غیر مدخول بہا کو طلاق دینا
سوال
ایک لڑکی جس کا نکاح ہوگیا لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی اور نا ہی وہ اپنے شوہر سے تنہائی میں کبھی ملی ہے، اور اسکا شوہر اس کو ایک ہی باری میں ۳ طلاق ایک ساتھ دے دے تو اسکو عدت میں بیٹھنا ہوگا یا نہیں ؟ اور اگر اسکا شوہر اس سے دوبارہ شادی کرنا چاہے تو اس کو حلالہ کرنا پڑیگا یا ضرورت نہیں ہے کیوں کے صحبت نہیں ہوئی۔ شوہر کے الفاظ یہ ہیں:میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔
جواب
واضح رہے کہ عورت کو نکاح کے بعد خلوتِ صحیحہ (کسی مانع کے بغیر تنہائی میں ملاقات ) سے پہلے اگر اس کا شوہراسکو تین طلاقیں الگ الگ جملوں سے دے دے،تو اس صورت میں اس پر صرف پہلے جملے سےایک طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے،اور بعد کے دونوں جملے لغو ہوجاتے ہیں ،اس کے بعد عورت پر عدت گزارنا بھی لازم نہیں ہوتا۔ لہذا صورت مسؤلہ میں اگر شوہر نے نکاح کے بعد خلوتِ صحیحہ سے پہلے تین الگ الگ جملوں میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں تو اس سے اس کی بیوی پر صرف ایک طلاقِ بائن واقع ہوئی ہے ،اور بقیہ دو طلاقیں لغو ہوگئی ہیں ،لہذااگر دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو بغیر حلالہ کیے از سر نو مہر مقرر کرکے گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح کرسکتے ہے، تاہم آئندہ کے لیے شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔ الدر المختار (3/ 284) طلاق غير المدخول بها ( قال لزوجته غير المدخول بها أنت طالق ) ( ثلاثا ) ( وقعن ) لما تقرر أنه متى ذكر العدد كان الوقوع به ( وإن فرق ) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره ( بانت بالأولى ) لا إلى عدة ( و ) لذا ( لم تقع الثانية ) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق. فتح القدير للمحقق ابن الهمام الحنفي (8/ 131) وإذا طلق رجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 233) " وإذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها " لأن الوقاع مصدر محذوف لأن معناه طلاقا بائنا على ما بيناه فلم يكن قوله أنت طالق إيقاعا على حدة فيقعن جملة " فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة " الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 285) قال: وفي المشكلات من طلق امرأته الغير مدخول بها ثلاثا فله أن يتزوجها بلا تحليل، وأما قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ففي حق المدخول بها. اهـ. فتویٰ نمبر :34405
دارالافتاء :معہد الخلیل الاسلامی بہادرآباد کراچی
طلاق کے احکام |