طلاق کا پیغام پہنچانا اورشوہر کا منکر ہونا
سوال
۱۔پوچھنا يہ تھا كہ ميرے والد دس سال سے UAE میں ہے اور چار سال سے والدہ سے رابطہ بھی نہیں ہے ، تو کیا اس صورت میں طلاق ہوجاتی ہے؟ ۲۔یہ کہ دوسری بیوی اور کئی لوگ یہ کہہ رہے ہیں، کہ میرے والد صاحب نے میری والدہ کو طلاق دی ہے ،جبکہ والد صاحب انکار کر رہے ہیں کہ میں نے طلاق نہیں دی تو کیا اس صورت میں طلاق ہو جاتی ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر شوہر نے طلاق نہ دی ہو تو محض شوہر کے بیوی سے الگ رہنے اور رابطہ نہ کرنے سے اس پرکوئی طلاق واقع نہیں ہوتی، البتہصورت مسئولہ میں جو لوگ آپ کی والدہ کوان کے شوہر کی طرف سے طلاق دینے کی خبر دے رہے ہیں، اگر وہ خبر دینے والے کم از کم دو مرد یا ایک مرد اور دو خواتین ہو ں اور سب نیک و صالح اور قابل اعتماد ہوں یا وہ خبر دینے والے ایک مردیا ایک عورت ہو،لیکن وہ ثقہ ہو یا ثقہ تو نہیں ہو،مگر آپ کی والدہ کے دل کو یہ بات لگے کہ یہ مرد یا یہ عورت سچ کہہ رہی ہے توآپ کی والدہ اپنے آپ کو مطلقہ ہی سمجھے اور شوہر(آپ کے والد) سے الگ رہے ۔ لمافي رد المحتار: والمراة كالقاضي اذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه،والفتوى على أنه ليس لها قتله ولا تقتل نفسھابل تفدي بمال أو تھرب،كما أنه ليس له قتلھا اذا حرمت عليه،وكل ما هو ھرب وردته بالسحر.وفي البزازيه عن الاوزجندية لانها ترفع الاورد الامرللقاضي، فان حلف ولا بينة لها فالاثم عليه،قلت اي اذا لم تقدر على الفضاء أو الهرب ولا على معنه عنها،فلا ينافي ما قبله. باب الصريح(۴/۴۴۹)ط:دار المعرفة. وفي البحرالرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه. باب الطلاق الصریح(۳/۲۵۷)ط:رشیدية. وفي الفتاوی الھندية: اذا شهد عند المراة شاهدان أن زوجها طلقها ثلاثا وهو يجحد ذلك ثم ماتا أو غابا قبل أن يشهدا عند القاضي لم يسعها أن تقوم معه وان تدعه يقر بها فان حلف الزوج على ذلك والشهود قد ماتوا فردها القاضي عليه لا يسعها المقام معه وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه. فصل فيما تحل به المطلقة(۱/۵۰۷)ط:دارالكتب العلمية. فتویٰ نمبر :34425
دارالافتاء :معہدالخلیل الإسلامی بہادرآباد کراچی۵
طلاق کے احکام |