیا جائے تو یہ بے جا نہ ہوگا۔ احقر کا حضرت مرحوم سے چالیس سال کا تعلق ہے اس لیے چند سطور لکھ دیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ آپ کی قبر کو جنت کا باغ بنائے۔ آمین۔