مضامین

وہ جو ہم نے حضرت اقدس سے سیکھا

وہ جو ہم نے حضرت اقدس رحمہ اللہ سے سیکھا

حضرت مولانا ڈاکٹر سردار احمد صاحب مد ظلہ

مجھے ٹھیک طرح تو یاد نہیں لیکن اندازہ یہی ہے کہ ۱۹۹۰ء یا ۱۹۹۲ء کے سال میں مدرسہ معہد الخلیل الاسلامی کے ساتھ بحیثیت مدرس (درجہ کتب) منسلک ہوا اور اس کا سبب میرے ایک قدیم دوست مولانا نعیم امجد سلیمی مرحوم تھے (مجازِ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ) جو معہد کے ابتدائی سالوں میں درجہ کتب کے مدرس تھے۔ انہوں نے حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ سے میرا تعارف کرایا تھا۔ حضرت مدنی رحمہ اللہ نے تدریسی تجربہ کے بارے میں پوچھا کہ کہاں پڑھایا، اور کون کون سی کتب پڑھائیں وغیرہ پوچھ کر فرمایا کہ ’’معہد کے ساتھ بحیثیت مدرس منسلک ہو جاؤ‘‘۔ اس طرح میں معہد کے اساتذہ کے بیڑے میں شامل ہو گیا۔ اُس وقت میں ایک گورنمنٹ اسکول میں بھی صبح کی شفٹ میں استاذ تھا اور ظہر کے بعد کے اسباق معہد میں پڑھاتا تھا۔ پھر میرا ایک اسکول سے دوسرے اسکول میں دوپہر کی شفٹ میں تبادلہ ہو گیا، میں نے حضرت سے عرض کیا تو انہوں نے میری رعایت کرتے ہوئے صبح ہی میرے اسباق کر دیے اور یوں میرے اسباق جاری رہے۔

استاذ کی علمی صلاحیت کی چھان بین، مزاج و ذوق اور محنت و کوشش کا اندازہ کرنے میں حضرت اپنی مثال آپ تھے۔ ان دنوں حضرت رحمہ اللہ درجہ سابعہ میں ایک سبق پڑھاتے تھے۔ مدرسہ کے سہ ماہی امتحان کے بعد اس کتاب کا ایک حصہ میرے ذمہ لگا دیا اور وہ جماعت بھی خاص جماعت تھی کہ اس میں حضرت کے صاحبزادگان اور ان کے کئی عزیز اس میں شامل تھے۔ واللہ اعلم حضرت نے سبق کچھ عرصہ کے لیے مجھے کیوں دیا؟ لیکن اس کے دو فائدے مجھے حاصل ہوئے:
۱۔ درجہ سابعہ کا سبق پڑھانے کی سعادت آج تک بندہ کو حاصل ہے۔
۲۔ حضرت کے صاحبزادگان اور اعزہ و اقارب سے رشتۂ تعلیم و تعلم، جس کے ثمرات انسان کو اپنی فانی زندگی میں بھی ملتے رہتے ہیں۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تھی کہ ’’یا اللہ! دو میں سے ایک کے ذریعہ اسلام کو عزت و قوت دے: ابو جہل یا عمر کے ذریعہ‘‘ اور عمر رضی اللہ عنہ حلقۂ اسلام میں داخل ہو گئے، تو لوگ کہنے لگے کہ عمر کی وجہ سے دین کو قوت و طاقت اور غلبہ حاصل ہوا اور دین اسلام کی تحریک کو چار چاند لگ گئے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ’’نہیں، ایسا نہیں، عمر کی وجہ سے دین کو فائدہ نہیں ہوا بلکہ دین اسلام کی وجہ سے عمر کی عزت کو چار چاند لگ گئے۔ عمر تو ایسا آدمی تھا کہ اس کو ڈھنگ سے بکریاں چرانی بھی نہیں آتی تھیں، آج دین کی برکت سے کس مقام پر پہنچ گیا‘‘۔ یہی صورتِ حال اس فقیر کی ہے کہ ہم تو کچھ نہ تھے لیکن حضرت رحمہ اللہ کی شفقت و عنایت و توجہات کے طفیل معہد کے استاذ بن گئے۔

حضرت رحمہ اللہ سے ہم نے کیا سیکھا؟
حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اپنی زندگی میں کچھ نہ کچھ بلکہ بہت کچھ سیکھتا رہتا ہے۔ یہ سیکھنے کا عمل پوری زندگی جاری و ساری رہتا ہے اور ہر فرد کے لیے ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، بچہ ہو یا بوڑھا، پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ، سیکھنے اور تجربہ کا عمل ہمیشہ اور ہر جگہ چلتا رہتا ہے، چاہے شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر۔ حضرت رحمہ اللہ کے مزاج میں یہ بات تھی کہ وہ اساتذہ کی تربیت فرماتے تھے شعوری طور پر بھی اور غیر شعوری طور پر بھی۔

۱۔ وقت کی پابندی و انضباط:
معہد میں تعلیمی نظام میں وقت کی پابندی کا بڑا اہتمام ہوتا ہے۔ تعلیم کا آغاز و اختتام ہر دو امور میں وقت کا پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ ایسے نظام میں پڑھانے والے اساتذہ اور پڑھنے والے طلبہ میں از خود وقت کی پابندی کا مزاج بن جاتا ہے اور یہ چیز انسانی زندگی میں ایک ایسا کمال اور خوبی ہے جو شرمندگی سے بچاتی ہے اور عزت و قدر شناسی کو چار چاند لگاتی ہے۔

۲۔ دیانتداری:
حضرت اقدس رحمہ اللہ قولاً اور عملاً دیانتداری کی تاکید فرماتے تھے، اور پھر اپنے عمل سے اس کی مثال خود تھے، صبح کے وقت تعلیم کے آغاز میں وقت پر پہنچ کر اپنی دیانتداری کو ثابت فرماتے، حتیٰ کہ اپنی بیماری کے دنوں میں جب چلنے پھرنے کی سابقہ ہمت نہ رہی تو کرسی پر خادمین اٹھا کر آپ کو مسجد و مدرسہ میں لاتے تھے۔ اسی طرح امتحانات کے دنوں میں وقت پر، بلکہ وقت سے پہلے تشریف لاتے۔ یوں وقت کی پابندی اور دیانتداری دونوں کا عملی ثبوت پیش فرماتے اور مجلسوں میں اور اساتذہ کے ماہانہ اجتماعات و دیگر اجتماعات میں اساتذہ اور نصائح کی مجالس میں طلبہ کو اس کے التزام کی تاکید کرتے۔

۳۔ معاملات کی صفائی:
قرآن و حدیث کی نصوص سے دین اسلام کے جو شعبہ جات معلوم ہوئے ہیں وہ پانچ ہیں: (۱) عقائد (۲) عبادات (۳) اخلاقیات (۴) معاملات (۵) معاشرت۔ حضرت رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم مولوی حضرات معاملات میں کمزور ہوتے ہیں لہٰذا معاملات میں صفائی اور احتیاط کا خیال بہت ضروری ہے۔ حلال و حرام کا امتیاز ہو، جائز ناجائز کو دیکھنا چاہیے، جس صورت میں دنیا کا مال کافی مل رہا ہو لیکن شریعت نے اجازت نہیں دی، اس کو چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ واقعہ اکثر سنایا کرتے تھے کہ ایک مولوی صاحب سے میرا کوئی مالی خرید و فروخت کا معاملہ ہوا، وہ بات کر کے پھر گئے۔ میں نے کہا کہ شرعاً یہ صحیح نہیں، آپ سے بات ہو چکی ہے، اس معاملہ کو مکمل کیجیے، تو وہ مولوی صاحب کہنے لگے کہ نہیں! میں آپ کو ایک جزئیہ (مسئلہ) کتاب میں دکھا سکتا ہوں۔ یوں ایک جزئی مسئلہ کو جان چھڑانے کا ذریعہ بنا لیا۔ لیکن حضرت کے معاملات میں بہت صفائی تھی اور لین دین کے معاملات میں جامعہ اور آپ کے حلقہ اور برادری میں حضرت کے معاملات میں صفائی کے بڑے اثرات تھے۔

۴۔ اخلاص و للٰہیت:
مومن کی زندگی بہت پُرسکون اور بہترین زندگی ہے جیسا کہ ایک حدیث کا مضمون ہے کہ ’’مومن ہر حال میں فائدہ میں ہے، اگر مصیبت زدہ ہے، تنگدست ہے تو صبر کرتا ہے اور اگر اس پر نعمتوں کی بارش ہو تو یہ شکر کرتا ہے‘‘۔ صبر اور شکر دونوں اللہ کو پسند ہے، مومنِ صادق (مخلص) اس کا بہترین نمونہ ہے۔ حضرت رحمہ اللہ اخلاص و للٰہیت اور رضاء بالقضاء کی تصویر بھی تھے اور جامعہ میں اور حلقۂ احباب میں اس پر بہت زور بھی دیتے تھے۔ اساتذہ سے فرمایا کرتے کہ ’’ماہنامہ (مشاہرہ) یہ تنخواہ یا معاوضہ نہیں ہے، یہ تو صرف وظیفہ ہے جو اکثر و بیشتر زیرِ تعلیم طلبہ کو دورانِ تعلیم دیا جاتا ہے، یہ مشاہرہ بھی بس وظیفہ ہے باقی معاوضہ تو مولوی صاحب ان شاء اللہ آخرت میں ملے گا‘‘۔ حضرت کی ان باتوں کا اور تربیت کا اثر تھا کہ ہر استاذ اخلاص کے ساتھ کام کرتا اور تنخواہ یا معاوضہ کی غرض سے خدمات انجام نہیں دیتا تھا، ورنہ تو آج کے دور میں کون ایسا ہے کہ جس کے ذہن میں یہ خیال نہ ہو۔

۵۔ نظم و ضبط:
انسان کی زندگی میں جب تک نظم و ضبط نہ آئے وہ کامیاب زندگی نہیں گزار سکتا۔ جامعہ معہد الخلیل میں پڑھانے والے اساتذہ ہوں یا پڑھنے والے طلبہ یا کام کرنے والا دیگر عملہ ان کی زندگی میں نظم و ضبط، سلیقہ اور طریقہ ماحول کی وجہ سے آجاتا ہے۔ حضرت رحمہ اللہ کی عادت ہر کام کو طریقہ و سلیقہ سے کرنے کی بھی تھی اور اسی انداز سے کام کرانے کی بھی۔ مثال کے طور پر کوئی تقریب ہے، اس تقریب کی مناسبت سے اس کی ترتیب بنائی جاتی تھی۔ جامعہ میں تقسیمِ انعامات کی تقریب ہو، ختمِ بخاری کی تقریب ہو، ضیافت کی تقریب ہو یا کوئی دیگر تقریب، حضرت رحمہ اللہ بہت پہلے سے اس کی ترتیب بنا کر اساتذہ اور دیگر منتظمین کو اس کی ذمہ داریاں سونپ دیتے تھے، اور پھر بذاتِ خود اس کی نگرانی کرتے۔

ہم نے جامعہ معہد الخلیل میں اس نظم و ضبط کو صرف تقریبات یا تعلیم و تعلم کے سلسلہ میں ہی نہیں بلکہ اس کو متعدی کرتے ہوئے زندگی کے تمام شعبوں میں اس کو اپنانے کی کوشش کی اور پھر اس کی برکات و نتائج کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ہمارے ادارہ معہد القرآن الكريم لسبیلہ میں محرم یا صفر کے مہینہ میں سلسلہ نقشبندیہ کا سالانہ اجتماع ہوتا ہے۔ کئی سال قبل یہ اجتماع صفر میں ہوا اور جامعہ کے سہ ماہی امتحان ختم ہوئے تھے، طلبہ کی تین دن چھٹی ہوتی ہے: جمعہ، ہفتہ اور اتوار، یہ اجتماع ایک روزہ اتوار کو تھا اور معہد کے طلبہ ان دنوں فارغ تھے، اس لیے میں نے دورۂ حدیث کے کچھ طلبہ کو انتظامی امور کی معاونت کے لیے بلایا تھا، چونکہ وہ طلبہ معہد الخلیل کے تھے، اس لیے جس حسنِ نظم و ضبط سے ان طلبہ نے یہاں کام کیا اس کو دیکھ کر تمام مہمانان اور شرکاء نے اس کی تحسین کی اور ان کی تربیت و اصلاح کی داد دی، اور اب وہ ہر سال ایسے ہونہار، مزکّٰی، مصفّٰی طلبہ کی حاضری اور شرکت کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں، لیکن اب اجتماع محرم میں ہوتا ہے اور ان دنوں طلبہ اپنے سہ ماہی امتحان کی تیاریوں میں مشغول ہوتے ہیں ان کا ایک ایک گھنٹہ اور منٹ بہت قیمتی ہوتا ہے، اس لیے میں ان کو یہ زحمت نہیں دے سکتا تاکہ ان کا تعلیمی حرج نہ ہو۔

ایک دوسری مثال یہ ہے کہ میرے ایک دوست کو جو کہ عالم ہیں اپنے مدرسہ میں درجہ کتب کی معلمہ کی ضرورت تھی، انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ آپ کے علم میں کوئی معلمہ ہو تو ضرور بتانا۔ میں نے ان سے کہا کہ ایک معلمہ ہیں ان کے شوہر سے بات کر کے آپ کو بتلاؤں گا۔ چنانچہ ان سے بات ہو گئی، وہ معلمہ معہد الخلیل کی پڑھی ہوئی تھیں۔ کئی معلمات میں سے انہوں نے اسی معلمہ کا انتخاب کیا اور اس کو استانی مقرر کر لیا۔ کچھ دنوں کے بعد میں نے ان سے اس معلمہ کے بارے میں پوچھا کہ وہ معلمہ تدریسی فرائض صحیح انجام دے رہی ہیں؟ تو انہوں نے مجھے بہت دعائیں دیں اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب! وہ تو بہت اچھی معلمہ ثابت ہوئیں۔ دیگر معلمات کے لیے وہ ایک طرح کا اسوہ ہیں۔ میں معلمات کی تربیت کا کام بھی ان سے لیتا ہوں اور کہنے لگے کہ آپ نے تو بہت موتی چھپا رکھے ہیں، کوئی اور معلمہ ایسی ہوں تو میری ضرور رہنمائی فرمائیں۔ یہ درحقیقت حضرت رحمہ اللہ کی محنت اور زندگی گزارنے کا ڈھنگ اور سلیقہ و طریقہ کی تربیت تھی کہ ماحول میں خود بخود یہ چیزیں آ جاتی ہیں۔

۶۔ علم و عمل کا جوڑ اور اجتماع:
مشہور محدث و شارحِ حدیث ملا علی قاری رحمہ اللہ نے ’’مرقاۃ‘‘ میں امام مالک کا قول نقل کیا ہے: من تفقہ ولم یتصوف فقد تفسق، ومن تصوف ولم یتفقہ فقد تزندق، ومن جمع بینھما فقد تحقق۔ ترجمہ: جس نے دین کا فہم بغیر تصوف (عمل) کے حاصل کیا وہ فسق میں مبتلا ہوا اور جس نے تصوف (عمل) بغیر فقہ (فہمِ دین) کے حاصل کیا وہ زندیق (بے دین) ہوا اور جس نے فقہ و تصوف دونوں کو جمع کیا، اس نے حقیقت کو پایا۔

حضرت رحمہ اللہ امام مالک رحمہ اللہ کے قول کی عملی شکل اپنے ادارہ اور ماحول میں دیکھنا چاہتے تھے۔ ہم نے بارہا اپنے کانوں سے حضرت کی زبان سے یہ سنا، زور دے کر اور بڑی حسرت و تمنا کے ساتھ اور اشتیاق کے ساتھ فرماتے تھے کہ کوئی ایک مدرسہ اور ادارہ تو ایسا ہونا چاہیے کہ علم و عمل کی زندہ مثال اور نمونہ ہو اور اس کا فارغ التحصیل عالمِ ربانی کہلانے کا مستحق ہو۔ شب و روز اسی کی فکر دامن گیر رہتی تھی اور اس کے لیے نئی نئی تدابیر و وسائل کی فکر میں گم اور متفکر رہتے تھے، اور حقیقت یہ ہے کہ حضرت اپنے اس مشن اور مقصد میں سوفیصد نہ سہی کافی حد تک کامیاب رہے، جس کا ثبوت ان علماء و بزرگانِ دین کے تاثرات ہیں جو وقتاً فوقتاً جامعہ میں تشریف لاتے رہتے ہیں اور اپنی آنکھوں سے یہاں کے نورانی اثرات کا خود مشاہدہ کرتے ہیں۔

۷۔ اساتذہ میں اتحاد و یگانگت اور مسلک و مشرب میں توافق:
کسی بھی ادارہ کو چلانے کے لیے اساتذہ کا باہم اتفاق و اتحاد ضروری ہے۔ خاص طور پر نظریاتی طور پر اتحاد و اتفاق تو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور مسلک و مشرب کے اتحاد میں انوار و برکات کو چار چاند لگتے ہیں۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے کچھ اداروں کو اساتذہ کی نظریاتی جنگ اور مسلک و مشرب کے نزاع کی وجہ سے تباہی و بربادی سے دوچار ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔

حضرت رحمہ اللہ کو اس کا بہت اہتمام ہوتا تھا کہ اساتذہ اور طلبہ میں دراڑیں نہ پڑیں۔ اساتذہ کی ماہانہ میٹنگ میں اسلاف کے اقوال اساتذہ کو اسی سلسلہ میں سنا کرتے تھے اور زبانی طور پر اس کی اہمیت بیان فرماتے اور تاکید فرماتے، جس استاذ کے بارے میں اسلاف کے مسلک و مشرب سے اختلاف کے جراثیم محسوس فرماتے ان سے ذمہ داری واپس لینے میں حضرت کو کوئی تامل نہ ہوتا تھا، اور پھر میں تو اپنے الفاظ میں اس کو یوں بیان کرتا ہوں کہ حضرت کو اساتذہ کی حد سے زیادہ بے تکلفانہ دوستی پسند تھی نہ دشمنی، اور حقیقت یہی ہے کہ دوستی اور دشمنی دونوں مضر ہیں۔