صرىح اور كنائی الفاظ سے طلاق کا حکم
سوال
بڑی سوچ اور سمجھنے کے بعد میں نے اب فیصلہ کیا ہے کہ اب آپ کے ساتھ زندگی گزارنا بہت مشکل ہے،ہر بار چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑا بنا لینا ہر بار لڑائی ہر بار جھگڑا، فساد جس کی وجہ سے میں تنگ آچکا ہوں ، ان چار (4) سالوں میں ہر بار میں نے سمجھوتا کیا ،ہر بار اپنے آپ کو سمجھایا، لیکن آپ کچھ بھی نہ سمجھی، اب میں" آپ کو آزاد کرتا ہوں"، میری طرف سے "آپ کو طلاق - طلاق ہے"۔ اور ہاں میں نے آپ کے لیے آج تک نہ بر اچاہا اور نہ ہی چاہوں گا ،بے شک آپ میرے لیے لاکھ برا چا ہو، No ٹینشن ، اور اللہ پاک مجھ سے اور اچھا گھر دے، اللہ حافظ۔
جواب
صورت مسئولہ میں مذکورہ تین جملوں میں سے پہلا جملہ بظاہر طلاق دینے کے ارادہ کا اظہار ہے ،اس لیے اس جملہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی بلکہ اس کی وجہ سے بعدکے دو جملوں میں شدت آنے کی وجہ سے مذکورہ تینوں جملوں سے دو طلاق بائن واقع ہو گئی ہے بشرطیکہ شوہر پہلے جملہ سے مستقل طلاق کی نیت کرنے کا اعتراف نہ کرے، لہذا دونوں کا نکاح ختم ہو چکا ہے اب اگردونوں دوبارہ ازدواجی زندگی قائم کرنا چاہیں تو باہمی رضامندی سے نئے مہر اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں نیا عقد نکاح کرنا لازم ہے،تجدید نکاح کے بعد شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا بشرطیکہ اس سے پہلے کوئی طلاق نہ دی ہو۔ لما في الدرالمختار: (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام بائن) ومرادفها كبتة بتلة (يصلح سبا، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا). (باب الکنایات(٣/٣٠٠) وفيه ايضا: واستظهر له بما في البدائع من قوله إذا وصف الطلاق بصفة تدل على البينونة كان بائنا۔۔۔فهو في معنى أنت طالق طلاقا مشروطا فيه عدم الرجعة: أي طلاقا بائنا، فهو داخل تحت القاعدة من أنه إذا وصف الطلاق بضرب من الشدة والزيادة يقع به البائن كما مر عن الهداية. (باب الانقلاب) ٣/٢٧٨ وفي خلاصة الفتاوى: لو قال لامرأته أنت طالق ثم قال للناس زن بر حرام ست وعنى به الأول أو لا نية له فقد جعل الرجعي بائنا وان عنی به الابتداءفهي طالق آخر بائن. (كتاب الطلاق (٢/٨٦) وفي البحر الرائق : ولیس منه أطلقک بصیغة المضارع الا اذا غلب استعماله فی الحال،کما فی فتح القدیر. (باب ألفاظ الطلاق(٣/٢٧١) وفي فتح القدير: ولا يقع بأطلقك إلا إذا غلب في الحال. (باب طلاق الصریح(٤/٧) فتویٰ نمبر :35308
دارالافتاء :معہد الخلیل الإسلامی بہادر آباد کراچی۵
طلاق صریح اور کنائی کے احکام |