وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے: حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کی یاد میں
از: مولانا مفتی محمد منصور احمد صاحب
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل
وہ دکان اپنی بڑھا گئے
ایک شعر کا یہ مصرعہ مسلسل میرے دماغ میں گونج رہا ہے اور میں پوری کوشش کے باوجود اس علمی اور روحانی شخصیت کے سحر سے آزاد نہیں ہو پا رہا جنہیں آج سے بیس بائیس برس پہلے میں نے بارہا یہ مصرعہ بڑے دلکش انداز میں پڑھتے دیکھا اور سنا۔ حقیقی شعور تو آج تک نہیں آیا لیکن اُس وقت عمر کا بالکل وہ حصہ تھا جب لا اُبالی پن اور جذباتی اندازِ فکر انسان پر غالب ہوتے ہیں اور ایسے دور میں انسان ایسی ایسی باتیں کر جاتا ہے کہ جو بعد میں خود کو ہی سطحی اور بے بنیاد لگتی ہیں، بلکہ کبھی تو خود پر ہنسی بھی آنے لگتی ہے، عمر کے ایسے دور میں بھلا ہم اُن رفعتوں کا اندازہ کیسے کر لیتے اور ان کے مقامِ بلند کا ادراک ہم خوردسال طلبہ کو ہوتا تو کیونکر ہوتا۔
اس سب کے باوجود برکۃ العصر، ریحانۃ الہند، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی قدس سرہ کے معتمد اور مجاز، تبلیغی جماعت کے حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ کے صحبت یافتہ، خادمِ خاص، محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے عزیز شاگرد، استاذ الاساتذہ، ولیِ کامل حضرت اقدس مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کے سانحۂ وفات کی اطلاع ملی تو ماضی کی یادوں میں ایک تلاطم برپا ہو گیا اور ان کی دلنشین باتیں، ان کی دلآویز صدائیں اور اُن کی دلکش ادائیں ایک ایک کر کے یوں سامنے آ رہی ہیں جیسے زمانہ الٹی زقند لگا کر ۱۹۹۰ء کی دہائی میں واپس چلا گیا ہو اور ہم اپنے ’’بڑے مولانا‘‘ کی مجلس میں بیٹھے ابھی ہی یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہوں۔
اکابر سے محبت و الفت کی امتیازی شان
مجھے حضرت رحمہ اللہ کی زندگی کے جس پہلو نے سب سے زیادہ متأثر کیا وہ آپ کی اپنے تمام اکابر سے بالعموم اور ان تینوں اکابر سے جن کے نام ابھی گزرے بالخصوص بے پناہ محبت، گہری وابستگی اور حد درجہ مضبوط تعلق تھا۔ اگر میں یہ کہوں کہ آپ ان بلند پایہ ہستیوں کے عاشقِ زار تھے تو بالکل بجا ہوگا کہ گھنٹوں آپ بلا تکان ان کے مشک بار تذکروں سے مجالس کو مہکائے رکھتے اور اتنے پیار سے اپنی ان محسن ہستیوں کا ذکرِ خیر فرماتے کہ سننے والوں کو بھی وجد اور لطف کی کیفیت محسوس ہونے لگتی۔ آپ صرف واقعات ہی بیان نہیں فرماتے تھے بلکہ ان کی پوری کیفیات کی نقل بھی کر کے دکھاتے تھے اور سامعین کو یوں محسوس ہوتا جیسے فاصلے سمٹ گئے ہوں، پردے اُٹھ چکے ہوں اور سب کچھ انہوں نے صرف اپنے کانوں سے سنا نہیں بلکہ آنکھوں سے دیکھ بھی لیا ہو۔
اکابر سے تعلقِ خاطر کا نتیجہ تھا کہ ہر پیر کے دن عصر تا مغرب آپ کی اصلاحی مجلس ہوتی تو اس میں برسوں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی ’’آپ بیتی‘‘ پڑھی جاتی رہی اور آپ ساتھ ساتھ اس میں آنے والے واقعات کی تشریح بھی فرماتے۔ پہلے جو ’’آپ بیتی‘‘ مختلف جگہوں سے شائع ہوتی رہی، اس کا معیار بہت ناقص تھا۔ آپ نے بہت محبت سے ’’آپ بیتی‘‘ کی مکمل نئی کتابت ایک خوشنویس کاتب سے جن سے ہم طلبہ بھی کتابت سیکھا کرتے تھے، انتہائی اہتمام سے کروائی تھی۔ اُس دنوں ہمیں بھی ’’آپ بیتی‘‘ سے عشق ہو گیا تھا۔ اصل کتاب تو اوپر لائبریری میں موجود تھی لیکن وہاں تک ہماری رسائی ناممکن تھی جب کتاب ملنے کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو دلِ بے چین نے تسکین کی یہ صورت نکالی کہ کتابت کے جو پروف پڑھ کر دفتر اہتمام کے باہر ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیے جاتے، رات کو چپکے سے ہمارا دستِ ہُنر اس بالٹی کو کھنگال کر ان میں سے ’’آپ بیتی‘‘ کے صفحات برآمد کر لیता اور پھر ہم ان کو مرتب کر کے شوق و محبت سے مطالعہ کرتے۔
آپ کے صدقاتِ جاریہ میں سے ایک اہم ترین صدقۂ جاریہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی ’’تقریر بخاری شریف‘‘ اور دیگر وہ کتابیں ہیں، جنہیں آپ نے اپنے قائم کردہ ’’مکتبۃ الشیخ‘‘ سے شائع فرمایا اور پورے پاکستان کے مدارس میں ہر سال دورۂ حدیث شریف کے تمام طلبہ کو وہ آپ کی طرف سے مفت پیش کی جاتیں تھیں اور یہ مبارک سلسلہ کئی عشروں سے ہنوز جاری و ساری ہے، بلکہ مختلف مدارس کے طلبہ سے معلوم ہوا کہ اب اس میں مزید کئی مفید کتابوں کا اضافہ بھی ہو چکا ہے۔ کون اندازہ لگا سکتا ہے کہ اتنے طویل عرصے تک پاکستان کے طول و عرض میں کتنے ہی طلبۂ علومِ نبوت نے ان کتابوں سے استفادہ کیا ہوگا، یقیناً یہ سب آپ کے لیے بہت بڑا سرمایۂ آخرت ہے۔
حضرت رحمہ اللہ کا خاندانی پسِ منظر
آپ کا تعلق ہمارے بزرگوں کے اُس طبقے سے ہے، جنہوں نے پاکستان کو خود اپنی آنکھوں سے بنتے دیکھا اور آپ کے خاندان کے کئی افراد نے اس ’’مملکتِ خداداد‘‘ ہجرت کرتے ہوئے گہرے صدمے اٹھائے۔ آپ کا وطنِ مالوف مشرقی پنجاب کا وہ ضلع تھا، جس کے بارے میں آخر تک سب کا گمان یہی تھا کہ وہ نئی اسلامی مملکت میں شامل ہونے جا رہا ہے، کیونکہ وہاں مسلمان بھاری اکثریت میں تھے، لیکن اپنوں کی سادگی یا غیروں کی عیاری کہ اچانک ہی اعلان کر دیا گیا کہ پورا علاقہ بھارت میں شامل ہو چکا ہے۔ اس سے جو افراتفری پیدا ہوئی اور مسلمانوں کو جو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا، آج بھی اس کی داستانِ خونچکان پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
آپ کے ایک برادرِ بزرگ محترم بھائی ذکر الرحمن صاحب رحمہ اللہ جو شفقت بھرے انداز میں کبھی ہم غریب الدیار طلبہ سے خیریت احوال پوچھ لیتے تو دور دور تک پھیلی ہوئی اجنبیت کی کڑکتی دھوپ میں ٹھنڈے سائے کی طرح محسوس ہوتے تھے، انہیں سفرِ ہجرت کے دوران ایک سکھ کی تلوار کا وار بھی سہنا پڑا، جس کا اثر ان کے بازو پر ہمیشہ کے لیے رہ گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے کہ فجر کی اذان میں نے معہد الخلیل میں برسوں دی ہے اور اذان کے متصل بعد ہی بلند ہوتی ان کی دلرُبا آواز ’’چلو نماز کو، چلو نماز کو‘‘ آج بھی کانوں میں گونج رہی ہے۔
شاید اسی خاندانی پسِ منظر کا اثر تھا کہ جب امارتِ اسلامیہ افغانستان قائم ہوئی تو آپ کی خوشی دیدنی تھی کہ کئی نسلوں کے خوابوں کی تعبیر آنکھوں سے نظر آ رہی تھی۔ آپ نے ہر طرح سے بھرپور تعاون اور نصرت ہی نہیں فرمائی بلکہ خود سرزمینِ جہاد تشریف لے گئے۔ انہی دنوں ایک سال عید الاضحی کے موقع پر سنا کہ کراچی کے ایک عالمِ دین نے قندหาร میں سو گائے کی قربانی پیش کی ہے۔ معمولی جستجو سے ہی پتہ چل گیا کہ یہ آپ ہی کی ذاتِ گرامی تھی۔ اسی طرح ایک عید کے موقع پر آپ نے امیر المؤمنین حضرت ملا عمر مجاہد حفظہ اللہ تعالیٰ کی موجودگی میں خطبۂ عید پڑھا اور دعا بھی کروائی۔ آپ کے خطبہ پڑھنے کا طرز بالکل عربوں جیسا تھا۔ اکثر حضرت حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی کتاب خطبات الأحکام لجمعات العام پیش نظر ہوتی اور ٹھہر ٹھہر کر بڑے باوقار انداز میں خطبہ دیتے۔
علومِ دینیہ سے اُنْس و محبت
یہ بات شاید تعجب سے پڑھی جائے کہ آپ پہلے پہل اسکول و کالج کے تعلیم یافتہ تھے اور ایک دو موقع پر تو میں نے خود آپ کو بڑی شُستۂ انگریزی بغیر کسی رکاوٹ کے بولتے ہوئے سنا، لیکن آپ انگریزی تعلیم کے شدید مخالف ہی نہیں بلکہ مدارس میں انگریزی تعلیم کے تو جانی دشمن تھے۔ آپ اس بات کا اظہار بڑی جرات اور بے باکی سے فرماتے تھے اور طلبہ کو یہ نصیحت بھی فرماتے کہ ’’تمہیں کسی سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں۔ جس تعلیم نے ہمارے اکابر جیسی عظیم ہستیاں پیدا کیں، ہمارے لیے وہ ہی کافی ہے‘‘۔ آپ بڑے دردِ دل سے یہ فرمایا کرتے کہ ’’آج پرائیویٹ امتحان دینے کا جو رواج چل نکلا ہے، اس نے ہمارے طلبہ کو آدھا تیتر آدھا بٹیر اور دو کشتیوں کا سوار بنا دیا ہے‘‘۔ اس پر بھی بڑے افسوس کا اظہار فرماتے کہ آج ہمارے طلبہ کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ حضرت نانوتوی، حضرت گنگوہی، حضرت تھانوی، حضرت دیوبندی، حضرت سہارنپوری، حضرت کاندھلوی رحمہم اللہ یہ سب کن ہستیوں کے معروف نام ہیں اور ان کے کیا کارہائے نمایاں تھے۔
علمِ دین سے محبت آپ کے رگ و پے میں سرایت کی ہوئی تھی اور علومِ قرآن و سنت کے مقابلے میں آپ کسی مشغلے کو اہمیت نہیں دیتے تھے۔ اسی بارے میں چند باتیں تو ذہن میں ایسی تازہ ہیں جیسے کل ہی سنی ہوں۔ اکثر فرمایا کرتے کہ ’’ہمارے حضرت شیخ رحمہ اللہ جب قیامِ مدینہ منورہ کے لیے تشریف لے گئے تو ویزا فارم میں المھنۃ (پیشے) کے خانے میں تحریر فرمایا: بثُّ العلم (علم کی اشاعت)۔ آپ کی پوری کوشش ہوتی کہ آپ اپنے قائم کردہ ادارے معہد الخلیل میں جوٌّ علمیٌّ یعنی علمی فضا پیدا فرمائیں اور تعلیم و تعلّم کے سلسلے میں کوئی رخنہ اندازی نہ ہونے پائے۔
علمِ دین کے بارے میں یہ جملے دراصل ہیں تو اکابر اسلاف کے لیکن جتنی کثرت سے آپ انہیں دھراتے تھے شاید معہد الخلیل کا کوئی طالبعلم ہو گا جسے یہ ازبر نہ ہو گئے ہوں گے، فرمایا کرتے تھے:
’’العلم عز لا ذل فیه، یحصل بذل لا عز فیه‘‘۔
یعنی علم ایسی عزت ہے، جس میں ذلت کا کوئی شائبہ بھی نہیں، لیکن یہ حاصل ایسی ذلت سے ہوتا ہے جس میں فخر و تکبر کا کوئی احساس نہ ہو۔
اسی طرح اپنے استاذِ گرامی حضرت بنوری رحمہ اللہ سے یہ جملہ نقل فرمایا کرتے تھے:
’’العلم لا یعطیک بعضه حتی تعطیک کلک‘‘۔
یعنی علم تمہیں اپنا تھوڑا سا حصہ بھی تب تک عطا نہیں کرے گا جب تک تم اپنے آپ کو مکمل اس کے حوالے نہ کر دو۔
اسی طرح امتحانات کے موقع پر یہ دو جملے ضرور ارشاد فرماتے:
1. ’’عند الامتحان یکرم الرجل أو یھان‘‘۔ (امتحان کے وقت انسان کو عزت نصیب ہوتی ہے یا وہ ذلت کا سامنا کرتا ہے)۔
2. ’’عند الرھان تعرف السوابق‘‘۔ (گھڑ دوڑ میں ہی پتہ چلتا ہے کہ آگے نکلने والے گھوڑے کون سے ہیں)۔
آپ طلبہ کو ہمہ وقت طلبِ علم میں مصروف دیکھنا چاہتے تھے اور اس کے علاوہ کوئی جائز مصروفیت بھی آپ کے مزاج پر سخت ناگوار گزرتی اور ایسے مواقع پر کبیدہ خاطر ہو کر انتہائی پُر جلال لہجہ میں یہ شعر پڑھا کرتے تھے:
وہ مایوسِ تمنا کیوں نہ سوئے آسماں دیکھے
جو منزل بہ منزل اپنی محنت رائیگاں دیکھے
امام محمد بن حسن شیبانی رحمہ اللہ کا وہ زریں مقولہ جو انہوں نے اپنی والدہ کی اس نصیحت کے جواب میں فرمایا تھا کہ بیٹا! راتوں کو جاگ جاگ کر تم نے اپنی صحت برباد کر لی، کچھ اپنی جان کا بھی خیال کر لو؛ تو امام صاحب رحمہ اللہ نے بصد ادب عرض کیا: ’’اماں جان! ساری امت اس اعتماد پر سو رہی ہے کہ جب کوئی مسئلہ پیش آئے گا تو محمد سے پوچھ لیں گے۔ اگر میں بھی سو گیا تو دین کا کیا بنے گا؟‘‘۔ اسی طرح حضرت امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا مرض الموت میں علمی مذاکرہ فرمانا جس کا پورا واقعہ ہدایہ کی کتاب الحج میں رمی کے مسائل پر حاشیہ میں لکھا ہوا ہے، یہ بارہا آپ سے سنے۔
رسوم و رواج کا قلع قمع اور احیائے سنت کا نرالا وصف
ایک اور خاص بات جو اس وقت بڑی شدت سے یاد آ رہی ہے، وہ حضرت رحمہ اللہ کا اپنی برادری میں احیائے سنت، فروغِ علمِ دین اور ان میں پھیلے ہوئے رسم و رواج پر سخت نکیر کرنا بھی ہے۔ آج کل میں جب بھی کوئی عمدہ شادی کارڈ دیکھتا ہوں تو مجھے آپ رحمہ اللہ کی ایک ادا یاد آ جاتی ہے۔ ایک مرتبہ حضرت رحمہ اللہ صحن میں اپنی مخصوص نشست پر تشریف فرما تھے۔ ایک صاحب بہت خوبصورت شادی کارڈ لائے اور آپ کو پیش کیا۔ آپ نے کارڈ کھولا اور پڑھا۔ پڑھنے کے بعد آپ نے وہ کارڈ انہی صاحب کو واپس لوٹاتے ہوئے فرمایا: ’’بھئی! شادی کارڈ کا مقصد ہے اطلاع دینا اور وہ ہو گئی! میں ایسی تقریبات میں شریک نہیں ہوا کرتا۔ دعا کر دوں گا کہ اللہ تعالیٰ خیر و عافیت سے تمام مراحل پورے فرمائے۔ آپ اپنا کارڈ واپس لے جائیں‘‘۔ ان صاحب نے اس بات کو شاید تکلف پر محمول کرتے ہوئے کہا: ’’حضرت! یہ کارڈ آپ کا ہی ہے اور آپ اسے رکھ لیں۔ تب حضرت رحمہ اللہ نے بھی مخاطب کی اصلاح کے لیے فرمایا: ’’بھئی! یہ تو میرے کسی کام کا نہیں ہے۔ آپ ایسا کریں دس روپے دے دیں اور یہ لے جائیں، وہ میرے کسی کام آ جائیں گے! اس بیکار کارڈ کا میں کیا کروں گا؟‘‘۔ واقعی آج کل جیسے شادی کارڈ کے بارے میں فضول خرچی کے ریکارڈ توڑے جا رہے ہیں، ان کی اصلاح کا یہی طریقہ مناسب ہے۔
اسی طرح ہمارے یہاں تقریبات میں جو یہ رواج چل نکلا ہے کہ دو تین گھنٹے تاخیر کو تو کچھ سمجھا ہی نہیں جاتا، اس کی بھرپور اصلاح فرماتے۔ مدرسہ کے تمام معمولات میں وقت کی پابندی کا خاص لحاظ ہوتا اور اس کا اعلان بھی ہو جاتا تھا کہ ہمارے ہاں وقت کی پابندی کا اہتمام ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ بھی فرماتے تھے کہ ’’ہمارے ہاں نو بجے کا مطلب نو بجے ہی ہوتا ہے، سوا نو یا ساڑھے نو نہیں‘‘۔ پھر طلبہ کو سمجھانے کے لیے گھڑی کی طرف دیکھ کر فرماتے کہ ’’ابھی جو پانچ بج کر بیس منٹ ہو رہے ہیں، جب یہ منٹ گزر جائے تو دنیا بھر کی طاقت لگا لو، قارون کے خزانے خرچ کرو، یہ واپس نہیں آ سکتا۔ کل جب یہ وقت آئے گا تو وہ کل کا ہوگا، یہ آج کا وقت پھر کبھی واپس نہیں آ سکتا اس لیے ہر لمحۂ موجود کی قدر کرو‘‘۔
میری ناقص یادداشت کے مطابق سب سے زیادہ سخت نکیر جس بات پر آپ فرماتے تھے وہ کسی شخص کے انتقال پر دعوتِ طعام کی رسمِ بد ہے۔ فرماتے تھے کہ ’’یہ کیا انسانیت ہے کہ ایک بیٹا باپ کی قبر تیار کروانے جا رہا ہے اور دوسرا بیٹا قورمے اور بریانی کی دیگیں پکوانے؟ تھوڑی دیر پہلے میت دفن کر کے آئے ہیں اور اب چانپ کی بوٹیوں کی فرمائش ہو رہی ہے!‘‘۔
معہد الخلیل الاسلامی کی صورت میں باقی ماندہ فیض
معہد الخلیل الاسلامی کی صورت میں آپ نے بہادرآباد کراچی کے علاقے میں جو ننھا پودا لگایا تھا اسے آپ نے خونِ جگر دے کر سینچا اور بالآخر اپنی زندگی میں ہی اُسے ایک تناور درخت کی شکل میں برگ و بار لاتے بھی دیکھ لیا۔ آپ کے تمام صاحبزادگانِ گرامی قدر حفاظِ قرآن و علمائے کرام ہیں۔ اسی طرح معہد کے چشمۂ صافی سے فیض یاب ہونے والوں میں آپ کے قریبی اعزہ کی بہت بڑی تعداد شامل ہے۔ ان سب کے علاوہ آپ کے سینکڑوں مریدین اور ہزاروں شاگرد بھی حضرت رحمہ اللہ کی رحلت پر دل گرفتہ ہیں۔ ہم جیسے برسوں کے بچھڑے طالبعلم تو اپنی مادرِ علمی کے لیے حضرت رحمہ اللہ کے پسندیدہ شعر کی شکل میں ربِ جلیل سے یہی دعا مانگ سکتے ہیں:
تشنگانِ معرفت سیراب ہوں
علم کی بہتی رہے یہ سلسبیل
ذکرِ اسمِ ذات کی آواز سے
تا ابد گونجا کرے معہدؔ الخلیل