میرے محسن اور ہردلعزیز رفیق
حضرت مولانا اسماعیل بدات صاحب رحمہ اللہ (مدینہ منورہ)
خلیفۂ مجاز حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمہ اللہ
عزیزم ابنائے مولانا محمد یحییٰ مدنی سلمہم اللہ تعالیٰ!
آپ کے والد، میرے عزیز دوست اور میرے محسن کے انتقال سے بہت ہی رنج و افسوس ہوا، اس حادثہ سے چند روز پہلے میرے ایک اور عزیز دوست جو حضرت شیخ کے بہت محبوب خلیفہ تھے ان کا انتقال ہوا، اللہ تعالیٰ دونوں مرحومین کو درجاتِ عالیہ سے نوازے۔ دونوں سے میرے گہرے تعلق رہے ہیں، مولانا یحییٰ صاحب رحمہ اللہ سے آج سے ۴۰، ۴۵ سال قبل سہارنپور میں ملاقات ہوئی تھی۔ ۳، ۴ سال سہارنپور رمضان گزارنے آتے رہے۔ چونکہ مدینہ منورہ کی نسبت سے آتے تھے اس لیے ہمارے لیے قابلِ احترام تھے۔ حضرت شیخ بھی بڑی شفقت فرماتے تھے۔ اور میرا مدینہ منورہ کا قیام انہی کے نامۂ اعمال میں ہے۔ اس کی ترتیب یہ ہوئی کہ حضرت شیخ نے ۱۳۶۹ھ میں حج کے بعد عمرہ کا ارادہ فرمایا، ہمارے مالی حالات ہوائی جہاز سے سفر کے نہ تھے، مولانا مرحوم نے ہمت دلائی، ٹکٹ اور ڈیکٹریشن کا انتظام فرمایا، مولانا مرحوم کے ہمت دلانے پر احقر نے بحری جہاز سے سفر کا ارادہ کر لیا اور ٹکٹ استعمال نہیں کیا اور مدینہ منورہ پہنچنے پر ٹکٹ واپس کر دیا۔ مرحوم نے ٹکٹ واپس کر کے اس کی قیمت احقر کے حوالہ کردی۔ وہ دن اور آج کا دن مولانا سے تعلق، ان کی شفقتیں ہمیشہ رہیں اور ہدایا کا سلسلہ ہر سفر میں رہا بلکہ بعض دفعہ پاکستان سے اپنے شاگرد (خرم مقیمِ مدینہ) کے ہاتھ ہدایا بھجواتےتھے۔
مرحوم ہماری آمد سے قبل یہاں مقیم تھے اور جب احقر آیا، حضرت سے درخواست کر کے مجھے اپنا مستقل مہمان بنا لیا، اس وقت حضرت ایک سال قیام فرما کر واپس ہو گئے تھے اور ۲ سال بعد مستقل قیام کی نیت سے تشریف لائے تو احقر بھی حضرت کی آمد سے ۲، ۳ ماہ قبل حادثاتی طور پر مدینہ منورہ پہنچ گیا۔ مرحوم پہلے ہی سے مقیم تھے حضرت کی تشریف آوری کے بعد وہ بھی مستقل حضرت کے خدام میں شامل ہو گئے۔
بڑی عمر میں ان کو پڑھنے کا جذبہ پیدا ہوا، مستقل اقامت چھوڑ کر کراچی منتقل ہو گئے اور حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے مدرسے سے سندِ فراغت حاصل کی اور مولانا بڑی شفقت فرماتے تھے، پھر فراغت کے بعد مدینہ منورہ آگئے اور رہائش کے لیے اپنا مستقل مکان بھی بنا لیا۔ لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا، اس لیے پھر کراچی منتقل ہو گئے، مدرسہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ یوسف بنوری ٹائون میں چند سال تدریسی خدمات سر انجام دیں اور اس کے بعد ’’معہد الخلیل الاسلامی‘‘ کے نام سے اپنا مستقل ادارہ قائم کیا اور اس ادارہ کے ذریعے اللہ نے ان سے بڑا کام لیا اور یہ ایک مثالی ادارہ بن گیا، اور اب وہ ادارہ ان کے لیے صدقۂ جاریہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کے حسنات کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور ان کے اس ادارہ کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے اور ان کے لیے ہمیشہ صدقۂ جاریہ کے طور پر قبول فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اولاد کو اور مرحوم کے لگائے ہوئے باغ کو مرحوم کے اصولوں پر چلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ مرحوم کیلئے بے شمار قرآن شریف ختم کر کے ایصالِ ثواب کی توفیق ہوئی اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس کے درجاتِ عالیہ سے نوازے اور موصوف کے اہلِ خاندان کو صبر و سکون عطا فرمائے۔ احقر بھی مرحوم کی اولاد سے دعائے خیر کا متمنی ہے۔ والسلام۔