صبرٌ جمیلٌ
مولانا ولی اللہ ولی عظیم آبادی صاحب
محترمی الاخ مولانا محمد یوسف، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ کی دعا سے اتنی جلد نظم لکھی گئی، فللّٰہ الحمد والمنۃ۔ تمام لوگوں کو میرا سلام۔
فقط والسلام، ولی اللہ
حضرت مولانا یحییٰ بانیٔ ’’معہد الخلیل‘‘ کاروانِ علم کے ایک پیشوا شیخِ جلیل
اِک مدرس، اِک مربی، اِک مجاہد بے مثیل صاحبِ اخلاص و تقویٰ داعیٔ حق و یقیں
علم کے پیاسوں کو دی ہے آپ نے اِک سلسبیل خادمانِ دینِ حق کے آپ تھے اِک پاسبان
ہر جگہ ہی کام کو حق سے ملا باغِ طویل درسگاہ و خانقاہ و مکتبہ ہو کار زار
کاش ملتی آپ کو بھی نوح سی عمرِ طویل آپ کی خدماتِ دیں کا ہم احاطہ کیا کریں
آپ کے ’’احسان‘‘ سے مجھ کو ملی ہے یہ سبیل آپ کی مرہونِ منت ہے مری یہ شاعری
یا الٰہی! کیا کریں اب ہم کہاں ڈھونڈیں بدیل چلدیے سوئے جناں روتا ہمیں وہ چھوڑ کر
کر ہدایت کے کواکب تو انہیں رب جلیل آپ کی اولادِ صالح چاند تارے علم کے
ہے سکونِ قلب مضطر قولِ حق صبرٌ جمیل آپ کی فرقت پہ ہیں رنجور سب ہی اے ولیؔ!
حاشیہ: میری نعت پہلی بار آپ کے ہی ماہنامہ ’’سلوک و احسان‘‘ میں چھپی اور آپ نے ازراہِ ذرہ نوازی اپنے ماہنامہ کے لیے مزید نعتیہ کلام ارسال کرنے کا حکم دے کر میری حوصلہ افزائی فرمائی۔ فجزاہ اللّٰہ خیرا ورحمہ رحمۃ واسعۃ۔