مضامین

حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلمہم

نائب صدر دار العلوم کراچی

الحمد للّٰہ وکفیٰ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ۔

اما بعد، بزرگوں کی صحبت و خدمت کس طرح مٹی کو سونا، بلکہ کندن بنا دیتی ہے، اس کا ایک جیتا جاگتا مظہر حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی تھے جنہیں آج ’’رحمۃ اللہ علیہ‘‘ لکھتے ہوئے دل غم و الم میں ڈوبا ہوا ہے۔ وہ اصلاً دہلی پنجابی برادری کے ایک تاجر خاندان کے چشم و چراغ تھے جو اگرچہ بفضلہ تعالیٰ دینی ماحول میں پلا بڑھا تھا، لیکن اس کا اصل مشغلہ تجارت تھا، اور تعلیم تھی تو عصری تعلیمی اداروں کی، علماء کے ساتھ تعلق ضرور تھا، لیکن خاندان کے اُمراء میں درسِ نظامی والے علمِ دین کی طرف رجحان نہیں تھا۔

حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب نے بھی اسی خاندان کی روایت کے مطابق ابتدائی تعلیم میٹرک تک اسکول میں حاصل کی، اور اس کے بعد ڈی جے سائنس کالج کے ذریعے انٹر سائنس بھی کیا، لیکن اس کے بعد وہ تبلیغی جماعت سے وابستہ ہو گئے اور جماعت میں معتد بہٖ وقت لگانے کے بعد ۱۹۵۹ء میں اپنی زندگی تبلیغ و دعوت کے لیے وقف کر دی اور اس مقصد کے لیے رائے ونڈ تبلیغی مرکز میں مستقل رہائش اختیار کر لی۔

اسی رہائش کے دوران تبلیغی جماعت کے امیر دوم حضرت مولانا محمد یوسف صاحب کاندھلوی (حضرت جی) سے خصوصی تعلق قائم ہوا جو بکثرت پاکستان تشریف لاتے رہتے تھے اور بالآخر ان سے بیعت کا شرف بھی حاصل ہوا، اور پھر دہلی کے تبلیغی مرکز نظام الدین جا کر نہ صرف یہ کہ حضرت جی کی خدمت و صحبت سے فیض یاب ہوئے، بلکہ وہاں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب سہارنپوری کی زیارت و صحبت سے بھی مشرف ہوئے۔ اور پھر ان دونوں بزرگوں سے تعلق اس قدر بڑھا کہ ان دونوں کے الطاف و عنایات سے خوب خوب فیض یاب ہوتے رہے۔ دہلی، سہارنپور اور پھر حجاز میں ان حضرات کی معیت ہی نہیں، وہ نعمت حاصل ہوئی جسے حضراتِ محدثین ’’ملازمہ‘‘ سے تعبیر فرماتے ہیں، یعنی مستقل طور پر اپنے شیخ سے جڑے رہنا۔

حضرت مولانا محمد یوسف صاحب کی وفات کے بعد حضرت شیخ الحدیث سے مکہ مکرمہ میں بیعت کا شرف حاصل کیا اور سہارنپور اور پھر حجاز میں حضرت کے خصوصی خدام میں شمار ہوئے۔ حضرت کے ساتھ متعدد بار اعتکاف میں شریک رہے اور مہینوں حضرت کی خدمت میں مقیم رہے۔ اسی دوران حضرت سے خواہش ظاہر فرمائی کہ وہ علمِ دین حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ حضرت ہی نے ان کی بسم اللہ کرائی۔ اور پھر ۱۹۷۱ء سے ۱۹۷۴ء تک جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹائون میں علمِ دین کی تحصیل فرماتے رہے، اور صحیح بخاری حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری صاحب سے پڑھی اور ان کی شفقتوں سے بھی فیض یاب ہوئے اور تعلیم کی تکمیل کے بعد دوبارہ اپنے اہل و عیال سمیت مدینہ منورہ جا کر حضرت شیخ الحدیث صاحب کی خدمت میں جاپڑے، اور حضرت کے اسفار میں بھی حضرت کے ساتھ رہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹائون ہی میں جہاں انہوں نے علمِ دین حاصل کیا تھا، تدریس کا موقع بھی عطا فرمایا اور دو سال وہاں تدریس کے بعد ابتداء میں حفظ کا ایک مدرسہ کھولا جو بفضلہ تعالیٰ ترقی کر کے ’’معہد الخلیل‘‘ کے نام سے ایک منظم اور باقاعدہ درسِ نظامی کی اعلیٰ تعلیم گاہ کی صورت اختیار کر گیا۔

مذکورہ بالا بزرگوں کی صحبت و خدمت نے حضرت مولانا محمد یحییٰ صاحب کو علم و عمل اور زهد و تقویٰ کا پیکر بنا دیا تھا۔ ان کی یہی صفات ’’معہد الخلیل‘‘ میں پوری طرح جلوہ گر تھیں۔ اس مدرسے میں علومِ ظاہرہ کی تعلیم کے علاوہ طلبہ کی تربیت کا ایسا مستحکم نظام انہوں نے قائم فرمایا جو دوسرے مدارس میں کم نظر آتا ہے۔ اسی تربیت کی خاطر انہوں نے طلبہ پر بہت سی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں جو بعض اوقات طلبہ پر شاق گزرتی تھیں، لیکن جو شخص ان پابندیوں سے گزر کر تکمیل کر لیتا وہ علم و عمل دونوں میں عموماً ایک ممتاز حیثیت حاصل کر لیتا تھا۔

بندہ پر بھی حضرت مولانا محمد یحییٰ صاحب کی شفقتیں ناقابلِ فراموش ہیں، اگرچہ مجھے ان سے براہِ راست نیاز حاصل کرنے کے مواقع کم ملے، لیکن مختلف اجتماعات اور تقریبات میں اُن کی زیارت ہو جاتی۔ انتہائی محبت کا مظاہرہ فرماتے اور بعض اوقات یہ بھی فرماتے کہ ’’میں صرف تم سے ملنے کی خاطر اس تقریب میں آیا ہوں، ورنہ اب میں نے تقریبات میں جانا ترک کر رکھا ہے۔‘‘

ان ملاقاتوں میں بعض اوقات بزرگوں کی باتیں بھی ان سے سننے کو مل جایا کرتی تھیں۔ آخر عمر میں علالت، ضعف اور نقاہت بہت زیادہ ہو گئی تھی، لیکن ان کے معمولات اور فیض رسانی کا سلسلہ آخر وقت تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ ان کا وہ وقتِ موعود آ پہنچا جو ہر بشر کے لیے مقدر ہے۔ وہ ہم سے جدا ہو گئے، انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ لیکن انہوں نے ’’معہد الخلیل‘‘ کی صورت میں جو مآثر چھوڑے ہیں، ان کی بنا پر ان شاء اللہ ان کے فیوض جاری رہیں گے۔

اپنی اولاد کے معاملے میں بھی وہ بڑے خوش قسمت تھے۔ تمام صاحبزادگان ’’معہد الخلیل‘‘ کی تربیتی بھٹی سے گزرے ہوئے الحمد للہ اپنے والد ماجد کے حسنِ تربیت کے آئینہ دار ہیں، اور اب ’’معہد الخلیل‘‘ کو اسی اسلوب پر چلا رہے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت کو درجاتِ عالیہ عطا فرمائیں، اور ان کے صاحبزادگان کو ان کے علم و عمل کا حقیقی وارث بنا کر ان کے کام کو آگے بڑھانے کی بیش از بیش توفیق عطا فرمائیں، اور ہر مرحلۂ زندگی پر ان کو دستگیری سے نوازیں۔ آمین۔

(حضرت مولانا مفتی) محمد تقی عثمانی

نائب صدر دار العلوم کراچی