صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے داماد نے آپ کی بیٹی کو واقعۃ تین مرتبہ "طلاق دیتا ہوں" کہہ دیا ہے تو آپ کی بیٹی پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، نکاح ختم ہو گیا، اب اگر آپ کی بیٹی حاملہ نہیں تو اس کی عدت تین ماہ واریاں ہو گی، اور اگر حاملہ ہو تو عدت بچے کی پیدائش پر ختم ہو گی، دونوں صورتوں میں عدت کی تکمیل پر آپ کی بیٹی دوسری جگہ شادی کرنے میں آزاد ہو گی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن کان الطلاق ثلاثاً في الحرة وثنتین في الأمة لم تحل له حتی تنکح زوجًا غیره نکاحًا صحیحًا ویدخل بها، ثم یطلقها أو یموت عنها."
( کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة ... ، ج:1، ص:473، ط: رشدیه)
تحفة الفقہاء میں ہے:
"وأما عدة الطلاق فثلاثة قروء في حق ذوات الأقراء إذا كانت حرة ...وأما في حق الحامل فعدتها وضع الحمل لا خلاف في المطلقة لظاهر قوله: {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن ."
(كتاب الطلاق، باب العدة، ج:2، ص:244، ط: دار الكتب العلمية،بيروت )
فقط واللہ اعلم