وہ عظیم انسان تھے
حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی رحمہ اللہ
امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت و مہتمم مدرسہ باب العلوم کہروڑ پکا
احقر لکھنے لکھانے کی لائن کا آدمی نہیں ہے۔ میرے شیخ حضرت اقدس سید نفیس الحسینی شاہ صاحب رحمہ اللہ کی زندگی پر کچھ لکھنے کا احباب کی طرف سے تقاضا ہوا تھا، اسی طرح حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری شہید رحمہ اللہ کے متعلق بھی تأثرات قلمبند کرنے کا مجھ سے کہا گیا، لیکن میں نے کہہ دیا کہ میں اس لائن کا آدمی نہیں ہوں۔ چنانچہ ان دو حضرات سے متعلق میں نے زبانی اپنے تأثرات بیان کردیے جنہیں دوستوں نے مضمون کی شکل دیدی۔
حضرت مولانا یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ کے متعلق بھی چند باتیں سپرد قلم کروا دیتا ہوں۔ حضرت مولانا یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ سے احقر کی شناسائی تقریباً چالیس سال قبل جامعہ بنوری ٹائون کراچی میں ہوئی۔ احقر کسی کام کے سلسلہ میں جامعہ میں قیام پذیر تھا۔ تب حضرت مولانا جامعہ میں دورہ حدیث کے طالب علم تھے (انہوں نے بڑی عمر میں تعلیم کا آغاز کیا تھا)۔
حضرت مولانا کے برادرِ کبیر حافظ فیروز الدین صاحب سے تو احقر کی بے تکلفی ہے، حضرت مولانا رحمہ اللہ سے بے تکلفانہ تعلقات نہ تھے، البتہ چالیس سالہ طویل عرصے میں گاہے گاہے ان کی زیارت ہوتی رہی اور ان کی شفقتوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا رہا۔ کبھی کبھی ان کے مدرسے معہد الخلیل میں حاضری کا بھی موقع ملتا رہا۔ ایک بار ان کی خواہش پر کچھ معروضات پیش کرنے کا بھی موقع ملا۔ جب بھی ان کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوتا وہ حد سے زیادہ شفقت فرماتے۔ بعض دفعہ تو ان کی عزت افزائی سے احقر بہت شرمندہ ہوتا۔ میں تو ان کی جوتی کے برابر بھی نہیں۔ ہر سال وہ بڑے اہتمام سے اپنے اشاعتی ادارے مکتبۃ الشیخ کی مطبوعات ہمارے مدرسے باب العلوم کہروڑ پکا کے لیے بھیجتے تھے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا رحمہ اللہ کی تالیفات کی اشاعت میں ان کی خدمات قابلِ رشک اور لائق تحسین ہیں۔
وہ بہت عظیم انسان تھے۔ علم و عمل اور تصوف میں اللہ نے انہیں بہت نوازا تھا۔ ان کی ہر ادا سے للہیت آشکارا تھی۔ وہ سراپا تواضع تھے۔ ان کے کارہائے خیر کی فہرست طویل ہے۔ معہد الخلیل جیسے دینی مرکز کی تأسیس، شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا رحمہ اللہ کی کتب کی طباعت و اشاعت، نسبی اور روحانی اولادِ صالحہ جیسی باقیات صالحات ان کیلئے صدقہ جاریہ ہے اور اللہ کے ہاں ان کی مقبولیت کی دلیل ہے۔
چند سال قبل وفاق المدارس کے اجلاس میں شرکت کیلئے وہ ملتان تشریف لائے۔ اجلاس سے فراغت پر احقر انہیں اپنے ہمراہ باب العلوم کہروڑ پکا لے آیا۔ جامعہ میں بعد از مغرب علم کی فضیلت پر انہوں نے طلبہ میں پُراثر بیان کیا۔ رات کو جامعہ میں ہی قیام فرمایا۔ صاحبزادگان کی خدمت میں سلام عرض ہے اور درخواست ہے کہ وہ گرامیٔ قدر والد کی شفقتوں کو جاری رکھیں۔ اللہ حضرت مولانا کے درجات بلند کرے۔