مضامین

تیری محفل میں جوآیا تشنہ کب وہ رہ سکا


مولانا محمد اسماعیل ریحان صاحب

کیا بتاؤں وہ نگاہِ شیخ کیا اکسیر تھی جس کی حدّت سے دعاؤں میں مری تاثیر تھی

وہ گئے تو یہ فلک یہ ماہ و انجم رو پڑے ان کی ہستی بزمِ آدم کے لیے توقیر تھی

ان سے نسبت مجھ سے غافل کو بھلا کیسے ملی میں تو اس قابل نہ تھا بس رب کی یہ تدبیر تھی

میں کہاں اور وہ کہاں، بس مرضی مولا تھی یہ یہ جو نسبت ہوگئی بس خوبی تقدیر تھی

کیا ہوں میں ایک مشتِ خاک و گرد و باراں کا ملاپ اس میں تھا کچھ نور تو وہ تیری ہی تنویر تھی

ذات میری ذرۂ بے مایہ و نام و نشاں پڑ گئی اس پر مگر کچھ انہی کی تنویر تھی

کس قدر کامل تری چوکھٹ سے ہو ہو کر گئے میری ہستی نامکمل زیرِ صد تعمیر تھی

وہ بھی کامل ان کی شفقت بھی مکمل تھی مگر عشق میرا خام اور خستہ دلی تصویر تھی

تیری محفل میں جو آیا تشنہ کب وہ رہ سکا جس کو دیکھا ساقی میں نے تیری ہی تصویر تھی

اہلِ دل ہیں آہ اس کی یاد میں اب اشک بار ذات جس کی غم کے ماروں کے لیے تبشیر تھی