موت العالم موت العالم
حضرت مفتی مختار الدین شاہ صاحب مدظلہ
کربوغہ شریف — خلیفۂ مجاز حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ
الحمدللّٰہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلين وخاتم النبيين وعلیٰ آلہ وأصحابہ وأتباعہ أجمعین۔
اللہ تعالیٰ کے ان بندوں کا وجود قوم و ملک اور اپنے خاندان بلکہ پورے عالمِ دنیا کے لیے باعثِ رحمت ہوتا ہے جن کے قول و فعل کے اور ان کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے کے سبب لوگوں کو ہدایت ملتی ہے اور وہ ایمانی صفات اور مکارمِ اخلاق سے آراستہ ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے لوگوں کے اندر باہمی الفت و مودت، رواداری، ایک دوسرے پر اعتماد اور آپس میں اتفاق و اتحاد پیدا ہو جاتا ہے اور ان کی برکت سے ایک خوشگوار اور پاکیزہ ماحول پیدا ہوتا ہے۔ ایسے علماء کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ’’موت العالِم موت العالَم‘‘۔ ایسے علماء میں سے حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ بھی تھے جو شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ کے اجل اور معتمد خلفاء میں سے تھے۔
ان سے پہلی ملاقات مدینہ منورہ میں ایک مدرسہ علومِ شرعیہ (جو اب مسجد نبوی کا حصہ بن چکا ہے) میں اس وقت ہوئی تھی جبکہ حضرت شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ نے ان سے میرے متعلق فرمایا کہ وہ مجھے فلاں فلاں کتابیں دیں اور ابتدائی معمولات کی کچھ پرچیاں بھی دیں۔ ۱۹۷۴ء میں جب مجھے حضرت شیخ نے اجازت دی تو خوف سے مجھ پر گریہ کی شدت طاری تھی، اس وقت میں تئیس سالہ نوعمر نوجوان تھا۔ ایسے موقع پر حضرت مولانا یحییٰ مدنی صاحب مرحوم نے مجھے بہت تسلی دی۔ مجھے اجازت کا مطلب سمجھایا اور بتلایا کہ یہ ایک نعمتِ خداوندی ہے۔ پھر کام کے حوالے سے ہدایات دیں۔ پھر شیخ جب فیصل آباد رمضان کے لیے تشریف لائے تو اس موقع پر بھی حضرت مولانا مرحوم نے مجھ پر اپنی خصوصی شفقت و توجہات نچھاور کیں۔ حضرت مولانا مرحوم حضرت شیخ الحدیث سے خصوصی ملاقاتیں کرانے میں اس عاجز پر اکثر و بیشتر احسان فرماتے تھے۔ فجزاہ اللّٰہ أحسن الجزاء۔ انہوں نے میرے ساتھ جو شفقت اور ہمدردی کا سلوک کیا میں اس سے بڑا متاثر ہوا۔
کچھ عرصہ بعد ان کے ساتھ مزید تعلق بڑھ گیا اور ان کی زندگی کے معاملات اور معمولات کو دیکھا تو ان کو بہت کھرا، صاف ستھرا پایا۔ بڑے شفیق، ملنسار، لوگوں کے ہمدرد و خیرخواہ اور سخی تھے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں اور خاص طور پر ملکی حالات کے لیے بڑے فکر مند تھے۔ فقیروں، مسکینوں، متاثرین اور دینِ اسلام کے تمام شعبوں میں کام کرنے والوں کے ساتھ محبت رکھتے تھے اور حتی الوسع ان کے ساتھ خفیہ طور پر تعاون بھی کرتے تھے اور ان کے کاموں پر ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ بڑے امانتدار، خوددار اور ذمہ دار تھے۔ جو کہتے تھے وہ کرتے تھے۔ نمائش اور نمائشی کاموں سے دور رہتے تھے۔ خیر کا کام خود کر کے دوسروں کے نام کراتے تھے۔ انصاف پسندی اور وفاداری جیسی خوبیوں سے آراستہ تھے۔ بعض معاملات میں دیکھا کہ انہوں نے حق و انصاف کے معاملے میں کسی کا لحاظ نہیں رکھا۔ قریب سے قریب دوست یا رشتہ دار کی طرف داری نہیں کی۔
اللہ تعالیٰ نے ان کو اصلاح و تربیت کرنے کی بڑی صلاحیت بخشی تھی اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ مشائخ اور بڑے صوفیاء اور علمائے کرام کی اولادوں کی اصلاح و تربیت کا معاملہ بڑا مشکل ہوتا ہے، ان کے دل و دماغ سے صاحبزادگی کا خیال نکالنا بڑا مشکل ہوتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حضرت نے اپنے صاحبزادوں کی ایسی تربیت کی ہے کہ ان میں شیخ الحدیث بھی ہیں اور مفتی بھی، تمام کے تمام علماء اور دینی علوم کے درس دینے والے ہیں اور ساتھ ساتھ تالیف و تصنیف کے کارناموں میں بھی مشغول ہیں۔ تحفۃ القاری بحل ما فی صحیح البخاری بھی ان کے فرزند ارجمند کی تالیف ہے جس کی ضرورت، اہمیت اور فوائد کا پتہ اس کے پڑھنے سے ہی چلتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود کسی بیٹے میں صاحبزادگی کی بو نہیں پائو گے۔ بڑے متواضع اور اپنی اصلاح کے لیے بڑے بے چین اور فکر مند رہتے ہیں، اور اس کے ساتھ دوسروں کی اصلاح و تربیت کے لیے بھی۔ اللہ تعالیٰ ان کو مزید علم و عمل، خوبیوں اور دنیا و آخرت کی ترقیوں سے نوازے اور اپنے نیک صالح باپ کے نقشِ قدم اور ان کے دینی فکر اور عمل پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
بندہ مختار الدین
کربوغہ شریف