شوہر کا سوتیلی بیٹیوں سے بیوی کی میراث کا مطالبہ
سوال
زید کی تین بیٹیاں تھیں بیوی سائمہ کاانتقال ہوگیا پھر زید نے سلمی سے شادی کی پھر زید کاانتقال ہوا پھر سلمی نے عمروسے شادی کی کچھ عرصہ بعد سلمی کاانتقال ہوگیا اب عمرو بیوی سلمی کاحق میراث ان بیٹیوں سے مانگ رہاہےکیایہ صحیح ہے؟
جواب
صورت مسئولہ میں مرحومہ سلمی چونکہ اپنےسابق شوہر زید کے انتقال کے وقت حیات تھی،اس لئے اس کے ترکہ میں سےاس کے حقوق متقدمہ (یعنی مرحوم کے ترکہ سےاس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات کی ادائیگی کے بعد اگر اس کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو اسے ادا کرکے،اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ سے) اداکرنے کے بعد باقی ماندہ کل ترکہ کے آٹھویں حصہ یعنی %12.5کی حقدار تھی۔چونکہ سلمی کا بھی انتقال ہوگیا،لہذا اس کے دیگر ترکہ کی طرح اس کو اس کے سابق شوہر کی میراث سے ملنےوالا حصہ اس کے ورثاء کی طرف منتقل ہوگا،اور اس کے ورثاء میں اس کا شوہر (عمرو)بھی داخل ہے،لہذا اولاد نہ ہونے کی وجہ سے عمرو اپنی بیوی سلمی کے حقوق متقدمہ کی ادائیگی کے بعد اس کے دیگر ترکہ کی طرح اس حصہ میں بھی نصف یعنی%50 کا حقدار ہے۔لہذا عمرو کازید کی بیٹیوں سے زید کے ترکہ میں سے بیوہ کی میراث سےاپنے حصہ کے بقدرمطالبہ کرنا جائز ہے۔ لما فی القرآن الکریم {وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ } [النساء: 12] ترجمہ:اورتمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ کر جائیں،اس کا آدھا حصہ تمہارا ہے،بشرطیکہ ان کی کوئی اولاد(زندہ)نہ ہو۔اوراگر ان کی کوئی اولاد ہو تو اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو انہوں نے کی ہو،اور ان کے قرض کی ادائیگی کے بعد تمہیں ان کے ترکہ کا چوتھائی ملے گا۔ (آسان ترجمہ قرآن) لما فی السراجی فی المیراث (12) اما الزوج فحالتان : النصف عند عدم الولد وولدالابن و ان سفل،والربع مع الولد او ولدالابن و ان سفل فتویٰ نمبر :34769
دارالافتاء :معہد الخلیل الاسلامی بہادرآباد کراچی
میراث کے مسائل کے احکام |