قربانی کی نیت سے خریدا جانور فروخت کرنے کا حکم
سوال
ایک جانور قربانی کےلیے ادھار خریدا،ادائیگی کےلیے نقد پیسے نہیں تھے،اس کو اسی قیمت پر فروخت کردیا اور گھر میں موجود اس سے زائد قیمت والا جانور سے قربانی کی نیت کرلی۔کیا ایسا کرنا درست ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اگر مال دار آدمی یعنی صاحبِ نصاب شخص نے قربانی کا جانور قربانی کی نیت سے لیا تو اس کے لیے اس کو فروخت کرنا مناسب نہیں ہے،بلکہ اسی جانور کی قربانی کرنا بہترہے، لیکن اگر فروخت کرلیا تو بیع درست ہوجائے گی، پھر اس کے بعد دوسرا جانور اس سے کم قیمت کا نہ خریدے، اگر دوسرا جانور پہلے سے کم قیمت پر لیا تو پہلے اور دوسرے جانور کی قیمت میں جتنا فرق ہو وہ صدقہ کردینا ضروری ہے، اور اگر جانور پہلے سے زیادہ قیمت پر لیا ہو تو بلا کراہت جائز ہے،لیکن اگر آدمی صاحب نصاب نہیں تھا یعنی اس پر قربانی واجب نہیں تھی ، لیکن اس نے قربانی کی نیت سے جانور لیا ، اب اس کے لیے اسی جانور کی قربانی کرنا لازم ہے، اسے فروخت کرنا جائز نہیں ہے ، فروخت کرنے کی صورت میں گناہ گار ہوگا۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر شخص مذکور صاحب نصاب ہے تو اس نے قربانی کے لئے خریدا ہوا پہلا جانور جتنی قیمت پر فروخت کیا تھا گھر میں موجود اس سے زیادہ قیمت والے جانور کی قربانی کرنا شرعا جائز ہے۔ فتح القدير للمحقق ابن الهمام الحنفي (14/ 204) قال ( ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما ) لإطلاق قوله تعالى { وأحل الله البيع } وعنه عليه الصلاة والسلام { أنه اشترى من يهودي طعاما إلى أجل معلوم ورهنه درعه } . الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 24) قال: "ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما" لإطلاق قوله تعالى: {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا} [البقرة:275] وعنه عليه الصلاة والسلام "أنه اشترى من يهودي طعاما إلى أجل معلوم ورهنه درعه". الدر المختار (4/ 531) ( وصح بثمن حال ) وهو الأصل ( ومؤجل إلى معلوم ) لئلا يفضي إلى النزاع الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 321) (قوله شراها لها) فلو كانت في ملكه فنوى أن يضحي بها أو اشتراها ولم ينو الأضحية وقت الشراء ثم نوى بعد ذلك لا يجب، لأن النية لم تقارن الشراء فلا تعتبر بدائع الفتاوى الهندية (5/ 301) ولو باع الأضحية جاز خلافا لأبي يوسف - رحمه الله تعالى -، ويشتري بقيمتها أخرى ويتصدق بفضل ما بين القيمتين. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 329) ويكره أن يبدل بها غيرها أي إذا كان غنيا نهاية، فصار المالك مستعينا بكل من يكون أهلا للذبح آذنا له دلالة اه فتویٰ نمبر :34897
دارالافتاء :معہد الخلیل الاسلامی بہادرآباد کراچی
قربانی کے احکام |